ریاض الصالحین
درس نمبر 199، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
دودھ دینے والی بکری کو ہدیہ میں دینے کی فضیلت۔ اَلْحَدِيْثُ الثَّانِي وَالْعِشْرُوْنَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اللہ تعالی عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم: "أَرْبَعُوْنَ خَصْلَةً، أَعْلَاهَا مَنِيْحَةُ الْعَنْزِ، مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيْقَ مَوْعُوْدِهَا، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللّٰهُ بِهَا الْجَنَّةَ"۔ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔ اَلْمَنِيْحَةُ: أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهَا لِيَأْكُلَ لَبَنَهَا ثُمَّ يَرُدَّهَا إِلَيْهِ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "چالیس خصلتیں ہیں، ان میں سے اعلیٰ خصلت کسی کو عطیتاً دودھ دینے والی بکری دے دینا ہے۔" جو شخص انہی میں سے کسی ایک خصلت پر ثواب کی امید کرتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا جانتے ہوئے عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ منیحہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ شخص کسی کو بطور عطیہ دودھ کے لیے دے دے اور پھر وہ اسے واپس کر دے۔
خصلت بمعنی عادت، اچھی ہو یا بری، زیادہ استعمال اچھی عادت کے لیے ہے۔ جمع: خصال۔ منیحۃ بمعنی دودھ والا جانور کسی کو دینا تاکہ وہ دودھ پینے کے بعد اس کو واپس کر دے۔ اَلْعَنْزُ بِالْفَتْحِ بمعنی بکری، مادہ چکور، ہرن۔ جمع: عِنَازٌ، وَأَعْنُزٌ، وَعُنُوْزٌ۔
أَرْبَعُوْنَ خَصْلَةً: چالیس خصلتیں، مسند احمد کی روایت میں خَصْلَةٍ کی جگہ حَسَنَةٍ کا لفظ آیا ہے۔ اربعون، چالیس خصلتیں یعنی نیکیاں کون کون سی ہیں، اس کو علماء نے احادیث میں جمع کیا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں: کام کرنے والے کی مدد کرنا، جوتے کا تسمہ دینا، مسلمانوں کے عیوب کو چھپانا، مسلمانوں کی خوشی میں شامل ہونا، مجلس میں آنے والے کے لیے جگہ کشادہ کرنا، بھلائی کی طرف رہنمائی کرنا، درخت لگانا، کھیتی باڑی کرنا، نصیحت کرنا، رحم کرنا، سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا۔
أَعْلَاهَا مَنِيْحَةُ الْعَنْزِ: ان خصلتوں میں سب سے اعلیٰ خصلت یہ ہے کسی کو دودھ والی بکری دے دے۔ علامہ عبید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مَنِيْحَةٌ یہ عَظِيْمَةٌ کے وزن پر ہے۔ اس کے دو معنی آتے ہیں: کسی کو اس کی ضرورت کے وقت میں دودھ دینے والا جانور دے دے اور جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو اس کے مالک کو لوٹا دے۔ دوسرا یہ کہ دودھ دینے والا جانور مستقل ہدیہ دے، مگر زیادہ استعمال اول والے معنی میں ہوتا ہے۔
تَصْدِيْقَ مَوْعُوْدِهَا: اللہ کے وعدے کو سچا جانتے ہوئے، کہ اللہ اپنے وعدے میں سچے ہیں۔ وعدا اللّٰہ حقا، اور دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا، اللہ سے زیادہ کون سچا ہے۔ أَدْخَلَهُ اللّٰهُ بِهَا الْجَنَّةَ: تو اللہ نے اس شخص کے لیے جو جنت کا وعدہ کیا ہے، تو اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا فرمائیں گے۔
أَخْرَجَهُ صَحِيْحُ بُخَارِي، كِتَابُ الْهِبَةِ، بَابُ فَضْلِ الْمَنِيْحَةِ، وَأَحْمَدُ، وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَالْبَيْهَقِيُّ۔
تو اس میں گویا کہ لوگوں کی نفع رسانی کے لیے، چونکہ ہم نے کہا لیا گیا ہے نا، اور شروع بھی اسی سے ہوا ہے۔ تو یہ اس میں جو چالیس خصلتوں کا عبارت میں ذکر ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچانے میں، تو ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی کو ضرورت ہو دودھ کی تو اس کو دودھ والی بکری دے دی جائے تاکہ اس سے استفادہ کر لے، پھر بعد میں مالک کو لوٹا دے۔ تو یہ اچھی خصلت ہے، اس کے مقابلے میں بری خصلت ہے وہ قرآن پاک میں جو ہے، سورۂ ماعون میں آئی۔ مطلب یہ ہے کہ جو روزمرہ کے استعمال کی چیز کو بھی کوئی منع کر دے، کسی سے مانگ لی جائے اور وہ بھی نہ دے۔ تو یہ بری خصلت ہے، بخل کی قسم میں ہے۔ تو یہ سخاوت کی قسم ہے اور وہ بخل کی قسم ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں سخاوت نصیب فرمائے اور بخل سے بچائے۔