ریاض الصالحین
درس نمبر 198، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- نیکی اور ثواب کے حصول کی سچی تڑپ اور حرص۔
- مسجد کی طرف پیدل چل کر جانے اور ہر قدم پر ثواب ملنے کی فضیلت۔
- گھر جتنا مسجد سے دور ہو، قدموں کی کثرت کے باعث اجر میں اضافے کا بیان۔
- عمل کے ساتھ خالص نیت کی اہمیت اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامل اجر کی بشارت۔
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ، وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ ٱلنَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَانِ ٱلرَّجِيمِ، بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ۔
نیکی کی حرص کرنے کے بارے میں۔
اَلْحَدِيثُ ٱلْحَادِي وَٱلْعِشْرُونَ: عَنْ أَبِي ٱلْمُنْذِرِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ ٱللَّهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنَ ٱلْمَسْجِدِ مِنْهُ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ، فَقِيلَ لَهُ، أَوْ فَقُلْتُ لَهُ: لَوِ ٱشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي ٱلظَّلْمَاءِ وَفِي ٱلرَّمْضَاءِ، فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَىٰ جَنْبِ ٱلْمَسْجِدِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَىٰ أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ ٱللَّهِ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَمَعَ ٱللَّهُ لَكَ ذَٰلِكَ كُلَّهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ لَكَ مَا ٱحْتَسَبْتَ. ٱلرَّمْضَاءُ: ٱلْأَرْضُ ٱلَّتِي أَصَابَهَا ٱلْحَرُّ ٱلشَّدِيدُ.
حضرت ابی... ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کا گھر مسجد سے اتنا دور تھا کہ میرے علم میں کسی دوسرے انسان کا گھر اتنا دور نہیں تھا۔ اور اس کی کوئی نماز مسجد سے خطا نہ ہوتی۔ چنانچہ اسے کہا گیا، میں نے اس کو کہا کہ تو ایک گدھا خرید لے کہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آیا کرے۔ اس نے کہا، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا اور واپس گھر آنا، میرے نامۂ اعمال میں لکھا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیرے لیے اللہ پاک نے ان تمام چیزوں کو جمع کر دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ تجھے تیری نیت کے مطابق ثواب ملے گا۔
الرمضاء، یہ عربی میں تپتی ہوئی زمین کو کہتے ہیں۔ اور الظلماء، یہ تاریک، تاریکی، رات کا پہلا حصہ جو ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں۔
تو جتنا گھر مسجد سے دور ہوتا ہے، اتنا اس تک پہنچنے کا ثواب زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ قدم زیادہ پڑتے ہیں۔ تو اس حدیث شریف میں ترغیب ہے کہ آدمی کا گھر جہاں ہو، وہیں رہے۔ مسجد کی دوری سے نہ گھبرائے۔ یہ دوری بھی باعثِ ثواب بنتی ہے کہ گھر سے مسجد کی طرف جانا اور مسجد سے واپس گھر کی طرف آنا، ان سب میں اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر و ثواب ملتا ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں ارشاد... ارشادِ نبوی ہے: فَٱلْأَبْعَدُ فَٱلْأَبْعَدُ مِنَ ٱلْمَسْجِدِ أَعْظَمُ. مسجد میں، جس... مسجد میں جو جس قدر دور سے آتا ہے، اس کو اتنا ہی اجر ملتا ہے۔
اور ”فِي ٱلظَّلْمَاءِ“ اس سے رات والی نمازیں یعنی فجر اور عشاء، مغرب کی نمازیں مراد ہیں۔
اور فرمایا: قَدْ جَمَعَ ٱللَّهُ لَكَ ذَٰلِكَ كُلَّهُ. تیرے لیے اللہ پاک نے تمام چیزوں کو جمع کر دیا، یعنی تمہاری نیت بھی اچھی ہے اور ارادہ بھی صحیح ہے، اس لیے اس پر اللہ پاک کی طرف سے ثواب کامل ہوگا۔
صَحِيحُ مُسْلِمٍ، كِتَابُ ٱلْمَسَاجِدِ، بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ ٱلْخُطَا... ٱلْخُطَا إِلَى ٱلْمَسْجِدِ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَٱبْنُ مَاجَه. صَدَقَ ٱللَّهُ ٱلْعَلِيُّ ٱلْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ ٱلنَّبِيُّ ٱلْكَرِيمُ۔