اجتماعی عبادات میں اعتدال کی اہمیت، مقتدیوں کی رعایت اور فقاہت کا تقاضا
درس نمبر 213 جلد 1، باب 14: باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، حدیث نمبر: 148
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نماز اور خطبہ دونوں میں اعتدال اختیار کرنا ضروری ہے۔
- جمعہ کا خطبہ مختصر ہونا چاہیے اور اس کو طوال مفصل کی مقدار سے زیادہ لمبا کرنا مکروہ ہے۔
- خطبے کے مقابلے میں نماز کا طویل ہونا انسان کے فقیہ ہونے کی علامت ہے، بشرطیکہ وہ مقتدیوں پر شاق نہ گزرے۔
- انفرادی نماز کو طویل کرنا بہتر ہے، جبکہ اجتماعی نمازوں میں مقتدیوں کے مختلف احوال کا خیال رکھتے ہوئے اختصار کرنا چاہیے۔
- امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اجتماعی عبادات کو مشقت کا باعث نہ بنائے تاکہ وہ لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
آپ ﷺ کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتا تھا
(148) ﴿وَ عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللّٰهِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ اُصَلِّيْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الصَّلَوَاتِ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَ خُطْبَتُهُ قَصْدًا﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) قَوْلُهُ: ”قَصْدًا“: اَیْ بَیْنَ الطُّوْلِ وَالْقَصَرِ.
ترجمہ: ”حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھا کرتا تھا چنانچہ آپ کی نماز اور آپ کا خطبہ درمیانہ ہوتا۔“
تشریح: خطبہ کے لئے سنت یہ ہے کہ مختصر کیا جائے اور اس کی حد علامہ شامی وغیرہ نے طوال مفصل کی سورتوں کی مقدار لکھی ہے اس سے زیادہ لمبا کرنا مکروہ ہے۔
سوال: حدیث بالا میں ہے کہ نماز اور خطبہ دونوں برابر ہو اور ایک روایت جو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ طُوْلَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَ قَصْرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَاَطِيْلُوا الصَّلٰوةَ وَاَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ. لمبی نماز پڑھنا اور مختصر خطبہ پڑھنا آدمی کے فقیہ ہونے کی علامت ہے لہٰذا تم نماز کو طویل کرو اور خطبہ کو مختصر کرو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز طویل ہو اور خطبہ مختصر ہو۔
جواب: اس کا جواب علامہ نوویؒ شرح مسلم میں یہ فرماتے ہیں: وَ لَیْسَ هٰذَا الْحَدِیْثُ مُخَالِفًا لِّلْاَحَادِیْثِ الْمَشْهُوْرَةِ فِی الْاَمْرِ بِتَخْفِیْفِ الصَّلٰوةِ لِقَوْلِهِ فِی الرِّوَایَةِ الْاُخْرٰی کَانَتْ صَلٰوتُه قَصْدًا وَ خُطْبَتُه قَصْدًا لِّاَنَّ الْمُرَادَ بِالْحَدِیْثِ الَّذِیْ نَحْنُ فِیْهِ اَیْ حَدِیْثِ عَمَّارٍ اَنَّ الصَّلَاةَ تَکُوْنُ طَوِیْلَةً بِالنِّسْبَةِ اِلَی الْخُطْبَةِ لَا تَطْوِیْلًا یَّشُقُّ عَلَی الْمَاْمُوْمِیْنَ وَ هِیَ حِیْنَئِذٍ قَصْدٌ اَیْ مُعْتَدِلَةٌ وَالْخُطْبَةُ قَصْدٌ بِالنِّسْبَةِ اِلٰی وَضْعِهَا.
تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الجمعة (باب تخفيف الصلوة والخطبة).
یہاں پر ایک بات جو کہ بہت اہم ہے جو سمجھ میں آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جو اجتماعی اعمال ہوتے ہیں نا، اجتماعی اعمال۔ ان میں اعتدال ضروری ہے۔ اور انفرادی اعمال میں جو انسان کی حالت ہوتی ہے یعنی اگر وقت ہو تو طویل نماز زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کی طرف توجہ بڑھتی ہے۔ ہاں البتہ اگر کسل اس سے آ جائے تو پھر اس کو بھی اتنا کر لے کہ کسل نہ آئے۔ بہرحال اس سے پہلے میں نے اس کے بارے میں بھی آیا ہے کہ اگر انسان کو نیند آ رہی ہو یا کوئی اس طرح تو اس وقت مطلب مختصر کرے۔ تو ایک تو یہ بات ہے۔
اب جیسے ایک دفعہ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے سورۂ بقرہ نماز میں شروع کی، اس میں عشاء کی نماز میں۔ تو ایک صحابی تھے جو مزدور تھے۔ تو وہ ظاہر ہے پورے دن کی تھکاوٹ تھی۔ تو ان سے رہا نہیں گیا تو انہوں نے نماز یعنی توڑ دی اور اپنی نماز پڑھ کے چلے گئے۔ اس کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو مزدور آدمی ہوں، تھکاوٹ ہوتی ہے، تو یہ انہوں نے پھر ایسا کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کچھ نہیں کہا، بلکہ اس امام کو کہا کہ کیا تم فتنہ بننا چاہتے ہو؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی امور میں مقتدیوں کا، یعنی جن کے ساتھ واسطہ ہوتا ہے، ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ ہر قسم کے ہوتے ہیں، مطلب مختلف احوال کے لوگ ہوتے ہیں۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم لوگ کتنے بگڑ گئے ہیں، کتنے بگڑ گئے ہیں۔ یعنی ہم لوگ، مطلب یہ احادیث شریف میرے خیال میں جو علماء ہیں کم از کم ان کے سامنے تو گزر چکی ہوتی ہیں۔ یہ ساری احادیث شریف گزر چکی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے انہوں نے احادیث شریف ہی پڑھی ہوتی ہیں اخیر میں۔ لیکن سخت گرمی میں جمعہ کی نماز، بعض دفعہ امام تو ایئر کنڈیشن میں ہوتا ہے یا پنکھے کے نیچے ہوتا ہے اور بعض لوگ دھوپ میں ہوتے ہیں۔ یہ ہوتا ہے، ہر مسجد میں تو سایہ نہیں ہوتا۔ اور چونکہ زیادہ لوگ ہوتے ہیں تو کچھ باہر کھڑے ہوتے ہیں، تو مطلب دھوپ میں ہوتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں وہ لمبی نماز، میں حیران ہوں کہ وہ کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ کیا وہ پیچھے نہیں دیکھتے کہ مطلب ان کی حالت کیا ہے؟ اور لمبی سورت شروع کر لیں گے۔ اور وہ بھی قراءت کے ساتھ، ترتیل والی نماز نہیں ہو گی وہ قراءت کے ساتھ جیسے انسان سپیکر پر قراءت کرتا ہے نا اس طرح نماز پڑھائیں گے۔ تو یہ بے حسی کی بات ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو جب بچوں کی آواز شور سنتے تھے تو اپنی نماز کو مختصر کر لیتے تھے۔ دوسروں کا خیال ہوتا تھا۔
تو یہاں پر ہمارے ایک امام صاحب تھے، وہ بہت طویل نماز پڑھاتے تھے جماعات کی۔ تو میں ایک دفعہ سنتیں پڑھنے کے لیے اندر چلا جاتا تھا۔ تو میں specially اندر گیا اور میں نے دیکھا کہ سنتیں کتنی دیر میں پڑھتے ہیں۔ کہ آیا اتنی جتنی دیر میں جماعت پڑھتی ہے اتنی دیر میں سنتیں پڑھتے ہیں یا اس پہ بہت، تو اس پہ اتنا وقت نہیں لگاتا۔ یعنی اپنی انفرادی نماز میں کم وقت لگایا اور اپنی اجتماعی نماز میں زیادہ وقت، یہ بالکل الٹی ترتیب ہے۔ انفرادی ترتیب میں زیادہ لمبی نماز ہونی چاہیے۔ اور اجتماعی نماز مختصر ہونی چاہیے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ میں جا رہا تھا رؤیت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے۔ چونکہ میں اعتکاف میں تھا اور مجھے پتا تھا کہ چاند نظر آ جائے گا۔ تو لہٰذا رسک میں نے لے لیا۔ اور وہ جیسے مسجد کے اندر افطار کر لیا تو میں پھر باہر چلا گیا اور گاڑی میرے لیے تیار کھڑی تھی۔ اور پھر میں ظاہرے نماز میں نے کہا راستے میں پڑھوں گا۔ تو یہ رمضان شریف میں مغرب کی نماز کے لیے انتظار تو ہوتا ہے۔ تو میں نے کہا اتنی دیر میں میں کافی فاصلہ طے کر لوں گا اور ایسا ہی ہوا۔ یہ شارع فیصل پہ میں پہنچ گیا تھا۔ تو وہاں پہنچ گیا تو میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ مینار نظر آ جائے تاکہ وہاں نماز کے لیے جاؤں، تو ایک جگہ مینار نظر آیا تو میں چلا گیا، پہنچ گیا تو نماز میں پہنچ گیا۔ لیکن وہ صاحب تھے پتا نہیں اکیس مرتبہ اس نے سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پڑھا یا پتا نہیں کتنی دفعہ پڑھا۔ میں حیران تھا، میں نے کہا یا اللہ! ان کو بس سمجھ عطا فرما دے۔ فقاہت نصیب فرما دے۔ تو جس وقت میں ادھر پہنچا تو اجلاس تقریباً ٹائم ختم ہونے کو تھا کیونکہ وہ اعلان شروع ہونے والا تھا۔ تو جیسے میں گیا تو چیئرمین نے کہا ماشاء اللہ شبیر صاحب بھی آ گئے۔
تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس قسم کی باتیں ٹھیک نہیں ہیں۔ اجتماعی کاموں میں لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ جائز حد تک۔ ایسا نہ ہو کہ مطلب نماز ہی نہ ہو۔ لیکن یہ بات ہے کہ جائز حد تک جتنا مطلب گنجائش ہے اس گنجائش کو دیکھنا چاہیے جیسے یہاں پر تطبیق کی ہے۔ حضرت علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے جو تطبیق کی ہے۔ کہ اس میں یہ نہیں ہے، مطلب یہ صرف خطبہ کے مقابلے میں نماز طویل ہو، لیکن ویسے عام طور پر معتدل ہو۔ عام طور پر، عام طور پر معتدل ہو۔
خیر ہم لوگ تو عجمی ہیں نا تو ہم تو اردو میں بیان کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد خطبہ عربی میں پڑھتے ہیں، وہ مختصر ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اس پہ وہ بات نہیں آتی۔ وہ تقریباً خیر ہمارا خطبہ بھی تو میرے خیال میں خطبہ کے رنگ میں تو نہیں ہوتا۔ وہ تو ترنم سے پڑھنے والی چیز ہوتی ہے۔ خطبہ کے احکام کچھ ایسے ہیں، مطلب خطبہ اس طرح پڑھا جاتا ہے جیسے ہم لوگ پڑھتے ہیں۔ یہ تو خطبے کا انداز نہیں ہے۔ لیکن بہرحال ٹائم اس پر اتنا نہیں لگتا۔ تو اس وجہ سے یہ مسئلہ تو نہیں ہوتا لیکن ہمارے عرب حضرات جو ہیں نا وہ اس میں مسئلہ کرتے ہیں وہ خطبہ بہت طویل دیتے ہیں۔ جیسے حرمین شریفین میں ہوتا ہے۔ اور نماز تو اتنی زیادہ لمبی نہیں ہوتی۔ بلکہ حج کے ایام میں تو وہ چھوٹی سورتیں وہ پڑھ لیتے ہیں۔ تو مطلب ظاہر ہے لیکن خطبہ اس وقت سب سے لمبا ہوتا ہے۔ تو میں وہاں جرمنی میں عربوں کے ساتھ تھا تو میں ان کو کہتا تھا کہ تم لوگوں میں فقاہت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں کہ، میں نے کہا یہ روایت ہے دیکھو نا کہ جن کا خطبہ لمبا ہو نماز سے تو وہ ان میں فقاہت نہیں ہے۔