کھانے کے نبوی آداب: گرے ہوئے لقمے کی قدر، برکت اور عاجزی
درس نمبر 246 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 164
- کھانے کا گرا ہوا لقمہ مٹی وغیرہ صاف کر کے کھا لینا چاہیے اور اسے شیطان کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
- کھانے کے بعد انگلیاں اور برتن چاٹنے کا حکم ہے کیونکہ معلوم نہیں ہوتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
- رزق کو متکبرانہ طور پر ضائع کرنے کے بجائے گرے ہوئے لقمے کو اٹھانا عاجزی اور نعمت کی قدر دانی ہے۔
- اگر گرا ہوا لقمہ اتنا گندا ہو جائے کہ کھایا نہ جا سکے تو اسے ضائع کرنے کے بجائے کسی جانور کو کھلا دینا چاہیے۔
- کھانے کے آداب میں دسترخوان پر پہلے بیٹھنا اور برتن اٹھنے کے بعد اٹھنا شامل ہے، اور ان متروک سنتوں پر عمل کرنے کا عظیم اجر ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ! أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ لقمہ گر جائے تو صاف کر کے کھا لینا چاہیے۔ اَلْحَدِيْثُ التَّاسِعُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِيْ أَيِّهَا الْبَرَكَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَاخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى وَلْيَاكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيْلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِيْ فِيْ أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ، وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدِكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَانِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى فَلْيَاكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں اور کھانے کے برتنوں کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا، تم نہیں جانتے کہ کس حصے میں برکت ہے، اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کا لقمہ ہاتھ سے گر جائے تو اس کو اٹھا لے اور جو مٹی وغیرہ اسے لگ گئی ہو اسے دور کر کے کھائے، شیطان کے لیے اس کو نہ چھوڑے اور نہ اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف کرے جب تک کہ انگلیوں کو چاٹ نہ لے کیونکہ اسے کیا معلوم کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے، اور اسی کی ایک روایت میں ہے کہ شیطان تمہارے ہر کام میں، ہر چیز میں حاضر ہوتا ہے یہاں تک کہ کھانا کھانے کے وقت بھی حاضر ہوتا ہے، پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اس سے مٹی وغیرہ دور کر کے کھا لے اور اس کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔
انگلیوں کو چاٹنے کے فوائد۔ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ انگلیوں کو چاٹنے کا حکم۔ اور دوسری روایت میں ہے إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَاخُذْهَا فَلْيُمِطْ لقمہ گر جائے تو اس کو اٹھا کر کھا لے۔ علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، انگلیوں کو چاٹنے کا حکم دینا، گرے ہوئے لقمے کو اٹھا کر کھانے کا حکم اس لیے ہے کہ کہیں اس میں برکت نہ ہو اور یہ شخص اس سے محروم نہ ہو جائے۔ اس طرح کرنے میں ایک تواضع اور عاجزی کا اظہار بھی ہے۔ اس طرح کرنے میں متکبرین، مترفین کے عمل سے اجتناب بھی ہے۔ اللہ کی نعمت کی قدر دانی ہوتی ہے۔ اس عمل سے شیطان بہت ذلیل ہوتا ہے۔
فَلْيَاخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى، جو لقمہ گر جائے اس کو اٹھا لے، اس کی مٹی وغیرہ کو صاف کر کے کھا لے، کس کو؟ اگر غبار یا مٹی وغیرہ لگ جائے تو اس کو صاف کر کے کھا لے، اور اگر گندگی ایسی لگ جائے کہ دھو کر بھی کھایا نہ جا سکے تو اب اس کو جانور وغیرہ کو کھلا دے۔ اصل میں اللہ کی نعمتیں بے حساب ہیں۔ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے اللہ جل شانہ اپنی نعمتوں کو بڑھاتے ہیں۔ اور شکر کرنا یہ ہوتا ہے کہ ناشکری نہ کرے۔ مطلب ناشکری نہ کرنے کی مراد یہ ہے کہ جیسے کسی کا لقمہ گر گیا تو اب ظاہر ہے اس سے اگر اپنے آپ کو مستغنی سمجھا تو یہ ناشکری ہے۔ پس اگر کوئی اس سے اپنے آپ کو مستغنی نہیں سمجھتا اور اس کا اپنے آپ کو محتاج سمجھتا ہے کہ ممکن ہے اسی میں میرے لیے اللہ نے برکت رکھی ہو، تو ایسی صورت میں اللہ جل شانہ اس کو برکت عطا فرما دیتے ہیں۔ جس میں فرماتے ہیں، لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ، تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو اللہ نعمتوں کو بڑھا دے گا۔
تو اس وجہ سے اس میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ لقمہ اگر گر جائے تو اگر ایسی گندی جگہ گرے جس میں گندگی نہ ہو لیکن مٹی وغیرہ ہو تو اسے مٹی وغیرہ دور کر لے اور اس کو کھا لے۔ لیکن اگر ایسی گندگی ہو جس کو انسان کھا نہ سکے یا بیمار ہو جائے اور اس سے وہ دور نہ کیا جا سکے تو پھر کسی جانور وغیرہ کو کھلا دے۔ کیونکہ یہ بھی مطلب اس کا ایک صحیح مصرف ہے۔ باقی بہرحال یہ ہے کہ اس میں عاجزی کا اظہار تو یقیناً ہے کیونکہ جو شخص متکبر ہو گا وہ وہ کھانے کو ضائع کر دیتا ہے، وہ کھانے سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔ تو لہٰذا وہ متکبرانہ طور پر کھانے کو ضائع کر دیتا ہے۔ لیکن جو متکبر نہیں ہوتا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برتنوں کو جب واپس کرتے تھے تو یہ بھی ساتھ بعض دفعہ ارشاد فرماتے تھے، اے اللہ! ہم اس سے مستغنی نہیں ہیں، آئندہ بھی اس کی ضرورت ہو گی۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ، بلکہ کھانے کے آداب میں یہ بھی ہے کہ پہلے انسان بیٹھے پھر کھانا آئے۔ اور جب کھانا کھا چکے تو پہلے برتن اٹھائے جائیں پھر لوگ اٹھیں۔ آج کل ہمارے ہاں اس چیز پر عمل بالکل نہیں ہے۔ تو ہم لوگوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنا چاہیے اور اگر کسی علاقے میں اس پر بالکل عمل نہ ہو تو اس وقت جو بھی اس پر عمل شروع کرے گا تو ممکن ہے اس کو سو شہیدوں کا اجر مل جائے۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو اس اجر کو حاصل کرنے والا بنا دے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔