فرمانِ مصطفیٰ ﷺ: سراپا وحیِ الٰہی

درس نمبر 229 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہشِ نفس سے کوئی بات نہیں فرماتے، بلکہ ان کا ہر ارشاد وحیِ الٰہی پر مبنی ہوتا ہے۔
  2. قرآن کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، جبکہ حدیث و سنت میں معنی اللہ کے اور الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہیں۔
  3. آپ صلی اللہ علیہ وسلم قواعدِ کلیہ سے اجتہاد بھی فرماتے ہیں، جس میں کوئی غلطی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی اس کی اصلاح فرما دیتے ہیں۔
  4. شریعت مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے دین کے معاملے میں کسی ذاتی خیال کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
  5. اسلام اللہ پاک کا بھیجا ہوا دین ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بانیِ اسلام نہیں بلکہ پیغمبرِ اسلام کہنا چاہیے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ قَالَ تَعَالٰی: ﴿وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی﴾ (نجم: 3، 4)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”اور نہ آپ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے۔“

تشریح: اس آیت شریفہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں وہ بھی وحی ہی ہوتا ہے پس جس کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی طرف سے نازل ہوئے ہوں تو اس کو قرآن کہا جاتا ہے اور اگر معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور الفاظ آپ ﷺ کی طرف سے ہوں تو اس کا نام حدیث وسنت ہے۔ یہ الگ بات ہے کبھی حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے وہ معاملہ صاف اور واضح طور پر ہوتا ہے تو نبی اس کو اپنے الفاظ میں بیان فرما دیتے ہیں، کبھی وہ معاملہ اللہ کی طرف سے بطور قاعدہ کلیہ کے ہوتا ہے پھر اس سے آپ ﷺ اپنے اجتہاد سے حکم بیان فرماتے ہیں پھر اس اجتہاد میں اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اللہ جل شانہ کی طرف سے بذریعہ وحی اس کی اصلاح کر دی جاتی تھی۔

مطلب یہ بات ہے۔ تو جو کچھ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ وہ کوئی نفس کی خواہش کی وجہ سے نہیں فرماتے۔ بلکہ جو وحی کی جاتی ہے۔ وہ وہی کہتے ہیں۔ جیسا ہم لوگ کہتے ہیں نا، ہمارا میرا خیال ایسا ہونا چاہیے۔ تو خیال وغیرہ نہیں چلتا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیال سے بات نہیں کرتے تھے، تو کوئی اور کیسے اپنے خیال سے بات کر سکتا ہے؟ مطلب شریعت شریعت ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اس لیے جو یعنی بانی اسلام، وہ نہیں کہا جا سکتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ پیغمبر اسلام کہا جا سکتا ہے، اصل مطلب پیغمبر ہیں۔ کیونکہ اسلام تو اللہ پاک کی طرف سے ہے۔ مطلب اللہ پاک نے اسلام یعنی جو بنایا ہوا ہے، اور اس نے بھیجا ہے۔ ہاں اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے پیغمبر بنایا ہے، اپنی بات کو لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ بات ہے۔ تو یہاں پر فرمایا:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ: سراپا وحیِ الٰہی - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور