نبی اکرم ﷺ: ہادیِ صراطِ مستقیم

درس نمبر 237 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو سیدھے راستے یعنی اللہ کے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔
  2. صراط مستقیم سے مراد دین اسلام ہے۔
  3. دین اسلام وہ راستہ ہے جو انسان کو سیدھا جنت تک پہنچاتا ہے۔
  4. یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کسی قسم کی کوئی کجی نہیں ہے۔
  5. ہدایت اور کامیابی کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنا ضروری ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

﴿وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ صِرَاطِ اللّٰهِ﴾ (شوریٰ: 52)

ترجمہ: اور فرمایا: ”اور بے شک (اے محمد) تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو یعنی خدا کا راستہ۔“

تشریح: ”صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ“ سے مراد دین اسلام ہے۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو خطاب فرما کر کہا جا رہا ہے کہ آپ لوگوں کو سیدھے راستے پر چلنے کی ہدایت کرتے ہیں اور ان کو دین اسلام پر چلنے کی ترغیب دیں جو جنت تک پہنچانے والا ہے۔ یہ ایسا دین ہے جس میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔