صحابہ کرامؓ کا جذبۂ ایثار اور نیکی کی بنیاد رکھنے کا اجر و ثواب
171 درس نمبر 261 جلد 1، باب 19: بَابٌ فِيْمَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً اَوْ سَيِّئَةً: حدیث نمبر
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بے مثال ایثار اور قربانی
اسلام میں اچھے طریقے کی شروعات (سنتِ حسنہ) کا صحیح مفہوم
نیکی کی طرف رہنمائی اور اس کا جاری رہنے والا اجر
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنے اوپر دوسرے کو ترجیح دیتے تھے
یہ اصل میں اس حدیث شریف کی طرف اشارہ ہے، جس کو ہم نے کل پڑھا تھا۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی ترغیب دی تھی اور پھر صحابہ کرام نے صدقہ بہت خوشی خوشی جمع کیا۔
تشریح: صحابہ کو جب ترغیب دی جاتی تو فوراً اس پر وہ آمادہ ہوجاتے اگرچہ ان کے پاس بھی عموماً نہیں ہوتا تھا، اپنی جان پر دوسرے کو ترجیح دیتے تھے، اس کی گواہی قرآن نے دی: وَ يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ.
یاد کرتا ہے زمانہ ان انسانوں کو
روک دیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو
جو اسلام میں اچھی عادت جاری کرے اس کو ہمیشہ ثواب ہوتا رہے گا ”مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا“ جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اپنا اجر اور ان لوگوں کا اجر ملے گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے اور پھر آگے فرمایا کہ اس کی پیروی کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی بھی نہیں ہوگی۔ اس کی وجہ علماء یہ فرماتے ہیں کہ اطاعت کرنے والوں کو جو اجر وثواب ملے گا وہ ان کے عمل صالح کرنے کی بناء پر ملے گا اور اجر بھلائی کی طرف بلانے والے کو ہوگا وہ اس کی دعوت وتبلیغ کی بناء پر ہوگا اسی طرح گناہ بھی ہوگا ایک تو گناہ کرنے والے کو اور گناہ کی طرف دعوت دینے والے کو بھی گناہ ہوگا۔ یہاں پر سنت جاری کرنے سے محقق علماء کے نزدیک اس حدیث میں حسنۃ کی قید ہے یعنی وہ طریقہ شریعت میں دلالۃً یا اشارۃً موجود ہو اور ادلہ اربعہ میں سے کسی دلیل کے تحت داخل ہو۔ یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ اپنی طرف سے کوئی چیز جاری کردی جائے اسی کا نام تو بدعت ہے اور شریعت میں یہ مذموم ہے۔ اور بعض علماء نے لکھا مراد طریقہ جاری کرنے سے یہ ہے کہ وہ سنت آپ ﷺ یا خلفاء راشدین کی تھی مگر لوگوں سے اوجھل ہوگئی تو اب اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اس کی تعلیم دینا اس پر خود عمل کرنا یہ مراد ہے۔ اسی وجہ سے بعض روایات میں من سن فی الاسلام کے بجائے ایما داع دعا الی ھدی کے الفاظ آئے ہیں۔
تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب الزکوۃ (باب الحث على الصدقة ولو بشق تمرة او بكلمةٍ طيبةٍ) و النسائی و ابن ماجہ، مسند احمد 358/4۔
اَللّٰهُ أَكْبَرُ۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا کام جو مطلوب ہے، شریعت کے اندر مطلوب ہے۔ تو اس کے لیے کوئی طریقہ جاری کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے نیت صحیح ہو۔ تو اس کی ممانعت نہ ہو دین میں، تو اس پر اجر ملتا ہے۔ اور وہ اجر مطلب بعد میں بھی جاری رہتا ہے۔ جو جو لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گے، اس عمل کو کریں گے، تو ان کو بھی مطلب وہ جو، جنہوں نے شروع کیا ہوگا، ان کو بھی اجر ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ