سوتے وقت آگ بجھانے کا حکم اور آگ پر قابو رکھنے کی اہمیت
درس نمبر 243 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 161
آگ دشمن ہے: سوتے وقت بجھانے کی نبوی ہدایت
آگ کا خیر و شر اور اس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنے کی ضرورت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
سوتے وقت آگ بجھا کر سونا چاہئے
(161) ﴿السادس: عَنْ أَبِيْ مُوْسَى رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِيْنَةِ عَلَى أَهْلِهٖ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ قَالَ: ”إِنَّ هٰذِهِ النَّارَ عَدُوٌّ لَّكُمْ فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوْهَا عَنْكُمْ“﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ: ”حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ میں رات کے وقت ایک گھر میں آگ لگ گئی اور گھر والے جل گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ آگ تمہاری دشمن ہے سونے کے وقت اسے بجھا دیا کرو۔“
یہ اصل میں آگ جو ہے، اس کے اندر جو اللہ پاک نے صلاحیت رکھی ہے۔ مطلب خیر کے لیے بھی ہے، شر کے لیے بھی ہے۔ اگر کوئی احتیاط نہ کرے تو، کنٹرول اگر اس کے پاس نہ رہے تو، اگر آگ کے پاس کنٹرول رہے تو دشمن ہے۔ اور اگر آپ کے پاس کنٹرول رہے تو دوست ہے۔ اس وجہ سے اس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیے۔ اور ایک کنٹرول یہ بھی ہے کہ اس کو سوتے وقت بجھا دیا کریں۔ اللہ جل شانہ اس پر ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔