دینِ فطرت اور عبادات میں میانہ روی کی اہمیت
درس نمبر 210، جلد 1، باب 14: باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، حدیث نمبر: 145
- دینِ اسلام ایک دینِ فطرت اور سراسر آسان مذہب ہے، جس میں تشدد اختیار کرنے والا مغلوب ہو جاتا ہے۔
- انسانی جسم کے physical اسباب اور requirements کو پورا کرنا ضروری ہے تاکہ آخرت کی تیاری کے لیے اس سے بہترین کام لیا جا سکے۔
- دین میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے تاکہ نہ تو جسم پر حد سے زیادہ بوجھ پڑے اور نہ ہی انسان بالکل relax ہو کر کام چھوڑ دے۔
- فرائض کو اللہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقررہ طریقوں پر ادا کرنا لازم ہے، جبکہ نفلی عبادت تازہ دم اوقات میں کرنی چاہیے۔
- نوافل میں اختیار کو صحیح استعمال کرتے ہوئے اتنے ہی اعمال کرنے چاہئیں جنہیں انسان دائمی طور پر انجام دے سکے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
دین کو اپنے عمل کے ذریعہ ہیبت ناک نہ بناؤ
(145) ﴿وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”اِنَّ الدِّيْنَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّيْنَ اِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاَبْشِرُوْا وَاسْتَعِيْنُوْا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ“﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ: سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ: اَلْقَصْدَ اَلْقَصْدَ تَبْلُغُوْا.
قَوْلُهُ ”اَلدِّیْنَ“ هُوَ مَرْفُوْعٌ عَلٰی مَا لَمْ یُسَمَّ فَاعِلُهُ. وَ رُوِیَ مَنْصُوْبًا وَ رُوِیَ: ”لَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ اَحَدٌ“
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین آسان ہے اور جو شخص دین میں تشدد اختیار کرتا ہے مغلوب ہوجاتا ہے، پس سیدھا راستہ اختیار کرو اور میانہ روی اختیار کرو، اور خوش ہوجاؤ صبح اور شام کے وقت اور رات کے کچھ حصہ میں عبادت کرنے پر مدد مانگو۔“
اصل میں جو ہمارا دین ہے نا، یہ دینِ فطرت ہے۔ دینِ فطرت کا مطلب کیا ہے؟ دینِ فطرت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے ہمیں بنایا ہے نا ہمارا جسم۔ تو اس کے اندر اللہ پاک نے physical اسباب رکھے ہوئے ہیں تمام عوامل کو جاری رکھنے کے لیے، مثلاً ہمارا دل چل رہا ہے، ہمارا دماغ سوچ رہا ہے، ہمارے پٹھے ہیں، ہمارے گوشت ہے، ہڈی ہے، ہر چیز کا اپنا اپنا ایک نظام ہے۔ وہ سب چل رہا ہے۔ تو اس میں ہر چیز کی اپنی ایک requirement ہوتی ہے۔ اور ہر چیز کا اپنا ایک فائدہ ہوتا ہے۔ تو فطرتاً ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی requirement کو پوری کرنی چاہیے اور اس سے وہ فائدہ لینا چاہیے۔
اب فائدہ کیا ہے؟ کہ ہم آخرت کے لیے تیاری کریں۔ یعنی وہ اعمال کریں جو آخرت میں ہمیں چاہئیں، فائدہ چاہیے اس کا۔ اور requirement یہ ہے کہ ظاہر ہے اس کو کھانے کی ضرورت ہے۔ پینے کی ضرورت ہے۔ آرام کی ضرورت ہے۔ بیمار ہو تو علاج کی ضرورت ہے۔ یہ requirements ہیں مطلب یہ ہمیں کرنی پڑیں گی۔ کیوں؟ اللہ پاک نے اس کے اسباب بنائے ہوئے ہیں، اس کے حساب سے بنایا ہوا ہے۔ دیکھو نا اللہ پاک ایک الان میں بھی ساری کائنات کو بنا سکتا تھا۔ لیکن چھ دن میں بنایا۔ تو ظاہر ہے دکھایا ہے کہ اس طریقے سے سارے کام باقاعدہ اسباب کے تحت ہوتے ہیں۔
تو بہرحال یہ ہے کہ اس میں پھر چونکہ ساری چیزیں اللہ تعالی کے سامنے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ پاک کی منشا کو جاننے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح تیار فرمایا کہ ان اسباب کو ہم اختیار کر دیں جس سے ہم اپنے جسم سے بہترین کام لے سکتے ہیں۔ اب اگر آپ بہت زیادہ کاوش کریں گے، اپنے جسم پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالیں گے، تو یہ بیٹھ جائے گا۔ جو کام اس سے لینا چاہتے ہیں، لینا چاہیں گے، وہ نہیں لے سکیں گے۔ ایک دو دن تو کر لیں گے، اس کے بعد تو پھر نہیں چل سکیں گے نا۔ تو اس طرح نہیں کرنا بلکہ طریقے سے چلنا ہے۔ جس سے سارا کام ہوتا رہے۔ تو اس سے مراد یہی ہے میانہ روی سے کہ میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، نہ اتنا تشدد کرنا چاہیے کہ جس سے آپ بیٹھ جائیں۔ اور نہ اتنا زیادہ relax کرنا چاہیے کہ آپ کام ہی نہ کر سکیں۔ ہمت ہی نہ کر سکیں۔ تو دونوں چیزوں کے درمیان۔ یہ والی بات ہے۔ تو فرمایا:
ترجمہ: پس سیدھا راستہ اختیار کرو اور میانہ روی اختیار کرو، اور خوش ہوجاؤ صبح اور شام کے وقت اور رات کے کچھ حصہ میں عبادت کرنے پر مدد مانگو۔“ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ سیدھے راہ پر چلو، میانہ روی اختیار کرو، صبح و شام اور رات کے وقتوں میں مدد طلب کرو، میان روی اختیار کرو تم اپنا مقصد حاصل کرلو گے۔
اس سے پتا چلا کہ
دین سراسر آسان ہے
اِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ: دوسری روایت میں اِنَّ هٰذَا الدِّیْنَ یُسْرٌ: بھی آتا ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں بھی آتا ہے ”يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ“ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے۔ ایک اور جگہ ارشادِ خداوندی ہے "وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ" تمہارے دین میں حرج نہیں ہے۔ دین محمدیہ ﷺ میں بنسبت دوسرے مذاہب کے بہت آسانی ہے جس کا قرآن وحدیث میں بارہا بار ذکر ہے۔ دین اسلام ایک فطری مذہب ہے۔
دین غالب آجاتا ہے
”لن یشاد الدین الا غلبہ“ جو دین میں تشدد اختیار کرتا ہے وہ مغلوب ہوجاتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں ”لن یشاد الدین احد الا غلبہ“ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ علامہ ابن المنیرؒ فرماتے ہیں جس نے دین میں شدت اختیار کی آخر کار وہ دین کو چھوڑ بیٹھا اور یہ مطلب نہیں کہ عبادت میں کمی کی جائے یہ تو محمود ہے،
شریعت میں منع یہ ہے کہ تطوع میں
اتنے تطوع مطلب جو نفلی اعمال میں،
اتنے مبالغہ سے کام لیا جائے کہ آدمی تھک کر بیٹھ جائے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے اوپر غیر واجب چیزوں کو واجب کرلیتا ہے تو چند دنوں کے بعد وہ زائد واجب کی ادائیگی سے عاجز ہوجاتا ہے اور دین غالب ہوجاتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ انسان اگر اپنے اوپر زیادہ بوجھ ڈالے گا تو بہت جلدی اس کو واپس آنا پڑے گا۔ اپنی اس لائن کی طرف جتنا وہ کر سکتا ہے۔ ورنہ پھر جو ہے کہ اپنے آپ کو بالکل ہی وہ خراب کر دے گا۔
عبادت اس وقت تک کی جائے جب تک دل لگے
وَاسْتَعِیْنُوْا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ: مدد طلب کرو صبح وشام کے وقتوں میں۔ اس میں ترغیب ہے کہ آدمی عبادت کے لئے ایسے اوقات مقرر کرے جس سے آدمی تازہ دم رہے اور عبادت میں لذت وحلاوت محسوس ہوتی رہے۔ یہ نفلی عبادت میں ہوگا فرض عبادات میں تو شریعت نے اوقات مقرر کئے ہیں، اس کی رعایت تو ہر حال میں ضروری ہے۔
اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ فرائض کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے۔ اس وجہ سے جو اللہ پاک نے مقرر کیا اس میں درمیان میں کچھ بات نہ کرو۔ وہ ایسے ہی رہنے چاہئیں جیسے اللہ پاک نے فرمایا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، ٹھیک ہے نا۔ البتہ جو نوافل ہیں ان میں چونکہ اختیار دیا گیا ہے۔ اس اختیار کو آپ صحیح طریقے سے استعمال کر لیں۔ یعنی دینِ فطرت کے مطابق استعمال کر لیں۔ اتنا کریں جتنا کہ آپ واقعی دائمی طور پر کر سکتے ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ اس شخص کی طرح نہ ہو جانا کہ جو چند رکعات پڑھا کرتا تھا اور اب نہیں پڑھ رہا۔ اب نہیں پڑھ رہا اس کا مطلب ہے کہ پہلے پڑھتا تھا اب نہیں پڑھتا، اس کا مطلب ہے کہ اس نے دوام اس میں اختیار نہیں کیا۔ تو فرمایا کہ دائمی طور پر پڑھنا چاہیے چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات ہے۔ تو اس سے ہمیں سیکھنا چاہیے کہ ہمیں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔