ایمانی کیفیات کا اتار چڑھاؤ اور دین و دنیا کا حسین توازن

درس نمبر 218 جلد 1، باب 14: باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، حدیث نمبر: 151

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. انسانی احوال بدلتے رہتے ہیں اس لیے انسان کی اصل توجہ کیفیات کے بجائے ہمیشہ اپنے عمل پر ہونی چاہیے۔
  2. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جنت اور دوزخ کا ذکر سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا انسان تمام حال آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔
  3. بیوی بچوں اور مال میں مشغول ہونے سے اس کیفیت میں آنے والی کمی کو حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے نفاق سمجھا۔
  4. اگر انسان ہمیشہ اللہ کے ذکر اور فکرِ آخرت پر قائم رہے تو فرشتے اس سے بستروں اور راستوں میں مصافحہ کریں۔
  5. انسان پر کبھی ذکر و فکر کی کیفیت غالب ہوتی ہے اور کبھی دنیاوی مصروفیات، اس لیے دونوں کے لیے الگ الگ وقت ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنے آپ کو منافق کہنا

(151) ﴿وَ عَنْ اَبِيْ رِبْعِيٍّ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيْعِ الْاُسَيِّدِيِّ الْكَاتِبِ اَحَدِ كُتَّابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: لَقِيَنِيْ اَبُوْبَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَيْفَ اَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ! قَالَ سُبْحَانَ اللّٰهِ مَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ: نَكُوْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ كَاَنَّا رَاْىَ عَيْنٍ فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَافَسْنَا الْاَزْوَاجَ وَالْاَوْلَادَ وَ الضَّيْعَاتِ نَسِيْنَا كَثِيْرًا، قَالَ اَبُوْبَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهِ عَنْهُ: فَوَ اللّٰهِ اِنَّا لَنَلْقٰى مِثْلَ هٰذَا، فَانْطَلَقْتُ اَنَا وَ اَبُوْبَكْرٍ حَتّٰى دَخَلْنَا عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: وَ مَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ نَكُوْنُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَ الْجَنَّةِ كَاَنَّا رَاْىَ الْعَيْنِ فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْاَزْوَاجَ وَالْاَوْلَادَ وَ الضَّيْعَاتِ نَسِيْنَا كَثِيْرًا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَوْ تَدُوْمُوْنَ عَلٰى مَا تَكُوْنُوْنَ عِنْدِيْ وَ فِى الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلٰى فُرُشِكُمْ وَ فِىْ طُرُقِكُمْ وَ لٰكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَ سَاعَةً“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ: ”حضرت حنظلہ بن ربیع اسیدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتب سے روایت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے کاتبوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے اور پوچھا کہ اے حنظلہ تیرا کیا حال ہے؟ میں نے کہا حنظلہ تو منافق ہو گیا۔ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سبحان اللہ! تعجب ہے تو کیسی بات کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا کہ جب ہم حضور پاک ﷺ کے پاس رہتے ہیں، آپ ﷺ ہمیں جنت اور دوزخ کا ذکر سناتے ہیں تو گویا ہم آنکھوں سے تمام حال کو دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے نکلتے ہیں، بیویوں اور اولاد اور جاگیروں میں مشغول ہوتے ہیں تو ہم بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم! ہم بھی تو یہی کیفیت پاتے ہیں۔ پس میں اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ حنظلہ منافق ہو گیا، آپ ﷺ فرماتے ہیں کس لئے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں آپ ہمیں جنت اور جہنم کا ذکر سناتے ہیں گویا کہ ہم تمام حال آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن جب آپ کی مجلس سے باہر نکلتے ہیں بیوی بچوں اور اپنے مال میں مشغول ہوتے ہیں تو ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم ہمیشہ اسی حالت پر رہو جو حالت تمہاری میرے پاس تھی اور اللہ کے ذکر میں مصروف رہو تو فرشتے تم سے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں مصافحہ کریں لیکن حنظلہ کوئی وقت کیسا ہوتا ہے کوئی وقت کیسا، اس بات کو آپ ﷺ نے تین بار دہرایا۔“

تخريج حديث: صحيح مسلم كتاب التوبة (باب فضل دوام الذكر) و الترمذى و ابن ماجه ايضاً.

اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی فکر آخرت کی نصیب فرما دے۔ اور۔ جیسے کہ فرمایا گیا ہے کہ۔ اس طرح تو کبھی کبھی ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں اصل چیز جو عمل ہے، اس کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور یہ احوال ہیں، احوال بدلتے رہتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو جائے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔

ایمانی کیفیات کا اتار چڑھاؤ اور دین و دنیا کا حسین توازن - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور