نمازِ تہجد کی قضاء اور نفلی معمولات میں استقامت

درس نمبر 227 جلد 1، باب 15: بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ، حدیث نمبر: 155

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری یا کسی عذر کی وجہ سے رات کی نماز فوت ہونے پر دن میں بارہ رکعات قضا پڑھتے تھے۔
  2. اس عمل سے تہجد کی بارہ رکعات ثابت ہوتی ہیں، البتہ چار، چھ یا آٹھ رکعات بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
  3. راجح قول کے مطابق تہجد کی نماز سب کے لیے نفل ہے اور نفلی عبادات کی قضا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے۔
  4. انسان کو اپنا نفلی معمول دائمی رکھنا چاہیے اور ناغہ ہونے پر قضا کر لینی چاہیے تاکہ نفس اسے بالکل نہ چھوڑ بیٹھے۔
  5. رات کی نماز رہ جانے کی صورت میں اسے فجر اور ظہر کے درمیان چاشت کے وقت پڑھ کر پورا کیا جا سکتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

آپ ﷺ کا نماز تہجد کی قضاء کرنا

(155) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً. (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب بیماری وغیرہ کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز فوت ہو جاتی تو دن کو بارہ رکعات پڑھتے۔“

اس سے تہجد کی بارہ رکعات کا بھی ثبوت ہو جاتا ہے کہ بارہ رکعات ہیں۔ البتہ آٹھ بھی پڑھ سکتے ہیں، چار بھی پڑھ سکتے ہیں، چھ بھی پڑھ سکتے ہیں، لیکن یہ مطلب ہے کہ ہیں بارہ رکعات، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بارہ رکعات سے اس کو قضا فرمایا۔

تشریح: بعض علماء کے نزدیک تہجد کی نماز آپ ﷺ پر فرض تھی جیسے کہ قرآن میں فرمایا گیا نَافِلَةً لَّكَ کہ پانچ نمازوں کے علاوہ تہجد کی نماز آپ ﷺ پر زائد فرض ہے۔ اگرچہ اس قول کو علامہ قرطبیؒ اور دوسرے محققین مفسرین و محدثین نے مرجوح قرار دیا ہے۔ بہرحال اس قول کے اعتبار سے آپ ﷺ کے نماز تہجد کے فوت ہونے سے قضاء کرنے میں کوئی اشکال نہیں اور اگر راجح قول کو لیا جائے کہ آپ ﷺ اور امت سب کے لئے تہجد نفل ہے تو تہجد کی قضاء کا مطلب محدثین یہ بیان فرماتے ہیں کہ نوافل کی قضاء اگرچہ ضروری نہیں تاہم اگر اس کا اہتمام کر لیا جائے تو مستحب ہے۔

یعنی نوافل بھی تو مستحب ہیں۔ نوافل بھی مستحب ہیں، ان کی جو قضا ہے وہ بھی مستحب ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جیسا کہ گزشتہ حدیث شریف میں بات گزر گئی کہ انسان کوئی معمول اپنے لیے مقرر کر لے نفلی، تو اس کو دائمی طور پہ کر لیا کرے، یہ نہیں کہ کبھی کرے، کبھی نہ کرے۔ اور دائمی صورت میں اس طرح ہو سکتا ہے کہ اگر کبھی کسی عارض سے انسان سے رہ جائے، تو پھر اس کی قضا بھی کر لے۔ تاکہ نفس کو یعنی یہ چانس نہ ملے کہ بعد میں آہستہ آہستہ اس کو بالکل چھوڑ بیٹھے۔ اس وجہ سے اگر کوئی شخص تہجد کی نماز اپنے لیے معمول بنا لے، تو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے وقت پر اس کو پڑھ لے، لیکن اگر رہ جائے تو بعد میں دن میں مطلب اتنی رکعاتوں کا وہ یعنی ان کے ساتھ پڑھ لے اس نیت سے کہ اس کی جو کمی ہے وہ پوری ہو جائے۔ تو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی کسی کی تہجد رہ جاتی اور پوچھ لیتے، تو فرماتے کہ چاشت کے وقت اتنی رکعات پڑھ لو، چاشت کے وقت۔ تو چاشت کا وقت چونکہ اس میں گزشتہ حدیث آئی ہے کہ اس کو اگر فجر اور ظہر کے درمیان کوئی پڑھ لے، تو رات کی نماز تو وہ پوری ہو جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو پھر چاشت کے وقت میں انسان پورا کر سکتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان اعمال کی اچھی طرح قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔

نمازِ تہجد کی قضاء اور نفلی معمولات میں استقامت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور