ریاض الصالحین

درس نمبر 195، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حدیث مبارکہ "كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ" (ہر اچھا کام صدقہ ہے) کی تشریح و توضیح۔
  • 'معروف' کا شرعی اور عقلی مفہوم (امام راغب اور ابن بطال کے اقوال کی روشنی میں)۔
  • صدقے کا وسیع تصور: صرف مال خرچ کرنا صدقہ نہیں، بلکہ ہر نیک قول اور فعل صدقہ ہے۔
  • نفل اور واجب صدقے کا فرق (جیسے صدقۃ الفطر کا واجب ہونا)۔
  • علمِ حدیث کے فنی اصول: 'متفق علیہ' حدیث کی تعریف اور سند و متن کے اختلاف کی وضاحت۔
  • صحابہ کرام اور تابعین کے ذریعے احادیث کی روایت اور اسناد کا طریقہ کار۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

ہر اچھا کام صدقہ ہے۔

الْحَدِيثُ الثَّامِنُ عَشَرَ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ رِوَايَةِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا، ہر اچھا کام صدقہ ہے۔ امام مسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔

معروف جو ہوتا ہے، وہ امام راغب فرماتے ہیں کہ معروف کہتے ہیں جس کو شرعاً اور عقلاً اچھا سمجھا جائے۔ اس حدیث پاک میں امر... کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ صدقے میں مال کا دینا ہی ضروری نہیں ہے، بلکہ ہر وہ نیکی جو کسی کے ساتھ کی جائے وہ ثواب کے اعتبار سے صدقہ ہے۔

ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ کوئی بھی عمل یا قول جو بھلائی کا ہو، ان سب پر صدقے کا ثواب ملتا ہے۔

نیز صدقہ اصل میں اس کو کہتے ہیں جو واجب نہ ہو۔ مگر کبھی کبھار صدقے کا اطلاق واجب پر بھی ہوتا ہے۔ جیسے فقہ کی کتابوں میں باب صدقۃ الفطر کا عنوان ہوتا ہے، حالانکہ صدقۃ الفطر واجب ہے نہ کہ نفل۔

مِنْ رِوَايَةِ حُذَيْفَةَ۔ یہاں سے مصنف نے متفق علیہ کا لفظ استعمال نہیں کیا، کیونکہ متفق علیہ کا لفظ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں پر بخاری مسلم سنداً متناً... متفق ہوں。 یہاں پر متن میں تو دونوں متفق ہیں مگر سند میں نہیں۔ کیونکہ بخاری کی روایت حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے اور مسلم کی روایت حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی گئی ہے۔

کوئی بھی بات آپ ﷺ سے کئی حضرات نے سنی ہوتی ہے۔ تو اس صورت میں جن جن نے سنی ہے وہ اپنی روایت کسی سے بھی بیان کر سکتے ہیں۔ تو کسی نے کس... تابعین میں سے کسی نے کس سے سنی ہوگی، کسی نے کس سے سنی ہوگی۔ تو ہر روایت اپنی اپنی... اپنی اپنی سند رکھتی ہے。

صحیح بخاری، کتاب الادب، باب كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ۔ وصحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ۔ وابو داؤد، واحمد، ومصنف ابن ابی شیبہ، وابن حبان، والطبرانی فی الصغیر۔ یہ اس کے... حدیث شریف کے حوالے ہیں۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ہر وہ نیک کام جو ہم کر سکتے ہیں، یعنی مطلب ہے کہ ہمارے وقت میں ہے اور ہو سکتا ہے، اللہ پاک ہمیں نصیب فرمائے۔ اور جو غلط کام ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے ان سے۔