نماز میں صفیں سیدھی کرنے کی اہمیت، وعید اور عملی کوتاہیوں کی اصلاح

درس نمبر 242 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 160

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مدینہ منورہ - مدینہ منورہ

صفیں برابر کرنے کا نبوی طریقہ اور اہتمام

تسویۂ صفوف کی شرعی حیثیت اور باہمی اتحاد پر اثر

صفیں سیدھی نہ رکھنے پر وارد ہونے والی وعید کے معانی

عوام اور ائمہ حضرات کی غفلت اور درست طریقہ کار

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

صف سیدھی کرنے کا حکم

(160) ﴿الخامس: عَنْ أَبِيْ عَبْدِ اللّٰهِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ: ”لَتُسَوُّنَّ صُفُوْ فَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللّٰهُ بَيْنَ وُجُوْهِكُمْ“ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.) وَ فِيْ رِوَايَةٍ لِّمُسْلِمٍ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُسَوِّیْ صُفُوْفَنَا حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّیْ بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ أَنْ يُكَبِّرَ فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ فَقَالَ عِبَادَ اللّٰهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللّٰهُ بَيْنَ وُجُوْهِكُمْ“﴾

ترجمہ: ”حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے تم اپنی صفوں کو (نماز میں) برابر کرو یا (پھر) اللہ پاک تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری صفوں کو ایسا برابر فرماتے گویا ان کے ساتھ تیروں کو برابر کر رہے ہیں حتیٰ کہ آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ ﷺ سے اس بات کو سمجھ لیا ہے، پھر ایک روز آپ ﷺ نکلے، کھڑے ہوئے، قریب تھا کہ آپ تکبیر کہہ دیتے کہ آپ ﷺ نے ایک دیہاتی آدمی کو دیکھا اس کی چھاتی آگے کو نکلی ہوئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو سیدھا کرو وگرنہ اللہ پاک تمہارے دلوں کے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔“

تشریح: لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَكُمْ: تم اپنی صفوں کو برابر کرو۔ علماء نے لکھا ہے کہ یہ جملہ خبر بھی ہے انشاء بھی ہے، اس بات پر اتفاق ہے کہ سنن صلوٰۃ میں صفوں کو برابر کرنے کی سب سے زیادہ تاکید ہے۔ بعض نے اس کو واجب بھی کہا ہے مگر اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ یہ شرائط صلوٰۃ میں سے نہیں ہے۔ صرف علامہ ابن حزم ظاہری سے منقول ہے کہ وہ عدم تسویہ کی صورت میں نماز کو فاسد کہتے ہیں مگر جمہور اس کے خلاف ہیں۔

اصل میں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں نا کہ جو امت کے حال پر شفقت کی گئی ہوتی ہے کہ اس کو وہ تو نہیں، یعنی جس کو کہتے ہیں نا مطلب نماز بالکل ٹوٹ تو نہیں جاتی، فاسد تو نہیں ہوتی۔لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اس سے نماز کے جو اثرات ہیں وہ کافی کم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک اثر کہ اگر صفیں سیدھی ہوں تو پھر تو ماشاءاللہ یعنی اتفاق ہوگا آپس میں۔ لیکن اگر صفیں سیدھی نہیں ہوں گی تو پھر اتفاق نہیں رہے گا، اپس میں اختلاف آ جائے گا۔ بلاوجہ کا اختلاف، جس کو ہم نفس کی وجہ سے جو اختلاف کہتے ہیں، وہ مطلب وہ چیزیں آ جائیں گی۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے مطلب امت میں اتفاق نہیں ہوگا۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اس کو ہم لوگ ان شرائط میں سے نہیں کہیں گے اور نہ مطلب نماز کو فاسد کرنے والا مطلب اس کو کہیں گے۔ جس درجے میں شریعت نے رکھا ہے اس درجے میں تو جمہور کے نزدیک اس کا درجہ یہ ہے کہ اس کا اہتمام بہت زیادہ کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کسی سے نہیں ہوا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔

تشریح: صفیں سیدھی نہ ہوں تو چہرے مسخ بھی ہو سکتے ہیں ”أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللّٰهُ بَيْنَ وُجُوْهِكُمْ“ اللہ تمہارے دلوں میں مخالفت کو ڈال دے گا۔ محدثین اس جملہ کے عموماً دو مطلب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان عداوت اور بغض کو پیدا کر دے گا جیسے کہ ایک روایت میں آتا ہے ”أَوْ يُخَالِفَنَّ اللّٰهُ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ“ کہ اللہ تمہارے دلوں کے درمیان مخالفت ڈال دے گا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمہارے چہروں کو مسخ کر دے گا۔ اس کی تائید بھی ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے ”لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوْفَ أَوْ لَتُطْمِسُ الْوُجُوْهُ.“اللہ تمہارے چہرے مسخ کر دے گا۔ ”كَأَنَّمَا يُسَوِّیْ بِهَا الْقِدَاحَ“ گویا کہ اس سے تیروں کو سیدھا کرتے تھے۔ تیر جب تک سیدھا نہ ہو تو آگے نہیں جا سکتا تو مبالغۃ یہ کہا جا رہا ہے صف اتنی سیدھی کروائی جاتی تھی کہ اگر تیر کو بھی سیدھا کرنے کی ضرورت ہو تو اس سے کیا جا سکتا تھا۔

تخریج حدیث: صحيح بخارى كتاب آذان (باب تسوية الصفوف عندالاقامة و بعدها)، و صحيح مسلم كتاب الصلوٰة (باب تسوية الصفوف و إقامتها)، و ابوداؤد و ترمذى والنسائى 809 و ابن ماجه.

اس وجہ سے اس کو بہت زیادہ اہتمام کے ساتھ دیکھنا چاہیے آج کل۔ اس میں دو طرح کی بہت زیادہ کمی ہے۔ ایک طرف تو عوام میں کمی ہے، جو پرواہ نہیں کرتے۔ وہ بیٹھے رہتے ہیں اور جس وقت نماز شروع ہو جاتی ہے تو یہ ادھر ادھر دیکھتے رہتے ہیں، پھر بعد میں بہت سستی کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ اس وقت تسویہ صفوف کا پھر موقع نہیں ہوتا۔ایک تو یہ بات۔ اور دوسری طرف جو ائمہ حضرات ہیں، وہ بھی اس کے لیے وقت نہیں دیتے۔ بس صرف سَوُّوا صُفُوفَكُمْ کہہ کر بس فارغ ہو جاتے ہیں۔ جیسے ڈرائیور ہوتا ہے نا گاڑی کا، بس اشارہ دے دیا اور پھر اس کو دیکھتے نہیں کہ میرے سامنے کوئی آیا نہیں آیا، وہ سیدھا چلا جاتا ہے۔ ظاہر ہے مطلب اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے نا کہ آپ نے اشارہ دے دیا تو اپنی آنکھیں بند کرو۔ تو اسی طریقے سے جو ائمہ حضرات ہیں ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی اس کے لیے وقت دے دیا کریں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اہتمام کے ساتھ کروایا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان ہو گیا کہ اب لوگ سمجھ گئے۔ تو آپ بھی اگر اپنی مسجد میں ایک یعنی امام ہیں اور خطیب ہیں، تو اس وقت تک آپ اس کو کرتے رہیں کرتے رہیں تاکہ آپ کے جو جتنے بھی مقتدی ہیں وہ ایجوکیٹ ہو جائیں کافی اور وہ سمجھ جائیں کہ بس اب اس کو اس طرح کرنا ہے۔ پھر کوئی بات نہیں پھر اگر آپ اس کو زیادہ وقت نہ دیں تو کوئی بات نہیں۔ لیکن جب کبھی دوبارہ ایسا ہونے لگے، پھر دوبارہ وقت دینا چاہیے۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ وہ جو چھاتی نکلی ہوئی تھی تو اس کو پھر دوبارہ ارشاد فرما دیا۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ہمیں تو یہ ترتیب سکھائی گئی ہے۔ اسی ترتیب پر، اصل میں بات یہ ہے اتباع سنت بھی یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل سے ملتا ہے کہ کس درجے میں مطلب ہوتا ہے۔ بعض لوگ صرف الفاظ کی حد تک اتباع کرتے ہیں۔