کثرتِ سوال کی ممانعت اور استطاعت کے مطابق عمل
درس نمبر 238 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، حدیث نمبر: 156
- احکامات کے حوالے سے بے جا سوالات، غیر ضروری تفصیلات معلوم کرنے اور کٹ حجتی کرنے کی ممانعت ہے۔
- پچھلی امتیں اپنے انبیاء سے بلاوجہ زیادہ سوالات کرنے اور ان کی تعلیمات سے اختلاف رکھنے کی بنا پر تباہ و برباد ہوئیں۔
- بات کو سمجھنے کے لیے پوچھنا درست ہے لیکن احکامات میں غیر ضروری کرید کرنا نقصان دہ ہے۔
- احکامات پر عمل کرنے کے بجائے غیر ضروری سوالات کرنے سے انسان کے لیے مشکلات اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔
- اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جتنا مطالبہ کیا جائے، بغیر کسی شرط کے اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔
- جن کاموں سے روکا گیا ہے ان سے مکمل احتراز کیا جائے اور احکامات پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا جائے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
نبی ﷺ سے بے جا سوالات کی ممانعت
(156) فَالْأَوَّلُ: عَنْ أَبِيْ هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: دَعُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَثْرَةُ سُؤَالِهِمْ وَ اخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِیَائِهِمْ. فَإِذَا نَهَیْتُكُمْ عَنْ شَیْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ وَ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ (مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ)
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں (اور کوئی بات نہ کہوں) تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، اس لئے کہ تم سے پہلے لوگ بوجہ زیادہ سوالات کرنے اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام (کی تعلیم) سے اختلاف رکھنے کی بنا پر تباہ و برباد ہو گئے، پس جب میں تمہیں کسی کام سے روکوں تو اس سے احتراز کرو اور جب کسی کام کرنے کا حکم دوں تو طاقت کے مطابق اس پر عمل کرو۔“
یہاں پر اصل میں سوال دو قسم کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کسی بات میں کٹ حجتی کرنا یا مطلب یہ ہے کہ غیر ضروری تفصیلات معلوم کرنا، یہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ ویسے اپنے سمجھنے کے لیے پوچھنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا جیسے کہ مشہور ابھی حدیث شریف ابھی کافی ہم پڑھ چکے ہیں مختلف جگہوں پہ، یہ شعبان کا جو خطبہ ہے اس میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی افطار کرائے گا روزہ دار کو تو اس کو اسی روزے کے برابر ثواب ملے گا جو اس روزہ دار نے رکھا ہے اور اس روزہ دار کے روزے سے ثواب کوئی کم نہیں کیا جائے گا۔ تو صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ہم میں سے تو ہر ایک اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے، اب ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ پیٹ بھر کر کھانا کھلانا ہو گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ ثواب تو اللہ تعالی ان کو بھی دے دیتا ہے جو کسی روزہ دار کو تھوڑے سے دودھ کے ذریعے سے، کھجور کے ذریعے سے یا تھوڑے سے پانی کے ذریعے سے بھی افطار کرائے۔ ہاں اگر کوئی پیٹ بھر کر کھانا کھلائے روزہ دار کو تو وہ تو ماشاءاللہ اس کو پھر میرے حوض سے شربت پلایا جائے گا، حوض کوثر سے۔ اور وہ ایسا شربت ہے کہ اس کے پینے کے بعد اس کو جنت میں داخل ہونے تک کوئی پیاس نہیں لگے گی۔ اب دیکھو نا یہ سوال ہی ہے۔ سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا۔ لیکن بات جیسے وہ تھی موسی علیہ السلام کی جو قوم، کہ جو گائے کا فرمایا گیا کہ گائے کو ذبح کر لو۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ گائے کیسی ہو گی؟ اب اگر اس پہ مان لیتے، گائے کو ذبح کرتے تو کوئی سی بھی گائے ذبح کر لیتے تو مسئلہ نہیں تھا، کچھ بھی نہیں تھا۔ لیکن اس نے کہا کون سی؟ تو اللہ پاک کی طرف سے آیا کہ ایسا۔ پھر اس پہ کہنے لگے کہ اس کا رنگ کیا ہو گا؟ تو فرمایا کہ ایسا۔ پھر ایک اور پوچھا تو اب اس کے بعد انہوں نے کہا کہ شاید ہم، تو اس پر اللہ پاک نے پھر توفیق دی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ پہلی دفعہ ہی میں عمل کرتے تو ان پہ کوئی شرط نہیں تھی اس پہ۔ کوئی بھی گائے ذبح کر لیتے، کام ہو جاتا۔ لیکن انہوں نے چونکہ سوال کیے تو سوالات سے مشکلات بڑھتی گئیں۔ اصل میں جتنا اللہ تعالی آپ سے مطالبہ کرے اتنا کرو۔ زیادہ کرو گے کٹ حجتی تو مشکلات بڑھ جائیں گی۔ تو یہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق ارشاد فرمایا، تو
تشریح: ایک مرتبہ جب آپ ﷺ نے خطبہ دیا کہ اللہ نے حج فرض کیا ہے حج کرو۔ اس بات کو سن کر ایک صحابی جن کا نام اقرع بن حابسؓ تھا پوچھ بیٹھے یا رسول اللہ کیا ہر سال حج کیا جائے؟ اس پر آپ ﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ سائل نے اپنے سوال کو تین بار دہرایا، بعد میں پھر آپ ﷺ نے ارشاد بالا فرمایا کہ اگر میں اس وقت ہاں کر دیتا تو ہر ایک مسلمان پر ہر سال حج فرض ہو جاتا۔ ”دَعُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ“ مجھے چھوڑ دو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں۔ ایک دوسری روایت میں ”دعونی“ کے بجائے ”ذرونی“ کا لفظ ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے سامنے وضاحت کر دیتا ہوں تم کو سوال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی جیسا کہ بنی اسرائیل نے گائے کے بارے میں سوال کر کے اپنے اوپر مشقت کو ڈال لیا تھا ابتداء جو گائے بھی وہ ذبح کرتے صحیح تھا۔ قرآن مجید میں بھی آتا ہے: ”یٰا أَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ أَشْیَاءَ إِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ“ ”فَأْتُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ“ جتنی طاقت رکھتے ہو اتنا کر لیا کرو۔ مثلاً نماز کے شرائط پورے ادا نہیں کر سکتے ہو جتنا کر سکتے ہو اتنا کر لو کہ اگر قیام نہیں کر سکتے تو بیٹھ کر پڑھ لو بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے تو لیٹے لیٹے پڑھ لو جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے۔”فَاتَّقُوْا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ“ کہ اللہ سے ڈرو جتنی تم میں طاقت ہے۔
تخریج حدیث: اخرجه بخارى كتاب الاعتصام (باب الاقتداء بسنن رسول الله) ﷺ وصحیح مسلم كتاب الفضائل (باب توقيره صلى الله عليه وسلم و ترك اكثار سؤاله عمالا ضرورة اليه) احمد 7371/3، ومصنف عبدالرزاق 20374، والنسائى 2618 و ابن حبان 18، و ابن خزيمة 2508، والبيهقى 326/4۔