کھیتی باڑی اور شجر کاری: ایک عظیم صدقہ اور ثواب کا آسان ذریعہ
درس نمبر 196، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- شجر کاری اور کھیتی باڑی کی اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت اور فضیلت۔
- انسانوں، جانوروں اور پرندوں کے فصل یا درخت سے کھانے پر صدقے کا ثواب۔
- چوری ہو جانے یا نقصان ہونے کی صورت میں مالک کے لیے اجر و ثواب کی بشارت۔
- اعمال میں اجمالی نیت کا کردار (شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے)۔
- حضرت کاکاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ: توکل، سخاوت اور مخلوقِ خدا سے ہمدردی۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
کھیتی باڑی کرنا بھی صدقہ ہے
(135) ﴿التَّاسِعُ عَشَرَ: عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً، وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً“﴾ (رواه مسلم)
وفى رواية له: ”فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْساً، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.“
وَفِىْ رواية له: ”لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْساً، وَلَا يَزْرَعُ زَرْعاً، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً“ وروياه جميعاً من رواية انس رضى الله عنه.
ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی مسلمان درخت نہیں لگاتا مگر جو کچھ اس سے کھایا جاتا ہے صدقہ ہے۔ اور جو چیز اس سے چوری ہوجاتی ہے وہ اس کے لئے صدقہ و خیرات ہے۔
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ مسلمان جو درخت لگاتا ہے اس سے انسان، چوپائے، پرندے کھاجائیں قیامت تک اس کے لئے صدقہ ہے۔
اور ایک روایت میں ہے مسلمان جو درخت لگاتا ہے یا جو چیز کاشت کرتا ہے اس سے انسان، چوپائے یا کوئی اور چیز کھا جائے تو اس کے لئے صدقہ ہے۔ بخاری مسلم میں اس کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
سبحان اللہ۔
تشریح: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کسی مسلمان نے کوئی کھیتی یا درخت لگایا اس سے کوئی آدمی یا جانور چرند و پرند فائدہ اٹھاتے ہیں تو اس کا ثواب مالک کو ملتا ہے گویا اس حدیث شریف میں کھیتی کے مالک کو تسلی دی جارہی ہے کہ جو نقصان ہوا اس پر صبر کرو اس کے بدلہ میں تم کو ثواب ملے گا۔
یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ اس نے ثواب کی نیت اگر نہ کی ہو تو پھر ثواب کیسے؟ کیوں کہ۔۔۔
سوال: اعمال کا ثواب تو نیت پر موقوف ہے اور یہاں پر کھیتی کے مالک کی نیت تو نہیں ہوتی؟ جواب: اس کے جواب میں شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ کھیتی کرنے کا اصل مقصود نوع انسانی اور حیوانی کی خدمت ہے، حصول ثواب کے لئے اجمالی نیت کافی ہے مالک کو ثواب ملے گا اس کی اجمالی نیت سے (یعنی اس نے انسانی وحیوانی زندگی کی بقاء کی نیت کی ہے) اب اس کھیتی سے کوئی مسلمان فائدہ اٹھائے یا حیوان یا چرند و پرند یا جائز طریقہ سے فائدہ اٹھایا جائے یا ناجائز طریقہ سے یعنی چوری وغیرہ کے ذریعہ سے مگر اس کو اس کی اجمالی نیت کی وجہ سے ہر حال میں ثواب ملے گا۔
اگر کسی کو اس حدیث شریف کا پتا ہے، تو نیت ہی ہو گئی پھر۔ کیوں؟ جس کو بھی اس حدیث شریف کا پتا ہے اور وہ اس کو اس لیے کاشت کرتا ہے، تو ظاہر ہے پھر تو اس کو تو کم از کم پتا چل گیا، لہٰذا وہ اس کی نیت ہو گئی اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ویسے اگر کوئی کاشت کرے تو بہتر یہ ہے کہ پہلے سے نیت کر لیا کرے تاکہ درمیان میں کوئی اشتباہ ہی نہ رہے۔ سب کو دینے کی نیت کرلے کہ جس میں سے جو کھائے، جو استعمال کرلے، تو مطلب ٹھیک ہے وہ میری طرف سے صدقہ ہے۔
حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو، اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا بہت ذوق دیا تھا تو غلہ جمع کیا تھا غالباً اس کے لیے خانقاہ کے لیے، تو قحط آ گیا تھا تو لوگوں نے لوٹ لیا اس کو۔ تو شکایت کی گئی کہ حضرت وہ تو لوٹ لیا گیا، فرمایا: اسی لیے تو پڑا تھا اسی لیے تو پڑا تھا! ٹھیک کیا انہوں نے۔ مطلب خانقاہ میں بھی لوگ ہی آتے ہیں اور کھاتے ہیں نا، تو وہ بھی لوگ ہی ہیں، تو چلو بس ٹھیک ہے انہوں نے اپنا حصہ لے لیا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اچھی اچھی نیتیں کرنی چاہئیں، اس میں ہمارا اپنا فائدہ ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔