ریاض الصالحین

درس نمبر 197، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • مسجد کی طرف جانے والے ہر قدم پر نیکی اور درجات کی بلندی۔
  • بنو سلمہ کی حدیث کی روشنی میں مساجد کے قریب اور دور رہنے والوں کے فضائل۔
  • صحابہ کرام رضي الله عنہم کا زیادہ ثواب کمانے کے لیے چھوٹے قدموں سے مسجد جانا۔
  • جدید دور میں گھر بناتے وقت مسجد سے دوری اختیار کرنے کا منفی رجحان۔
  • مساجد کے منتظمین کے لیے Loudspeakers کے درست استعمال اور عوام کی سہولت کی تلقین۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

مسجد کی طرف جانے میں ہر قدم پر نیکی ہے۔

الْحَدِيثُ الْعِشْرُونَ: عَنْهُ قَالَ: أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقَالَ لَهُمْ: «إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ». فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ. فَقَالَ: «يَا بَنِي سَلِمَةَ! دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: «إِنَّ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً». رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا بِمَعْنَاهُ مِنْ رِوَايَةِ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ. وَ"بَنُو سَلِمَةَ" بِكَسْرِ اللَّامِ، قَبِيلَةٌ مَعْرُوفَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رضی اللہ عنہم. وَ"آثَارُهُمْ" خُطَاهُمْ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو سلمہ قبیلہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، چنانچہ یہ خبر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم مسجد کے اتنے نزدیک انتقالِ آبادی کرنا چاہتے ہو۔“ انہوں نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ! ہم نے اس کا ارادہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! تم اپنے گھروں میں سکونت پذیر رہو، تمہارے قدموں کو لکھا جائے گا۔“

ایک روایت میں ہے کہ ہر قدم کے بدلے میں درجہ ہے۔ بخاری نے اس کو، اس کا مضمون حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔

بنو سلمہ لام کے زیر کے ساتھ انصار کا ایک مشہور قبیلہ ہے۔ آثار ان کے قدموں اور قدموں کے نشانات سے مراد ہے۔

اِنْتَقَلَ، اِنْتِقَال، نقل مکانی کرنا۔

تو علما فرماتے ہیں فضیلت تو زیادہ اسی گھر کی ہوگی جو مسجد سے زیادہ قریب ہو، کیونکہ جب مسجد پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو مسجد کے پڑوس والے بھی اس سے محروم نہیں ہوتے۔ جیسے کہ ایک روایت میں آتا ہے: فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِيبَةِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى الشَّاسِعَةِ كَفَضْلِ الْغَازِي عَلَى الْقَاعِدِ. مسجد سے جو گھر قریب ہے اس کی فضیلت دور والے گھر پر ایسی ہے جیسے غازی کو گھر پر بیٹھنے والے پر فضیلت حاصل ہے۔

مسجد سے قریب تو چند ہی گھر آباد ہو سکتے ہیں، باقی گھر مسجد سے دور ہی ہوں گے۔ اس لیے ان کی بھی تسکینِ خاطر کے لیے، ان کی بھی فضیلت حدیثِ بالا میں ارشاد فرمائی جا رہی ہے کہ جتنے قدم بھی رکھے گا اتنی نیکیاں ان کو ملیں گی۔ بعض روایات میں آتا ہے صحابہ کرام مسجد کی طرف جاتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے تھے تاکہ ثواب زیادہ ملے۔

ان کو اصل میں اس چیز کا بہت زیادہ وہ تھا، یعنی شوق تھا کہ ان کو زیادہ سے زیادہ نیکیاں ملیں۔ لہٰذا جو چیز بھی ان کو پتا چلتا کہ اس پر نیکیاں ملتی ہیں، تو وہ اس کی طرف قدم اٹھاتے۔ تو یہ بہرحال ہم لوگوں کے لیے بھی ایک Message ہے۔ کہ جس کا گھر قریب ہے تو وہ مسجد سے تنگ نہ ہو۔ آج کل ہم لوگ مسجد سے دور بھاگتے ہیں۔ تو جب گھر بناتے ہیں تو یہ بھی مطلب، پہلے Positive مطلب اس میں Points میں آتا تھا، اب بعض لوگوں کے Negative Points میں آتا ہے، کہ وہ کہتے ہیں کہ مسجد کے قریب نہ ہو۔ بعض Societies میں گھر... مسجدیں نہیں بنوائی جاتیں۔

تو یہ اصل میں ان کی غلط فہمی کی بنیاد پر ہے۔ اور دوسرا مسجد والوں کو بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو تنگ نہ کریں، تاکہ ان کی وجہ سے مسجدوں سے لوگ نفرت نہ کریں۔ مثلاً زور زور سے Loudspeakers پر بے وقت اس قسم کی باتیں، وہ کرنا... وہ ٹھیک نہیں ہے۔ جو لوگ... جو لوگ چاہتے ہیں ان کو سناؤ، جو لوگ نہیں چاہتے ان کو کیوں سناتے ہو؟ مطلب ہمارا کام تو یعنی ان کو سناؤ جو طالب ہوں۔ تو یہ بات ہماری طرف سے بھی ٹھیک ہونی چاہیے۔ البتہ مساجد کا احترام کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان نیکیوں کو کمانے کی توفیق عطا فرما دے۔