حکمِ رسول ﷺ کی مخالفت کا انجام
درس نمبر 234 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال کی مخالفت اور ان سے اعراض کرنا دنیا اور آخرت میں مصیبت کا سبب ہے۔
- اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آفت یا تکلیف دہ عذاب نازل ہو جائے۔
- نافرمانی کی صورت میں نازل ہونے والے فتنہ سے مراد دنیاوی مصیبت اور آفت ہے۔
- عذابِ الیم سے مراد قیامت کے دن کا وہ دردناک عذاب ہے جس میں نافرمان لوگ مبتلا ہوں گے۔
- ایسا کوئی بھی عمل مردود قرار پاتا ہے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دیا ہو۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
﴿فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾(نور: 63)
ترجمہ: ”نیز فرمایا جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو۔“
تشریح: فِتْنَةٌ: سے مراد بقول مجاہد دنیوی مصیبت اور ”عَذَابٌ اَلِیْمٌ“ سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی دنیوی عذاب نہ آجائے یا پھر قیامت کے دن عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس آیت میں ڈرایا جا رہا ہے کہ جو لوگ بھی آپ ﷺ کے اقوال واعمال سے اعراض اور مخالفت کرتے ہیں تو ان کے لئے دنیا و آخرت میں مصیبت ہے اور وہ شخص مردود ہوگا جیسا کہ ایک روایت میں فرمایا: ”مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.“ جس نے کوئی عمل کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔