سُنّتِ حسنہ اور سُنّتِ سیئہ: خدمتِ دین کے ذرائع اور بدعت کا فرق
171 درس نمبر 260 جلد 1، باب 19: بَابٌ فِيْمَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً اَوْ سَيِّئَةً: حدیث نمبر
فاقہ زدہ مسلمانوں کی امداد اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب
سنتِ حسنہ اور سنتِ سیئہ کا ضابطہ: نیکی اور برائی کی ابتدا کا اجر و وبال
خدمتِ دین کے ذرائع اور بدعت میں فرق
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
صدقہ کے لئے آپ ﷺ کا خطبہ
(171) ﴿عَنْ أَبِي عَمْرٍو، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلالًا فَأَذَّنَ وَ أَقَامَ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ يَاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ“ إِلَى آخِرِ الآيَةِ: ”إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا“ وَالآيَةُ الأُخْرَى الَّتِي فِي آخِرِ الْحَشْرِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ“ تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ حَتَّى قَالَ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ“ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَ ثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَ مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ترجمہ: ”حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم شروع دن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ آپ کے پاس کچھ ایسے لوگ آئے جن کے بدن ننگے تھے، دھاری دار اون کے کپڑے یعنی ٹاٹ بدن پر لٹکائے ہوئے تھے، تلواروں کو گردنوں میں لٹکائے ہوئے تھے، ان میں اکثریت مضر قبیلہ سے تھی بلکہ وہ تمام کے تمام مضر قبیلہ سے تھے، آپ ﷺ نے ان کی فاقہ زدہ حالت کو دیکھا تو آپ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا آپ ﷺ گھر تشریف لے گئے پھر باہر نکلے، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا، اس نے اذان اور تکبیر کہی، آپ ﷺ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا یعنی (اول) اس سے جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے مرد اور عورت پیدا کر کے روئے زمین پر پھیلائے اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت براری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو۔ ارحام میں قطع مودت سے بچو، کچھ شک نہیں کہ خدا تمھیں دیکھ رہا ہے، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر نفس فکر کرے کہ اس نے کل قیامت کے لئے کیا بھیجا ہے۔ لوگوں نے دینار، درہم، کپڑے، گندم اور کھجوروں کے صاع صدقہ میں دیئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرو، چنانچہ ایک انصاری آدمی اتنی بڑی تھیلی لے آیا کہ اس کا ہاتھ اس کے اٹھانے سے تقریباً عاجز تھا بلکہ عاجز آہی گیا پھر لوگ متواتر صدقہ لاتے رہے یہاں تک کہ میں نے غلہ اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک رہا ہے جیسا کہ سونا چمکتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے گا اس کو اس کا اجر ملے گا اور ان کا اجر بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا جو اس کے بعد اس طریقہ پر عمل پیرا رہیں لیکن ان کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگی، اور جو شخص اسلام میں برا طریقہ ایجاد کرے اس پر اس کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا گناہ جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے لیکن ان کے گناہ سے کچھ کمی نہ ہوگی۔
یہ مشہور حدیثِ شریف ہے، اصل میں اس میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ اچھا طریقہ شروع کر لیتے ہیں، کوئی سا بھی، تو وہ جب تک جاری رہتا ہے، تو جس نے جاری کیا ہوتا ہے، اس کو اس کا اجر ملتا رہے گا۔ اور برا طریقہ شروع کرے گا تو جب تک وہ جاری رہے گا، تو اس کی برائی وہ شروع کرنے والے کو ملے گی۔ اس سے اصل میں یہ والی بات ہے کہ جو منصوص نہیں ہے کوئی چیز، لیکن ذریعے کے طور پر ہے، یعنی جو چیز منصوص ہے اس کو کرنے کے لیے ذریعے کے طور پر کوئی طریقہ ایجاد کرے، تو وہ اگر اچھا ہے تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کو بھی اجر ملے گا۔ اور اگر برا ہے تو اس کو نقصان ہوگا اور بعد میں جو اس پر عمل کریں گے، اس کا نقصان بھی ان کے سر پر ہوگا۔ تو یہ سب جیسے مثال کے طور پر درسِ نظامی جس نے شروع کیا ہے۔ اب جب تک لوگ اس پر چلیں گے اور اس طرح سیکھیں گے، تو اس کا اجر ان کو ملے گا۔ یا کسی نے مدرسہ شروع کیا یا کسی نے کوئی خانقاہ شروع کی، صحیح؟ یا کسی نے کوئی دینی تحریک کی ابتدا کر لی جو جیسے مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک ہے یا کوئی اور تحریک ہے جو دینی ہو، تو یہ سب کا ثواب ان کو پھر بعد میں ملتا رہے گا۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ اس سے استدلال یہ ہے کہ ایک ہوتی ہے بدعت۔ بدعت دین کے اندر تبدیلی ہے۔ یعنی دین کے اندر کوئی تبدیلی کرنا، اس کو احداث فی الدین کہتے ہیں۔ وہ تو جرم ہے اور اس پر سزا ہے۔ اور ایک احداث للدین ہے، یعنی دین پر چلنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں سے کوئی طریقہ شروع کرنا جس سے وہ ضرورت پوری ہو۔ تو یہ مطلب وہ ہے۔ تو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ یہ بات ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے لیے جتنی کوششیں ہوتی ہیں اس میں بھی ہمیں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔