شفقتِ نبوی ﷺ اور انسان کی غفلت: جہنم کی آگ سے بچاؤ کی پکار

درس نمبر 245 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 163

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد الحرام - مکہ مکرمہ

نبی کریم ﷺ کی بے پایاں شفقت اور امت کے لیے دردِ دل

حق کے مقابلے میں آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور ضد کا انجام

حق کو کھلے دل سے قبول کرنے اور خود کو نقصان سے بچانے کی نصیحت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

لوگ پروانوں کی طرح جہنم میں گر رہے تھے

(163) ﴿الثَّامِنُ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: ”مَثَلِي وَ مَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَ الْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا وَ هُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَ أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَ أَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَّدِي“﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) ”اَلْجَنَادِبُ“ نَحْوُ الْجَرَادِ وَالْفَرَاشِ، هٰذَا هُوَ الْمَعْرُوفُ الَّذِي يَقَعُ فِي النَّارِ ”وَالْحُجَزُ“ جَمْعُ حُجْزَةٍ وَ هِيَ مَعْقِدُ الْإِزَارِ وَ السَّرَاوِيلِ“

ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس آدمی کے مانند ہے جس نے آگ جلائی پس ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے شروع ہو گئے اور وہ ان کو آگ سے روکتا تھا اور میں بھی تمہاری کمروں کو پکڑ کر آگ میں گرنے سے (بچاتا ہوں) تم میرے ہاتھ سے نکل رہے ہو۔“

تشریح: ”جَنَادِبُ“ ٹڈی اور پروانے کے مثل اڑنے والا کیڑا یہ وہی مشہور کیڑا ہے جو آگ میں گرتا ہے۔ ”حُجَزُ“ حُجْزَة کی جمع ہے۔ اَوْقَدَ، اِيقَادًا افعال سے بمعنی آگ سلگانا۔ ”وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا“ وہ ان کو آگ سے روکتا تھا۔ اس میں آپ ﷺ کی غایت درجے کی شفقت اور حرص کا بیان ہے جو اپنی امت کے ایمان لانے کے بارے میں آپ ﷺ کے دل میں تھی۔ آپ ﷺ کفار کے مسلمان ہونے کے لئے حریص تھے ”وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي“ تم میرے ہاتھ سے نکل نکل کر اس میں گر رہے تھے۔ اس جملہ میں کفار کی حالت کا ذکر ہے باوجود آپ ﷺ کی شب و روز کی محنت اور حرص کہ کفار اسلام میں داخل ہو جائیں، دوسری طرف کفار اسلام سے محروم ہو رہے تھے اور جس طرح آگ میں پروانے گرتے ہیں اسی طرح یہ کفار جہنم کا ایندھن بن رہے تھے۔

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الفضائل (باب شفقته صلى الله عليه وسلم).

یہ اصل میں جو لوگ جانتے ہیں تو وہ تو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے وہ نہیں جانتے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو جانتے تھے کیونکہ اللہ پاک کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ وحی آتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ یہ ساری چیزیں کھول دی گئی تھیں۔ لہٰذا وہ بچانے کے لیے کوشش فرماتے تھے۔ لیکن کفار وہ جو اپنی رسومات میں اور اپنے رواجوں میں اور اپنے آباؤ اجداد کی پیروی میں شرک میں مبتلا تھے، ان کے لیے یہ بات مطلب ظاہر ہے وہ قابل قبول نہیں تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر انتہائی شفقت کا معاملہ فرماتے تھے، ان کو کھینچ کھینچ کر اللہ تعالی کی طرف لاتے تھے اور آگ سے بچاتے تھے۔ لیکن وہ لوگ پھر بھی اپنی ضد اور انانیت کی وجہ سے، اکڑ کی وجہ سے وہ باقاعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گویا کہ اس کوشش کو ناکام بناتے تھے۔ اور خود جہنم کا نوالہ بنتے جاتے تھے۔ تو اس میں ہم لوگوں کے لیے سبق ہے کہ ہم اپنے آپ کو خیر کی بات کے لیے حریص رکھیں۔ جہاں سے بھی ہمیں خیر ملے تو ہم خیر کو قبول کریں اور اس کے ساتھ مقابلہ نہ کریں۔ کیونکہ نقصان اس میں ہمارا ہی ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں ہر قسم کے نقصان سے بچائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔