اتباعِ سنت کی اہمیت اور ایمان بالرسالت کی بنیاد
درس نمبر 228 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا
- قرآنی حکم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور احکامات کی پیروی بالکل اسی طرح ضروری ہے جیسے قرآن پر عمل کرنا۔
- احادیثِ مبارکہ کی تین اقسام قولی، فعلی اور تقریری کے ذریعے ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کیا چاہتے ہیں۔
- قرآنِ مجید کی صرف وہی تشریح معتبر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، لہٰذا اپنی رائے سے قرآنی تشریح کرنا غلطی ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرنا جو آپ نے نہ فرمائی ہو، انسان کے لیے جہنم کا ٹھکانہ بناتا ہے۔
- احادیث کے بغیر قرآن پر عمل ناممکن ہے کیونکہ خود قرآن کا کلامِ الٰہی ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور گواہی سے ثابت ہے۔
- اللہ تعالیٰ، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور تقدیر سمیت تمام ایمانیات کی اصل جڑ اور بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ پر ایمان لانا ہے۔
- احادیث کو نشانہ بنانے والے نظریات ایمان کے لیے زہر ہیں، اس لیے عقیدے کی حفاظت کی خاطر ایسے لوگوں سے بالکل اختلاط نہیں کرنا چاہیے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالْمُحَافَظَةِ عَلَى السُّنَّةِ وَآدَابِهَا
سنت اور آدابِ سنت پر محافظت کے حکم کے بیان میں
قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿وَمَا اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا﴾ (حشر: 7)
ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔“
تشریح: اس آیت کو عام مفسرین نے عام رکھا ہے اور فرمایا ہے جب آپ ﷺ کی طرف سے کوئی امر آئے تو اس کو فوراً قبول کر لینا چاہئے اور جب بھی وہ روکے تو رک جانا چاہئے
یعنی اوامر و نواہی پر پورا پورا عمل کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین قسم کی احادیثِ شریفہ مطلب ہے منسوب ہیں۔ وہ جن کا یعنی مطلب ہے قولی، یعنی مطلب ہے بتایا منع کیا یا حکم دیا ہے، وہ قولی ہے۔ دوسرا فعلی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کیا ہے اور کچھ نہیں کیا۔ اور تیسرا تقریری ہے، یعنی کسی نے کچھ کیا، اس کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ دیکھنا ثابت ہے لیکن منع ثابت نہیں ہے تو پتا چل گیا کہ اس کی اجازت ہے۔ دیکھنا ثابت ہے، منع ثابت ہے تو پتا چل گیا کہ یہ تو منع فرمایا ہے۔ یہ مطلب ہے مختلف احادیثِ شریفہ ہیں۔ تو ان احادیثِ شریفہ کے ذریعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ اور اس کے مطابق پھر ہم عمل کریں۔ تو فرمایا کہ
تشریح: اور آپ کے حکم کا ماننا ایسا ہی ضروری ہے جیسے کہ قرآن کے حکم کو ماننا۔
بلکہ قرآن کی وہ تشریح معتبر ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔ اپنی طرف سے کوئی قرآنِ پاک کی تشریح نہیں کر سکتا۔ بلکہ یہاں تک فرما دیا کہ اگر قرآن میں کوئی اپنی رائے سے بات کہہ دے، تو وہ قبول نہیں ہے، اس نے اگر صحیح بات بھی کی تو اس نے غلطی کی۔ اس نے اگر صحیح بات بھی کی ہے پھر بھی اس نے غلطی کی، کیوں، اس نے اپنی رائے سے بات کر لی۔ اس کے پاس اس کے لیے ریفرنس نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے قرآن میں بہت محتاط بات کرنی چاہیے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی ایسی بات منسوب کر لے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متعلق نہیں ہو، تو پھر کیا ہے؟ فرمایا کہ وہ جہنم میں اپنا گڑھا (ٹھکانہ) بنا لے۔
تشریح: علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں یہاں پر اتیٰ کے مقابل میں نھی کے الفاظ ہیں تو نھی کے مقابل آنے کی وجہ سے اتیٰ کے معنی امر کے ہوں گے یعنی جس چیز کا حکم دیں نبی ﷺ تو فوراً قبول کر لو اور جس سے منع کریں تو رک جاؤ۔ آپ ﷺ کے حکم کو بھی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعد والے مثل قرآن کے رکھتے تھے۔ علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے میں دیکھا تو اس کو فرمایا کہ یہ کپڑے اتار دو، اس نے کہا اس کے فتویٰ کو قرآن سے بتائیں، تو انہوں نے آیت بالا پڑھ دی۔
"وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا"۔
تشریح: اسی طرح ایک مرتبہ امام شافعیؒ نے لوگوں کو کہا کہ میں تمہارے ہر سوال کا جواب قرآن سے دوں گا، لوگوں نے مسائل معلوم کئے تو یہ آیت پڑھی اور اس کو حدیث سے بیان کیا۔
مطلب یہ ہے کہ اصل میں یہ جو پرویزی فرقہ ہے جو کہ کہتے ہیں کہ بس ہمیں صرف قرآن سے معلوم کرنا چاہیے اور احادیثِ شریف مطلب سند نہیں ہے، وہ اس طرح بات کرتے ہیں۔ تو ان سے ہمارے علماء کہتے ہیں کہ پھر اس آیت پر عمل کر کے دکھاؤ حدیثِ شریف کے بغیر۔ کیسے عمل کرو گے؟ حکم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ کو دیں اس کو لو اور جو جس سے منع کریں اس سے تم رک جاؤ۔ تو اب اس پر عمل کر کے دکھاؤ، کیسے عمل کرو گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دینا کیسا ہوگا اور پھر یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منع کرنا کیسے ہوگا وہ حدیثِ شریف سے ثابت ہوگا نا؟ ایک تو یہ جواب اور دوسرا کہتے ہیں کہ قرآن بھی حدیث سے ثابت ہے۔ قرآن بھی حدیث سے ثابت ہے۔ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ قرآن ہے نا؟ تو مطلب اس کی جو بنیاد ہے وہ تو حدیثِ شریف ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق و امین ہیں۔ تو صادق ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی سچی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ قرآن ہے۔ تو جب قرآن ہے تو بس پھر قرآن ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قرآن نہ فرماتے تو کون محتاج ہے جو اس کو قرآن بتاتے؟ اب دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی الفاظ فرمائے ہیں نا، مطلب حدیث میں تو عربی میں ہے نا وہ بھی اور بڑی زبردست عربی ہے۔ اور قرآن بھی عربی میں ہے۔ اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کا کوئی حصہ سنا دیں اور یہ نہ کہیں کہ یہ قرآن ہے تو لوگوں کو کیسے پتا چلے گا کہ یہ قرآن فرما رہے ہیں یا حدیثِ شریف ہے؟ وہ پتا اسی وقت چلتا ہے جب کاتب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لکھو، یہ قرآن ہے۔ تو اس طرح اس کا مطلب ہے کہ قرآن جو ہے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے مطابق ہے۔ اس طرح اللہ جل شانہ کے بارے میں جو ہمارا عقیدہ ہے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے ہے۔ اور ایک دفعہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کے پاس ایک atheist آیا۔ شراب پی ہوئی تھی۔ حضرت کی مجلس میں بیٹھا، چونکہ اس وقت تو شراب پر پابندی نہیں تھی۔ تو مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ تم خدا پر یقین رکھتے ہو؟ تو اس نے کہا جی کیوں نہیں مسلمان ہوں۔ تو اس نے کہا کہ کیا ثبوت ہے آپ کے پاس؟ تو حضرت نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تو اس نے کہا آپ ایک گواہی پر اتنی بڑی حقیقت کو کیسے منوا سکتے ہیں؟ ایک گواہی پر۔ تو ظاہر ہے پٹھانوں کا علاقہ تھا تو لوگ اٹھنے لگے یعنی مار پٹائی کے لیے۔ تو حضرت نے اشاروں اشاروں میں بٹھا دیا کہ بھئی میں جواب دوں گا، آپ چھوڑو۔ تو حضرت نے باتوں میں لگا دیا ادھر ادھر کی۔ مطلب ایسے ہے جیسے بھول بھال گئے کہ کیا ہوا تھا اور کیا نہیں ہوا تھا۔ پھر اس کے بعد پوچھا۔ آپ کے والد صاحب کیسے ہیں؟ اس نے کہا وہ تو فوت ہو گئے ہیں۔ والدہ کیسی ہیں؟ جی بالکل وہ ٹھیک ہیں ہیں موجود بوڑھی ہیں۔ تو وہ تو بہت سچی عورت ہو گی پرانی عورت ہے نا مطلب ظاہر ہے پرانی عمر کی۔ تو وہ تو بڑی سچی ہو گی۔ تو یہ لوگ بڑے broad minded بنتے ہیں۔ تو کہتے ہیں نہیں نہیں اپنے مقصد کے لیے کبھی جھوٹ بھی بول لیتی ہے۔ ٹھیک ہے یہ بات کر لی۔ تو حضرت نے آگے سے کہہ دیا کہ کیا خیال ہے، آپ نے جس کے بارے میں کہا کہ میں اس کا بیٹا ہوں، کہ تم واقعی اس کے بیٹے ہو؟ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟ تو غصہ ہو گئے، کہتے ہیں مولانا گالیاں تو نہ دو۔ اس نے کہا بھئی غصہ نہ ہو۔ تو نے اتنی بڑی بات کی، میں نے تجھے کچھ نہیں کہا۔ ثبوت مجھ سے مانگ رہا ہے نا، تو میں بھی تجھ سے ثبوت ہی مانگ رہا ہوں۔ میری گواہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کو کافر بھی جھوٹا نہیں کہہ سکے۔ تم اپنے خود جس کو جھوٹا سمجھتے ہو۔ کہ وہ اپنے مقصد کے لیے جھوٹ بول سکتی ہے۔ تو اس سے بڑا مقصد اس کا کیا ہو گا کہ وہ لوگوں میں اپنی عزت بچائے اور جھوٹ بولے۔ تو اگر اس نے جھوٹ بولا ہو تو پھر؟ کہ واقعے کی گواہ تو صرف وہی ہے۔ بس۔ تو اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان جو ہے وہ تمام ایمانوں کی جڑ ہے۔ اللہ پر ایمان۔ باقی پیغمبروں پر ایمان۔ کتابوں پر ایمان۔ فرشتوں پر ایمان۔ تقدیر پر ایمان۔ ان سارے مطلب ہے نا وہ ایمانوں کی جو جڑ ہے وہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان۔ اور یہی چیز کافروں کو معلوم ہے تو وہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ادھر سے دور ہو گئے پھر اس کے بعد کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ کٹی ہوئی پتنگ کی طرح پھر جہاں پر گیا ادھر گئے۔ تو یہ حدیثِ شریف میں جو حملے ہوتے ہیں وہ اصل میں اسی لحاظ سے ہوتے ہیں۔ یعنی یہ ایسا زہر ہے جس کا زہر ہونا معلوم نہیں ہوتا اور اسی میں انسان مر جاتا ہے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے بالکل ہی اختلاط نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ ہمارے ایمانوں کے اوپر ڈاکہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہماری حفاظت فرمائے۔