احوالِ قیامت اور بدعت کی اصل حقیقت

درس نمبر 247 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 165

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مدینہ منورہ - مدینہ منورہ
  1. کھانے کا گرا ہوا لقمہ مٹی وغیرہ صاف کر کے کھا لینا چاہیے اور اسے شیطان کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
  2. کھانے کے بعد انگلیاں اور برتن چاٹنے کا حکم ہے کیونکہ معلوم نہیں ہوتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
  3. رزق کو متکبرانہ طور پر ضائع کرنے کے بجائے گرے ہوئے لقمے کو اٹھانا عاجزی اور نعمت کی قدر دانی ہے۔
  4. اگر گرا ہوا لقمہ اتنا گندا ہو جائے کہ کھایا نہ جا سکے تو اسے ضائع کرنے کے بجائے کسی جانور کو کھلا دینا چاہیے۔
  5. کھانے کے آداب میں دسترخوان پر پہلے بیٹھنا اور برتن اٹھنے کے بعد اٹھنا شامل ہے، اور ان متروک سنتوں پر عمل کرنے کا عظیم اجر ہے۔

اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

آپ ﷺ کا وعظ

(165) ﴿الْعَاشِرُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ: ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُوْنَ إِلَى اللَّهِ تَعَالٰى حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِيْنَ أَلَا! وَ إِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، أَلَا وَ إِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِيْ فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِى مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَكَ فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ اِلَى قَوْلِهِ: الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ فَيُقَالُ لِي: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ“﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) غُرْلًا: أَيْ غَيْرَ مَخْتُونِينَ.

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں وعظ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! تم سب اللہ پاک کی طرف ننگے پاؤں ننگے بدن اور بے ختنہ اٹھائے جاؤ گے جیسا کہ ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح ہم دوبارہ لوٹائیں گے یہ ہم پر وعدہ ہے بیشک ہم اسے پورا کریں گے، خبردار! تمام مخلوقات میں سے اولا قیامت کے روز ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائیگا۔ خبردار! بیشک میری امت کے کچھ آدمیوں کو لایا جائیگا اور ان کو بائیں طرف والوں میں پکڑا جائیگا، میں کہوں گا اے میرے پروردگار یہ تو میرے رفیق ہیں جواب دیا جائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا چیزیں (دین) میں ایجاد کیں، تو میں کہوں گا جیسا کہ اللہ کے نیک بندے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں جب تک ان کے درمیان رہا میں ان کی نگرانی کرتا رہا، آپ ﷺ نے یہ آیت العزیز الحکیم تک تلاوت فرمائی پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ یہ لوگ تیرے چلے جانے کے بعد مرتد ہو گئے۔“ غُرْلًا: کے معنی ہیں غیر مختون جس کے ختنے نہ ہوئے ہوں۔

تشریح: قیامت میں ہر آدمی ننگے بدن اور ننگے پاؤں ہوگا حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهُ ننگے پاؤں ننگے بدن اور بے ختنہ اٹھائے جاؤ گے جیسے کہ ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ یہ مضمون متعدد احادیث کے علاوہ قرآن کی متعدد آیات میں بھی پایا جاتا ہے مثلاً ”كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ“ اسی طرح فرمایا: ”كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهُ“ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن جب آدمی کو اٹھایا جائے گا تو وہ اس طرح ہوگا جیسے کہ وہ دنیا میں پیدا ہوا تھا۔ کوئی چیز اس سے دنیا میں کاٹ دی گئی ہو تو اس کو بھی جوڑ دیا جائے گا جیسے کہ ختنہ کی کھال۔ قیامت میں سب سے پہلے کپڑے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیئے جائیں گے ”إِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ“ قیامت میں سب سے پہلے جس کو لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ یہ فضیلت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کیوں دی جائے گی؟ اس کے علماء نے متعدد جوابات دیئے ہیں: ❶ دنیا میں وہ فقراء ومسکین کو بہت زیادہ کپڑا پہناتے تھے۔ ❷ جب نمرود نے آگ میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو ان کے کپڑے اتارے گئے، یہ سب سے پہلے شخص ہیں جن کے اللہ کے راستے میں کپڑے اتارے گئے۔ ❸ دنیا میں بھی ستر چھپانے کا بہت خیال رکھتے تھے، اسی وجہ سے لوگ کہتے ہیں سب سے پہلے شلوار کا استعمال حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آپ ﷺ سے بھی پہلے کپڑا دیا جائے گا۔ آپ ﷺ کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَأُكْسَى حُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أَقُوْمُ عَنْ يَّمِينِ الْعَرْشِ. قیامت کے دن سب سے پہلے میں زمین سے پھٹ کر اٹھوں گا اور جنت کا لباس پہنوں گا اور عرش کے دائیں طرف کھڑا ہوں گا۔ ”فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ هُوَ عِيسَىٰ عَلَيْهِ السَّلَام“ میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ جب عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا جائے گا ان کی قوم کی گمراہی اور بدعقیدگی کے بارے میں تو وہ برأت کا اظہار کریں گے، اسی طرح آپ ﷺ سے سوال ہوگا تو آپ بھی برأت کا اظہار فرمائیں گے۔

اللہ اکبر! تو یہ جو ہے نا مطلب ایسے لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے بدعتیں ایجاد کیں۔ کیونکہ فرمایا کہ نئی نئی باتیں دین میں شامل کی ہیں۔ تو بدعت بہت بڑی گمراہی ہے اور اس گمراہی سے بچنا ضروری ہے، کیونکہ «كل بدعة ضلالة» کہ یہ ساری بدعتیں گمراہی ہیں اور ہر گمراہی جو ہے نا وہ دوزخ کی طرف لے جانے والی ہے۔ تو لہٰذا بدعتوں سے بہت بچنا چاہیے۔ شرک سے بہت بچنا چاہیے، یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے کہ اللہ پاک کی صفات میں کسی کو شریک کرنا، اللہ کی ذات میں کسی کو شریک کرنا۔ یہ جو ہے نا یہ شرک خطرناک ہے کیونکہ اللہ پاک کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ظلمِ عظیم ہے: {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}۔ اور بدعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ... نعوذ باللہ من ذلک، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین لے کے آئے ہیں، تو گویا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بھی دین لا سکتے ہیں۔ تو یہ دعویٰ ہے مطلب ظاہر ہے جو اپنی باتوں کو جو نئی شامل کی اس کو دین کہنے والے۔ دین نہ کہے، دنیا کہے تو پھر کوئی بات نہیں۔ پھر تو ایک فضول چیز ہو جائے گی، بدعت نہیں ہوگی، فضول چیز ہوگی۔ لیکن اگر اس نے دین بھی کہہ دیا تو پھر یہ کیا ہو جائے گا؟ پھر جو ہے نا وہ بدعت ہو جائے گی۔ اس وجہ سے ہاں البتہ اس میں ضرور یہ بات ساتھ ملانی ہوگی کیونکہ گمراہ لوگ بھی ہوتے ہیں اور وہ ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق جامہ پہناتے ہیں۔ تو اس میں بدعت جو ہے نا مطلب اس وقت ہے جب اس کو جو دین میں نئی بات نکالی جائے گی یعنی اس کو دین کہا جائے گا۔ اگر اس کو ذریعے کے طور پر استعمال کرتا ہے کسی بھی دینی بات کے لیے، وہ بدعت نہیں بلکہ وہ تو اہ جس کو مطلب یہ کہتے ہیں نا جو ایک ہوتا ہے نا وہ یعنی نئی چیز دین میں نکالنا، ایک ہوتی ہے نئی چیز دین کے لیے نکالنا،احداث للدین اس کو کہتے ہیں۔ ایک ہوتا ہے احداث فی الدین، احداث فی الدین بدعت ہے۔ اور احداث للدین یہ تو حکمت ہے، مطلب یہ ہے کہ کہ دین پر عمل کرنا جس طریقے سے بھی ممکن ہو ذریعے سے، اس ذریعے کو وجود میں لانا یہ جو ہے نا یہ بہت ماشاء اللہ بڑی دین کی خدمت ہوئی۔ میں ایک مثال دیتا ہوں، یہ درسِ نظامی جو ہے۔ کیا یہ درسِ نظامی پہلے تھا؟ صحابہ کے دور میں درسِ نظامی کا نام کسی نے سنا تھا؟ یا جو کتابیں اس میں پڑھائی جاتی تھیں، وہ کیا کتابیں پڑھائی جاتی تھیں صحابہ کرام کے دور میں؟ ظاہر ہے وہ تو نہیں پڑھائی جاتی تھیں، اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یہ صرف و نحو، یہ ساری چیزیں، علومِ علومِ فلسفہ اور یہ منطق اور یہ ساری چیزیں، یہ ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ تو وہ یہ بضرورت ہے۔ چونکہ ضرورت آگئی تو پھر ٹھیک ہے، پھر مطلب دین کے پڑھانے کا ذریعہ بن گیا۔ تو اس طرح درسِ نظامی۔ اسی درسِ نظامی کی طرح یہ جو تصوف کے معمولات ہیں اور اعمال ہیں، یہ بھی نئی چیزیں ہیں لیکن دین کے لیے ہیں، دین میں نہیں ہیں۔ اس کو کوئی بھی دین کا نہیں سمجھتا کہ یہ دین ہے۔ مثال کے طور پر ہم بارہ تسبیح کرتے ہیں تو اس کو ہم دین نہیں سمجھتے، ہاں دین پر آنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہاں جی؟ تو دین پر آنے کا ذریعہ تو ہے۔ تو اخلاص جس ذریعے سے بھی آجائے تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ آپ اس کو انڈورس کریں گے کہ مطلب یہ مفید ہے۔ تو بس یہی فرق ہے کہ کچھ لوگ تشدد یہ کرتے ہیں کہ وہ ہر نئی چیز کو جو ہے نا وہ جو ہوتا ہے اب اس کو قبول کرتے ہیں اور مطلب اپنے آپ کو ثواب کا، مستحق سمجھتے ہیں۔ اور دوسری طرف جو ہے نا مطلب ہے کہ جو تشدد ہے وہ یہ ہے کہ جو ذرائع ہیں ان کو بھی بدعت سمجھنے لگتے ہیں۔ تو دونوں باتیں غلط ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں جو صحیح بات ہے اس کے لیے احقاقِ حق ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح فکر اور صحیح سوچ نصیب فرمائے۔