اسلام میں اعتدال اور دینِ فطرت (تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعے کی روشنی میں)
درس نمبر 207 جلد 1، باب 14: باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ
- اسلام ایک معتدل دین فطرت ہے جس میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ جسم و روح دونوں کا خیال رکھتا ہے۔
- جائز ضروریات ترک کر کے خود کو مسلسل مشقت والی عبادات میں مبتلا کرنا سنت نبوی سے اعراض ہے۔
- کھانا، پینا، سونا اور نکاح جیسی فطری ضروریات منع نہیں بلکہ شریعت نے خواہشات نفس کو جائز حدود کا پابند بنایا ہے۔
- جسمانی آرام کے بغیر مسلسل اعمال کرنے سے انسان fatigue کا شکار ہو کر collapse ہو سکتا ہے۔
- فرائض کے بعد نفلی عبادات حسب استطاعت ادا کرنا اور دینی و دنیاوی امور میں توازن برقرار رکھنا ہی اصل دین ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
تین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا واقعہ۔
(143) ﴿وَ عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ اِلٰى بُيُوْتِ اَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَسْاَلُوْنَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَلَمَّا اُخْبِرُوْا كَاَنَّهُمْ تَقَالُّوْهَا وَ قَالُوْا اَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَاَخَّرَ. قَالَ اَحَدُهُمْ: اَمَّا اَنَا فَاُصَلِّي اللَّيْلَ اَبَدًا وَ قَالَ الْاٰ خَرُ: وَ اَنَا اَصُوْمُ الدَّهْرَ وَ لَا اُفْطِرُ وَ قَالَ الْاٰ خَرُ: وَ اَنَا اَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا اَتَزَوَّجُ اَبَدًا، فَجَاءَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اِلَيْهِمْ فَقَالَ: اَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَ كَذَا؟ اَمَا وَ اللّٰهِ اِنِّيْ لَاَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَ اَتْقَاكُمْ لَهُ لٰكِنِّيْ اَصُوْمُ وَ اُفْطِرُ وَ اُصَلِّيْ وَ اَرْقُدُ وَ اَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئے وہ نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں سوال کررہے تھے، جب اُن کو آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس کو تھوڑا سمجھا اور دل میں خیال کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ سے کیا مناسبت رکھتے ہیں آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہوچکے ہیں۔ ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتار ہوں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا، تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ تھلگ رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی ایسی باتیں کہی ہیں؟ خبردار اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تقویٰ اختیار کرتا ہوں لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پس جو شخص میری سنت سے اعراض کرے وہ میری اُمت سے نہیں۔“
اصل میں اس حدیث شریف سے جو پتہ چلا ہے وہ یہ پتہ چلا ہے کہ جیسے عیسائیوں میں رہبانیت تھی کہ وہ لذائذ نفس کو بالکل چھوڑ دیتے تھے اور اسی میں بڑائی سمجھتے تھے اپنی، اسی میں بزرگی سمجھتے تھے۔ تو وہ شادی بھی نہیں کرتے تھے اور کھانا بھی تھوڑا کھاتے تھے، الگ تھلگ رہتے تھے۔ مطلب ان کے چہرے زرد ہو جاتے تھے اور سوکھ جاتے تھے۔ تو یہ ساری چیزیں unnatural ہیں۔
اللہ جل شانہ نے انسان کو پیدا کیا ہے تو انسان کو نفس کے تقاضے دیے ہیں۔ اور وہ نفس کے جو تقاضے ہیں، ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ضروریات میں سے ہیں، ضروریات میں سے ہیں۔ مثلاً کھانا پینا، سونا، یہ ضروریات میں سے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ایک انسان بالکل نہ سوئے، تو اس کا جو دماغ ہے وہ صحیح کام پھر نہیں کرے گا اور اس کا زیادہ نقصان ہونا شروع ہو جائے گا، باقی عبادات بھی صحیح نہیں کر سکے گا۔ اور کھانا کوئی نہیں کھائے گا تو وہ بھی کمزوری ہے، بیمار ہو جائے گا۔ اور اگر کوئی مطلب مسلسل وہ اعمال کرتا رہے گا اور آرام نہیں کرے گا تو پھر بھی تھک جائے گا۔
وہ fatigue کے بارے میں میں عرض کر چکا تھا غالباً کل۔ تو fatigue ایک ایسی چیز ہے کہ جیسے مثال کے طور پر یہ انگلی ہے، اس کو میں اگر اس طرح اس طرح کروں، تو چھ گھنٹے۔ تو یہ بالکل پھر اس کے بعد میں اس کو ہلا بھی نہیں سکوں گا چھ مہینے تک۔ یعنی اس میں اتنی توڑ پھوڑ ہو جائے گی کہ اس کو پھر میں ہلا بھی نہیں سکوں گا، تو جس کو fatigue کہتے ہیں۔ لیکن اگر میں اس کو ایک منٹ اس طرح کر لوں اور پھر ایک منٹ کے لیے rest دے دوں، تو میں چھ مہینے بھی کرتا رہوں مسلسل تو کچھ فرق نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ دوام اس میں ہے کہ جتنا انسان کر سکے اتنا کرے، دائمی طور پر کرتا رہے۔
تو اس میں کوئی جیسے مثال کے طور پر کوئی آٹھ گھنٹے سوتا ہے، باقی سولہ گھنٹے جاگتا ہے۔ اور سولہ گھنٹے میں دین کے کام بھی کرتا ہے، دنیا کے کام بھی کرتا ہے جائز، تو وہ کر سکتا ہے مطلب اس کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن اگر وہ اس طرح نہیں کرتا بلکہ وہ کہتا ہے بس جی مسلسل میں عبادت کروں، یا مسلسل روزے رکھوں، تو پھر ظاہر ہے مطلب ہے کہ collapse ہو جائے گا۔ تو ہمارے دین کے اندر یہ چیز نہیں ہے، لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ، اسلام کے اندر رہبانیت نہیں ہے۔ بلکہ جو ضرورت ہے اور خواہش ہے، ان دونوں میں فرق یہ ہے؛ ضرورت کو منع نہیں کیا، خواہش نفس جس کو ہم کہتے ہیں، اس کی جو یعنی بے حد ہونا ہے اس کو منع کیا ہے، کہ مطلب اس کو حدود میں پابند کر لیں۔ یعنی جائز حدود میں جائز ہے، ناجائز حدود میں جائز نہیں ہے۔
اب مثال کے طور پر شادی جائز ہے لیکن زنا جائز نہیں۔ شادیاں بھی چار تک ہی ہو سکتی ہیں، اس سے زیادہ جائز نہیں۔ اس طریقے سے حقوق کی بھی ذمہ داری لگا دی گئی، یعنی وہ حقوق پورے کرنے پڑیں گے۔ اور یہ ہے کہ روزے رمضان کے فرض ہیں۔ باقی روزے فرض نہیں، باقی نفل ہیں اور نفل حسب استطاعت ہوتے ہیں۔ اور اگر بیمار ہو جائے تو اس وقت مؤخر کر سکتے ہیں۔ اب یہ ساری باتیں ضرورت کے ادراک کے ساتھ ہیں۔ اور نماز بھی پانچ وقت فرض ہے۔ اس کے علاوہ نفل ہے اور نفل حسب استطاعت ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں عمل بھی ہے یعنی جسم کا بھی خیال رکھا گیا ہے، روح کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ دونوں چیزوں کا خیال رکھا گیا ہے تو یہ ایک ماشاء اللہ معتدل مذہب ہے، دینِ فطرت ہے۔ اس لیے اس کو دین فطرت کہا جاتا ہے، یہ دین فطرت ہے اور رہبانیت خلافِ فطرت ہے۔ اور یہ اس سے ہمارا جو دین ہے وہ دینِ فطرت ہے، یہ بات اس سے مراد ثابت ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اس دین فطرت پر دل سے چلنے والا اور چلانے والا بنائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔