اتباعِ رسول ﷺ: محبتِ الٰہی کی کسوٹی
درس نمبر 230 جلد 1، باب 16: باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا
- اللہ تعالیٰ کی محبت اور مغفرت پانے کا واحد راستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔
- اللہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے چند لوگوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی کہ اس محبت کی شرط اتباعِ رسول ہے۔
- محبت ایک مخفی چیز ہے جس کی سچائی کو صرف اتباعِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے۔
- انسان کا دعویِٰ محبت اسی قدر سچا ہوگا جس قدر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا اہتمام کرے گا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع درحقیقت اللہ کی اتباع ہے اور آپ کی نافرمانی سراسر اللہ کی نافرمانی ہے۔
- چونکہ اللہ تعالیٰ براہِ راست کلام نہیں فرماتے، اس لیے وقت کے پیغمبر کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی اللہ کی بات ماننا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾(آل عمران: 31)
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔“
اس کی شانِ نزول میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
تشریح: ابن جریرؒ اور ابن المنذر نے حسن بصریؒ سے مرسل روایت نقل کی ہے کہ چند لوگوں نے آپ ﷺ سے کہا خدا کی قسم ہم اپنے رب سے محبت رکھتے ہیں اس پر یہ آیت بالا نازل ہوئی۔ محبت ایک مخفی چیز ہے، کوئی پیمانہ ایسا نہیں ہے جس سے اندازہ لگایا جائے کہ اس کو فلاں سے کتنی محبت ہے صرف آثار اور اتباع سے معلوم ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اس آیت میں کہا جا رہا ہے کہ اگر تم کو اللہ جل شانہ سے محبت کا دعویٰ ہے تو اس کو اتباع محمد ﷺ کی کسوٹی پر آزماؤ، جتنا دعویٰ میں سچا ہوگا اتنا ہی آپ ﷺ کی اتباع میں اہتمام ہوگا، جتنا اپنے دعوے میں کمزور ہوگا اسی قدر ہی اطاعت رسول ﷺ میں کمزوری اور سستی ہوگی، اسی وجہ سے ایک روایت میں فرمایا جس نے آپ ﷺ کی اتباع کی اس نے درحقیقت اللہ جل شانہ کی اتباع کی اور جس نے آپ ﷺ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔
یہ واقعتاً اگر اللہ کے ساتھ محبت ہے تو اللہ کی بات مانے گا۔ اور اللہ کی بات ماننے کی کسوٹی کیا ہے؟ کیونکہ اللہ پاک تو براہِ راست کسی سے بات نہیں فرماتے۔ تو اللہ تعالیٰ تو پیغمبر کے ذریعے سے بات پہنچاتے ہیں۔ تو جو وقت کا پیغمبر ہوگا اس کی بات مانے گا، یہی بات ہو سکتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کے لیے یہی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کر لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کر لے، تو یہ اللہ پاک کے یعنی بات ماننا ہے، اور جو اللہ پاک کی بات مانتے ہیں تو ان کا اللہ کے ساتھ محبت کا دعویٰ سچا ہے۔ بس یہ بات آسانی کے ساتھ معلوم کی جا سکتی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو قرآن فہمی نصیب فرما دے اور اس کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرما دے۔
وَاخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔