سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 650

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے، پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جواب دیے جاتے ہیں اور سالکین اور سالکات کے احوال کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔

سوال: تاسو کومې سلسلې نه یئ؟ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650] جواب: زمونږ سلسلې څلور دي؛ طریقہ چشتیہ، نقشبندیہ، قادریہ، سہروردیہ۔ البتہ د هر چا خپله نسبت وي، د چا چې کوم نسبت وي په هغې نسبت کې، په هغې طریقه باندې ورته مونږ کار کوو۔ بہرحال سلسلې ټولې ښې دي، نو د چا چې کومې سلسلې سره مناسبت وي په هغې کې ورته تلقین ورکولی شي۔

سوال: الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین۔ اصل میں دیر بہت ہو گئی کیونکہ واٹس ایپ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ جی سر! معذرت۔ سر! میں یہ اعمال کنٹینیوسلی کر رہا ہوں، اب ذکر دیں گے آپ یا میں اسے ہی کنٹینیو کروں، آپ نے یہ بتایا تھا۔ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650] جواب: میں نے یہ اس لیے بتایا تھا کہ آپ اپنا ذہن بنا لیں کہ آپ ہمارے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے ہیں یا کسی اور کے ساتھ۔ تو اگر آپ ہمارے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو ہم ذکر بتا دیں گے، کیونکہ یہ تو مناسبت کی بات ہے جس کے ساتھ آپ کی مناسبت ہو اسی سے آپ کو زیادہ فائدہ ہو گا۔ تو اگر آپ ہمارے ساتھ ہی تعلق رکھنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ذکر بتا دیتا ہوں، لیکن پھر آپ کو ہمارے ساتھ ہی تعلق رکھنا پڑے گا کیونکہ ایک وقت میں کئی لوگوں کے ساتھ اصلاح کے لیے رابطہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں، علم حاصل کرنے کے لیے رابطہ ہو سکتا ہے۔

سوال: السلام علیکم! میں نے محسوس کیا کہ میں سخت ہوں لوگوں کے ساتھ۔ ایک دفعہ میں سروس دکان سے جوتے خرید کر نکلا، ایک بڑھیا عورت سستی چیزیں بیچ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ بس اس کا پوچھنے کا طریقہ ہے، تو نہ کہہ دیا۔ اس نے کہا کہ غریب تھی، بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ میں زیادہ سخت ہوں۔ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650] جواب: اعتدال سے چلنا چاہیے، نہ زیادہ سخت ہونا چاہیے، نہ زیادہ نرم ہونا چاہیے۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کہ نہ مطلب جو ہے نا، اتنا میٹھا ہو جاؤ کہ لوگ تجھے کھا جائیں اور نہ اتنا تلخ ہو جاؤ کہ لوگ تجھے تھوک کریں، مطلب یہ تھوک دیں۔ تو درمیان درمیان میں رہنا چاہیے، اسی میں فائدہ ہے۔

سوال: السلام علیکم شاہ صاحب! میں ذکر کر رہا تھا لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ، 10 منٹ مراقبہ اللہ۔ اس میں بہت لمبا ناغہ ہو گیا، میں دوبارہ شروع کر سکتا ہوں؟ درود پاک کون سا پڑھوں؟ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650] جواب: ناغہ نہیں کرنا چاہیے، ناغہ سے انسان کا وقت ضائع ہوتا ہے اور بہت پیچھے ہو جاتا ہے آدمی۔ تو آپ مطلب استغفار کر لیں، دو رکعت صلوٰۃ التوبہ پڑھیں کیونکہ اصلاح کے کام میں سستی کرنا یہ اپنے ساتھ بہت برا کرنا ہے۔ تو اللہ پاک کے ساتھ تعلق اس مقصد کے لیے دوبارہ جوڑ لیں۔ تو ابھی یہی 200 مرتبہ لا الہ الا اللہ، 400 مرتبہ لا الہ الا ھو اور 600 مرتبہ حق، اور 100 مرتبہ اللہ، اور 10 منٹ مراقبہ یہ جو بتایا تھا کہ تصور کریں کہ اللہ اللہ میرے دل میں ہو رہا ہے، تو یہ کریں۔ اور درود شریف جو ہے نا، وہ اگر مختصر پڑھنا ہے تو "وصلی اللہ علی النبی الامی" پڑھا کریں، اگر پورا پڑھنا چاہتے ہیں تو درود ابراہیمی پڑھا کریں۔ اور اس طرح ہے کہ یہ ایک مہینہ کر کے پھر مجھے اطلاع کر دیں کہ مجھے بھیجنا ہے۔

سوال: Name Fulan, Dhaka. Sheikh! I safely reached Dhaka, Alhamdulillah. I am having lots of confusion regarding Tasawwuf and Tariqa. I am missing many Salahs and engaging in sins. I restarted the Zikr but I feel tired when I am doing the Zikr of Ism e Haqq. I am getting distracted. My temperature and attitude is becoming very bad. I am misbehaving with others. Hazrat! Please help me. I feel like to do Zikr of Bara Tasbih alongside but I don't do it. I am too much interested in Naqshbandi Mujaddidi Tariqa and previously I learned some Muraqaba and now try to do, to engage myself in this Muraqabas where I like it. I was always interested in this Tariqa and especially on Hazrat Mujaddid Alf e Sani Rahmatullah Alaih. [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650] جواب: Very good. One can have a munasabat with any tariqa, it's no problem. And we are having, Alhamdulillah, all the four tariqa. And we have many Naqshbandis in our Silsila, Alhamdulillah. I myself am Naqshbandi as far as my munasabat is concerned. But the thing is this that what is Naqshbandiyat? This is a little bit questionable and debatable. Naqshbandiyat is actually the procedure where Jazb is achieved in first. And then after that Sulook is processed. And that is attained. And after that Jazb e Wahbi is achieved. So this is Naqshbandiyat. And well, Jazb can be achieved by any method. We have this method that first of all, we are giving Bara Tasbih. And after that, when the person is achieved, achieved to perform this in a good manner, then after that we are giving Muraqabat. Alhamdulillah, people are doing very good Muraqabat. And you can do this also. But this is not the right of a patient to tell doctor that you should give me this medicine. This is the job of doctor, this is not the job of patient. So if you are not interested in our procedure, you can go to any other doctor. I will not compel you to come to me. But if you are coming to me, then you will have to follow what I am telling you. This is the basic principle of the treatment. So then you should follow it. And you see, when you are leaving these things, so in which thing you are indulging yourself? You are yourself telling me. So you should understand this thing that you should not go far from this and follow the instructions of your doctor if you want to treat yourself.

سوال: السلام علیکم شاہ صاحب! میں ذکر کر رہا تھا لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ، 10 منٹ مراقبہ اللہ۔ اس میں بہت لمبا ناغہ ہو گیا، کیا میں دوبارہ شروع کر سکتا ہوں؟ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650] جواب: یہ تو ہو چکا ہے۔ یہ ہو چکا ہے۔ اصل میں وہ ہوا نہیں تھا، تو دوبارہ سامنے آ گیا۔ آپ یہ مراقبہ جاری رکھیں، وہ جیسے مطلب بتایا گیا ہے اسی طرح جاری رکھیں۔

سوال: سلام شیخ صاحب! ما لا الہ الا اللہ 200 ځله، لا الہ الا ھو 400 ځله، او حق 100 ځله، یوه میاشت سره د نورو اذکارو وکړې، مخکې مې رہنمایي وکړئ۔ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650] جواب: حق 100 ځله، او اللہ 100 ځله۔ سبحان اللہ، ٹھیک شو۔ نو اوس چې کوم دی حق 600 ځله کوئ او باقي هم هغه کوئ انشاءاللہ یوه میاشت د پاره۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی! ذکر کا ایک مہینہ بلا ناغہ مکمل ہو گیا تھا۔ ذکر تھا 200، 400، 600 حق اور 2000 دفعہ اللہ۔ ذکر میں اس بار باقاعدگی رہی اور زیادہ تر میں نے ایک ہی وقت پر ذکر کیا۔ سستی میں کمی رہی۔ نمازیں چند قضا ہوئیں، وجہ نیند بنی۔ اس کے لیے حکم فرمائیے۔ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650] جواب: ماشاءاللہ! ذکر الحمدللہ اللہ پاک نے آپ کو ریگولر کرنے کی توفیق عطا فرمائی، تو اور چیزیں بھی انشاءاللہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہوں گی۔ لیکن یہ نماز والا معاملہ ذرا وقت پہ کر لیا کریں۔ اس کے لیے آپ تھوڑا سا (یعنی) نیند کے اوقات کو ارینج کر لیں صحیح طریقے سے، تو پھر ٹھیک ہو جائیں گی۔ مثلاً جو لوگ دیر سے سوتے ہیں تو پھر دیر سے جاگتے ہیں، تو لہٰذا جلدی سونا چاہیے۔ اور بھی بہت ساری مطلب چیزیں ہوتی ہیں، اگر رات کو نیند نہیں ہو سکے تو دن کو پورا کر لیا کریں، لیکن نمازیں اپنے وقت پہ نہیں۔ تو نمازیں اپنے وقت پہ پڑھنا یہ فرض ہے۔ [إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا]۔ تو نمازیں اپنے وقت پہ پڑھ لیا کریں۔

اور یہ جو ذکر آپ نے بتایا 200، 400، 600 اور 2000، تو اس 2000 کو 2500 کر لیں، باقی وہی رکھیں۔ دھیان اگر ادھر ادھر رہتا ہے تو اس کی پرواہ نہ کریں، آپ کو اپنے کام میں لگنا چاہیے۔ اس کی پرواہ نہ کریں کہ خود بخود کیا چیز آ رہی ہے۔ خود بخود جو آتا ہے تو اس کی پرواہ نہ کریں، اور جو آپ خود کر رہی ہیں تو اس میں آپ ظاہر ہے مطلب غلط نہ کریں، صحیح کر لیا کریں۔ تو جو چیز انسان کے اختیار میں ہے وہ صحیح کرنا چاہیے، غلط نہیں کرنا چاہیے، جو انسان کے اختیار میں نہیں تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔

سوال: Assalamu alaikum sir! Alhamdulillah, did "Allah" 10 minutes towards the heart and 15 minutes at the right side. Was doing without pressure, tears came. Need to have concentration for a longer period. (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: MashaAllah! Very good. Now you should do this zikr "Allah" for 10 minutes on the Qalb, and 10 minutes on right side, and 15 minutes on above heart. It means four fingers above heart, you should do this. This is Latifa-e-Sirr. So you should do this on Latifa-e-Sirr 15 minutes, and on the Qalb and Rooh 10 minutes, 10 minutes each for one month, InshaAllah.


سوال: السلام علیکم شیخ محترم! میرا مراقبہ موت، دل ہی دل میں پندرہ منٹ والا، دعا والا عمل اور پانچ پانچ منٹ لطائف کا ذکر، اس ماہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔ شیخ محترم مجھے بہت سچے خواب آ رہے ہیں، ہر چھوٹا بڑا معاملہ نظر آ جاتا ہے۔ خواب میں اور عیوب میں سے رب کے ساتھ شکوہ کرنے والے پر کنٹرول، اور زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کا حکم دیا تھا۔ آپ نے میرے حالات بہت پریشانی والے بتائے ہیں، تو اس ماہ یہ آیت ایک دن میں کئی بار میرے سامنے آئی: [ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ] تو پھر میں نے دل کھول کے دعائیں کیں۔ شیخ محترم! آگے رہنمائی فرما دیجیے۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: تو یہ اب اس طرح کر لیں کہ آیۃ الکرسی کا جو ترجمہ ہے، وہ اس کو آپ سیکھ لیں اور آیۃ الکرسی کا ترجمہ کو ذہن میں حاضر کر کے، اس کا جو فیض ہے، تصور کریں کہ اس کا جو فیض ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ رہا ہے حضور ﷺ کی طرف، حضور ﷺ کی طرف سے آ رہا ہے شیخ کی طرف، اور شیخ کی طرف سے آپ کے دل پہ آ رہا ہے۔ یہ مراقبہ موت کی جگہ آپ تصور کر لیں۔


سوال: (صرف آڈیو پیغام موصول ہوا) (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: آپ کون ہیں؟ اور آڈیو کی جگہ آپ ٹیکسٹ بھیجیں، کیونکہ یہاں ٹیکسٹ کا جواب دیا جاتا ہے۔


سوال: السلام علیکم حضرت شاہ صاحب! میری چھوٹی بہن کی سہیلی کا ذکر دس منٹ کا لطیفہ قلب تھا جس کو ایک ماہ ہو گیا ہے۔ ذکر جب شروع کیا تھا تو بہت غصہ آتا تھا، خواب میں خانہ کعبہ کی زیارت ہوئی جس کے بعد غصہ آنا کم ہو گیا۔ مزید رہنمائی فرمائیں۔ دل میں اللہ اللہ محسوس نہیں ہوتا۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: تو اس کو اب پندرہ منٹ دل میں اللہ اللہ محسوس کرنے کی کوشش کر لیں اور باقاعدگی کے ساتھ بیٹھیں۔ آپ نے کروانا نہیں ہے، لیکن آپ تصور کر لیں کہ جب مطلب ہونا شروع ہو جائے، تو کم از کم آپ کو پتہ چلے اور اس کی طرف آپ متوجہ رہیں۔


سوال: السلام علیکم حضرت! احساسِ کمتری کو دور کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: احساسِ کمتری ہوتی کیوں ہے؟ یہ ذرا دیکھنا چاہیے۔ دیکھیں دو ریفرنسز ہیں؛ اگر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اپنے آپ کو کم سمجھنا، تو یہ تواضع ہے۔ اور اگر دنیا کے لیے اپنے آپ کو کم سمجھنا ہے، تو یہ احساسِ کمتری ہے۔ لہٰذا جس کے دل سے دنیا کی محبت نکل جائے تو اس کو احساسِ کمتری نہیں ہو سکتی۔ بس دل سے دنیا کی محبت کو نکالنے کی کوشش کریں۔ دل سے جب دنیا کی محبت نکل جائے گی تو احساسِ کمتری بھی ختم ہو جائے گی۔


سوال: السلام علیکم حضرت شاہ صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ ذکر الحمد للہ آپ کی برکت سے 200، 400، 600، ساڑھے آٹھ ہزار اور 10 منٹ مراقبہ قلب، ایک ماہ سے زیادہ ذکر ہو گیا ہے۔ ذکر میں آپ کی برکت سے آسانی ہے۔ اللہ اللہ کے ذکر میں اچانک نیند آ جاتی ہے۔ مراقبہ میں کچھ محسوس نہیں ہوتا، کبھی کبھی مراقبہ میں بھی نیند آ جاتی ہے اور جب ٹائم پورا ہوتا ہے تو دل کی دھڑکن کچھ دیر کے لیے محسوس ہوتی ہے۔ الحمد للہ آپ کی برکت سے بلا ناغہ جاری ہے۔ الحمد للہ آپ کی برکت سے گھر والوں کو خانقاہ شریف میں خواتین کے جوڑ میں شرکت کی توفیق حاصل ہوئی۔ نمبر دو: بیٹی کی عمر 11 سال جس کا ذکر 200 مرتبہ درود شریف، 100 مرتبہ استغفار، تیسرا کلمہ۔ ذکر کو ایک ماہ ہو گیا ہے، دو دن کا ناغہ ہوا ہے، نماز پڑھنے میں مشقت ہوتی ہے۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: ٹھیک ہے جی، ان شاء اللہ العزیز اسی کو فی الحال جاری رکھیں، ایک مہینہ اور۔ اس کے بعد پھر بتا دیجیے گا۔


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے طبیب! بس ایک ہی راستہ ہے بچ نکلنے کا کہ دنیا سے کان ہٹاؤں، سب سے آنکھ چراؤں اور تجھے ہی دیکھوں، تجھے ہی سنوں زبان سے کچھ بھی نہ کہوں، بس میرے طبیب! حضرت جی احوال عرض ہیں کہ بد نظری کے بارے میں حساسیت میرے لیے شاید سب سے بڑا مانع ہے۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: دیکھیں بد نظری کا شوق ہو جانا اور بد نظری کی طرف توجہ ہو جانا، اس پر گرفت نہیں ہے۔ بلکہ آپ جب یہ چیز ہوگی اور آپ اس پر عمل نہیں کریں گے تو اس پر اجر ملے گا۔ اور اگر نہیں ہوگی تو پھر اجر والی بات بھی نہیں رہے گی، بس صرف حفاظت رہے گی۔ تو جب اللہ پاک اجر دینا چاہتے ہیں تو اس اجر کو لیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے دل میں بد نظری کرنے کا میلان موجود ہے اور اس کے بعد بھی آپ اپنے آپ کو بچاتے ہیں تو یہ تقویٰ ہے۔ ہاں جی، تو تقویٰ کے بارے میں اللہ پاک کیا فرماتے ہیں؟ آپ خود دیکھ لیں۔


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت مجھے آپ نے ایک ماہ کے لیے مراقبہ دیا تھا 15 منٹ کا کہ دل پر توجہ دینی ہے کہ میرا دل اللہ اللہ کر لے، لیکن مجھے ابھی کچھ محسوس نہیں ہوا۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: آپ ماشاءاللہ 20 منٹ اس کو کر لیں ایک مہینہ، آپ اس کو اب 20 منٹ کر لیں ایک مہینہ ان شاء اللہ۔


سوال: Assalamu alaikum dear Sheikh! I am writing to you in one month again. I am doing zikr practice as you said. (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: Alhamdulillah, it's very good that you are doing this zikr. And MashaAllah I have told you, and I think you will do this one month again.


سوال: السلام علیکم حضرت، میرا نام فلاں ہے۔ حضرت جو خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر آپ نے بتائی کہ شاید شیطان کو کوئی راستہ مل گیا ہے اپنے شیخ سے دور کرنے کا۔ حضرت اپنے شیخ سے اتنی محبت ہونے کے باوجود کیسے دور کر سکتے ہیں؟ ویسے کون سے طریقے اختیار کر سکتے ہیں جس سے وہ مجھے شیخ سے دور کر دے؟ جزاکم اللہ خیر کثیرا۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: مطلب یہ تنبیہ ہے، کہ کوئی چیز ایسی ہو سکتی ہے جو کہ آپ کو شیخ سے دور کر لے، تو بس محتاط رہیں۔


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! بندہ دعا گو ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے سایہ شفقت میں برکت عطا فرمائے۔ بندہ کے معمولات 2، 4، 6، اور 3000 ہیں، کئی مہینوں سے جاری ہیں ذکر کے ساتھ، تلاوتِ قرآن، منزلِ جدید بھی الحمد للہ، حضرت کی دعا سے پڑھنے کی توفیق ہوتی ہے۔ درسِ قرآن الحمد للہ جاری ہے، سورۃ النساء شروع کی ہے۔ مغرب کے بعد آٹھ دس بندے ہوتے ہیں جس کو پڑھانے کے بعد میں خود سب سے سنتا ہوں، سب اسی جگہ میں بیٹھ کر یاد بھی کر لیتے ہیں، ماشاءاللہ۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: ماشاءاللہ بڑی اچھی بات ہے، اللہ تعالیٰ مزید برکت عطا فرمائے اور ذکر پر بھی استقامت عطا فرمائے۔ اب 2، 4، 6، اور ساڑھے تین ہزار کر لیں۔ جی شروع کر لیں الحمد للہ۔


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی! اللہ پاک آپ کی خیر و عافیت اور بلندی درجات کے لیے دعا گو ہوں۔ میرا ذکر مکمل ہو گیا ہے؛ لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، الا اللہ 400 مرتبہ، اللہ ہو اللہ 600 مرتبہ، اور اللہ 3000 مرتبہ۔ الحمد للہ ذکر میں ناغہ نہیں ہے، البتہ اس ماہ فجر کی جماعت کئی مرتبہ رہ گئی ہے۔ تہجد کی نماز کے لیے تقریبا تین بجے سے پہلے آنکھ کھلتی ہے لیکن یہ سوچ کر پھر سو جاتا ہوں کہ ابھی کافی وقت باقی ہے، کچھ دیر تک اٹھتا ہوں۔ اس کے بعد فجر کی اذانوں میں ہی سیدھی آنکھ کھلتی ہے۔ کچھ عرصہ کے لیے غصہ اور زبان درازی کافی کم ہو گئی تھی لیکن آج کل پھر بہت غصہ آنے لگا ہے، غصہ کرنے لگا ہوں بالخصوص اہل و عیال پر۔ حضرت جی! میں ایک مغلوب الحال قسم کا شخص ہوں، جو بھی کیفیت طاری ہو، اس کے مطابق ہی میرا رویہ ہوتا ہے حالانکہ مجھے اعتدال کا راستہ اپنانا چاہیے اور شریعت کے مطابق عمل اختیار کرنا چاہیے۔ مختلف حالات میں سنت کے مطابق راستہ اپنانا چاہیے، لیکن اس کے برعکس میں اپنی طبیعت کے مطابق عمل کرتا ہوں۔ نماز کے دوران بھی زیادہ تر دھیان دنیاوی اور نفسانی خواہشات کی جانب رہتا ہے، خشوع و خضوع کی کیفیت تو خواب و خیال ہی لگتا ہے، نماز میں بھی دنیاوی کاموں کو انجام دینے میں دھیان لگا رہتا ہے۔ معمولات کا جدول آپ کو ای میل کے ذریعے ارسال کیا ہے۔ برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرما دیں، اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650)

جواب: ذکر تو فی الحال یہی کر لیں، لیکن یہ نماز کے لیے جو اٹھنا ہے، آپ اس کو اپنے لیے مجاہدہ سمجھیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی اور کو پابند کر لیں کہ وہ آپ کو باقاعدگی سے جگائے اور اگر مطلب ظاہر ہے نمازِ فجر کے لیے آپ جاگ جاتے ہیں، صرف تہجد کی بات ہے، تو تہجد کی چار رکعات آپ وتروں سے پہلے تہجد کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں۔ اور پھر اگر صبح مل جائے تو مزید چار رکعات بھی پڑھ لیجیے گا۔ البتہ یہ ہے کہ ٹائم، الارم کا، اس طرح لگا دیں کہ اس میں آپ صرف تہجد کی نماز ہی پڑھ سکیں، یعنی نیند آپ کی پوری ہو جائے۔ مثال کے طور پر آج کل تقریبا یہاں پر پانچ بج کر ستائیس منٹ ہیں، تو آپ جو ہے نا اگر پانچ بجے بھی الارم لگا دیں، پانچ بجے آپ مطلب جو ہے نا وہ جلدی وضو کر کے، آپ جو ہے نا وہ چار رکعات اطمینان کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں، تو آپ کی نیند بھی پوری ہو جائے گی ان شاء اللہ۔ باقی جہاں تک وہ ہے کہ غصہ آنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، غصہ کرنے کی بات ہے۔ تو غصہ کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ اللہ پاک مجھ پر غصہ فرمائیں تو پھر میں کیا کروں گا؟ اس وجہ سے آپ جو ہے نا غیر ضروری غصہ چھوڑ دیا کریں اور جو ضروری غصہ ہے اس کو کنٹرول کے ساتھ کر لیا کریں، جتنی اس کی ضرورت ہے۔


سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! نمبر ایک: کم کھانے کا مراقبہ الحمد للہ جاری ہے۔ پچھلے ہفتے آپ کو رپورٹ دینا بھول گئی تھی، لیکن الحمدللہ دونوں ہفتے مجاہدے میں کامیابی نصیب ہوئی، الحمدللہ ثم الحمدللہ۔ اب 16 گھنٹے کچھ نہیں لیتی اور آٹھ گھنٹوں میں کھاتی ہوں، صبح گیارہ سے شام سات بجے تک۔ کھانا کبھی ایک وقت لیتی ہوں اور کبھی دو وقت۔ اب معدہ زیادہ کھانے کو برداشت نہیں کرتا، بوجھ محسوس کرتی ہوں اور رات کا کھانا بہت ہلکا لیتی ہوں کیونکہ پھر معدے پر بوجھ ہی رہتا ہے، اٹھنے میں سستی محسوس کرتی ہوں۔ اکثر روٹی نہیں لیتی بلکہ کوئی چیز لے لیتی ہوں۔ ناشتہ بھی پہلے کے مقابلے میں کافی ہلکا کر لیتی ہوں۔ اگر ناشتہ بھاری ہو تو پھر دوپہر کا کھانا نہیں لیتی۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا ذکر کرتے وقت، مجاہدے میں آسانی کی نیت بھی کرتی تھی اور اس کی کافی تاثیر محسوس کی۔

سوال: السلام علیکم، نمبر ایک، اچھا یہ تو ہو گیا۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: الحمدللہ، اس کو جاری رکھیں، اللہ تعالیٰ مزید توفیقات سے نوازے۔

سوال: نمبر دو: لطیفہ قلب دس منٹ محسوس ہوتا ہے۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: ماشاءاللہ، پندرہ منٹ کر لیں۔

سوال: نمبر تین: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح دس منٹ، لطیفہ سر پندرہ منٹ، تمام لطائف پر ذکر محسوس ہوتا ہے۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: تین پر دس منٹ اور چوتھے پر پندرہ منٹ کا بتا دیں۔

سوال: نمبر چار: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح پندرہ منٹ، دونوں لطائف پر ذکر محسوس نہیں ہوتا۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: تو آپ صرف قلب پر ہی بیس منٹ کر لیا کریں۔

سوال: نمبر پانچ: لطیفہ قلب پانچ منٹ، محسوس نہیں ہوتا۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: اس کو اب دس منٹ کروا دیں۔ جی ہاں، مراقبہ معیت کی جگہ آپ آیت الکرسی والا مراقبہ کر لیا کریں۔

سوال: د چا چې یوې سلسلې سره هم مناسبت نه وي، نو د هغې دپاره د سلسلې انتخاب څنګه کيږي؟ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: هغه دې د شيخ انتخاب وکړي، چې شیخ ورته کومه سلسله غوره کړي بس په هغې باندې دې چلیږي۔

سوال: اچھا، نام فلاں، Assalamu alaikum wa rahmatullahi wa barakatuhu. I pray you are well dear Hazrat. Ji, I have completed my third month of 20 minute muraqaba, imagining my heart saying Allah Allah Ta'ala looking at it with love while facing the Qibla shareef. In this month I was continuous in my muraqaba apart from four continuous days in which my routine was completely off, and so I did not fix a time and kept delaying. I am still struggling to focus in it, but I definitely feel it when I delay or on those four days when I missed it, I felt very low. It was this low time that Allah Ta'ala granted me taufeeq to reduce my usage of YouTube to almost zero. I put a punishment on my nafs of not being allowed to play football if I ever watched on the weekdays and any more than one hour on Saturday. I also now always keep my phone in the kitchen when at home and the only social media app I have had for a while is WhatsApp. I wish I could delete it, but I need to stay in touch with you Hazrat Ji, family, and for other necessary reasons. However, I try only respond to my messages twice a day and have my notifications off. My tahajjud and daily tilawat is starting to get a bit regular Alhamdulillah, but could be better and my goal of acting on five new sunnah from uswa-e-hasana every week and daily muhasaba is not regular at all. I will try improving this for this month and report back for next. I also increased my Friday durood shareef to 1500s and will try add 500s this every month. My fasting of Monday and Thursday is also quite regular with a couple of other days of nafl fasts. I plan to start Sawm e Dawood this week by fasting Monday, Wednesday, Thursday, and Saturday. My mamoolat chart is attached to show these. Kindly advise for the next. (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: Mashallah, mashallah. It's very good. And I think you should continue this, the same. And insha'Allah we shall be saying about this in next month insha'Allah.

سوال: السلام علیکم حضرت، لاہور سے میں فلاں عرض کر رہا ہوں۔ گزشتہ ماہ آپ نے میرے جہری ذکر دو سو، چار سو، چھ سو اور ضربات لا الہ الا اللہ، الا اللہ اور حق کے ساتھ اللہ دس ہزار مرتبہ تک بڑھانے کا فرمایا تھا، جس کو کرتے الحمدللہ ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں اپنے اکثر اعمال میں ریاکاری کا ڈر آنے لگا ہے۔ اکثر معاملات میں لوگوں کی رائے، یہ فکر رہتی ہے۔ آپ سے مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: ماشاءاللہ، اب دس ہزار پانچ سو مرتبہ ذکر کر لیں۔ اور باقی چیزیں وہی رکھیں جو کہ آپ کر رہے ہیں۔

میرے خیال میں جتنے سوالات آئے تھے وہ تو اس کے جواب دیے گئے ہیں۔ اب اگر کسی کا رہ گیا ہو تو وہ مجھے انفارم کر سکتے ہیں۔ اور اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی سوال کر سکتے ہیں چاہے حاضرین میں ہوں، چاہے ٹیلیفون پر ہوں، چاہے واٹس ایپ پر ہوں۔

سوال: لطيفهٔ قلب اؤ لطيفهٔ روح اردو میں۔ لطيفهٔ قلب اؤ لطيفهٔ روح دا څهٔ شې وي؟

(سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: اصل میں لطائف، یہ ان کو ہم سینسنگ پوائنٹس بھی کہتے ہیں، یعنی جہاں ذکر محسوس ہوتا ہے۔ اور لطائف کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس کی جو اصل ہے وہ تو عرش کے اوپر ہے۔ لیکن یہاں مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی... یعنی وہ جس کو کہتے ہیں سرے ہیں، یعنی محسوس کرنے کے وہ ہیں۔ تو اگر کسی کا لطائف صحیح معنوں میں جاری ہو جائے تو پھر عرش سے جو فیوض و برکات آتے ہیں وہ اس کے ذریعے سے آنے لگتے ہیں۔

تو لطیفہ قلب جو ہے وہ بالکل دل کے اوپر ہے۔ دل جو ہے نا، دل کے اوپر ہے۔ اور اگر جسم کو بالکل آدھا کیا جائے، تو جو لائن ہے، اس لائن سے جتنا دل بائیں طرف دور ہے، اتنا دائیں طرف جو جگہ ہے اس کو لطیفہ روح کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ پھر اس کے بعد دل سے چار انگل اوپر اور وہ اس جگہ سے دو انگل سینے کی طرف، یہ جو جگہ ہے اس کو لطیفہ سر کہتے ہیں۔ ہاں جی، پھر اس کے بعد لطیفہ روح سے چار انگل اوپر اور اس سے دو انگل سینے کی طرف، اس کو کہتے ہیں لطیفہ خفی۔ ہاں جی، اور پھر یہ پوائنٹ، یہ پوائنٹ، دونوں لطائف اور ساتھ گلے کی جو جڑ ہے، ہاں جی، ان تین پوائنٹس کا جو درمیان کی جگہ ہے، اس کو ہم کہتے ہیں لطیفہ اخفیٰ۔ لطیفہ اخفیٰ کہتے ہیں۔ ہاں جی، تو یہ پانچ لطائف ہیں۔

لیکن یہ ان کو معصومیہ لطائف کہتے ہیں حضرت خواجہ معصوم رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق۔ لیکن حضرت آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق، لطیفہ قلب یہ ہے، لطیفہ روح یہ ہے، لطیفہ سر ان کے درمیان میں ہے، لطیفہ سر۔ اور لطیفہ خفی ماتھے میں ہے اور لطیفہ اخفیٰ جو ہے نا بالکل یہ ام دماغ کہتے ہیں اس کو، اس بس بالکل تالو کے اوپر ہے۔ ہاں جی، تو یہ مطلب یعنی اس مختلف لطائف کی تحقیق ہے لیکن بہرحال اس پہ ذکر کو محسوس کیا جاتا ہے۔ اگر ذکر محسوس ہونے لگے تو پھر آگے ماشاءاللہ ان کو بڑھایا جاتا ہے۔ تو اس طریقے سے ماشاءاللہ یعنی یہ... ذکر میں پورے اعضاء کو مشغول کرنے کا نظام موجود ہے۔

کوئی سوال اگر اپ لوگوں میں کسی نے کرنا ہو تو کر لیں۔ دے دیں۔ یہ اصل میں بیعت کے سلسلے میں... اچھا ٹھیک ہے۔ جی ٹھیک ہے، اچھا ٹھیک ہے، ٹھیک ہے صحیح، انشاءاللہ ہو جائے گا۔ ہو جائے گا انشاءاللہ۔ ماشاءاللہ۔ کوئی باہر سے بھی اگر کوئی ٹیلیفون پر سوال کرنا چاہتا ہے یا واٹس ایپ پر، تو وہ کر سکتے ہیں۔

اچھا، ایک سوال آ گیا ہے۔

سوال: السلام علیکم، ذکر کرتے ہوئے کھانے میں بھی کمی آتی ہے، کھانا کم کھاتے ہیں، زیادہ نہیں کھا پاتے۔ (سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650) جواب: جی ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ جتنا جتنا انسان ذکر کے اندر مصروف ہوتا جاتا ہے تو اس کی روحانیت کی طرف میلان بڑھتا جاتا ہے، جسمانیت کی طرف میلان کم ہو جاتا ہے۔ تو اس کا اثر پھر جسم پہ پڑتا ہے۔

یہ بھیجنا ہے آپ نے؟ میرے خیال میں تین سے زیادہ ہو گئے اب تو الحمدللہ نہیں کہنا چاہیے۔ ادب ہے نا۔ مولانا صاحب، کوئی سوال ہے؟


سوال:حضرت یہ میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی ایک بات پڑھ رہا تھا۔ حضرت نے ایک بات فرمائی کہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ کسی ایک اللہ والے کے ساتھ اس پہ آپ کا اعتماد ہے، آپ اس کے ساتھ ہو جائیں اور اہل حق میں سے بھی ہر ایک کو نہ سنا کریں۔ مزاج مختلف ہوتے ہیں، میں اس کو ناجائز تو نہیں کہتا لیکن میں کہتا ہوں فائدہ بھی کوئی نہیں ہوگا اور نقصان ہوگا۔ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650]

جواب: ماشاءاللہ! بہت صحیح بات کی ہے۔ بہت صحیح بات کی ہے اور میرے ساتھ یہ ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے میں تو اس کی پوری پوری تائید کرتا ہوں۔ وجہ کیا ہے بتاتا ہوں۔ اہل حق جو ہیں وہ حق بات ہی کریں گے، لیکن اپنے ذوق کے مطابق کریں گے۔ اور ذوق مختلف ہوتے ہیں۔

یعنی کچھ چیزوں میں ذوقیات پر بات منحصر ہوتی ہے، کچھ چیزوں میں۔ تو وہاں جو ذوقیات ہیں، مثال کے طور پر اب دیکھیں نا، کسی کو خاموش رہنے کی وہ ہے، ذوق ہے، کسی کو زیادہ بولنے کا ذوق ہے۔ تو وہ خاموشی کے فضائل سنائے گا، دوسرا بولنے کے فضائل سنائے گا۔ ہاں جی؟ اس طریقے میں، میں آپ کو ایک اور بات بتاؤں۔ تبلیغی جماعت میں، میں ہم گئے تھے تو رائیونڈ میں، مطلب یہ ہے کہ وہ بات ہو رہی تھی۔ حضرت مولانا مصطفیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات کی کہ اگر آپ کی تشکیل ایسی جگہ پہ ہو جائے جہاں کے پیسے آپ کے پاس نہ ہوں، تو تشکیل والوں سے اپنی تشکیل تبدیل کروا لیں، کیونکہ آپ کی جماعت کو بھی تکلیف ہوگی اور آپ کو بھی تکلیف ہوگی۔

اس کے بعد حاجی عبد الوہاب صاحب بات فرما رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی اسٹیشن جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کا دماغ... نہ اس کا جو ہے نا وہ نظر جیب پر ہے کہ میرے پاس اس کے پیسے ہیں یا نہیں ہیں، تو اس کا کلمہ بھی نہیں بنا۔ ہاں جی! اب میں پریشان ہو گیا کہ میں کن کی بات مانوں؟ مولانا مصطفیٰ صاحب کی مانوں، یا حاجی عبد الوہاب صاحب کی مانوں؟ پریشان تو ہو گیا۔ حالانکہ دونوں اہل حق ہیں۔ ہاں جی؟

تو پھر میں گیا اپنے شیخ کے پاس، تو اپنے، ہمارے شیخ مسکرائے، فرمایا: دیکھو، سنو سب کی، لیکن مانو اس کی جس کو تو نے مربی بنایا ہے۔ مانو اس کو، اس کی، جس کو، جس کو تو نے مربی بنایا ہے۔ ورنہ ایک آپ کو ایک ٹانگ سے کھینچے گا، دوسرا دوسرے ٹانگ سے، آپ کا درمیان میں حشر ہو جائے گا۔ ہاں جی!

دوسری بات! ایک شخص ہے اس کو سیاست کا ذوق ہے، دوسرے شخص کو گوشہ نشینی کا ذوق ہے۔ اب اس کی مجلس میں آپ بیٹھیں گے تو آپ پوری دنیا جہاں کی خبریں سنیں گے۔ ہاں جی! اور جو گوشہ نشینی والا ہے، وہ آپ، وہ تو کہے گا بھئی یہ تو آپ، جو ہے نا ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ تو اس میں آپ ٹینشن میں مبتلا ہوں گے۔ یعنی آپ خواہ مخواہ ایک بات میں...

لیکن اگر آپ کسی ایک ذوق والے کو لے لیں، تو ماشاءاللہ ایک تو وہ آپ کو پہچان لیں گے، آپ کے مزاج کو پہچان لیں گے، اس وجہ سے وہ آپ کے ساتھ وہی بات کریں گے جو کہ آپ کے مناسب ہے۔ اور دوسرا آپ اس کو پہچان لیں گے کہ اس کا ذوق کیا ہے اور وہ کس، کس چیز کا کیا مطلب لیتے ہیں۔ تو آپ کو ان سے استفادہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

اور ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کہ کئی گھروں کا جو مہمان ہوتا ہے، وہ بھوکا سوتا ہے۔ ہاں جی! مطلب یہ ہے کہ وہ ہر ایک کہے گا کہ بھئی یہ تو اس کا مہمان ہے۔ تو اب جو ہر ایک کے ساتھ مطلب اس طرح تعلق رکھے گا، تو جو بھی ہوگا وہ کہے گا بھئی یہ تو فلاں کے ساتھ اس کا تعلق ہے، فلاں کے ساتھ تعلق ہے، تو ان کو پھر وہ فل توجہ نہیں دے گا۔ جبکہ کسی ایک کے ساتھ آپ کا تعلق ہوگا، تو وہ کہے گا کہ بھئی یہ تو ہے ہی میرے ساتھ، تو میں بھی اگر اس کی طرف توجہ نہ دوں تو پھر کیا کروں؟ پھر کیا کرے گا؟ تو وہ بھی خیال رکھے گا۔ اس وجہ سے ان تمام مصلحتوں کی وجہ سے، حضرت نے جو فرمایا، بالکل ٹھیک فرمایا۔ ماشاءاللہ!

اور حکیم صاحب کوئی سوال ہے؟ اچھا ایک سوال آ گیا شاید۔ السلام علیکم۔۔۔ ہاں کٹ گیا۔ اچھا۔۔۔ کوئی باہر سے آ رہا ہے شاید۔ یہ جو آتے ہی کٹ جاتا ہے نا تو اکثر باہر کا ہوتا ہے۔ ہاں۔ السلام علیکم! جی؟ جی، بھیج دیا؟ ٹھیک ہے، اچھا ٹھیک ہے، السلام علیکم۔

اس کے بارے میں میں ذرا تحقیق کر کے آپ کو بتا دوں گا کہ اس نماز، اس ایپ میں ان چیزوں کو کنسیڈر کیا گیا ہے یا نہیں۔ اچھا۔۔۔

سوال: حضرت اقدس، اللہ تعالیٰ آپ کا زکام دور فرمائے، عافیت فرمائے۔ تواضع کی حقیقت کیا ہے اور اپنے اندر کیسے پیدا کریں؟ دل میں اس کو کیسے زور پہ پیدا کیا جائے؟ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650]

جواب: تواضع۔ اصل میں دیکھیں نا انسان کا جو نفس ہے وہ ترفع چاہتا ہے۔ ہاں جی! بزرگی چاہتا ہے، بڑائی چاہتا ہے۔ سب کے اوپر فوقیت چاہتا ہے، یہ اس کی فطرت ہے۔

شیطان پہ نفس نے جو حملہ کیا تو کس طرح کیا؟ اس نے کہا کہ ﴿أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾ [سورۃ الاعراف: 12] اب دیکھ لیں، شیطان نے ایک دعویٰ کیا اور پھر دعوے کی دلیل دی، دلیل دیا۔ اپنی طرف سے۔ ہاں جی! اگرچہ ذوق فاسد تھا، لیکن دلیل تو دی نا۔ دلیل کیا دی؟ چونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے، لہذا میں اس سے افضل ہوں، تو میں اس کو کیسے مطلب جو ہے نا وہ اس کا سجدہ کرتا؟

اب یہ دلیل جو تھی اس کی جو بھی تھی، لیکن اس کی جو نافرمانی تھی، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تھی۔ اور اللہ جل شانہ کا فرمان سب سے اوپر ہے۔ ہاں جی؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان سب سے اوپر ہے۔ تو جب سب سے اوپر ہے تو سب سے اوپر والے کی بات ماننی چاہیے۔ یہ دلیل سب سے مضبوط ہے، کہ جو سب سے اوپر ہے اس کی بات ماننی چاہیے نا، یہی تو بات ہے۔

تو اب اگر وہ اس بات کو سمجھ جاتے، اور اپنے نفس کے اوپر پیر رکھ لیتے، اور اپنی بات کو دبا دیتے کہ میں بڑا نہیں، بڑا وہ ہے جس کو اللہ بڑا سمجھے۔ مطلب مجھ سے، مجھ سے بڑا سمجھے، کیونکہ اللہ کے سامنے تو کوئی کچھ بھی نہیں ہے۔ ہاں جی! تو وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ، تو وہ سمجھ، سمجھ جاتا، لیکن نہیں ہوا۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تواضع میں انسان اپنی جو نفسانی خواہشات ہیں، اس کو کچھ دلائل کے ذریعے سے مانتے ہیں۔ ہاں جی؟ مطلب یہ ہے کہ سمجھتے ہیں کہ میں تو اس وجہ سے آگے ہوں، میں تو اس وجہ سے آگے ہوں۔ تو تکبر پیدا ہوتا ہے، عجب پیدا ہوتا ہے۔

اس کا جواب اس کو دینا چاہیے کہ یہ صفات اگر ہیں بھی، تو کس نے دی ہیں؟ اللہ نے دی ہیں۔ جب اللہ نے دی ہیں تو اللہ تعالیٰ مجھے کیا، مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ کہ میں اپنی بڑائی ظاہر کروں یا عاجزی ظاہر کروں؟ تو اللہ کا حکم یہ ہے کہ میں عاجزی ظاہر کروں۔ لہذا مجھے اب عاجزی اختیار کرنا چاہیے اور ان چیزوں پر شکر ادا کرنا چاہیے۔

مثلاً ایک آدمی عالم ہے، تو عالم ہونے سے انکار تو نہیں کر سکتا۔ مثلاً درس نظامی کا فارغ ہے، تو یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں درس نظامی کا فارغ ہوں۔ اگر اپنے آپ کو عالم نہ بھی کہے، تو درس نظامی کا فارغ تو کہہ سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے اس کا عالم ہونے پر تو ایک درجے میں ہے۔ لیکن اس عالم ہونے کو اپنی بڑائی کا دلیل نہیں بنا سکتا کیونکہ مقبولیت، اصل فائدہ قبولیت کا ہے اور قبولیت کا علم نہیں ہے کہ کون قبول ہے۔ عین ممکن ہے کہ بالکل ان پڑھ آدمی زیادہ قبول ہو۔ اپنی تواضع کی وجہ سے، اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے، وہ زیادہ قبول ہو۔ اس کا چونکہ پتہ نہیں ہے، لہذا میں اپنی بڑائی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

تو اللہ کے حوالے سے، یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمان کے حوالے سے اور اللہ جل شانہ کی حکمت کے حوالے سے، اگر ایک انسان سوچے تو پھر یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ پاک نے مجھے جو صفات دیے ہیں جو مجھ میں ہیں، اس کا شکر مجھ پر واجب ہے۔ اور شکر واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ میں اس کو اللہ کے لیے استعمال کروں، اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کروں۔ اور اس پر بڑائی کا دعویٰ اللہ کی نافرمانی ہے۔ لہذا میں کیوں کروں؟ تو بس اپنے آپ کو سمجھائے۔

یہ وقتی علاج ہے۔ یہ فوری علاج ہے۔ لیکن اصل علاج کیا ہے؟ اصل علاج اپنا پورا سلوک طے کرانا۔ جس میں اس کا پورا پورا انتظام ہے۔ ہاں! جب انسان سلوک طے کر لیتا ہے پورا کا پورا، تو پھر اس کے بعد اس کا نفس ٹھکانے آ جاتا ہے۔ پھر اس کو بھئی اپنے اندر کوئی چیز ہی نظر نہیں آتی۔ ہاں جی! وہ احمد لاٹ صاحب بیان فرما رہے تھے نا رائیونڈ میں اجتماع میں، تو فرمایا کہ جب جو ہے نا، مطلب جس کو کہتے ہیں نا جب دل کے ڈول کا پول کھل گیا تو پتہ چلا کہ ہم تو بالکل خالی ہیں۔ تو واقعی اس طرح ہی ہوتا ہے۔ مطلب ظاہر ہے انسان اگر سمجھ جائے تو پتہ چلے گا کہ بھئی ہم میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ ہاں جی!

یہ جو شور شرابہ ہے وہ صرف اور صرف ہماری نفسانی وہ ہے۔ شور شرابہ ہے۔ ورنہ جس وقت انسان اللہ کی طرف دیکھتا ہے، تو مجھے بتاؤ ادھر چراغ ہے، ادھر ہزار واٹ کا بلب ہے، ادھر یہ مطلب جو ہے نا موم بتی لگی ہوئی ہے، ادھر فلاں ہے۔ ادھر سورج چڑھ گیا، کیوں، سامنے محسوس ہوں گی؟ تو جس پہ توحید کا سورج چڑھ گیا وہ پھر دوسری چیزوں کی طرف اس کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ بھی کچھ ہے۔ ہاں جی! تو لہذا پھر کیسے وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھے گا؟

تو جب تک انسان کو وہ چیز حاصل نہیں ہوتی، اس وقت تک، یعنی جس کو وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کہتے ہیں، اس وقت تک صحیح معنوں میں ان چیزوں سے فراغت نہیں ہوتی۔ لیکن فوری علاج ہو سکتا ہے۔ فوری علاج ہو سکتا ہے، اور یہ فوری علاج کا انسان مکلف ہے، اور یہ عقلی طور پر ہوتا ہے۔ یعنی عقل کے ذریعے سے ہوتا ہے کہ انسان اپنی عقل کو استعمال کر لے اور اپنے دل کو سمجھائے۔

ہمارے مولانا زرگل صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کے پاس کوئی تشریف لائے تھے، میں بھی ساتھ جاتا تھا، بیٹھا ہوا تھا، تو کسی نے پوچھا، حضرت عاجزی کیسے بنتی ہے؟ کہتے ہیں: "یار خلق تہ سڑے عاجز وگڼے کنہ سہ مسئلہ دہ۔" انہوں نے کہا لوگوں، اپنے آپ کو عاجز سمجھ لے نا اور کیا مسئلہ ہے۔ عاجز تو ہے۔ تو انہوں نے کہا، یہ کونسی بات ہے؟ یہ عقلی بات ہے۔ عاجز تو ہے۔ ہم کون سا مطلب جو ہے نا ہمارے پاس۔۔۔ ہم ایک سیکنڈ کا ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ایک سیکنڈ کے بعد ہمارا کیا ہوگا؟ پتہ ہے کسی کو؟ ہاں جی؟ ابھی ہٹا کٹا بیٹھا ہوا ہے، یکدم دماغ میں ایک رگ پھٹ گیا، اور کچھ بھی نہیں، ہسپتال جائے گا، پتہ نہیں ہسپتال میں کس حالت میں پڑا ہوگا، کیا کیا اس کے ساتھ ہوگا، کچھ پتہ ہی نہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے بارے میں کیا جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے اس کے ساتھ؟ ہاں جی؟

لہذا وہ مولانا زرگل صاحب رحمۃ اللہ علیہ والی بات تو بالکل صحیح ہے کہ بس اپنے آپ کو عاجز مان لے نا۔ تو یہ عقلی طور پہ ماننا ہے۔ ہاں البتہ اصل اصلاح جو ہے وہ تو یہی ہے کہ اپنا پورا سلوک طے کرے۔

یا کریم، یا کریم، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ۔

سوال:ایک مختصر سا سوال ہے، پیش کروں آپ کی خدمت میں؟ اچھا، ضرور جی۔ یہ جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک سوال کیا تھا بھائی نے تو یہ میرا سوال بھی اس کے ساتھ متعلق ہے۔ تھوڑا سا مثال سے میں سمجھاتا ہوں۔ زید اور عمرو دونوں کا تعلق ایک ہی شیخ سے ہے۔ ہاں جی۔ تو زید جو ہے وہ اپنا شیخ سنتے ہیں اور بیانات وغیرہ جو بھی ہوں اسی کا ہی سنتے ہیں۔ ہاں جی۔ اور عمرو کا تعلق بھی اسی سے ہے لیکن وہ کسی اور بزرگ کے بیانات بھی سنتے ہیں، اصلاحی بیانات۔ جب کہ وہ تعلق میں بھی پختہ نہیں ہے۔ ہاں جی۔ تو زید اس کو کہہ رہا ہے کہ اگر آپ نے اصلاحی بیانات سننا ہے تو اپنے شیخ کا ہی سنیں۔ تو اس میں کیا کرنا چاہیے؟ [سوال جواب مجلس 4 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 650]

جواب: بالکل یہی بہتر ہے کہ اپنے شیخ کے سنیں، اس کی وجہ یہ ہے۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا فرمایا؟ ظاہر ہے اس دور کے مجدد ہیں تو آخر ان کی بات تو اس مسئلے میں پکی بات ہو گی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جب انسان کسی شیخ سے بیعت ہو جائے تو کافی عرصے تک ان کی صحبت اختیار کرے۔ تاکہ شناسائی ہو جائے۔ آپ کی شناسائی شیخ کو ہو جائے اور شیخ کی شناسائی آپ کو ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ تعلق، مطلب مناسبت بن جائے۔ فرمایا پھر بعد میں دور ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ دور سے بھی وہ تعلق نصیب ہو گا خط کے ذریعے سے، ٹیلی فون کے ذریعے سے، وہ ہو گا۔ لیکن ابتداء میں ذرا اپنی نسبت مضبوط کرنے کے لیے...

اور یہ بھی حضرت نے فرمایا دیکھو سامنے لکھا ہوا ہے کہ بزرگوں کے حالات و مقالات کا مطالعہ اس کا بدل ہے۔ ہاں جی، دوسری صحبت اہل اللہ کی۔ کثرت مقدور ہو اور کثرت کے فراغ نہ ہو تو بزرگوں کے حالات و مقالات کا مطالعہ اس کا بدل ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر اس کا یہ بات ہے کہ اس کے بیانات سننا اور یہ چیزیں دیکھیں۔ تو اب جس بزرگ کے ساتھ اس کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس بزرگ کو ذریعہ بناتے ہیں اس کی تمام اصلاح کے لیے۔ یعنی گویا میں اکثر کہا کرتا ہوں نا کہ کوئی کھڑکی ہے نا، مختلف کھڑکیاں ہیں۔ تو آپ نے جس کھڑکی کو بھی چن لیا تو وہاں پر آپ کے لیے وہ چیز رکھ دی جائے گی۔ مطلب یہ ہے اللہ پاک کا نظام ہے۔ تو آپ نے جس شیخ کو بھی چن لیا تو اب اللہ پاک آپ کے... تو اب یہ ہے کہ جس وقت آپ اپنے شیخ کے سنیں گے تو اس میں آپ کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا کیونکہ اس میں آپ کے لیے وہ سامان موجود ہو گا جو کہ آپ کو چاہیے ہو گا۔

دوسرے حضرات کے سننے سے علم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ تربیت والی بات اتنی نہیں ہو گی جتنی کہ تربیت... اور انسان کو زیادہ ضرورت تربیت کی ہے۔ کہ مطلب اس کی تربیت ہو جائے۔ تو لہٰذا اپنے شیخ کے جو بیانات سننا ہے وہ زیادہ مناسب ہے، اس سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ دوسروں کی... دوسروں کے بیانات سے انکار کر کے نہیں، اس کو کم کہہ کے نہیں، ان کو غلط کہہ کے نہیں۔ یہ اس کا یہ نہیں مطلب، یعنی جس کو کہتے ہیں نا، وہ یعنی جس کو کہتے ہیں، اجازت نہیں ہے کہ ہم کسی کو کم کہیں۔ وہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون افضل ہے اور کون افضل نہیں ہے۔ وہ تو اللہ کو پتا ہے۔ لیکن آپ کے لیے وہی ہے۔

اس کا میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ یہ ہزارے کی سائیڈ پر ایک بزرگ تھے۔ ان کا ایک مرید تھے۔ وہ ہزارے کا علاقہ جو ہے نا، پہاڑی علاقہ ہے۔ تو آپ جو ہے نا، مطلب ہے کہ آپ ایک پہاڑ سے نیچے اترتے ہیں، پھر دوسرے پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔ مطلب اس طرح یہ چیزیں وہاں پر یہ نظام... یہ پکھلئی کا علاقہ کے قریب تھے نا مطلب۔ تو وہاں تو ایسا ہی ہے۔ ہاں جی۔ تو اس پر جو ہے نا وہ ایسا ہوا کہ وہ جا رہا تھا تو پیچھے سے ایک شخص نے آواز دی۔ رات کا وقت تھا۔ وہ دوائی لے جا رہا تھا اپنے شیخ کے لیے۔ تو پیچھے سے کسی نے آواز دی کہ آ جاؤ، اس نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ تو پھر آواز... اس نے آواز دی، میں خضر ہوں۔ اس نے پھر بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ تیسری دفعہ اس نے کہا، میرے پاس تو لوگ بڑی منت کر کے پہنچتے ہیں، آپ کو میں خود آواز دیتا ہوں آپ نہیں آتے۔ تو اس نے بغیر دیکھے یہ کہا میرا خضر ادھر ہے۔ میرا خضر ادھر ہے۔ مطلب یعنی وہ جب جہاں جن کے پاس میں جا رہا ہوں میرا خضر وہ ہے۔ تو وہ جب یہ پہنچے تو حضرت کو اس کی اطلاع ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے اللہ پاک کا اپنا نظام ہے۔ اس کی اطلاع ہو گئی اور ماشاءاللہ پھر ان کو خلافت عطا فرمائی۔ ٹھیک ہے نا؟

مطلب اس کو ظاہر ہے پکا یعنی وہ جس کو کہتے ہیں نا، پکا ثابت ہو گیا نا۔ پکا ثابت ہو گیا۔ تو اس میں پکا ہونا بڑی بات ہے کہ انسان بالکل یعنی جس کو کہتے ہیں ہلے جلے نہیں اور جس کو ہم کہہ سکتے ہیں یک گیر و محکم گیر، جیسا ہمارے بزرگ فرماتے ہیں، ایک کو پکڑو، مضبوطی سے پکڑو۔ ہاں جی۔ تو پھر کام بن سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے جس نے جس کو بھی وہ کیا ہے، پکڑا ہے، بس پھر اس کے بعد پھر وہ کر لے۔

ہاں البتہ ان کے ساتھ اگر رابطہ بالکل نہ ہو سکے یا ان سے فیض نہ لے سکے اور پھر اس کے بعد وہ بدلنا چاہے تو پورا پورا بدل لے پھر۔ پھر ایسا نہ ہو کہ مطلب جو ہے نا، کبھی ادھر اور کبھی ادھر، یہ والی بات نہ ہو۔ کیونکہ بعض دفعہ بعض کو ایک ساتھ مناسبت نہیں ہوتی، صرف غلطی سے، سنی سنائی طریقے سے کوئی بیعت ہو جاتا ہے نا۔ مثلاً ماحول میں بیٹھے ہیں اور سب لوگ بیعت ہو رہے ہیں اور وہ بھی بیعت ہو جائے۔ تو وہ بیعت ہونا by choice نہیں ہے۔ مطلب وہ صرف ایک جس کو کہتے ہیں، ماحول کی وجہ سے وہ ہو گیا، ایک ابال سا آ گیا اور اس کی وجہ سے... ایسے لوگوں میں بہت سارے لوگ ہیں وہ بعد میں کہتے ہیں پتا نہیں کہ ہم بیعت بھی ہوئے ہیں یا نہیں ہوئے۔ تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ باقاعدہ choice کی وجہ سے تو بیعت نہیں ہو چکے ہوتے نا۔ وہ صرف ایک ماحول کی وجہ سے بیعت ہو چکے ہوتے ہیں۔

تو جو ماحول، جو باقاعدہ choice سے بیعت ہوتے ہیں نا، وہ واقعی بیعت ہونا ہے۔ تو اگر کسی کو اپنا choice for example مل جائے، اور وہ پھر اپنے choice کے مطابق بیعت ہو جائے تو پھر ادھر ادھر بالکل نہ جائے۔ بس پھر ادھر ٹک جائے۔ اور ساری عمر پھر اسی کے ساتھ رہے۔ اسی میں پھر فائدہ ہے اور اس میں کامیابی ہے۔ جی حضرت۔ میرے خیال میں چھ ستائیس ہو گئے ہیں۔ جی کافی ہے۔ اچھا۔ پھر ذکر کرتے ہیں۔













سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب