زمین کی تین قسمیں اور لوگوں کی بھی تین قسمیں

درس نمبر 244 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 162

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد الحرام - مکہ مکرمہ

پہلا دل (زرخیز): سیکھنے والے اور سکھانے والے (فقہاء کرام)

دوسرا دل (حوض جیسا): یاد رکھنے والے اور پہنچانے والے (محدثین کرام)

تیسرا دل (پتھر جیسا): نہ ماننے والے اور محروم رہنے والے (لاپرواہ لوگ)

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

زمین کی تین قسمیں اور لوگوں کی بھی تین قسمیں

(162) ﴿السابع: عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: ”إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهٖ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَاءَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ، وَ كَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللّٰهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا مِنْهَا وَ سَقُوْا وَ زَرَعُوا، وَ أَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَ لَا تُنْبِتُ كَلَاءً. فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ وَ نَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ فَعَلِمَ وَ عَلَّمَ وَ مَثَلُ مَنْ لَّمْ يَرْفَعُ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَ لَمْ يَقْبَلُ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ﴿مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ﴾

ترجمہ: ”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس ہدایت اور علم کو دے کر مجھے اللہ پاک نے بھیجا ہے اس بارش کے مثل ہے جو کسی زمین میں برس پڑی، زمین کے عمدہ قسم کے ٹکڑے نے پانی کو قبول کیا اور گھاس اور بہت سے سبزے کو اگایا۔ ایک ٹکڑا اس سے سخت تھا جس نے پانی کو روک لیا۔ اللہ پاک نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا لوگوں نے اس سے پیا اور (جانوروں کو) پلایا اور زراعت میں استعمال کیا، اور زمین کے دوسرے ٹکڑے کو پانی پہنچا جو صاف میدان تھا نہ اس نے پانی کو روکا نہ ہی اس نے گھاس پیدا کی۔ پس یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اس کو اس چیز نے فائدہ پہنچایا جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا، اس نے خود علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھلایا، اور مثال اس شخص کی جس نے اس کی طرف سر نہ اٹھایا اور اللہ پاک کی اس ہدایت کو قبول نہ کیا جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا۔

تشریح: علامہ نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی وضاحت اس طرح فرماتے ہیں کہ جس طرح زمین کی تین اقسام ہوتی ہیں اسی طرح لوگوں کی بھی تین قسمیں ہیں۔ پہلی قسم: جب بارش ہوئی تو زمین نے پانی کو جذب کیا پھر اس میں سے پھل، پھول آگئے۔ اس سے مویشیوں اور پرندوں وغیرہ کو فائدہ ہوا اسی طرح لوگوں میں سے ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن کو علم نبوت اور ہدایت ملی جس سے انہوں نے خود فائدہ اٹھایا اور دوسروں کو بھی تعلیم وتبلیغ کے ذریعہ فائدہ پہنچایا، جیسے ائمہ فقہاء امت، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ۔ دوسری قسم: اس زمین میں پانی جذب نہیں ہوا مگر پای اس زمین میں ٹھہر جاتا ہے جس سے جانوروں وغیرہ کو فائدہ ہوتا ہے اسی طرح بعض ایسے ہیں جنہوں نے قرآن واحادیث کو خوب یاد کیا مگر ان میں اجتہاد واستنباط کی صلاحیت نہیں تھی اس لئے انہوں نے تو اس علم سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا مگر جن لوگوں کے پاس ان کا علم گیا ان میں اجتہاد و استنباط کی صلاحیتیں تھیں ان سے بھی لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا جیسے محدثین کرام وغیرہ۔ تیسری قسم: ایسی زمین جو بالکل بنجر و سنگلاخ ہو نہ پانی اس میں جذب ہوتا ہے اور نہ ہی وہ پانی کو اپنے اندر ٹھہراتی ہے اسی طرح بعض لوگ ایسے ہیں نہ انہوں نے علم نبوت کو حاصل کیا نہ انہوں نے علم نبوت سے فائدہ اٹھایا اور نہ ہی ان سے پھر کسی کو فائدہ ہوا جیسے کفار وغیرہ۔

تخریج حدیث: اخرجه صحيح بخاري كتاب العلم (باب فضل من عَلِمَ وعلَّم) و صحيح مسلم كتاب الفضائل (باب بيان مثل ما بعث النبي ﷺ من الهدى والعلم)۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔