اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
اَمَّا بَعْدُ
أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۙ قَالَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ:"يٰاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَھْرٌ مُّبَارَكٌ، شَھْرٌ فِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللهُ صِيَامَهٗ فَرِيْضَةً وَّ قِيَامَ لَيْلِهٖ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيْهِ بِخَصْلَةٍ مِّنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدّٰى فَرِيْضَةً فِيْمَا سِوَاهُ، وَ مَنْ أَدّٰى فَرِيْضَةً فِيْهِ كَانَ كَمَنْ أَدّٰى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيْمَا سِوَاهُ، وَ هُوَ شَھْرُ الصَّبْرِ، وَ الصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَ شَھْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَ شَھْرٌ يُّزَادُ فِيْهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيْهِ صَائِمًا كَانَ لَهٗ مَغْفِرَةً لِّذُنُوْبِهٖ وَ عِتْقَ رَقَبَتِهٖ مِنَ النَّارِ، وَ كَانَ لَهٗ مِثْلَ أَجْرِهٖ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهٖ شَيْءٌ، قُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ! لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا یُفَطِّرُ الصَّائِمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يُعْطِي اللهُ ھٰذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰی مُذْقَةِ لَبَنٍ اَوْ تَمْرَةٍ اَوْ شَرْبَةٍ مِّنْ مَاءٍ، وَ مَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللهُ مِنْ حَوْضِيْ شَرْبَةً لَّا يَظْمَأُ حَتّٰى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَ هُوَ شَھْرٌ أَوَّلُهٗ رَحْمَةٌ وَّ أَوْسَطُهٗ مَغْفِرَةٌ وَّ اٰخِرُہٗ عِتْقٌ مِّنَ النَّارِ، وَ مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَّمْلُوكِهٖ فِيْهِ غَفَرَ اللهُ لَهٗ وَ أَعْتَقَهٗ مِنَ النَّارِ''." صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
بزرگو اور دوستو!یہ آپ ﷺ کا خطبہ آپ حضرات نے سن لیا۔ یہ خطبہ خود بتاتا ہے، دو باتیں اس میں بالکل واضح ہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ آپ ﷺ کے خطبے انتہائی مختصر ہوا کرتے تھے لیکن انتہائی جامع ہوا کرتے تھے۔ ایسے جامع ہوا کرتے تھے کہ اس پہ بعض لوگوں نے Ph.Ds کیں، مطلب یعنی بہت زیادہ تحقیق اس پہ ہو جاتی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جس انداز میں یہ بات فرمائی ہے، اس انداز میں ہمیں اس کو لینا چاہیے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ لوگ بس رواں انداز میں بات سن لیتے ہیں اور رواں انداز میں بھول بھی جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
تھوڑا سا آپ غور فرمائیں، میں اب اس کا ترجمہ سناتا ہوں۔ آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ آپ ﷺ نے کس انداز میں بات کی ہے۔ تو ہمیں بھی اس انداز میں اس کو لینا پڑے گا ورنہ اس کا جو فائدہ ہے، وہ پورا فائدہ ہمیں نہیں مل سکے گا۔
آپ ﷺ فرماتے ہیں (اللہ اکبر) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شعبان کے اخیر میں آپ ﷺ نے خطبہ میں ارشاد فرمایا:"اے لوگو! تحقیق سایہ ڈالا تم پر ایک بہت بڑے مہینے نے۔"
اس سے ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ اس رمضان شریف کے بارے میں ہمارا Concept کیا ہونا چاہیے۔ اس کو بوجھ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اب تو روزے رکھنے پڑیں گے، بلکہ اللہ پاک کے دینے کا انتہائی وسیع نظام ہے۔ اتنا وسیع نظام ہے کہ اگر انسان کو اس کی حقیقت کا ادراک ہو جائے تو آدمی سمجھے کہ ہر وقت، ہر وقت رمضان ہی ہو۔
تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تحقیق سایہ ڈالا تم پر ایک بہت بڑے مہینے نے، برکت والے مہینے نے۔ وہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں ایک رات ایسی آتی ہے جو کہ ہزار مہینے سے بڑھ کر ہے۔"
ایک تو آپ ﷺ کی زبانِ اطہر سے یہ بات نکل رہی ہے اور دوسری بات حوالہ کس چیز کا دیا ہے؟ قرآن۔(إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ * لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ)
اب دیکھیے، آپ ﷺ نے رمضان شریف کا جس انداز میں ذکر فرمایا، Alarming ہے۔ جگانے والا ہی ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے بھی ایسے ہی انداز میں لیلۃ القدر کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی اللہ پاک فرماتے ہیں: (إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ)بے شک ہم نے نازل کیا قرآن کو لیلۃ القدر میں۔ پھر فرمایا: (وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ)تمہیں کیا پتا لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ یعنی تمہیں اس بات کی تحقیق نہیں ہے، تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے۔ یہ اصل میں یہ انداز ہوتا ہے جس میں انسان کو جگایا جاتا ہے، سمجھایا جاتا ہے کہ میں جو بات کرنے والا ہوں بہت زیادہ اہم بات ہے۔ مثلاً کہ کوئی بات کسی کو... کہتا ہے "لو بیٹا یہ لو، آپ کو کیا پتا یہ کیا چیز ہے؟" مطلب ایسا ہوتا ہے نا کبھی کبھی باپ بیٹے کو کہتا ہے یا کوئی بڑا چھوٹے کو کہتا ہے۔
تو اللہ جل شانہٗ سب سے ارشاد فرما رہے ہیں: تمہیں کیا پتا لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟(لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ)لیلۃ القدر تو وہ رات ہے جو کہ ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ ہزار مہینوں سے افضل ہے۔اب اس کا ذرا تھوڑا سا Analytical انداز میں اگر ہم جائزہ لیں، ہزار مہینے تقریباً 83 سال کے لگ بھگ بن جاتے ہیں۔ پس اگر کسی شخص نے ایک دفعہ "سبحان اللہ" کہا لیلۃ القدر میں، تو گویا اس نے ہزار مہینے ہر رات کے اندر ایک دفعہ "سبحان اللہ" کہا۔
اگر کسی نے دو رکعت نماز پڑھی، تو ایسا جیسے اس نے ہزار مہینے ہر رات کے اندر دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ اگر کسی نے ایک پارہ تلاوت کر لیا، تو ایسے جیسے اس نے ہزار مہینے ہر رات میں ایک پارہ تلاوت کر لیا ہو۔ اگر کسی نے اللہ کے راستے میں کچھ دے دیا، تو گویا ہزار مہینے ہر رات میں اللہ کے راستے میں اس نے وہ چیز دیا ہے۔
اس کے بارے میں حدیث شریف میں جو آتا ہے وہ یہ آتا ہے کہ آپ ﷺ کو قلق تھا کہ میری امت کی عمر چھوٹی ہے، تھوڑی ہے۔ 60 سال کے لگ بھگ Average بنتی ہے۔ آپ ﷺ کی خود اپنی عمر 63 سال تھی۔ تو گزشتہ امتوں میں بہت لمبی لمبی عمروں والے بھی تھے۔ تو وہ تو عبادت میں بہت آگے چلے جائیں گے۔ تو اللہ جل شانہٗ نے اس امت کو خصوصی طور پر یہ رات عطا فرمائی۔
اب اگر کوئی دس لیلۃ القدر پا لیتا ہے اپنی زندگی میں، تو 830 سال ہو گئے۔ اگر کسی نے بیس سال پا لیے تو 1660 سال ہو گئے۔ کسی نے تیس سال پا لیے، تقریباً ڈھائی ہزار سال ہو گئے۔ اب کس کی عمر اتنی زیادہ تھی پہلے؟
اور آپ حضرات ذرا ایک بات تھوڑا سا ذہن میں رکھیے، عموماً عوام کے اندر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ لیلۃ القدر کا پانا بہت مشکل ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ کچھ تصوراتی باتیں بھی ہیں۔ وہ یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں شاید بس ایک لمحہ ہوتا ہے۔ بس اس لمحے میں اگر کسی نے کچھ مانگ لیا تو مانگ لیا، اس کا کام ہو گیا اور اگر وہ ٹائم گیا تو بس گیا۔ اور یہاں تک بھی لوگوں نے کہا ہے کہ انسان جاگ رہا ہوتا ہے، جاگ رہا ہوتا ہے اور جس وقت وہ لمحہ آ جاتا ہے تو انسان کو نیند آ جاتی ہے۔
خدا کے بندو! اللہ جل شانہٗ تو ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اللہ دینا بھی چاہتا ہو، نہیں بھی دینا چاہتا ہو؟ یہ رات تو اللہ تعالیٰ نے دینے کے لیے بنائی ہے۔ تو یہ بات تو ایسی نہیں ہے۔تو اس میں ایک بات تو یہ ہے کہ یہ پوری رات ہوتی ہے۔ "لیلۃ القدر" ہے، "لمحۃ القدر" نہیں ہے۔ اللہ پاک نے اس کو کیا فرمایا ہے؟ لیلۃ القدر۔اور پھر اس میں مزید یہ مطلب تاکید فرمائی:(هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ) صبح فجر تک یہ رات ہوتی ہے۔ یعنی غروب آفتاب سے شروع ہو جاتی ہے اور فجر تک یہ پوری رات کی پوری رات ہے۔ لہٰذا ایسی بات نہیں ہے کہ -نعوذ باللہ من ذالک- کوئی بس تھوڑے سے لمحے کے لیے ایسی بات ہو۔ پوری رات، آپ جو بھی کریں گے۔
اب اس میں دیکھیں، کم از کم دو نمازیں آتی ہیں فرض۔ مغرب کی نماز آ رہی ہے اور عشاء کی نماز آ رہی ہے۔ لہٰذا جو نمازی لوگ ہیں، وہ فرض نماز کے لیے تو جائیں گے ہی۔ اور جو جماعت کے ساتھ پڑھنے والے ہیں، وہ جماعت کے ساتھ پڑھیں گے۔ اور جو تکبیر اولیٰ حاصل کرنے والے لوگ ہیں، وہ تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھیں گے۔ اور جو پہلی صف میں پڑھنے والے لوگ ہیں، وہ پہلی صف میں پڑھیں گے۔ تو درجہ بدرجہ ان کا ثواب اس لحاظ سے ہو گا۔
اور پابندی کسی پہ نہیں ہے۔ کہ اگر کل کوئی مطلب جو ہے نا وہ تکبیر اولیٰ کے ساتھ نہیں پڑھ رہا تھا، تو آج بھی نہیں پڑھ سکتا۔ نہیں، ایسی بات نہیں ہے، اس رات پڑھ لے۔ تو وہ بھی ان میں شامل ہو جائے گا ان شاءاللہ۔تو تکبیر اولیٰ کے ساتھ اگر کوئی یہ فرض نمازیں پڑھ لے جماعت کے ساتھ، سبحان اللہ! وافر حصہ انہوں نے پا لیا۔ کیونکہ فرضوں کے برابر کوئی چیز نہیں ہے۔ باقی تو نفل ہے نا، تو نفل کب فرضوں کے برابر ہو سکتا ہے؟
تو ایک تو یہ بات ہے کہ دو نمازیں جو فرض ہیں، ان کو اہتمام کے ساتھ... اہتمام سے مراد یہ ہے وقت سے پہلے پہنچ جائیں۔ وضو پہلے سے کر کے وقت سے پہلے پہنچ جائیں، مسجد میں پہنچ جائیں۔ مسجد میں پہنچنے میں خیر ہے۔ کیونکہ اگر آپ گھر میں ہیں، ضرور کسی نہ کسی کام میں الجھیں گے، الجھیں گے۔ اگر راستے میں ہیں، ممکن ہے آپ کے ساتھ کوئی Discuss کرنا شروع کر لے۔ ممکن ہے آپ کا خیال ادھر ادھر چلا جائے۔ مسجد میں ہوں گے تو اللہ کی یاد، فرشتوں کی محفل میں ہوں گے۔ تو پہلے سے پہنچ جائیں۔
اب اس میں ایک اچھی بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اگر مثال کے طور پر کوئی آدھا گھنٹہ پہلے مسجد میں پہنچ جائے، اور مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھ جائے، کچھ کر نہیں رہا، صرف انتظار میں بیٹھا ہوا ہے، وہ ایسے ہے جیسے نماز میں شامل ہے۔ وہ جیسے نماز میں شامل ہے۔ تو اب دیکھ لو، اور اگر آپ مزید کچھ کرنا چاہتے ہیں، وہ آپ کا Bonus ہے۔ آپ قرآن پاک کی تلاوت کر لیں، آپ ذکر اذکار کر لیں، آپ درود شریف پڑھ لیں، آپ استغفار کر لیں۔ بالخصوص دعائیں پڑھیں۔ دعائیں، بہت زبردست کام ہے۔
اس رات میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جو آپ ﷺ سے پوچھا تھا، تو یہ پوچھا تھا کہ میں اس میں کون سی دعا کروں؟ تو آپ ﷺ نے پھر فرما دیا تھا، وہ دعا بتا دی تھی۔ "اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي"۔ اچھا اب یہ جو ہے نا یہ دعا انسان سیکھ لے اور پڑھ لے، بہت ماشاءاللہ مجرب دعا ہے، آپ ﷺ نے سکھائی ہے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سکھائی ہے۔
تو بہرحال دعائیں کریں۔ دعاؤں کی ایک کتاب ہے، ذرا تعارف کرنا چاہوں گا، "مناجاتِ مقبول" اس کو کہتے ہیں۔ بعض لوگ ذرا Touchy ہوتے ہیں نا ہر چیز کے ساتھ، "اس کو کیوں یہ، بھئی یہ تو..." خدا کے بندو مقصد سے تعلق رکھو، ناموں سے تعلق نہ رکھو۔ نام جس جو بھی ہے، ہمیں نام سے کیا غرض ہے؟ نام جو بھی ہے۔
تو کسی بزرگ نے، کسی عالم نے اس کو اس طریقے سے Arrange کر دیا کہ قرآنی دعائیں اور مسنون دعائیں جمع کر کے، ان کو سات حصوں میں تقسیم کیا۔ انتظامی لحاظ سے۔ یہ لازمی بات نہیں ہے، انتظامی لحاظ سے۔ کہ اگر کوئی ایک رات میں ایک منزل پڑھتا ہے، یعنی ایک حصہ اس کا پڑھتا ہے، تو پورے ہفتے میں ساری دعائیں ہو جائیں گی۔ کیا خیال ہے، جائز ہے یا ناجائز ہے؟ آج کل اس کو بھی لوگ ناجائز کہتے ہیں، إنا لله وإنا إليه راجعون۔ جو بھی کوئی انتظام کرے مسجد میں، آپ انتظام کریں تو ناجائز ہو جائے گا؟ یہ تو ایک انتظامی بات ہے۔
اچھا تو سات آپ نے حصوں میں تقسیم کیا۔ یہ سب قرآنی دعائیں ہیں اور مسنون دعائیں ہیں۔ آپ اس کو لے لیں، جہاں سے بھی پڑھنا چاہیں پڑھنا شروع کر لیں۔ نہ مانیں ان کی تقسیم چلو۔ آپ جو ہے نا مطلب کہیں سے بھی شروع کر لیں۔ آپ کا کام تو بن جائے گا نا۔ بھئی قرآنی دعائیں ہیں، مسنون دعائیں ہیں، آپ پڑھیں۔ اچھا، اور اگر نہیں اس کے ساتھ پڑھنا چاہتے، تو قرآنی دعائیں مسنون دعائیں سیکھیں۔ یاد سے پڑھیں، کوئی کتاب ضروری نہیں ہے۔ اور اگر یہ یاد بھی نہیں ہے اور کتاب بھی نہیں ہے، کوئی مسئلہ نہیں، اپنی زبان میں دعائیں کرو۔
بھئی یہ دعائیں تو ہم سب کر سکتے ہیں "یا اللہ ہمیں معاف کر دے۔ آمین۔ اے اللہ ہم توبہ کرتے ہیں تمام گناہوں سے۔" اب اس قسم کی دعائیں آپ کی زبان پر آتی رہیں، آپ دعائیں کرتے رہیں، یہی موقع ہے۔ تو بہرحال یہ موقع ہے کہ ہم لوگ ذرا وقت سے پہلے پہنچ جائیں، ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ نماز کے انتظار میں رہیں، دعائیں کرتے رہیں یا قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہیں۔
ہمارے حضرت مولانا اشرف علی سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا تو رمضان شریف کا مہینہ قرآن ہی کا مہینہ ہوتا تھا۔ سبحان اللہ۔ قرآن کے ساتھ اتنا تعلق تھا، اتنا تعلق تھا میں آپ کو کیا بتاؤں۔ حضرت کے ہاں تراویح میں پانچ ختم قرآن ہوا کرتے تھے -سبحان اللہ- رمضان شریف میں پانچ ختم قرآن ہوا کرتے تھے۔
اور ایسی حالت تھی -سبحان اللہ- کہ ایک دفعہ چھٹی ہوئی، تو لوگوں نے کہا آخری دنوں میں، کہا کہ حضرت اجازت لیتے ہیں، تو آدھا قرآن باقی تھا۔ تو حضرت نے کہا وہ آدھے قرآن کا کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا حضرت چھٹی ہو گئی۔ انہوں نے کہا بھئی کسی حافظ سے کہو، Request کر لو، آپ کو آدھا قرآن سنا دے، نفلوں میں سنا دے۔ وہ نفلوں میں کھڑے ہو گئے لوگ، حضرت بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ حالانکہ حضرت تو جا نہیں رہے تھے۔ لیکن حضرت بھی ساتھ شامل ہو گئے اور یہ وہ حالت تھی حضرت کی کہ فالج تھا حضرت کو، اور Blood Pressure کا مرض اور Sugar کا مرض اور استھما (Asthma) کا مرض اور Heart problem اور یہ ساری چیزوں کے ساتھ حضرت کا یہ ذوق تھا۔
ایک دفعہ ایک عالم تشریف لائے تھے مہمان۔ تراویح میں قرآن سنایا جا رہا تھا، درمیان میں کچھ آٹھ رکعتوں کے بعد ایک وقفہ ہوا کرتا تھا۔ وقفے میں بیٹھے ہوئے تھے، پوچھا جی وہ کدھر ہے؟ انہوں نے کہا حضرت وہ تو سوئے ہوئے ہیں۔ اب حضرت نے اور کچھ نہیں کہا کیونکہ مسافر تھے، مسافر پہ تو لازم نہیں ہوتا۔ بس صرف اتنا کہا "عجیب ذوق ہے"۔ صرف اتنا کہا "عجیب ذوق ہے"۔
اس کا مطلب ہے یہ رمضان کا مہینہ یہ تو ہے ہی "شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ" بھئی یہ تو ہے ہی قرآن کا مہینہ ہے، لہٰذا اس کے اندر قرآن کے ساتھ تعلق رکھو۔ نماز کے ساتھ تعلق رکھو۔ جتنا پڑھ سکتے ہو وہ تمہاری قسمت ہے۔
تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ فرمایا (اللہ اکبر) اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے فرض کیے اور رات کا قیام "تطوع" قرار دیا یعنی نفل۔ مطلب اس میں جو ہے نا وہ نفل سے مراد یہ ہے زائد چیز۔ یہ بھی اصل میں ایک بات ہے علمی... مطلب یہ ہے کہ زائد چیز ہے۔ یہ سنتِ مؤکدہ پر بھی بولا جاتا ہے کیونکہ یہ بھی فرض و واجب پر تو اضافہ ہے نا۔
چنانچہ یہاں سنتِ مؤکدہ ہی مراد ہے کیونکہ تراویح کا سنتِ مؤکدہ ہونا ثابت ہے۔ جس نے اس ماہ میں کوئی نیک خصلت از قبیل نوافل ادا کی، وہ اس کے مانند ہوتا ہے جس نے رمضان میں کسی دوسرے ماہ میں فرض ادا کیا ہو۔ جس نے رمضان کے سوا کسی دوسرے ماہ میں فرض ادا کیا ہو۔
یعنی کوئی نفل پڑھے گا دو رکعت، تو اس کو دو رکعت فرضوں کا اجر ملے گا۔ اور جو... اور جس نے اس ماہ میں فرض ادا کیے، وہ ایسا ہوتا ہے جیسے کہ اور دنوں میں 70 فرض ادا کیے ہوں۔
اب دیکھو، ہم روزانہ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں فرض۔ رمضان شریف میں وہ 350 ہو جاتی ہیں۔ لوٹ ہے یا نہیں ہے؟ اور نفل جتنا بھی پڑھ سکتے ہو، جتنا زیادہ سے زیادہ پڑھو... کیونکہ فرض میں تو کوئی اضافہ نہیں کر سکتا، وہ تو جتنے ہیں اتنے ہی ہیں نا۔ تو رمضان شریف میں آپ کے فرضوں کو پہلے سے عدد کے لحاظ سے بڑھا دیا اور مزید آپ فرضوں میں اضافہ کر سکتے ہیں کہ نفل پڑھے تو فرضوں کا ثواب آپ کو ملے گا۔
اور وہ صبر کا مہینہ ہے۔ اور صبر ایسی چیز ہے کہ اس کا بدلہ جنت ہے۔ ماشاءاللہ۔ اور وہ غمخواری کا مہینہ ہے۔ اور ایسا مہینہ ہے کہ اس میں مومن کا رزق زیادہ کیا جاتا ہے۔
اور یہ کنفرم بات ہے کہ سب لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ اس میں باوجود مہنگائی کے، لوگوں کو بہت اچھا ملتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ بہت اچھا کھلاتے ہیں۔
جس نے اس میں روزہ دار کو افطار کرایا، اس کو گناہوں سے بخشش اور دوزخ کی آگ سے نجات مل جاتی ہے۔ اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملتا ہے، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔
اب دیکھیے، کسی نے روزہ رکھا، پورا دن رکھا۔ اس کو ظاہر ہے مجاہدہ کرنا پڑا۔ لیکن کسی نے اس کو افطار کرایا تو اس کو بھی اتنے سارے مجاہدے کا ثواب کے برابر اجر مل گیا۔
ایک دفعہ ہم وہاں تھے، یعنی عمرہ پہ۔ تو محلہ شامیہ سے ہم جا رہے تھے، تو وہ ذرا Slope میں ہے، نیچے جا رہا ہے، تو بہت تیز تیز انسان جاتا ہے۔ مغرب کی اذان ہو رہی تھی، تو ایک عرب شیخ کھڑے تھے اور وہ جو ہے نا اپنے ساتھ تھیلی لی ہوئی تھی، اس میں تین تین کھجوریں اور زمزم کا پانی کا ایک چھوٹا بوتل۔ وہ سب کو دیے جا رہے تھے، دیے جا رہے تھے، دیے جا رہے تھے۔
میں نے سوچا، میں نے کہا یار یہ بڑا خوش قسمت آدمی ہے۔ اب دیکھو جتنے لوگوں نے اس سے افطاری لے لی ہے، اس نے اپنے روزوں کے برابر اجر ان کو دے دیا اور وہ روزہ کتنا ہے؟ ایک لاکھ روزوں کا اجر۔ مکہ مکرمہ میں! ایک لاکھ روزوں کے برابر تھا نا؟ اب اگر کسی نے سو آدمیوں کو دے دیا تو... ایک کروڑ روزوں کے برابر اس کو اجر مل گیا، تو کتنا بڑی Investment ہے۔
یہ بھی سوچ کی بات ہے نا۔ ہر ایک آدمی اپنی اپنی سوچ کے مطابق بات کرتا ہے، سوچتا ہے۔ تو یہ بھی ایک سوچ ہے کہ دیکھو ان کو یہ بات خیال آ گیا اور اللہ پاک نے اس کو یہ نعمت عطا فرمائی۔
ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! دیکھو صحابہ کرامؓ کی کیا حالت تھی۔ حرص کو دیکھیں اور حالت کو دیکھیں۔ ہم نے عرض کیا یا رسولِ خدا ﷺ! ہم میں ہر شخص ایسا نہیں ہے جو روزہ دار کو افطار کرانے کی گنجائش رکھتا ہو۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی عطا فرما دیتا ہے جو کہ روزہ دار کو دودھ کے ایک گھونٹ، یا کھجور، یا ایک پانی کے گھونٹ وغیرہ سے افطار کرا دے۔
مطلب کوئی لمبی چوڑی افطاری بات نہیں ہے۔ ہم لوگ تو افطاریاں کراتے ہیں نا، ایسی افطاریاں کراتے ہیں جس میں نمازوں میں بھی مسئلے پڑ جاتے ہیں۔ اور بعض دفعہ آنکھوں کی حفاظت میں بھی مسئلہ پڑ جاتا ہے۔ تو یہ صرف نمائشی افطاریاں ہیں۔ یہ نمائشی افطاریاں ہیں۔ اصل افطاری کیا ہے؟ بھئی آپ کسی بھی شخص کو، روزہ دار کو، آپ بس دے دیں، اس وقت کچھ دے دیں، اس سے پہلے دے دیں، اس سے افطار کریں، بس ماشاءاللہ آپ کی افطاری ہو گئی۔ اس کے لیے کچھ مزید کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو مطلب ایک روزہ دار کو ایک دودھ کا ایک گھونٹ پلا دے یا کھجور کھلا دے یا ایک پانی کے گھونٹ سے افطار کرا دے۔ اور جو شخص (مزید Promotion)، جو شخص روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے، اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض یعنی حوضِ کوثر سے سیراب کر دے گا۔ -سبحان اللہ- پھر اس کو جنت میں داخل ہونے تک پیاس ہی نہیں لگے گی۔ اور یہ معلوم ہوئی کہ جنت میں پیاس تو ہے ہی نہیں، لہٰذا یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا... اچھا، تو بس اس کے بعد تو اس کا مطلب ہے پیاس لگنی ہی نہیں۔
اور یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ یعنی عشرہ اولیٰ رحمت ہے اور درمیان اس کا مغفرت ہے اور آخری حصہ اس کا آگ سے آزادی ہے۔اور جس نے اس ماہ میں اپنی باندی، غلام سے بوجھ ہلکا کیا... یہ انسانی ہمدردی، ہاں جی! جس نے اپنے اس ماہ میں اپنی باندی غلام سے بوجھ ہلکا کر دیا یعنی اس کی خدمت لینے میں تخفیف کر دی، اس کو اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے اور دوزخ کی آگ سے آزاد کر دیتا ہے۔
ہاں جی! تو یہ بات میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ اب رمضان شریف آ رہا ہے اور یہ Chance ہر ایک کو مل رہا ہے۔ یہ نعمت ہر ایک کے نصیب میں ان شاءاللہ اللہ پاک نے لکھا ہوا ہے، جو مسلمان اس پر عمل کرے گا اس کو یہ چیز ملے گی۔
اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ ہمیں اس کے لیے نیت کرنی ہے۔ یہ تو ہے اس کا ایک Side اللہ کے دینے کا۔ اب ذرا تھوڑا سا، دیکھیں نا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ" اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے میں مزید نعمتیں دوں گا، بڑھاؤں گا ان کو اور اگر تم انکار کرو گے، ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔
تو یہاں پر یہ معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دینا چاہتا ہے، دینا چاہتا ہے، دینا چاہتا ہے، دینا چاہتا ہے۔ ہم لیتے رہیں، لیتے رہیں، لیتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی تھکاوٹ نہیں ہے۔ جتنا ہم لینا چاہیں ہم لے سکتے ہیں۔ ہاں، قانون اللہ پاک کا ہی ہو گا۔ آپ ﷺ کا طریقہ ہی ہو گا، اپنی طرف سے کوئی نئی چیز ہم نہیں بنا سکتے۔ جو طریقہ اللہ پاک نے آپ ﷺ کے ذریعے ہم تک پہنچایا ہے، اس طریقے پر ہم اللہ پاک سے لیتے رہیں، لیتے رہیں تو اللہ پاک کے ہاں کوئی تھکاوٹ نہیں ہے۔
لیکن اگر ہم نے ناقدری کی، تو پھر معاملہ سخت بھی ہے۔ کیسے؟ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے منبر پر چڑھتے وقت تین دفعہ "آمین" کہا۔ تین دفعہ "آمین" کہا۔ اب صرف صحابہ کرام (رضی اللہ عنہ) کو تو "آمین" ہی سنائی دے رہا تھا۔ تو صحابہ کرامؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے کوئی نئی بات کر لی، آپ نے تین دفعہ آمین کہا ہے، کیا بات تھی؟ فرمایا جبرائیل علیہ السلام آئے تھے، اس نے مجھ سے کہا تھا، تین بد دعائیں کیں، اس پر میں نے آمین کہا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آمین کہو، تو پھر میں نے آمین کہا۔
اب جبرائیل علیہ السلام اپنی طرف سے کچھ نہیں کر سکتا، یقین جانیے۔ فرشتہ جو ہے نا "يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ"، جو حکم ہوتا ہے وہی کرتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی سوچ ہوتی ہی نہیں۔ تو یہ کس نے کہا پھر؟ اللہ نے کہا۔ اب دیکھ لیں وہ دو تین بد دعائیں کیا ہیں۔
یا اللہ! اگر، مطلب یہ ہے کہ کسی پہ رمضان شریف کا مہینہ گزر گیا اور اس کی مغفرت اس کی وجہ سے نہیں ہوئی، تو اللہ اس کو تباہ و برباد کر لے۔ اور میں نے کہا "آمین"۔ اب اندازہ کر لیں۔ اب غفلت کی کوئی گنجائش ہے؟ اللہ معاف فرمائیں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے ہاں پتا ہی نہیں چلتا کہ رمضان بھی آیا یا نہیں آیا۔ کچھ پتا نہیں چلتا۔ روزے رکھنا تو دور کی بات ہے، احترامِ رمضان بھی نہیں۔ لوگوں کے سامنے کھاتے ہیں۔ یقین جانیں اللہ پاک کی غضب کو دعوت دینے والی بات ہے۔ اللہ کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ پاک نے یہاں ہمارا ٹینٹوا دبایا تو کچھ بھی نہیں کر سکتے ہم۔
لیکن یہ الگ بات ہے کہ اللہ پاک نے ہر چیز کا اپنا ایک طریقہ بنایا ہوا ہے۔ جس چیز کا فیصلہ یہاں کرنا ہوتا ہے وہ یہاں کر لیتے ہیں، جس چیز کا فیصلہ وہاں کرنا ہوتا ہے وہاں کر لیتے ہیں۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہ بہت ہی خطرناک بات ہے احترامِ رمضان نہ کرنا اور غفلت کا مظاہرہ کرنا، سخت دلی کی علامت ہے۔ یہ بہت خطرناک بات ہے۔
تو بہرحال ایک تو یہ بات ہے کہ رمضان شریف کے مہینے میں روزہ رکھنا جو ہے نا، یہ آپ یقین جانیے رمضان شریف کا ایک روزہ اگر آپ نے چھوڑا نا، آپ باقی ساری عمر نفلی روزے رکھتے جائیں اس تک نہیں پہنچ سکتے۔ ساری عمر! اگر نفلی روزے رکھتے جاؤ اس روزے تک نہیں پہنچ سکتے۔ تو اس وجہ سے یہ فرض روزے جو ہے نا کم از کم نہیں چھوڑنے چاہیے۔ اور اس میں یہ والی بات ضرور ہے کہ اس وقت موسم بھی اتنا زیادہ سخت نہیں ہے۔
میں بڑا حیران ہوتا ہوں، میں یہ پتھر کوٹنے والے نہیں ہوتے وہ جو سڑک... ان میں روزہ دار ہوتے ہیں۔ ان کا روزہ ہوتا ہے۔ لیکن Air condition میں بیٹھنے والوں کا روزہ نہیں ہوتا۔ شرم آنی چاہیے، نہیں آنی چاہیے؟ آخر ان کا روزہ کیوں ہوتا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں ہے؟ وہ انسان ہیں، ہم جیسے لوگ ہیں لیکن ان کو اللہ کا خوف ہے۔
ایک کیپٹن تھا جو ہے نا وہ جہاز کا، بحری جہاز کا، وہ مسلمان ہو گیا تھا۔ تو کسی نے اس سے کہا کہ آپ کیسے مسلمان ہوئے؟ اس نے کہا کہ میں Ship لے کے جا رہا تھا، سامان Unload ہو رہا تھا، اس میں ادھیڑ عمر کا ایک آدمی تھا، پسینے سے شرابور۔ مجھے اس پہ بڑا ترس آیا کیونکہ رمضان شریف کا مہینہ تھا تو میرا خیال تھا کہ ان کا بھی روزہ ہو گا۔ تو میں نے اس کو علیحدہ بعد میں بلایا، اپنے کیبن میں لایا، ان کو میں نے کہا کہ شربت میں نے Fridge سے نکال کے اس کو پیش کی کہ آپ لے لیں، آپ بوڑھے آدمی ہیں۔
وہ کہتے ہیں، عرب country ہو گی، اس نے کہتے "أین اللہ؟"، "أین اللہ؟" یعنی اللہ کدھر ہے، اللہ کدھر ہے؟ یعنی اگر آپ نے دروازہ بند بھی کر لیا تو یہ کیا مطلب ہے کہ میں روزہ کھا لوں گا؟ تو اس نے کہا دیکھو کوئی نہیں دیکھ رہا۔ انہوں نے کہا اللہ تو دیکھ رہا ہے نا، اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ بس اس کے بعد کہتے ہیں میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کوئی الگ بات ہے، یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ پھر میں نے Study کی، Study سے پتا چلا کہ اسلام ایک حقانی مذہب ہے اور پھر اللہ پاک نے اس کو اسلام کی دولت سے نوازا۔
تو یہ بات ہے کہ دیکھو مطلب وہ غریب تھا، Unloading کر رہا تھا، رمضان شریف کا مہینہ تھا، اس کو Offer بھی کی گئی تنہائی میں، لیکن نہیں، وہ اللہ سے ڈر رہا تھا۔ تو اس کی برکت سے اللہ پاک نے اس کو ایمان کی توفیق دے دی۔
تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں، رمضان شریف کا مہینہ آنے والا ہے، بہت اونچا مہینہ ہے، اس میں کچھ کر لو۔ اور یہ سب سے پہلے ضروری بات ہے کہ اپنے ایمان کو مستحکم کر لو۔ اللہ پاک سے ایمان کی سلامتی بہت مانگو۔
آج کل ایمان پہ بنی ہوئی ہے بات۔ ایمان کی سلامتی بہت مانگو اللہ تعالیٰ سے۔ پھر یہ اپنی سلامتی اور ملک کی سلامتی بہت زیادہ مانگو اللہ تعالیٰ سے، مسلمانوں کی اور پھر پورے عالم کی ہدایت۔ یہ ساری چیزیں ہمیں اللہ پاک سے مانگنی چاہیے، رمضان شریف میں ملا کرتی ہے۔ افطاری کی دعائیں ہیں، سحری کی دعائیں ہیں۔ یہ ہمیں کرنی چاہیے، اس پہ اللہ پاک بہت نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی۔وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ