دین میں بدعت کی حقیقت اور وسعتِ قلبی کی ضرورت
درس نمبر 256 جلد 1، باب 18: بَابٌ فِی النَّهْيِ عَنِ الْبِدَعِ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُورِ
بدعت کی حقیقت اور دین کے مفید ذرائع
تنگ نظری اور دوہرے معیار کا خاتمہ
توڑ کے بجائے جوڑ کی فکر
مسلمانوں کے ساتھ حسنِ ظن
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾ (آل عمران: 31)
(169) ﴿عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: ”مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ“﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَ فِیْ رِوَايَةٍ لِّمُسْلِمٍ: ”مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ“
اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں
ترجمہ: ”اے پیغمبر لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔“ ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہمارے دین میں ایسی چیز کو ایجاد کیا جو دین میں سے نہیں ہے پس وہ مردود ہے۔“ اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے جو شخص ایسا کام کرے جس پر ہمارا فرمان نہیں وہ مردود ہے۔
اب اوپر کی آیت میں اللہ جل شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو اپنی محبت کی بنیاد بتایا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے سے انسان اللہ کا محبوب بنتا ہے۔ اور دوسری طرف حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے روگردانی جو ہے۔ ایک ہوتا ہے اتباع نہ کرنا یہ تو محرومی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسان اللہ تعالی کا دوست نہیں بنے گا۔ مثبت تبدیلی اس میں نہیں آئے گی۔ دوسرا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مقابلے میں ایک اور طریقہ کھڑا کر کے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سمجھ لینا یا اس کو دین سمجھ لینا یہ پھر خطرناک بات ہے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ تو اس کے لیے جڑ سے ختم کرنے کے لیے یہ فرمایا کہ جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز کو ایجاد کیا جو دین میں سے نہیں پس وہ مردود ہے۔ یہاں پر الفاظ ہیں من احدث۔ یہ اصل میں اس طرف اشارہ ہے کہ پہلے سے ایک چیز نہیں ہوتی پھر بعد میں جو چیز آتی ہے۔ یعنی پہلے سے دین میں نہیں ہے اور پھر بعد میں وہ دین میں اس کو سمجھا جائے یعنی اس کو دین بنا لیا جائے تو یہ کیا ہے یہ حدوث یہ، یہ رد ہے مردود ہے۔ اب یہاں پر بات آ گئی دو باتیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ احداث جس کو یہاں پر احدث فرمایا ہے احداث دو وجوہات سے ہو سکتی ہے۔ یعنی پہلے سے ایک چیز موجود نہ ہو اور پھر بعد میں اس کو لایا جائے تو یہ دو وجوہات سے ہو سکتا ہے۔ ایک یہ ہوتا ہے کہ وہ بطور دین ہو یعنی دین میں شامل کیا جائے۔ یہ تو رد ہے۔ اور ایک ہے دین کے لیے وجود میں لایا جائے دین کے لیے یعنی دین تو ہے وہ لیکن اس کے لیے کوئی ذریعہ ایسا ہو جو پہلے سے موجود نہ ہو۔ اب تبلیغ دین تعلیم یہ پہلے سے موجود ہے یا نہیں ہے؟ پہلے سے موجود ہے۔ صحابہ کرام بھی تبلیغ دین کرتے تھے اور تعلیم کیا کرتے تھے اس وقت کے ذرائع کے مطابق تو ٹھیک ہے اس وقت کے ذرائع پر عمل کرنے سے فائدہ ہوتا تھا اور لوگوں کو فائدہ ہوتا تھا ان کو ثواب ملتا تھا۔ اب آج کل کچھ اور ذرائع بھی ایجاد ہو گئے ہیں۔ مثلا اس وقت جو میں یہ بات کر رہا ہوں یہ الحمد للہ پوری دنیا میں پہنچ رہی ہے internet کے ذریعے سے۔ کیا اس کا کوئی سوچ سکتا تھا اس وقت؟ کہ ایسا ہوگا، تو اب چونکہ اس وقت یہ نہیں تھا اور آج کل ہے اور میں اس پر اگر تبلیغ کر رہا ہوں یا تعلیم کر رہا ہوں تو کیا یہ ناجائز ہوگا؟ ہاں جی؟ یہ جائز ہے ظاہر ہے مطلب چونکہ بذات خود وہ چیز تو موجود ہے نا۔ دین میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ دین کے لیے تبدیلی آئی ہے۔ اس پر اجر ہے۔ آپ ماشاءاللہ۔ اسی وجہ سے ایک روایت یہ بھی ہے نا کہ جس نے کوئی ایسا راستہ جس سے دین پھیلے تو اس پر اس کا اجر ہے ایک روایت اس طرح بھی ہے مفہوم اس کا آتا ہے۔ تو اب یہ مطلب اس ضمن میں آ جائے گا کہ جو دین کے لیے کوئی نیا طریقہ ڈھونڈتا ہے تو اس پر تو اجر ہے۔ ہاں دین کے اندر اگر کوئی چیز بناتا ہے نئی تو پھر وہ مردود ہے۔ اس کو رد کیا جائے گا۔ یہ ایک باریک فرق ہے۔ جو اس کو نہیں جانتے تو افراط تفریط میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ افراط تفریط میں ایسے کہ کچھ لوگ جو ذرائع ہیں ان کو بھی بدعت کہنا شروع کر لیتے ہیں۔ جو ذرائع ہیں ان کو بھی بدعت کہنا شروع جیسے بارہ تسبیح ہمارا جو ذکر ہے۔ بارہ تسبیح کا ذکر یہ تصوف میں مطلب ہے۔ مراقبہ ہے۔ اس طرح اشغال ہیں۔ اب یہ ساری چیزیں پہلے سے موجود نہیں تھیں بعد میں دریافت ہوئی ہیں۔ لیکن اس کو ہم دین نہیں سمجھتے نہ کوئی دین سمجھتا ہے۔ یہ صرف یعنی اب دین پر آنے کے لیے ذرائع ہیں تو ظاہر ہے وہ احداث للدین ہے۔ تو یہ ماشاءاللہ یہ بہت اچھی چیز ہے۔ جبکہ دین کے اندر کوئی نئی چیز اگر کوئی بنائے گا تو پھر وہ مردود ہو گا۔ تو کچھ لوگ تو ایسے ہیں جیسے ان ذرائع کو بھی بدعت کہنا شروع کر دیں گے۔ لیکن بعض دفعہ اتنے بیوقوف ہوتے ہیں، کہ شیش محل میں بیٹھ کر دوسروں پہ پتھر پھینکتے ہیں۔ کیسے؟ مثلا تبلیغی جماعت کے جو چلہ ہے، یا سہ روزہ ہے، یا شب جمعہ ہے، یا گھر کی تعلیم اور باہر کا، یہ احداث للدین ہے۔ اس پہ کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔ لیکن خود ان چیزوں کو تو صحیح سمجھ کر، باہر تسبیح پہ اعتراض کرے تو یہ شیش محل میں بیٹھ کر دوسروں پہ پتھر پھینکنے والی بات ہے۔ بھئی تم خود اپنی اس چیز کو پھر ثابت کرو نا۔ اگر تمہارا فارمولا یہ ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جو نیا طریقہ آتا ہے دین کو پھیلانے کے لیے، وہ ٹھیک ہے، تو دوسرے پہ کیسے اعتراض کرتے ہو پھر؟ وہ بھی تو وہی چیز ہے نا۔ اس طرح کوئی سیاست میں ہے۔ اور سیاست میں اچھا کام کر رہے ہیں۔ اس کے لیے نئے نئے طریقے دریافت کر رہے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ تو وہ بھی بیچارہ اس بیماری میں مبتلا ہے۔ کوئی تدریس میں ہے۔ تدریس کے لیے نئے نئے طریقے دریافت کر رہے ہیں۔ اور اس پر ثواب بھی سمجھتے ہیں۔ اور دوسرے پہ اعتراض کر رہے ہیں۔ وہ بھی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ یا کوئی صوفی ہے۔ وہ صوفی ہو کر تدریس کے طریقوں پہ اعتراض کرنا شروع کر لے۔ وہ بھی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ کیونکہ قانون تو ایک ہے نا، احداث للدین اور احداث فی الدین۔ احداث فی الدین یہ بدعت ہے۔ احداث للدین، بدعت نہیں ہے۔ بس یہ مطلب، چاہے وہ تبلیغ کا ہو، چاہے وہ تصوف کا ہو، چاہے وہ سیاست کا ہو، چاہے وہ تدریس کا ہو، چاہے وہ جہاد کا ہو۔ ان سارے چیزوں میں اگر احداث للدین ہے تو وہ دین کے خلاف نہیں ہے۔ اور اگر احداث فی الدین ہے، تو پھر اس کو میں بھی کہوں گا چاہے صوفی ہوں، میں بھی بدعت کہوں گا۔ وہ کوئی مجاہد ہے تو وہ بھی بدعت کہے گا۔ اگر کوئی تدریس والے وہ بھی بدعت کہے گا۔ ہر ایک کو بدعت کہنا پڑے گا اس کو۔ بس یہی مطلب بنیادی بات ہے۔ تو اگر اس کو ہم دیکھ لیں، تو میرے خیال میں پھر کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ یہی اصل میں ہمارے بزرگوں نے ہمیں سکھایا ہے۔ وسعت نظری، وسعت قلبی۔ جو چیز اپنے لیے پسند کرتا ہو، وہ تو مشہور فارمولا ہے حدیث شریف میں بتایا گیا ہے۔ کہ جو چیز اپنے، وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی۔ اس وقت تک اس کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا جو، جو اپنے لیے پسند کرتا ہو وہ اپنے بھائی کے لیے پسند۔ تو بس بات یہ ہے بھئی ٹھیک ہے، میں جس طریقے پر ہوں، میں اپنے لیے اگر کوئی چیز پسند کرتا ہوں تو میں اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کروں گا۔ فارمولا بالکل صحیح ہے۔ کوئی اس قسم کی بات نہیں ہے۔ یہ تنگ نظری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تنگ نظری انتہائی سخت بیماری ہے۔ جس کی وجہ سے توڑ پیدا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے خوب الحمد للہ حضرت مولانا یوسف کاندھلوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کا میں نے ایک بیان جو پمفلٹ کے طور پہ چھپا ہوا تھا وہ میں نے پڑھا ہے۔ اور یہ غالبا ان کا شاید آخری بیان ہے۔ جس میں حضرت نے خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد فرمایا افسوس امت سے امت پنا ختم ہو گیا۔ افسوس امت سے امت پنا ختم ہو گیا۔ پھر اس میں فرمایا کوئی شخص نیک آدمی ہو بظاہر، لیکن وہ کوئی ایسی بات کر لے جس سے امت میں توڑ پیدا ہو جائے، تو وہ جہنم میں جائے گا۔ اور جو بظاہر اتنا نیک آدمی نہیں ہو، لیکن اس کی باتوں سے امت میں جوڑ پیدا ہو جائے، وہ جنت میں جائے گا۔ تو یہ حضرت نے اس پر باقاعدہ پورا بیان فرمایا تھا۔ اب ذرا غور فرمائیں کہ ہمارے بڑے ہمیں کیا راستہ دے رہے ہیں؟ ہمارے بڑے ہمیں جوڑ کا راستہ دے رہے ہیں۔ یہ توڑ والے کہاں سے آ گئے؟ میں تو کہتا ہوں یہ تو شیطان کے راستے پہ چلنے والے ہیں۔ جو دین میں توڑ پیدا، جو مسلمانوں میں توڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ توڑ نہیں جوڑ پیدا کرو۔ ظن المومنین خیرا، مومنوں کے ساتھ نیک گمان۔ یہ تو بنیادی باتوں میں ہے۔ مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالی حضرت کو جنت نصیب فرمائے۔ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، تو ان کے ساتھ کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ تو حضرت چونکہ اس وقت بہت ضعیف ہو گئے تھے۔ تو جب تشریف لاتے تو جو ناظم صاحب تھے وہ ان کو کارگزاری بھی سناتے تھے۔ اور ساتھ ساتھ یہ چیک بک پر دستخط وغیرہ بھی کرواتے تھے کیونکہ ظاہر ہے حضرت مہتمم تھے۔ تو ساتھ ساتھ کارگزاری کے طور پر فرماتے فلانے نے یہ کہا، فلانے مخالفین، جو فلانے نے یہ کہا، فلانے نے یہ کہا۔ تو حضرت اتنا زبردست تاویل ان کے لیے بناتے، شاید حضرت وہ اس وجہ سے کہہ رہے ہوں گے۔ شاید وہ اس وجہ سے کہہ رہے ہوں گے۔ اپنے مخالفین کے لیے دلائل تاویل کے ڈھونڈتے تھے۔ سبحان اللہ۔ میں نے کہا دیکھو کتنے صاف لوگ ہیں۔ وہ جب الیکشن میں کھڑے تھے، تو زبردستی کھڑا کیا گیا تھا ان کو ظاہر ہے۔ تو ایسے ہوا کہ وہ جو مخالفین تھے، انہوں نے ایک نوجوان کھڑا کیا ہوا تھا۔ تو ان کے جو بڑے تھے نا وہ اس پہ راضی نہیں تھے کہ وہ مولانا کے خلاف کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ آئے معذرت کے لیے کہ حضرت نوجوان ہیں، کسی نے ان کو شہ دے دی ہے اور ہم ان کے ساتھ نہیں ہیں، آپ ہم سے ناراض نہ ہوں یہ۔ حضرت ان سے باتیں کر رہے تھے۔ جب وہ جانے لگے تو اس کے لیے کہ اللہ ان کو کامیاب کر دے، دعا کی۔ اب لوگ حیران تھے کہ یہ کیا کر رہے ہیں حضرت۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ، یہ اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کے ساتھ اچھا گمان کرتے ہیں۔ وسعت نظری سے کام لیتے ہیں۔ یہی بات ہوتی ہے کمال کی۔ یہ جو ہے نا خوامخواہ اپنے آپ کو پولیس والا بنا کر، وہ خوامخواہ پہلے ابتدائی سے بدگمانی کر کے، اچھا بدگمان تو میں ہوں، تم اپنے آپ کو صاف ثابت کر لو۔ یعنی صاف ثابت کرنے کا نظام تم اپنے طور پہ کرو۔ میں نے تو تمہیں نہیں ماننا۔ تو یہ بات خطرناک ہے۔ اللہ تعالی ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔