صدقے کا وسیع مفہوم: ہر نیک کام ایک صدقہ ہے
درس نمبر 195، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- حدیث مبارکہ "كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ" (ہر اچھا کام صدقہ ہے) کی تشریح و توضیح۔
- 'معروف' کا شرعی اور عقلی مفہوم (امام راغب اور ابن بطال کے اقوال کی روشنی میں)۔
- صدقے کا وسیع تصور: صرف مال خرچ کرنا صدقہ نہیں، بلکہ ہر نیک قول اور فعل صدقہ ہے۔
- نفل اور واجب صدقے کا فرق (جیسے صدقۃ الفطر کا واجب ہونا)۔
- علمِ حدیث کے فنی اصول: 'متفق علیہ' حدیث کی تعریف اور سند و متن کے اختلاف کی وضاحت۔
- صحابہ کرام اور تابعین کے ذریعے احادیث کی روایت اور اسناد کا طریقہ کار۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
ہر اچھا کام صدقہ ہے
(134) ﴿الثَّامِنُ عَشَرَ: ”عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”كُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَةٌ“﴾ (رواه البخاري) ورواه مسلم من رواية حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ.
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہر اچھا کام صدقہ ہے۔ امام مسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
تشریح: امام راغب فرماتے ہیں کہ ”معروف“ کہتے ہیں کہ جس کو شرعاً اور عقلاً اچھا سمجھا جائے۔ اس حدیث پاک میں اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ صدقہ میں مال کا دینا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر وہ نیکی جو کسی کے ساتھ کی جائے وہ ثواب کے اعتبار سے صدقہ ہے۔ ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ کوئی بھی عمل یا قول جو بھلائی کا ہو ان سب پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔
نیز صدقہ اصل میں اس کو کہتے ہیں جو واجب نہ ہو مگر کبھی کبھار صدقہ کا اطلاق واجب پر بھی ہوتا ہے۔ جیسے فقہ کی کتابوں میں باب صدقۃ الفطر کا عنوان ہوتا ہے، حالانکہ صدقۃ الفطر واجب ہے نہ کہ نفل۔
من رواية حذيفة: یہاں مصنف نے متفق علیہ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ متفق علیہ کا لفظ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں پر بخاری ومسلم سنداً و متناً متفق ہوں یہاں پر متن میں تو دونوں متفق ہیں مگر سند میں نہیں کیونکہ بخاری میں یہ روایت حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور مسلم میں یہ روایت حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی گئی ہے۔
کوئی بھی بات آپ ﷺ سے کئی حضرات نے سنی ہوتی ہے۔ تو اس صورت میں جن جن نے سنی ہے وہ اپنی روایت کسی سے بھی بیان کر سکتے ہیں۔ تو تابعین میں سے کسی نے کس سے سنی ہوگی، کسی نے کس سے سنی ہوگی۔ تو ہر روایت اپنی اپنی سند رکھتی ہے.
تخريج حديث: صحيح بخارى كتاب الادب (باب كل معروف صدقة)، و صحيح مسلم كتاب الزكوة (باب ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف)، و أبوداؤد و أحمد ٢٣٤٣٠/٩ و مصنف ابن شيبة ٥٤٨/٨۔ و ابن حبان و الطبراني في الصغير ٦٧٢۔
یہ اس حدیث شریف کے حوالے ہیں۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ہر وہ نیک کام جو ہم کر سکتے ہیں، یعنی مطلب ہے کہ ہمارے وقت میں ہے اور ہو سکتا ہے، اللہ پاک ہمیں نصیب فرمائے۔ اور جو غلط کام ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے ان سے۔