خاندان کی اصلاح اور نیکی میں رہنمائی کی اہمیت

درس نمبر 258 جلد 1، باب 19: بَابٌ فِيْمَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً اَوْ سَيِّئَةً

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ

اہل و عیال کی فکر اور آنکھوں کی ٹھنڈک

متقیوں کی امامت: بڑائی نہیں، بلکہ خیر کی رہنمائی

حسنِ نیت اور دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بننا

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

بَابٌ فِي مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً اَوْ سَيِّئَةً

اس شخص کا بیان جو اچھا طریقہ ایجاد کرتا ہے یا برا طریقہ ایجاد کرتا ہے

قَالَ اللهُ تَعَالٰى: ﴿وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا﴾ (الفرقان: 74)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”اور وہ جو (خدا) سے دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔“

تشریح: پیچھے سے اللہ کے نیک بندوں کی صفات بیان ہو رہی ہیں اس میں سے ایک یہ ہے کہ وہ یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ ہماری اولاد وازواج کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد بقول حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کہ اللہ کی عبادت میں ان کو مشغول دیکھنا، یا ظاہری صحت وعافیت اور خوشحالی کی بھی اولاد وازواج کے لئے دعا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیک لوگ صرف اپنی اصلاح کی فکر نہیں کرتے بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کی بھی فکر میں رہتے ہیں۔ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا حضرت مکحول شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس دعا کا مقصد یہ ہے کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ اپنے لئے تقویٰ کا ایسا اعلیٰ مقام حاصل ہو جائے کہ دنیا کے متقی لوگوں کو بھی ہمارے عمل سے فائدہ پہنچے۔

اصل میں امام، امام کہتے ہیں جو لیڈ کرتا ہے۔ تو عموماً ہمارے ذہنوں میں تو بات ایسی ہوتی ہے نا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو امام کہتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بڑائی چاہتے ہیں۔ نہیں، یہاں پر بڑائی مقصود نہیں ہے، یہاں پر صحیح بات کا پہنچانا مقصود ہے۔ کیونکہ امام کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ جو اچھی بات ہے، وہ دوسروں تک پہنچائے۔ تو یہاں پر یہ دعا اسی لیے سکھائی گئی ہے کہ جو متقی لوگ ہیں، ان کو دوسروں تک بھی اپنی بات پہنچانی چاہیے۔

تشریح: حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اس جملہ کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں ایسا بنا دیں کہ لوگ دین وعمل میں ہماری اقتداء کریں اور ہمارے علم وعمل سے ان کو نفع پہنچے تاکہ ان کا ثواب بھی ہمیں ملے۔ تو اس مطلب سے یہ سوال ختم ہو جاتا ہے کہ اس آیت بالا میں جو دعا ہے وہ مانگنا صحیح نہیں کیونکہ اس میں اپنی بڑائی کی دعا ہے جو ناجائز ہے۔

بلکہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اچھی بات کو دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اور اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، تمام اعمال کا دارومدار چونکہ نیتوں پر ہے، لہٰذا اس نیت کے ساتھ اس کا مانگنا بالکل ٹھیک ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح دین کے سمجھنے کی، اور پھر اس کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔