اعمال کی قضاء اور فضلِ خداوندی: چھوٹے ہوئے معمولات پر مکمل ثواب

درس نمبر 225 جلد 1، باب 15: بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ، حدیث نمبر: 153

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اعمال اور وظائف کو ان کے مقررہ وقت کے بعد قضا کرنے سے بھی ان کا پورا ثواب مل جاتا ہے۔
  2. رات کا مقرر کردہ وظیفہ یا نوافل نیند کے باعث چھوٹ جائیں تو انہیں فجر اور ظہر کے درمیانی وقت میں پڑھ لینا چاہیے۔
  3. کوئی وظیفہ یا عمل چھوٹ جائے تو اسے جلد از جلد پورا کر لینا چاہیے، جیسے وتر بیدار ہونے یا یاد آنے پر فوراً پڑھ لینا چاہیے۔
  4. عبادات اور وظائف کو نیند کے غلبے میں انجام دینے کے بجائے fresh وقت میں ادا کرنا چاہیے۔
  5. رات کی عبادت چھوٹ جانے پر اسے ترک کرنے کے بجائے اشراق یا چاشت کے وقت میں پڑھ کر پورا ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

اعمال کو بعد میں قضاء کرنے سے بھی پورا ثواب مل جاتا ہے

(153) وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ مِنَ اللَّيْلِ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ» (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ: ”حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنا رات کا وظیفہ چھوڑ کر سو گیا یا اس کا کچھ حصہ رہ جائے اگر وہ اسے فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان ادا کرے تو اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے گویا کہ اس نے رات کو ہی پڑھا۔“

سُبْحَانَ اللّٰهِ۔

تشریح: لفظ ”حزبہ“ کی تحقیق: بعض نے کہا یہاں مراد یہ ہے کہ جس نے رات کو اپنے اوپر قرآن کا کچھ پڑھنا مقرر کر لیا ہو یا نوافل مقرر کر لئے ہوں تو اب رات کو اس کے پڑھنے سے پہلے وہ سو گیا تو اب وہ صبح پڑھ لے تو اس کو اس کے وظیفہ کا پورا ثواب ملے گا۔ علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں یہ اللہ کا احسان اور فضل ہے کہ وقت میں نہ پڑھنے کے باوجود اس کو ثواب عطا فرما دیتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی کا کوئی وظیفہ چھوٹ جائے تو وہ جلدی ہی اس کو پورا کرلے۔ اسی مفہوم میں یہ حدیث بھی ہے۔ ”مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُوتِرْ إِذَا ذَكَرَهُ أَوِ اسْتَيْقَظَ.“ ”جب کوئی وتر پڑھنے سے پہلے سو گیا یا بھول گیا تو اس کو جب یاد آئے یا وہ جب نیند سے بیدار ہو تو فوراً اس کو پڑھ لے۔“

تخریج حدیث: صحیح بخاری کتاب الایمان والنذر (باب النذر فیمالا یملک و فی معصیۃ) مالک فی موطأہ و احمد 17540 /6، و ابوداؤد و ابن ماجہ، دارقطنی 61/4، و ابن حبان 4385، والطبرانی 11871، مصنف عبدالرزاق 15817، والبیہقی 75/10۔

تو یہ ہمارے لیے ایک مَا شَاءَ اللّٰهُ اس میں ایک آسانی اللہ پاک نے ہمیں دے دی کہ اگر کوئی اس وظیفے کو ہی کرنا چاہتا ہے اور بعض دفعہ انسان کو بڑی نیند آرہی ہوتی ہے۔ اول تو ایسے وقت میں اس کو لانا نہیں چاہیے۔ یعنی اس کو fresh وقت میں پڑھنا چاہیے کرنا چاہیے۔ لیکن اگر وہ رات سے متعلق ہے اور اس پہ نیند بڑی غالب آ گئی اور وہ سو گیا۔ تو پھر ظہر اور فجر کے درمیان کا جو وقت ہے اس میں اگر کسی وقت وہ پڑھ لے۔ تو اِنْ شَاءَ اللّٰهُ اس کو پورا ثواب مل جائے گا۔ تو اس کو مطلب چھوڑنا نہیں چاہیے۔ بلکہ اس طرح وہ تہجد کی نماز اگر کوئی رہ جائے تو چاشت کی نماز کیونکہ ظہر اور فجر کے درمیان یہ چاشت کی نماز ہی ہے۔ بلکہ اشراق بھی ہے۔ تو اس وقت اگر پڑھ لے تو اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْعَزِيزُ اس کا ثواب اس کو مل جائے گا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان جو اللہ پاک نے ہمیں رخصتیں عطا فرمائی ہیں اس میں اس میں کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اپنے اعمال کو اپنے اپنے وقت پر کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

اعمال کی قضاء اور فضلِ خداوندی: چھوٹے ہوئے معمولات پر مکمل ثواب - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور