محافظتِ اعمال اور خشوعِ قلب: قرآنی تعلیمات کی روشنی میں

درس نمبر 220 جلد 1، باب 15: بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اعمال کی محافظت کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی یاد اور حق کی طرف سے نازل شدہ قرآن کو سن کر مومنوں کے دل نرم ہو جائیں۔
  2. مدینہ منورہ پہنچنے پر معاشی سہولتیں اور آرام ملنے کے سبب جب صحابہ کرام کے اعمال میں سستی آئی تو یہ آیت نازل ہوئی۔
  3. خشوعِ قلب سے مراد دل کا نرم ہونا ہے اور یہ سب سے پہلی چیز ہے جو لوگوں کے دلوں سے اٹھائی جائے گی۔
  4. قرآن کے لیے خشوع یہ ہے کہ انسان بغیر کسی سستی اور کمزوری کے اس کے احکام کی مکمل اطاعت کے لیے تیار ہو جائے۔
  5. مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی طرح نہیں ہونا چاہیے جن پر طویل مدت گزرنے سے دل سخت ہو گئے اور انہوں نے اللہ کا حکم پورا نہیں کیا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

(15) بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ

اعمال کی محافظت کرنے کا بیان

قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ﴾ (حدید: ١٦) ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”کیا ابھی تک مؤمنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو خدائے (برحق کی) طرف سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہو جائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں پھر ان پر زمانہ طویل ہو گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے۔“

شانِ نزول

علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں کے دلوں میں اللہ جل شانہ نے کچھ سستی محسوس کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی. علامہ آلوسیؒ نے امام اعمشؒ کا قول نقل کیا ہے کہ صحابہ جب مدینہ طیبہ پہنچے تو معاشی سہولتیں اور کچھ آرام ملا تو اعمال میں کچھ سستی آئی اس میں یہ آیت نازل ہوئی. یہ آیت نزول قرآن سے 13 سال بعد نازل ہوئی ہے۔

تشریح: اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ: خشوع قلب سے مراد دل کا نرم ہونا ہے۔ قرآن کے لئے خشوع یہ ہے کہ اس کے احکام اور اوامر ونواہی کی مکمل اطاعت کے لئے تیار ہو جائے اور اس پر عمل کرنے میں کسی سستی اور کمزوری کو راہ نہ دے۔ سب سے پہلی چیز جو لوگوں کے دل سے اٹھائی جائے گی وہ خشوع ہے۔

وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ: ”ما نزل“ سے مراد قرآن مجید ہے۔ كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ: اس سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْاَمَدُ: اس سے مراد وہ طویل مدت جو انبیاء اور ان کی اُمتوں کے درمیان گزری، یا کفر و معاصی میں گزری ہوئی طویل عمر۔ کہا جارہا ہے کہ یہود و نصاریٰ نے اللہ کے حکم کو پورا نہیں کیا اسی طرح کہیں مسلمان بھی نہ ہو جائیں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی چیزوں سے محفوظ فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

محافظتِ اعمال اور خشوعِ قلب: قرآنی تعلیمات کی روشنی میں - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور