آپ ﷺ کا پُر اثر وعظ اور وصیت

درس نمبر 239 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 157

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. تقویٰ، امیر کی اطاعت اور سنت کو مضبوطی سے تھامنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پر اثر الوداعی وعظ کی بنیادی وصیتیں ہیں۔
  2. امیر کی امارت شرعی طریقے سے نافذ ہونے پر اس کی جائز باتوں میں اطاعت لازم ہو جاتی ہے، خواہ وہ حبشی غلام ہی ہو۔
  3. بعد میں آنے والے اختلافات سے بچنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرنا ضروری ہے۔
  4. حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شروع کردہ بیس رکعات تراویح خلفائے راشدین کی سنت اور صحابہ کرام کے اجماع سے ثابت ہے۔
  5. دین میں پیدا کی گئی ایسی نئی بات بدعت اور گمراہی کہلاتی ہے جو کتاب اللہ، اقوالِ صحابہ یا اجماعِ امت کے خلاف ہو۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

آپ ﷺ کا ایک پُر اثر خطبہ

(157) ﴿الثاني: عَنْ أَبِيْ نَجِيْحِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوْبُ وَ ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُوْنُ فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوْصِنَا قَالَ: ”أُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللّٰهِ وَالسَّمْعِ وَ الطَّاعَةِ وَ إِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ، وَ إِنَّهُ مَنْ يَّعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيْرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِيْ وَ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّيْنَ عَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَ إِيَّاكُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ رَوَاهُ اَبُوْدَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِیُّ وَ قَالَ حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ﴾

ترجمہ: ”حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پر اثر وعظ فرمایا جس سے ہمارے دل خوف زدہ ہو گئے اور آنکھیں اشکبار ہوگئیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو گویا الوداعی وعظ معلوم ہو رہا ہے، ہمیں وصیت فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اللہ کے خوف اور سمع و طاعت کی تاکید کرتا ہوں اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بنا دیا جائے اور جو شخص تم میں سے میرے بعد زندہ رہا وہ بہت بڑے اختلاف سے دوچار ہوگا پس تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت (کو اختیار کرو) اس کو دانتوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھو اور دین میں نئی باتیں داخل کرنے سے بچو، اس لئے کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ امام ترمذیؒ نے اس کو حسن صحیح کہا ہے۔

تشریح: مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً: پر اثر وعظ فرمایا، اور اس سے وہ جو فوائد ملتے ہیں، اس میں یہ بات ہے کہ امیر کی اطاعت واجب ہے تمہارے اوپر کوئی حبشی غلام امیر بنا دیا جائے، جب امیر کی امارت شرعی طریقے سے نافذ ہو جائے تو اب اس کی جائز باتوں میں اطاعت لازم ہو جاتی ہے، اس پر اجماع ہے۔ غلام کو تو خلیفہ بنانا جائز نہیں ہے۔ جواب: خلیفہ بنانا جائز نہیں لیکن کسی علاقہ کا گورنر بنانا جائز ہے۔ مراد اس حدیث میں یہی ہے، یا یہ حدیث بطور مبالغہ فرمائی جا رہی ہے کہ اگر تم پر بالفرض والتقدیر غلام حاکم ہو اور وہ بھی ایسا کہ حبشی ہو تب بھی اس کی اطاعت واجب ہے۔

ہاں البتہ یہ جو بات ہے

تشریح: فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ضروری ہے، تو اس طرح اس حدیث میں کہا جا رہا ہے کہ خلفائے راشدین کی اطاعت کی جائے، اس کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔

یہ ابھی آ رہی ہے نا، وہ تراویح کا معاملہ۔ تو یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ راشد تھے، بیس رکعات تراویح انہوں نے شروع کی تھی، اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہو گیا تھا۔ تو ایک طرف اجماع ہے، دوسری طرف خلیفہ راشد کی اتباع ہے۔ تو جو لوگ اس سے اپنے آپ کو نکالنا چاہتے ہیں، پھر ذرا سوچیں۔

تشریح: بدعت گمراہی ہے۔بدعت اس کو کہتے ہیں جو آپ ﷺ کے زمانہ میں یا خلفاء راشدین کے زمانے میں نہ رہی ہو اور دین کا حصہ سمجھ کر اس کو کیا جائے اور نہ کرنے والے کو برا بھلا کہا جائے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں جو نئی بات دین میں پیدا کی جائے اگر وہ کتاب اللہ کے مخالف، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اقوال کے منافی اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ضلالت اور گمراہی ہے، اور جو ایسی نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

اخرجه سنن ابوداؤد كتاب السنة (باب لزوم السنة) وجامع ترمذى كتاب العلم (باب الاخذ بالسنة و اجتناب البدعة) واحمد فى مسنده 17145/6 و ابن ماجه والدارمى 44/1۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ان ہدایات مبارکہ پر پورا پورا عمل نصیب فرما دے۔

آپ ﷺ کا پُر اثر وعظ اور وصیت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور