حکمِ رسول ﷺ پر تسلیم و رضا: معیارِ ایمان
درس نمبر 232 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا
- ایک منافق اور یہودی کے جھگڑے میں منافق کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا اس آیت کا شانِ نزول ہے۔
- فیصلہ نہ ماننے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس منافق کا سر قلم کر دیا، جس پر اولیاء کے دعوے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔
- قرآن مجید کی متعدد آیات حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی تائید میں نازل ہوئی ہیں، جن میں سے زیرِ بحث آیت بھی ایک ہے۔
- کامل ایمان کی بنیادی شرط یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو بغیر کسی دلی تنگی کے خوشی سے تسلیم کیا جائے۔
- یہ حکم صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک محدود نہیں، بلکہ آپ کے بعد تمام تنازعات میں شریعتِ نبوی کی طرف رجوع کرنا لازم ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ (مؤمن: 65)
ترجمہ: ”تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کرو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مؤمن نہیں ہوں گے۔“
اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ
تشریح: ایک منافق اور ایک یہودی کا جھگڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے اس یہودی کے لئے فیصلہ کر دیا، اس پر اس منافق نے کہا کہ فیصلہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کروایا جائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مقدمہ لے گئے، جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہوا کہ فیصلہ آپ ﷺ کر چکے ہیں اور اس منافق نے آپ ﷺ کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلوار سے اس منافق کا سر قلم کر دیا، پھر مقتول کے اولیاء حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف دعویٰ لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے تو اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بہت ساری چیزوں کے بارے میں قرآن پاک کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، ان میں سے یہ بھی ہے۔تو
تشریح: متعدد آیات قرآنیہ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت ضروری ہے۔ اس آیت مبارکہ میں بھی اللہ جل شانہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک آپ ﷺ کو ٹھنڈے دل سے پوری طرح تسلیم نہ کرے کہ اس کے دل میں اس فیصلہ سے کوئی تنگی نہ پائی جائے، آپ ﷺ کے فیصلہ کو دل و جان سے تسلیم کر کے عمل کرے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ حکم صرف آپ کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ ﷺ کی حیات میں تو خود بلا واسطہ آپ سے رجوع کیا جائے اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی شریعت کی طرف رجوع کرنا مراد ہے۔
یعنی تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔ اللہ جل شانہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نصیب فرمائے۔ اس محبت کی برکت سے اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم سے ہمارا دل تنگ نہ ہو۔ اور ہم خوشی خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے والے بن جائیں۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔