اطاعت و اتباعِ رسول ﷺ: رضائے الٰہی کا واحد ذریعہ

درس نمبر 236 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت درحقیقت اللہ جل شانہ کی اطاعت ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف حکم پہنچانے والے ہیں۔
  2. دین اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے جس نے اسے پورا کر کے ہم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے۔
  3. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں ہمارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔
  4. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا اللہ کا محبوب بن جاتا ہے اور اللہ اسے پسند کرتا ہے۔
  5. جس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے دراصل اللہ پاک کی نافرمانی کی۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

﴿مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ﴾ (نساء: 80)

ترجمہ: اور فرمایا: ”جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بے شک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی۔“

تشریح: آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ حقیقت میں اللہ جل شانہ کی اطاعت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ تو صرف حکم پہنچانے والے ہیں حکم دینے والا تو اللہ ہی ہے۔

کیونکہ جو اسلام ہے، وہ تو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، دین تو اسلام ہے۔ جیسا اس میں ہے نا کہ: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔ یہ کس کی طرف سے ہے؟ اللہ کی طرف سے۔ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِينًا۔ تو ظاہر ہے، مطلب ہے کہ دین تو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ اور اللہ نے اس کو پورا کر دیا ہے اور اس کے ذریعے سے ہم پر اپنی نعمت تمام کر لی ہے۔ تو اس وجہ سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین پہنچانے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت جو کرے گا، وہ اصل میں اللہ کی اطاعت ہے۔ تو یہاں پر یہ بات فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی، یعنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے جدا نہ سمجھا جائے۔ بلکہ یہ تو اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ جو بھی کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانتا ہے تو وہ... اس کو بہت وضاحت، کی وضاحت کے ساتھ قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر، جیسے یہاں پر بھی ہے۔ مختلف جگہوں پر مختلف عنوانات سے اس کو بیان کیا گیا ہے، جیسے ایک جگہ فرمایا: "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"۔ کہ البتہ بالتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ اور اس طریقے سے: "قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ"۔ یہ بھی یعنی فرمایا گیا ہے۔ یعنی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتا ہے، وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے، اللہ پاک اس کو پسند کرتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو اس بات کا... تو

مَنْ أَطَاعَنِيْ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ وَ مَنْ یَّعْصِنِيْ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ“

ترجمہ: ”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔“

اللہ جل شانہ ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر کے اللہ پاک کو راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

اطاعت و اتباعِ رسول ﷺ: رضائے الٰہی کا واحد ذریعہ - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور