ریاض الصالحین
درس نمبر 200، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ کھجور کا ٹکڑا صدقہ کرنے سے ہی کیوں نہ ہو۔
الْحَدِيثُ الثَّالِثُ وَالْعِشْرُونَ۔ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رضي الله تعالى عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا عَنْهُ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ۔ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ۔ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ۔ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ۔ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ۔
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا، میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے ہیں دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے سے ہو۔ دونوں کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اللہ تعالی ہم کلام ہوں گے، درمیان میں کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ ہر شخص دائیں جانب دیکھے گا تو اس کو اپنے اعمال نظر آئیں گے، اور بائیں جانب دیکھا تو اس کو اپنے اعمال دکھائی دیں گے، اور اپنے سامنے دیکھا تو اس کو دوزخ دکھائی دے گی۔ پس دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کے آدھے حصے سے صحیح ہو۔ اگر یہ میسر نہ آسکے تو بہتر بات کا صدقہ کرے۔
اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ۔ دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کا صدقہ کرنے سے ہو۔ اس حدیث میں ترغیب ہے کہ آدمی اپنے اور جہنم کے درمیان رکاوٹ قائم کرے صدقے کے ذریعے سے۔ اگر وہ زیادہ صدقہ نہیں دے سکتا تو ایک کھجور ہی دے۔ اگر یہ بھی ممکن نہیں تو مبالغہ تنقید، کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے کر جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ۔
لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ۔ اس کے اور اس کے اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں۔ اس میں انسان کو ڈرایا جا رہا ہے کہ گناہوں سے رک جاؤ۔ کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور اللہ کو جواب دینا ہوگا۔
فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ۔ ہر شخص دائیں جانب دیکھے گا تو اس کو اپنے اعمال نظر آئیں گے۔ اس طرح بائیں جانب دیکھے گا تو اس کو اپنے اعمال نظر آئیں گے۔ یہی مضمون قرآن کی اس آیت "وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا" میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن آدمی اپنے سامنے اپنے اعمال کو حاضر پائے گا۔
فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ۔ اگر کھجور کا ٹکڑا بھی نہ پائے تو اچھی بات کرے، اچھی اور بھلائی کی بات کرے۔ اس سے بھی آدمی جہنم سے بچے گا۔ یہی مضمون قرآن مجید کی آیت میں ملتا ہے۔
قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى۔
اللَّهُمَّ اهْدِنَا لِأَطْيَبِ الْكَلَامِ وَوَفِّقْنَا لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ۔
أَخْرَجَهُ صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَصَحِيحُ مُسْلِمٍ كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ وَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ۔
صدقے سے واقعی وہ بلائیں ٹلتی ہیں یہاں کی بھی اور وہاں کی بھی، یعنی مطلب وہاں عذاب ٹلتا ہے۔ تو اس وجہ سے صدقہ کرنا چاہیے، اور اگر کسی کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو پھر کچھ اچھی بات کرنی چاہیے۔ یہ بھی صدقہ ہے۔ جیسے کہ گزشتہ حدیثوں میں گزرا ہے کہ "سُبْحَانَ اللَّهِ" بھی صدقہ ہے، "الْحَمْدُ لِلَّهِ" بھی صدقہ ہے، "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ" بھی صدقہ ہے۔ "اللَّهُ أَكْبَرُ" کہنا بھی صدقہ ہے۔ تو اس کے بارے میں فرمایا گیا کہ انسان کے جسم کے تین سو ساٹھ جوڑ ہوتے ہیں، اور انسان کو چاہیے کہ وہ بھلے ہر جوڑ کا صدقہ یعنی مطلب کر لیا کرے۔ تو اس میں یہی بات ہے کہ اس کو مختلف طریقوں سے یہ صدقے کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔ ورنہ یہ کہ چاشت کی نماز جو ہے، ان سب کی تلافی کر لے گی۔
تو مطلب یہ ہے کہ انسان کو اعمال ایسے کرنے چاہییں جس سے وہاں کی تکالیف سے بچ جائے اور اللہ جل شانہ ہم سب سے راضی ہو جائے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ان تمام چیزوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔