انبیاء کا مقصدِ بعثت اور نبی اُمّی ﷺ کا عظیم معجزہ

درس نمبر 259 جلد 1، باب 19: بَابٌ فِيْمَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً اَوْ سَيِّئَةً

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ

انبیاء کرام کا بنیادی فریضہ اور وحی کا نظام

صلحِ حدیبیہ کا واقعہ اور آپ ﷺ کی شانِ اُمّی

اُمّی ہونے کے باوجود علومِ الٰہیہ کا ملنا: ایک بے مثال معجزہ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

﴿وَجَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا﴾ (انبیاء: 73)

ترجمہ: ”اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے۔“

تشریح: انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ ہورہا ہے، ان انبیاء کی شان میں یہ جملہ ہے کہ ان سب انبیاء کو ہم نے بھلائیوں اور صحیح اعمال میں لوگوں کا مقتداء و پیشوا بنایا ہے جو ہمارے حکم کے مطابق دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت کرتے تھے اور ان سب کو ہمارے دین کا راستہ بتاتے تھے۔

اصل میں پیغمبروں کا جو کام ہے۔ وہ اللہ جل شانہ سے لے کے مخلوق کو یعنی باقی لوگوں کو دینا ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے چونکہ اللہ نے ان کو بنایا ہوتا ہے۔ تو وہ اللہ جل شانہ کے حکم سے یہ کرر ہے ہیں کہ اللہ پاک نے ان کو پیغمبر بنایا ہوتا ہے۔ تو وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہو۔ تو وہ پیغمبروں کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ اصل میں فرشتوں سے سننے کی ہر ایک میں تاب نہیں ہوتی۔ یہ تو پہلے پیغمبروں کو اس کے مطابق وہ قوت دی جاتی ہے۔ اور پھر وہ فرشتوں سے کلام کرتے ہیں اور فرشتے اللہ تعالیٰ کا پیغام لاتے ہیں۔ یعنی پہلی وحی جو آئی تھی غارِ حرا میں۔ تو اس میں جبرائیل علیہ السلام جب تشریف لائے۔ تو فرمایا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ بات تو صحیح تھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے ان کو سینے سے لگایا اور زور سے بھینچا۔ پھر فرمایا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینے سے لگا کے بھینچا۔ پھر اس کے بعد فرمایا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔ تو اس طرح کرنے سے مشائخ فرماتے ہیں یہ توجہ ہی کی ایک قسم تھی۔ کہ جو جبرائیل علیہ السلام کے پاس تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلب دینا چاہا۔ تو اس ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بخود پھر ظاہر ہے وہ پڑھنا شروع ہو گئے۔ وہ نعمت مطلب حاصل ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی چونکہ ایک نئی بات تھی لہٰذا ڈر گئے۔ کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ تو خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ، مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ تو پھر جب انہوں نے پوچھا تو یہ واقعہ بتایا۔ تو انہوں نے کہا کہ اچھا ورقہ بن نوفل ان کے رشتہ دار تھے۔ ان کے پاس لے گئے کیونکہ وہ عیسائی مذہب کے وہ جانتے تھے کتابوں کو۔ ان کے پاس لے گئے۔ انہوں نے جب سنا ان سے تو فرمایا اوہ یہ تو وہ ناموس ہے۔ جو موسیٰ علیہ السلام پر آتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام پر، یہ تو وہ ناموس ہے۔ پھر فرمایا کاش میں اس وقت موجود ہوتا۔ جب آپ کو اپنے یہ لوگ وہ شہر سے نکالیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان میں بڑے مشہور تھے نا۔ صادق و امین اور لوگ ان کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے۔ تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا مجھے شہر سے نکالیں گے لوگ؟ یعنی کیسے یعنی ہو سکتا ہے؟ فرمایا ہاں جو اس طرح جن کو یہ کام دیا جاتا ہے پھر اس طرح ہوتا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چونکہ ان چیزوں سے واقف تو نہیں تھے۔ یعنی یکدم یہ باتیں ہوئیں نا، یکدم اس طرح سینس میں نہیں، اس کے لیے تیاری کروائی گئی تھی کہ وہ غارِ حرا وہ تشریف لے جایا کرتے تھے وہ ایک قسم کا وہ یعنی اس کے لیے تیاری تھی۔ لیکن بہرحال یہ کہ اس کے بعد یکدم ہی تو جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس سے واقف نہیں تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں نہ کوئی کتاب پڑھی تھی، وہ کتاب پڑھنا جانتے بھی نہیں تھے۔ بلکہ ایک عجیب واقعہ ہے کہ جس وقت وہ معاہدہ لکھا جا رہا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد رسول اللہ کی طرف سے تو جو ان کے کافروں کی طرف سے نمائندے تھے انہوں نے کہا ہمارا تو اعتراض ہی اسی پر ہے اگر یہ مان لیں تو پھر تو بات ہی ختم ہو گئی۔ تو یہ رسول اللہ کاٹ دو۔ محمد بن عبداللہ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کرم اللہ وجہہ جو لکھ رہے تھے۔ ان سے فرمایا کہ اس کو کاٹ دو۔ تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھ میں ہمت نہیں ہے۔ یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہاں لکھا ہوا ہے؟ یہ ہے اس لیول کے اُمی تھے۔ کہاں لکھا ہوا ہے؟ تو انہوں نے مطلب اشارہ کیا کہ یہاں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اس کو کاٹ دیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیز جس لیول کی وہ تھی مطلب یعنی ان پڑھ ہونا تھا، پڑھے ہوئے نہیں تھے۔ اور پھر ایسے علوم کا اتر آنا یہ بذاتِ خود معجزہ تھا۔ یہ بذاتِ خود معجزہ تھا کہ مطلب یعنی بڑے بڑے علوم والے جو تھے، وہ ان چیزوں سے عاجز تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ مطلب ظاہر ہے ان کے اوپر آتے تھے اور وہ بتاتے تھے۔ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا معجزہ تھا۔ لیکن کافر جانتے نہیں تھے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔