خطبہ اور دعا کا نبوی اسلوب اور ہماری کوتاہیاں
170 : درس نمبر 257 جلد 1، باب 18: بَابٌ فِی النَّهْيِ عَنِ الْبِدَعِ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُور حدیث نمبر
رسول اللہ ﷺ کی خطبہ کے وقت کی ہیئت، بلند آواز اور لشکر کو خبردار کرنے جیسی کیفیت
حدیثِ مبارکہ کے اہم پیغامات، قیامت کی نزدیکی اور دین میں نئی چیزوں سے بچاؤ
عجمی ماحول میں مفہوم و لہجے کے فرق کو سمجھے بغیر محض روانی سے خطبہ پڑھنے کا رواج
اللہ کے حضور مانگنے کا سلیقہ اور محض الفاظ دہرانے کے بجائے قلبی احساس کی ضرورت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
آپ ﷺ کی خطبہ کے وقت میں حالت
(170) ﴿عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَ عَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتّٰی كَاَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُوْلُ: صَبَّحَكُمْ وَ مَسَّاكُمْ وَ يَقُوْلُ: بُعِثْتُ اَنَا وَ السَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَيَقْرِنُ بَيْنَ اِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰی وَ يَقُوْلُ اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللّٰهِ وَ خَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ شَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ يَقُوْلُ اَنَا اَوْلٰی بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِّنْ نَّفْسِهِ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِاَهْلِهِ، وَ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا اَوْ ضَيَاعًا فَاِلَیَّ وَ عَلَیَّ﴾(رَوَاهُ مُسْلِمٌ) وَ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ حَدِيْثُهُ السَّابِقُ فِیْ بَابِ الْمُحَافَظَةِ عَلَی السُّنَّةِ“
ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے آپ کی دونوں آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آپ کی آواز بلند ہوجاتی اور آپ سخت غصہ میں آجاتے جیسا کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہوں کہہ رہے ہوں وہ لشکر تم پر صبح کے وقت آجائے گا، اور شام کو آجائے گا، اور فرماتے کہ میں اور قیامت ان دونوں انگلیوں کی مانند بھیجے گئے ہیں اور اپنی سبابہ اور درمیانی انگلی کو ملاتے اور فرماتے: اما بعد! بہترین حدیث اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے اور بدترین کام وہ ہیں جو (دین میں) ایجاد کئے گئے ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے، پھر آپ ﷺ فرماتے میں ہر مؤمن سے اس کے نفس سے بھی زیادہ نزدیک ہوں جو شخص مال چھوڑ کر مر جائے وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو شخص قرضہ یا بچے محتاج چھوڑ جائے وہ میری طرف ہیں اور میری ذمہ داری میں ہیں۔“ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث پہلے باب میں سنت کی محافظت میں گذر چکی ہے۔
تشریح: ”اِحْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَ عَلَا صَوْتُهُ“ خطبہ کے وقت آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آواز بلند ہوجاتی۔ اسی وجہ سے علماء فرماتے ہیں کہ خطبہ کے لئے مستحب ہے کہ خطیب کی آواز میں بلندی ہو اور اس کا کلام مختصر ہو اور اس خطبہ میں ایسا انداز اختیار کیا جائے کہ سامعین کو آخرت کا ذوق وشوق پیدا ہوجائے۔
تشریح: قیامت قریب ہے ”بُعِثْتُ اَنَا وَ السَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ“ مجھے اور قیامت کو ایسا مبعوث کیا گیا ہے جیسے یہ دو انگلیاں ہیں شہادت کی انگلی اور درمیان انگلی۔ یعنی جس طرح درمیانی انگلی معمولی سی بڑی ہوتی ہے تو اسی طرح میرے کچھ ہی عرصہ کے بعد قیامت آئے گی۔ اس کی تائید ایک دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ قَالَ: بُعِثْتُ فِیْ نَفَسِ السَّاعَةِ فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هٰذِهِ هٰذِهِ وَ اَشَارَ بِاِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰی. (۳) ترجمہ: آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت کے ابتداء میں بھیجا گیا ہوں میں قیامت سے اتنا آگے ہوں جس قدر بیچ کی انگلی شہادت کی انگلی سے آگے ہے یہ فرما کر آپ ﷺ نے اپنی ان دونوں انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ بدعت کی دو قسمیں ہیں سب سے بہترین راستہ آپ ﷺ کا راستہ ہے سب سے بدترین چیز وہ ہے جس کو دین میں نیا نکالا گیا ہو اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ بدعت کی دو قسمیں ہیں ایک بدعت حسنہ دوسری بدعت سیئہ۔ بدعت حسنہ جو منشاء اسلامی اصول وقواعد کے مطابق ہو اور وہ قرآن وحدیث کے خلاف نہ ہو مثلاً مدرسے بنانا وغیرہ۔ بدعت سیئہ اس کا عکس ہے یعنی جو منشاء اسلام کے خلاف بھی ہو اور قرآن وحدیث کے بھی خلاف ہو اسی کے بارے میں اس حدیث میں فرمایا گیا کہ ”کل بدعۃ ضلالۃ.“ ”مَنْ تَرَكَ دَيْنًا اَوْ ضَيَاعًا فَاِلَیَّ وَ عَلَیَّ“ جو قرض یا بچے چھوڑ کر ملے تو یہ میری ذمہ داری میں ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی کا انتقال ہو جائے اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو حکومت بیت المال سے اس کی پرورش کا انتظام کرے۔
تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب الجمعۃ (باب تخفیف الصلوٰۃ والخطبۃ)، والنسائی 1577، و ابن ماجہ.
اللہ اکبر۔ یہ خطبے کے بارے میں جو بات فرمائی گئی ہے نا۔ اس پر تقریباً ہند و پاک میں شاید ننانوے فیصد لوگوں کا عمل نہیں ہے۔ غالباً ننانوے فیصد لوگوں کا تقریباً عمل نہیں ہے۔ وہ خطبے کو تلاوت کے انداز میں پڑھتے ہیں۔ جیسے قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہوں۔ یا کسی حدیث شریف کی تلاوت کر رہے ہوں۔ حالانکہ خطبہ تلاوت کے انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔ خطبہ خطبہ کے انداز میں ہونا چاہیے۔ اور خطبہ کیا ہے؟ وہ یہی ہے کہ جب خطیب کسی امر کے بارے میں اپنے سامنے بیٹھنے والوں کو بتا رہے ہوں تو وہ اس شان سے بتا رہے ہوں جس میں Text میں جتنا زور ہے وہ زور اس کی آواز میں بھی ہو۔ اس کی ادا میں بھی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی آواز اور ادا میں اور مضمون میں کوئی فرق نہ پایا جائے۔ اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں جو عجم ہے، عجمی ہیں، وہ عربی کا چونکہ وہ نہیں، مطلب عرب نہیں ہیں تو وہ عربی جب بولتے بھی ہیں نا تو صرف تلاوت کے انداز میں بولتے ہیں۔ مطلب وہ جیسے قرآن پاک کی تلاوت کوئی کر رہا ہے کیونکہ انہوں نے عربی تو اسی انداز میں پڑھی ہوتی ہے نا۔ یا حدیث شریف کے جیسے وہ اس کے انداز میں ہے۔ تو اب اس سے یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو خود اس کا جو مفہوم ہے اس کے ذہن میں نہیں بیٹھا۔ کہ میں کہہ کیا رہا ہوں، مطلب اگر یہ کسی کو پتہ ہو کہ میں کہہ کیا رہا ہوں تو وہ اپنی آواز اس کے مطابق بنا لے گا۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں، اچھا، ایک لفظ ہے۔ ایک لفظ ہے۔ لیکن اس کی ادائیگی مختلف ہونے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ صورت بدل جاتی ہے۔ اچھا۔ اچھا۔ اچھا؟ اب یہ تین مختلف اس کی قسمیں ہیں، اور بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ تو یہ یہ اب مجھے چونکہ اچھا کا مفہوم معلوم ہے کہ اچھا کس کو کہتے ہیں اور ان تینوں حالتوں میں اس کا کیا مطلب ہے، لہٰذا ادائیگی اسی کی طرح ہی ہوگی۔ لیکن جو اردو نہیں جانتا ہوگا، مثلاً پشتو والا جو اردو نہیں جانتا ہو وہ اس کو ایک ہی طرح بتائے گا۔ مطلب اس کو سمجھ نہیں آئے گی کہ میں بس ٹھیک ہے، وہ جو لکھا ہوا ہے اس کو پڑھ لے گا۔ اسی طریقے سے یہ مسئلہ ہے آج کل ہمارے ہاں۔ لیکن جو خطیب حضرات ہیں ان کے لیے کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے کہ وہ ان الفاظ کو جو وہ پڑھ رہے ہیں، اس کو اس حد تک پڑھ لیں کہ وہ اس کے لیے وہی زبان بن جائے، مطلب یہ نہیں کہ وہ اہل زبان جیسے ہوتے ہیں ان کے لیے وہ بن جائے۔ تو پھر اس کی ادائیگی بھی صحیح ہو سکے گی۔ اب اس وقت صورتحال، صحیح بات میں عرض کرتا ہوں کہ نہ دعا کے صحیح انداز میں دعا ہو رہی ہے، عربی دعائیں، عربی دعا کی بات کر رہا ہوں۔ عربی دعا صحیح انداز میں نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کی وجہ سے شاید اردو کی دعائیں بھی متاثر ہو گئیں۔ تو دعا دعا کے انداز میں ہونی چاہیے، دعا ایسے انداز میں جیسے آپ کسی سے کچھ مانگ رہے ہیں۔ اب جیسے بھیک مانگنے والا جو ہوتا ہے وہ کس طرح بھیک مانگتا ہے؟ اگر تھوڑا سا اس کے اوپر غور کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ دعا کس انداز میں ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں نا۔ بھیک مانگنے والے کو صرف اپنی غرض سے مطلب ہوتا ہے اور ضروری نہیں ہے کہ جس سے مانگ رہا ہو واقعی اس کو اتنا عظمت والا سمجھتا ہو۔ وہ صرف Bluff کر رہا ہو گا بعض دفعہ۔ لیکن شکل ایسی بنا لیتا ہے، انداز ایسا بنا لیتا ہے جو جو مانگنے کی ہوتی ہے۔ جبکہ دعا میں اللہ کی عظمت ہے تو اس کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ تو جب اللہ کی عظمت کا اندازہ ہو تو پھر ایسے انداز میں پھر کیوں مطلب دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ تو بس یہ ساری باتیں جو ہیں نا ہمارے ہاں مفقود ہوتی جا رہی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ جو جیسے خطبے کی بات بتائی گئی نا۔ تو خطبے میں بھی ہمیں خیال رکھنا چاہیے۔ دعا میں بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اب جیسے مناجاتِ مقبول ہے تو یہ دعا ہے۔ دعائیں ہیں تو ان دعاؤں کے انداز میں اس کو پڑھنا چاہیے۔ تلاوت کے انداز میں نہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ.