میانہ روی اور اتباعِ سنت — حدیثِ ثلاثہ رَهْط

درس نمبر 208 جلد 1، باب 14: باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اسلام دین فطرت ہے جس میں انسانی ضروریات کی رعایت رکھی گئی ہے اور یہ ہر معاملے میں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔
  2. تین صحابہ کرام نے اپنی مغفرت کو غیر یقینی سمجھ کر عبادت میں خوب مشقت برداشت کرنے اور کبھی نکاح نہ کرنے کا ارادہ کیا۔
  3. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے کے باوجود سونا، کھانا اور نکاح کرنا آپ کی سنت ہے۔
  4. زیادہ مبالغہ سے عبادت کرنے والے بہت جلدی تھک کر عمل چھوڑ دیتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کو میانہ روی پسند ہے۔
  5. جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے اعراض کرے گا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے نہیں۔
  6. اسلام میں رہبانیت نہیں ہے کیونکہ سب کچھ چھوڑنے کا غیر فطری طریقہ انسان کو مزید مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔
  7. دین فطرت کے مطابق زندگی گزارنا اور اس پر دائمی طور پر عمل کرنا انتہائی آسان ہے جس پر اللہ پاک اجر بھی عطا فرماتے ہیں۔

الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

معزز خواتین و حضرات، کل ایک حدیث شریف تین صحابہ کرام کے بارے میں پڑھی گئی تھی کہ:

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئے، وہ نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔ جب ان کو آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس کو تھوڑا سمجھا اور دل میں خیال کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ سے کیا مناسبت رکھتے ہیں، آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں۔ ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا، تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ تھلگ رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی ایسی باتیں کہی ہیں؟ خبردار! اللہ کی قسم، میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تقویٰ اختیار کرتا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو شخص میری سنت سے اعراض کرے، وہ میری امت سے نہیں۔

تشریح: ان تینوں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نام ❶ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ❷ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ❸ عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

ہماری نبی سے کیا مناسبت؟ اَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ؟ ہم کو آپ ﷺ سے کیا مناسبت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی مغفرت کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، آپ ﷺ کی مغفرت یقینی ہے، ہماری مغفرت یقینی نہیں، اس لئے ہم عبادت میں خوب مشقت برداشت کریں گے تاکہ اللہ راضی ہو کر ہماری مغفرت فرما دے۔

آپ ﷺ نے فرمایا تھا:

اَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَ كَذَا: "تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی ایسی باتیں کہی ہیں۔" ایک دوسری روایت میں "مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَالُوْا كَذَا وَكَذَا" کے الفاظ آئے ہیں۔

تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ۔۔۔

اَمَا وَ اللّٰهِ اِنِّيْ لَاَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَ اَتْقَاكُمْ لَهُ: میں تم سب میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تقویٰ والا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ عبادت میں مبالغہ اللہ ہی کے خوف سے ہو سکتا ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں ڈرنے والا سب سے زیادہ ہوں تو مجھ کو بہت زیادہ عبادت کرنا چاہئے، مگر دوسری بات یہ ہے میانہ روی اللہ کو پسند ہے، جیسے پہلے آیا کہ زیادہ مبالغہ سے عبادت کرنے والے بہت جلدی تھک جاتے ہیں اور عبادت کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔

تو آپ ﷺ نے فرمایا:

فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ: "اور جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ہے" کیونکہ آپ ﷺ کے مذہب میں رہبانیت نہیں ہے: "لَا رَهْبَانِيَّةَ فِى الْاِسْلَامِ۔" اسلام میں رہبانیت نہیں ہے کہ آدمی سب کو چھوڑ چھاڑ کر جنگل میں عبادت میں لگ جائے، نہ کھانا کھائے، نہ نکاح کرے، سنت نبوی میں تو یہ سب کام کرنا ہے۔

یہ راہب جو ہوتے ہیں عیسائی، یہ واقعی کھانا بھی بہت کم کھاتے ہیں، سوتے بھی کم ہیں اور شادی بھی نہیں کرتے۔ تو چونکہ یہ unnatural ہے، پھر بعد میں ان کو بڑے مسائل پیش آتے ہیں۔ وہ جن چیزوں سے بچنا چاہتے ہیں انہی میں پڑ جاتے ہیں۔ تو یہ قدرتی بات ہے۔

تو اللہ پاک نے اسلام کو ایسا بنایا ہے کہ اس میں سب چیزوں کی رعایت ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے۔ تو اس کے مطابق زندگی گزارنا آسان بھی ہے، عمل کرنا بھی آسان ہے، دائمی طور پر بھی ہو سکتا ہے، اور ظاہر ہے اللہ پاک اس پر اجر بھی دیتا ہے۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

میانہ روی اور اتباعِ سنت — حدیثِ ثلاثہ رَهْط - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور