ریاض الصالحین
درس نمبر 193، جلد 1، باب 13: نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے کے بیان میں
- فجر اور عصر (البردین) کی نماز کا اہتمام اور جنت کی بشارت۔
- اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے وعدوں پر بلا شک و شبہ یقین کی اہمیت۔
- ایک نیک عمل کی برکت سے دوسرے نیک اعمال کی توفیق۔
- صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کامل یقین کی مثال۔
- شکی مزاجی کے نقصانات اور Social Media کے ذریعے پھیلنے والے شکوک و شبہات سے بچاؤ۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ فجر اور عصر کی نماز پڑھنے سے جنت۔
اَلْحَدِيْثُ السَّادِسَ عَشَرَ عَنْ أَبِيْ مُوْسَى الْأَشْعَرِيِّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم: «مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں پڑھتا ہو، جنت میں داخل ہوگا۔
اس فقرے کی، «مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ»، «الْبَرْدَيْنِ» کی، خود وضاحت حدیث شریف میں فرمائی گئی ہے کہ اس سے مراد صبح اور عصر کی نماز ہے۔ ایک دوسری روایت میں مضمون آتا ہے: لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ. یعنی جس نے سورج نکلتے وقت اور اس کے غروب کے وقت کی نماز ادا کی، وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا، یعنی فجر اور عصر کی نماز۔
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف فجر اور عصر کی نماز پڑھنا کافی ہے؟ کیونکہ حدیث شریف سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جہنم میں داخل نہیں ہوگا، اور چاہے باقی نمازیں یا دوسرے گناہ بھی کرتا رہے۔
تو پہلا جواب علامہ القمیؒ اور علامہ قزاضؒ فرماتے ہیں، یہ ابتدائے اسلام کی بات تھی جبکہ صرف فجر اور عصر کی نماز ہی فرض تھی۔ پانچ وقتوں کی نماز فرض نہیں تھی۔
دوسرا جواب علامہ طیبیؒ شرح مشکوٰۃ میں یہ دیتے ہیں کہ جو شخص فجر اور عصر کے وقتوں کا اہتمام کرے گا، وہ باقی باقی وقتوں کا بطریقِ اولیٰ کرے گا، کیونکہ فجر میں نیند کی غفلت کا وقت ہوتا ہے، اسی طرح عصر میں کام کی مشغولیت ہوتی ہے۔ اور جب یہ نمازوں کا اہتما... ان نمازوں کا اہتمام کرے گا، تو ارشادِ خداوندی ہے: إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ بیشک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ تو نماز کی برکت سے وہ اور گناہوں سے بچتا رہے گا، اس بنا پر وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
أَخْرَجَهُ صَحِيْحُ الْبُخَارِيِّ كِتَابُ مَوَاقِيْتِ الصَّلَاةِ، بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَحِيْحُ مُسْلِمٍ كِتَابُ الْمَسَاجِدِ، بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا. أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ.
اس میں ایک بات جو ہے، اکثر جو میں عرض کرتا رہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے وعدوں پر اور آپ ﷺ نے جن وعدوں کے بارے میں فرمایا۔ تو اس پر انسان صحیح نیت کے ساتھ عمل کر لے، تو پھر باقی کام اللہ پاک کا ہے، وہ اس کے مطابق کر دیتا ہے۔ جیسے اکثر میں ایک مثال دیتا ہوں، یہ: أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ. اب اس میں بھی چونکہ وعدہ ہے، لہٰذا اگر کوئی اس پر عمل کرے گا، تو اس کی برکت سے باقی اعمال اللہ پاک نصیب فرمائیں گے۔
یا یہ جو اللہ پاک... آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دو، یعنی ضمانت دو جو جبڑوں کے درمیان میں ہے اور جو دو رانوں کے درمیان میں ہے اس کی حفاظت کی، تو میں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ تو اب یہاں پر بھی یہ بات ہو گئی کہ وعدہ ہے۔ اب وعدہ ہے آپ ﷺ کا۔ لہٰذا اگر ہم اس پر عمل کر لیں، تو اس کی برکت سے خود بخود اللہ تعالیٰ اور اعمال ہمیں نصیب فرما دیں گے۔
کیونکہ کچھ چند... کچھ اعمال کچھ اعمال کے ذریعے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے وہ واسطہ بن جاتے ہیں، اور یہ وسیلہ بن جاتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اگر ہم لوگ وعدہ کریں، وعدے پر عمل کریں جو آپ ﷺ نے وعدہ کیا یا اللہ پاک نے وعدہ کیا ہے، تو اس ذریعے سے، اس وسیلے سے ہم اللہ پاک کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ جو شکی مزاج لوگ ہوتے ہیں نا، وہ ہر چیز میں شک ڈالتے ہیں، اور محروم رہ جاتے ہیں، دوسروں کو بھی محروم کروا دیتے ہیں۔ اور جو یقین کرنے والے ہوتے ہیں، اب صحابہؓ میں سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ یہ کیسے کیوں، یہ کیسے کیوں ہے؟ تو ان کو یقین تھا، بس جیسے فرما دیا بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن اب شکی لوگ اس قسم کی باتوں میں وہ سوچتے رہتے ہیں، تو خود بھی اپنے آپ کو خراب کرتے ہیں، دوسروں کو بھی خراب کر لیتے ہیں۔
یہ آج کل جو Social Media ہے، اس لیے تو خطرناک ہے کہ اس میں لوگوں کے دماغوں میں شک ڈالتے ہیں۔ وہ شک پڑ جائے، پھر اس کا نکالنا آسان نہیں ہوتا، وہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے ایسی چیزوں سے پہلو تہی کرنا ہی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.