دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم اور تکبر کا عبرت ناک انجام
درس نمبر 241 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 159
دائیں ہاتھ سے کھانا سنتِ نبوی ہے
بائیں ہاتھ سے کھانے میں شیطان کی شرکت
حکمِ نبوی کی تعمیل میں تکبر کی رکاوٹ
اعراضِ سنت پر ہاتھ شل ہونے کی فوری سزا
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
دائیں ہاتھ سے کھانے کی مخالفت کرنے والے کی سزا
(159) ﴿الرابع: عَنْ أَبِيْ مُسْلِمٍ وَ قِيْلَ أَبِيْ إِيَاسٍ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرٍ وَبْنِ الْأَكْوَعِ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَكَلَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِشِمَالِهٖ فَقَالَ: ”كُلْ بِيَمِيْنِكَ“، قَالَ: لَا أَسْتَطِيْعُ قَالَ: لَا اسْتَطَعْتَ مَا مَنَعَهُ إِلَّا الْكِبْرُ فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيْهِ﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ترجمہ: ”حضرت سلمہ بن عمرو بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا، آپ ﷺ نے فرمایا دائیں ہاتھ سے کھائیے۔ اس نے کہا مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا (خدا کرے) تجھے اس کی توفیق نہ ملے، اس کام کی تعمیل میں اس کو صرف تکبر مانع ہوا، چنانچہ وہ (اس کے بعد) اپنا دایاں ہاتھ منہ کی طرف نہ اٹھا سکا۔“
یہ اس میں جو فرمایا،
تشریح: ”أَكَلَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِشِمَالِهٖ“ آپ ﷺ کے سامنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا اس آدمی کا نام بسر الاشجعی تھا۔ ”كُلْ بِيَمِيْنِكَ“ دائیں ہاتھ سے کھانا سنت ہے اور بائیں ہاتھ سے کھانے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے۔ اور حضرت عائشہؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے شیطان اس کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے اور کھاتا ہے۔ ”لَا اَسْتَطِيْعُ“ مجھ میں طاقت نہیں، اس نے بطور کبر کے کہا تھا۔ اس کے اس جملہ کے بعد سے اس کا ہاتھ ہمیشہ کے لئے شل ہو گیا۔ اسے دنیا میں یہ سزا اعراض سنت کی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ ہم کو نبی ﷺ کی مخالفت سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔