ترسیلِ دین کی امانت اور صحابہ کرامؓ کا عملی نمونہ
درس نمبر 235 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا
- قرآن اور سنت کو خوب یاد رکھنا، ان پر عمل کرنا اور انہیں امت تک پہنچانا ہر شخص پر لازم ہے۔
- ازواجِ مطہرات پر بھی یہ لازم کیا گیا کہ وہ اس امانت کا ذکر امت کے دوسرے افراد کے سامنے کریں۔
- اللہ جل شانہ نے صحابہ کرام کو دین کا پیغام پہنچانے کے لیے مامور فرمایا اور وہی دین کے عملی نمونے تھے۔
- چونکہ دنیا میں مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں، اس لیے ان کی رہنمائی کے لیے ہر طبقے کے صحابہ کرام کو عملی نمونہ بنایا گیا۔
- صحابہ کرام ستاروں کے مانند ہیں جن کی اقتداء میں ہدایت ہے، لہٰذا ان کے ذریعے ملنے والے دین پر عمل کرنا چاہیے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
﴿وَاذْكُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ﴾ (احزاب: 34)
ترجمہ: نیز فرمایا: ”اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد کرتی رہو۔“
تشریح: ”آیات اللہ“ سے مراد قرآن ”الْحِكْمَةِ“ سے مراد سنت رسول ہے۔ ”وَاذْكُرْنَ مَا یُتْلٰی“ اس کے دو مطلب بیان کئے ہیں: قرآن واحادیث کو خوب یاد رکھنا جس کا نتیجہ ان پر عمل کرنا ہے۔ جو کچھ قرآن ان کے گھروں میں ان کے سامنے نازل ہوا یا آپ ﷺ کی سنت کو دیکھا تو اس کا ذکر امت کے دوسرے لوگوں سے کریں۔ابن عربی نے کہا اس آیت سے معلوم ہوا جو شخص آپ ﷺ سے کوئی آیت یا حدیث سنے اس پر لازم ہے کہ وہ امت کو پہنچائے یہاں تک کہ ازواج مطہرات پر بھی لازم کیا گیا کہ اس کا ذکر امت کے دوسرے افراد کے سامنے کریں یہ امانت ہے۔
اصل میں اللہ جل شانہ نے اس وقت کے جو صحابہ کرام ہیں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لیے مامور فرمایا تھا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت فرمائی تھی۔ لہذا وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین پر عمل کرنے کے عملی نمونے تھے۔ یعنی کسی کو اگر عملی نمونہ دیکھنا ہو، تو ظاہر ہے وہ اب چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک فرد تھے۔ لیکن لوگ تو مختلف قسم کے تھے مثلاً مرد بھی تھے، عورتیں بھی تھیں۔ شہری بھی، دیہاتی بھی۔ ہوشیار بھی، سادہ بھی۔ گورے کالے بھی، گورے بھی۔ پہاڑی بھی، صحرائی بھی، ہر قسم کے لوگ چونکہ ہوتے ہیں، تو ان کے لیے عملی نمونہ جو تھا وہ صحابہ کرام کی صورت میں تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت فرمائی ان سب کی۔ ان میں ہر قسم کے حضرات تھے۔ تو اس وجہ سے اللہ جل شانہ نے ان کو عملی نمونہ بنایا۔ اور جیسے فرمایا کہ، أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ، میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں۔ کہا ان میں سے جس کی بھی، مطلب، اتباع کرو گے تو ہدایت پالو گے۔ اقتداء کرو گے تو ہدایت پالو گے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو جو صحابہ کرام کے ذریعے سے دین ملا ہے، اس کو لینا چاہیے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔