اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰى خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ
اَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے، پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ احوال جن کے ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی عرض کیا جاتا ہے۔
سوال 1: السلام علیکم محترم مرشدی! امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ حضرت جی! سارے اذکار پورے ہو گئے مہینے کے لیے، دو، چار، چھ، چار ہزار، تمام لطائف پر دس دس منٹ کا مراقبہ ہے۔
﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ﴾ کا مفہوم پندرہ منٹ۔ اس مراقبہ کے بعد مجھے وقوفِ قلبی والی کیفیت مزید اور بڑھ گئی اور موت کا خیال بھی ہمیشہ رہتا ہے۔ حضرت جی! اگلے کا کچھ حکم، جزاک اللہ خیر۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: ما شاء اللہ یہ مراقبہ جاری رکھیں اور یہ مفید مراقبہ ہے، ایک مہینے کے لیے اور کر لیں۔
Question 2: Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu from Singapore. I have restarted my main amaal since the last 11 days. I am experiencing bad dreams, attacks since the last 4 to 5 days on daily basis. I seek your guidance and advice.
Question and Answer Session, 25 December 2023, Session No. 653
Answer: Before going to sleep you should recite Mu'awwidhatayn three times, and Ayatul Kursi three times. And
﴿حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ نِعْمَ الْمَوْلىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ﴾
three times. And then go to sleep. And if you see some bad dream, so after getting up you should say أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ and spit to the left side and forget about it.
سوال 3: میں کبھی کبھی ٹی وی بھی دیکھتی ہوں اور بیعت بھی کر چکی ہوں، کیا ٹی وی دیکھنا زیادہ گناہ کا کام ہے؟
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اللہ اکبر! میں نےٹی وی کے بارے میں اپنے شیخ سے پوچھا تھا بیعت کے وقت تو حضرت نے فرمایا:" میں تو نہیں دیکھتا"۔ بس اشارہ کافی ہوتا ہے بندے کے لیے۔ میں سمجھ گیا تو پھر میں نے نہیں دیکھا۔
لاہور میں ایک بہت learned خاتون تھیں، 65سال کی عمر تھی، وہ مجھ سے بیعت ہو گئیں۔ وہ بہت learned خاتون تھیں، انہوں نے مجھ سے exactly یہی سوال کیا کہ ٹی وی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیونکہ ان کے گھر میں چوبیس گھنٹے ٹی وی چلتا تھا، ماڈرن گھرانہ تھا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے یہ بات حضرت سے سنی ہے، حضرت نے فرمایا: میں تو نہیں دیکھتا، تو میں آپ سے بھی یہی کہتا ہوں۔ وہ سمجھ گئیں، تو پھر کیا کریں گے؟ مطلب بعض لوگوں کے ماحولوں میں یہ چیزیں اتنی رچی بسی ہوتی ہیں کہ اس کے بغیر دنیا کو، لائف کو بالکل خالی خیال کرتے ہیں کہ لائف پھر کیسے چلے گی۔ تو اس وقت میں نے کہا کہ ذکر کریں گے ان شاء اللہ۔ تو اس پر اس خاتون نے کہا کیا ہر وقت ذکر کر سکیں گے؟ سوال اپنی جگہ بجا ہے۔ میں نے کہا ان شاء اللہ، بس میرے بس میں تو یہی تھا میں کیا کہہ سکتا تھا۔
تو بس خدا کی شان اللہ پاک نے ان الفاظ کی لاج رکھ لی، اور چالیس دن کا ذکر جو میں نے دیا تھا، جو میں دیا کرتا ہوں، اس کے ختم ہونے کے بعد میں خواتین کو مراقبہ بتاتا ہوں قلبی ذکر کا، تو میں نے قلبی ذکر کا جیسے بتایا ان کا اسی وقت ہی شروع ہو گیا اور مسلسل چلتا رہا الحمد للہ۔ بڑی اچھی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو موت نصیب فرمائی، آخر عمر اللہ تعالیٰ نے اچھی کر دی۔ تو بس اس طرح اللہ پاک سے اچھی امید رکھیں اور خیر کے کاموں کی طرف بڑھیں اور شر کے کاموں سے ہجرت کریں۔ اللہ توفیق عطا فرمائے۔
سوال 4: حضرت السلام علیکم!
Flan from Bahawalpurحضرت اس مہینے کی کارگزاری پیشِ خدمت ہے، نفی اثبات سو، ﴿لا الہ الا ھو﴾ سو، اسمِ ضمیر سو، حق سو، "حق اللہ" سو، مراقبہ دعائیہ پندرہ منٹ، مراقبہ فنائیہ پندرہ منٹ، خاموش اسمِ ذات ایک منٹ، مراقبہ آیۃ الکرسی پانچ منٹ، اسمِ ذات اڑتالیس ہزار، بلا ناغہ جاری ہے۔ الحمد للہ تین دن تیز بخار کی وجہ سے مراقبات نہیں ہو سکے باقی معمولات جاری ہیں۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: ما شاء اللہ آپ اسی کو جاری رکھیں اللہ تعالیٰ ہمت عطا فرمائے اور اللہ پاک آپ کو صحت بھی عطا فرمائے۔
سوال 5: السلام علیکم حضرت شاہ صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے، آمین۔
نمبر ایک: والدہ محترمہ کا چالیس دن کا ابتدائی ذکر آپ کی برکت اور فیض سے مکمل ہو گیا ہے۔ والدہ محترمہ عمرے کے لیے مکہ مکرمہ میں اس وقت موجود ہیں، مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔
نمبر دو: ساس صاحبہ کے لطیفہ قلب، روح، سر کا دس منٹ اور خفی کا پندرہ منٹ کا مراقبہ تھا، ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے، چاروں جگہ "اللہ اللہ "محسوس ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ رات کو جب بستر پر نیند کے لیے لیٹتی ہیں تو لطیفہ قلب پر ذکر خود بخود جاری ہو جاتا ہے۔ مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: ما شاء اللہ، اب ان کو بتا دیں کہ چاروں لطیفوں پر دس منٹ اور لطیفہ اخفیٰ پر پندرہ منٹ کا ذکر شروع کر لیں، اور یہ ہے کہ جو والدہ صاحبہ ہیں ان کو میرا سلام بھیجیں اور ان سے کہیں کہ عمرے میں جب مکہ مکرمہ میں ہوں تو سب سے بڑا کام طواف کا ہے اگر کر سکے کوئی۔ اور اس کے بعد پھر نمازیں ہیں اور اس کے بعد پھر خانہ کعبہ کو دیکھنا ہے۔
تو جتنا وقت اس میں گزار سکیں گزاریں اور اپنے آپ کو وہاں ادھر ادھر پھرنے سے بچائیں، یا کام کریں یا آرام کریں۔ یہ سلسلہ چلتا رہے اور قرآن پاک کی تلاوت بھی وہاں اگر ہو سکے تو قرآن پاک کی تلاوت اور خانہ کعبہ کو دیکھنا ساتھ ساتھ چلتے رہیں۔ اور یہ ہے کہ مدینہ منورہ اگر ابھی نہ گئی ہوں تو مدینہ منورہ میں ہماری طرف سے سلام بھی کہیں اور یہ ہے کہ وہاں درود شریف کثرت سے پڑھیں اور مسجدِ نبوی میں زیادہ سلام کی کثرت کریں، اور قرآن پاک کی تلاوت کر کے اس کا ایصالِ ثواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کر لیا کریں۔ اور ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
سوال 6: السلام علیکم حضرت! آپ نے میرے میسج کا نہیں reply کیا۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
سبحان اللہ! (دیکھتے ہیں کیا میسج تھا ان کا)
جواب: ہمارے ہاں خوابوں پر اتنا زیادہ انحصار نہیں ہوتا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے خوابوں کے بارے میں:
نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیثِ خواب گویم
من غلامِ آفتابم ہمہ ز آفتاب گویم
"میں نہ رات ہوں اور نہ رات کا پرستار ہوں کہ اس کی باتیں کروں میں تو آفتاب کا غلام ہوں اور دن کی باتیں کرتا ہوں"
یعنی دن کے وقت جو کام کرنے ہوتے ہیں ان کو میں کرتا ہوں۔ تو اچھے اچھے خواب بھی اگر آ جائیں تو کیا؟ اصل میں تو اعمال ہیں۔ البتہ اچھے خواب آ جائیں تو شکر کریں، برے خواب آ جائیں تو أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ پڑھیں۔ آپ کو جواب مل جائے گا، یہ میں نے اس لیے کہا کہ آپ نے جو بہت یعنی تعجیل کا معاملہ کیا خوابوں کے ساتھ تو یہ ہمارے ہاں نہیں ہے، ہم خوابوں کے اوپر اتنا انحصار نہیں کرتے۔ اپنے اعمال کے بارے میں اطلاع کر لیا کریں وہ زیادہ بہتر ہے۔
سوال 7: دو سو، چار سو، چھ سو، ساڑھے تین ہزار والا ذکر مکمل ہو گیا ہے۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اب ما شاء اللہ چار ہزار کر لیں، باقی وہی۔
سوال 8: السلام علیکم حضرت! یہ ہے کہ اسلام میں اخلاص اور حسنِ نیت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ شریعت مسلمانوں کو تمام حالات میں خلوصِ نیت کی ترغیب کے ساتھ اہلِ ایمان کو تمام ظاہری و باطنی اقوال، افعال، اعمال اور احوال میں نیت کو مستحضر رکھنے کا، ٹٹولتے رہنے اور اخلاص کو برقرار رکھنے کا درس دیتی ہے۔ بری نیت سے اچھا عمل بھی خراب ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی دینی کام بری نیت یعنی نمود و نمائش اور فخر کے لیے کر چکا ہو تو اس کی تلافی کیسے کی جا سکتی ہے؟ عام مسلمان، مبتدی اور منتہی حضرات اپنے اندر مطلوبہ اخلاص کن کن طریقوں سے حاصل کر کے اس پر قائم رہ سکتے ہیں تاکہ عبادات کے ساتھ معاملات، دنیاوی محبت، رزقِ حلال، تجارت وغیرہ بھی ثواب کا ذریعہ بن جائیں؟ جزاک اللہ۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اچھا سوال ہے ما شاء اللہ! لیکن ہمیں جڑ سے اس کو پکڑنا ہو گا اور جڑ سے پکڑنا یہ ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو ہمیں اخلاص پہ نہیں آنے دیتی؟ کوئی وجہ تو ہو گی نا، کوئی reasonہے۔ تو وہ ہمارا نفسِ امارہ ہے اور شیطان ہے۔ شیطان detract کرتا ہے, نفسِ امارہ کی اپنی خواہشات ہیں ان کی priority ہوتی ہے۔ وہ اس کی طرف ذہن کو لے جاتا ہے۔ اب جیسے مثال کے طور پر لوگوں کی تعریف یہ فوری ہے اور اللہ جل شانہ کی قبولیت کا پتہ چلنا یہ بعد میں ہے۔ تو لوگ نفسِ امارہ میں جب ہوتے ہیں تو فوری چیز کی طرف جاتے ہیں۔ جیسے اللہ پاک نے فرمایا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ﴾ ہرگز نہیں بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو پسند کرتے ہو اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔ یہ اللہ پاک نے فرمایا ہے۔ تو یہ چیز تو ہے۔ تو جو فوری چیز ہے وہ تو یہی ہے دنیا کی چیزیں ہیں۔ اور اخلاص یہ اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے جو بعد میں آنے والی ہے۔ تو لہذا انسان پیچھے رہ جاتا ہے، اخلاص چھوڑ دیتا ہے۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی تو فرمایا تھا، ان سے جب پوچھا گیا حضرت! آپ بھی وہی اعمال کر رہے ہیں جو ہم کر رہے ہیں لیکن آپ آپ ہیں اور ہم ہم ہیں، ایسا کیوں؟ تو حضرت نے فرمایا کیونکہ تم جو اعمال کرتے ہو وہ تمہارا نفس کھا جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے نفس ہی بنیادی مسئلہ ہے۔ تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا ہے؟ سلوک طے کرنا ہے۔ اس کے لیے سلوک طے کرنا ہے۔ سبحان اللہ! یہ مقامِ تسلیم اور مقامِ رضا، یہ سب سے اخیر میں حاصل ہوتا ہے، تو جب تک یہ حاصل نہ ہو تو اخلاص کیسے حاصل ہو گا؟ تو اس کے لیے کوشش تو جاری رہے گی۔
البتہ ایک ہوتی ہے عقلی approach جو فوری ہو سکتی ہے اور ایک ہوتی ہے شریعت کا طبیعت بن جانا، یہ بعد میں ہوتا ہے۔ یعنی وہ تو پوری اصلاح کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ تو فوری چیز تو اب بھی ہو سکتی ہے اور وہ کیا ہے؟ انسان اپنے عمل کی ابتدا میں سوچے کہ کہیں اس میں دنیا کی نیت تو نہیں ہے؟ اگر نہیں ہو تو شکر کرے اور اگر ہو تو استغفار کر لے اور توبہ کرے اور اس سے ہٹ جائے۔ پھر درمیان میں عمل کے کر لے۔ پھر ایسا کر لے، پھر اخیر میں کر لے۔ تو اس طرح ہر عمل کے ساتھ کرتے جائیں، تو یہ ایک فوری حل ہے کیونکہ انسان اس کا مکلف ہے۔ البتہ اصل حل یہی ہے کہ انسان کو نفسِ مطمئنہ حاصل ہو جائے۔ تو اس کے لیے پھر کوشش کرنی چاہیے۔ تو آپ بھی یہی کر سکتے ہیں، گزشتہ کی تلافی استغفار اور توبہ سے ہو سکتی ہے اور آنے والے کے لیے دعا کے ذریعے سے اور ہمت کے ذریعے سے، یہ کام ہو سکتا ہے تو اس کے لیے کوشش کریں۔
ہماری باتیں پھیکی پھیکی ہوتی ہیں نا، بہت زیادہ دلچسپ باتیں نہیں ہوتیں، کیا کریں دین تو سادہ ہے۔ بہت زیادہ مرچ مصالحے کی وہ نہیں ہے۔
سوال 9: السلام علیکم! گروپ ممبر نے سوال کیا ہے کہ فلسطین کا معاملہ چونکہ طول پکڑ رہا ہے، اگر ہم فلسطین کے متعلق ویڈیوز وہاں کے حالات یا لوگوں کے تجزیے والی ویڈیو نہ دیکھیں تو دعا اور بائیکاٹ کی شدت میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے۔ ساتھ یہ بھی احساس ہے کہ ان ویڈیوز سے بدنظری ہوتی ہے تو کیا ہم یہ ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں، اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں؟
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: بھئی بات یہ ہے کہ اس پہ ڈسکشن میں نہیں کروں گا کہ ویڈیو کیا چیز ہے۔ یہ طویل بحث بن جائے گی۔ اتنا میں عرض کروں کہ جو گناہ کی چیز ہے اس کے ذریعے آپ کوئی نیک کام کریں تو اس پہ کوئی ثواب نہیں ہو گا۔ وہ ہمارے پشتو میں بڑے مشکل ضرب الامثال ہیں؛
"په متیازو غول مینځل" یعنی "پیشاب کے ذریعے سےبول و براز کو صاف کرنا"۔ تو یہ بھی ناپاک ہے، یہ بھی ناپاک ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ کیسے؟ تو اس وجہ سے مطلب اس کے بارے میں میں کہوں گا کہ اگر کسی کا دل واقعی درد کر رہا ہو تو اس کے لیے تو صرف پیغام کافی ہے۔ اس کے لیے ویڈیو کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ جو پرانے دور میں ویڈیوز تھیں؟ وہ جو محمد بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ کے وقت میں حجاج بن یوسف نے خط پڑھا تھا اس خاتون کا جس کو راجہ داہر کی فوجوں نے بے عزت کیا تھا۔ تو اس پر اس نے اتنے بڑے جہاد کے لیے لشکر تیار کر لیا اپنے بھتیجے کو بھیجا محمد بن قاسم کو۔ تو کیا خیال ہے ویڈیو دیکھی تھی انہوں نے؟ سلطان صلاح الدین ایوبی ویڈیو دیکھ رہے تھے؟ یہ تو ہماری شیطانی خواہشات ہیں جو ہمیں ان چیزوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ لہذا ہمیں نیک کاموں کو اس کے اوپرdependنہیں کرنا چاہیے۔
حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے کہا، اس وقت کے بڑوں نے کہا کہ حضرت آپ ٹیلی ویژن پر اسلام کی دعوت دے کر بہت کام کر سکتے ہیں، یہ بہت موثر ذریعہ ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ
:" ہمیں اللہ پاک نے گناہ کے ذریعے سے دین کو پھیلانے کا مکلف نہیں کیا"۔ ناجائز کاموں کے ذریعے سے دین کو پھیلانے کا مکلف نہیں کیا۔ جو جائز طریقے سے ہو سکتا ہے بس وہ ٹھیک ہے کافی ہے۔ جتنا ہو سکتا ہے۔ ضروری تو نہیں ہے نا کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ۔۔۔ پیغمبر وں کی لوگ باتیں نہیں مانتے تھے۔ تو کیا خیال ہے پیغمبر -نعوذ باللہ- ان کے لیے پھر غلط کام کر دیتے یا غلط طریقہ استعمال کرتے؟ نہیں مانتے حتیٰ کہ شہید ہو جاتے، اور یا ویسے وہ ان کی باتیں لوگ نہیں مانتے، نوح علیہ السلام کتنا عرصہ تبلیغ کرتے رہے لیکن لوگ نہیں مانے حتیٰ کہ ان کا بیٹا بھی نہیں مان رہا تھا۔ لیکن ان کی پیغمبری تو کہیں نہیں گئی نا، نہ انہوں نے غلط طریقہ اختیار کیا۔ تو ہم صرف صحیح کاموں کے مکلف ہیں، غلط کاموں کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی اس سے متاثر نہیں ہوتا تو اس کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ کیا سو فیصد یقین ہے کہ اس سے لوگ وہ کریں گے؟ نہیں! تو جب یہ والی بات ہے تو خواہ مخواہ ایک مشکوک کام کے اوپر ہم کیوں اپنا وقت لگائیں؟ تو اس وجہ سے ویڈیوز میں واقعی بدنظری بھی ہو جاتی ہے اور برکت اٹھ جاتی ہے، جو خیر کی جو برکت ہے وہ اٹھ جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں ایسی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ پیغام دینا چاہیے اور اس کے لیے اچھے ذرائع ڈھونڈنے چاہئیں جس پہ depend کیا جا سکے۔ اب مفتی محمدمختار الدین شاہ صاحب ویڈیوز تو نہیں دیکھتے لیکن انہوں نے بڑا اچھا بیان دیا، وہ جو چیف صاحب نے وہ کہا نا کہ دو ریاستی حل، فرمایا کہ اگر مدد نہیں کر سکتے تو دل تو نہ دکھائیں نا۔ تو ٹھیک ہے مطلب ظاہر ہے انہوں نے ویڈیوز تو نہیں دیکھیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان ذرائع پہ اتنا زیادہ وہ نہیں کرنا چاہیے۔
سوال 10: السلام علیکم! دو سو بار ﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾، چار سو بار ﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ﴾، چھ سو بار حق، حق سو بار اللہ، پورا ہو گیا ہے۔
[سوال جواب مجلس، 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: ما شاء اللہ ما شاء اللہ! دو سو، چار سو، چھ سو اور تین سو، تین سو مرتبہ اللہ اللہ کر لیا۔ اب دو سو، چار سو، چھ سو اور تین سو، پھر تین سو بار اللہ اللہ کر لیا کریں۔ ایک مہینے کے لیے۔
سوال 11: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی! میں آج کل بہت زیادہ ذہنی انتشار کا شکار ہوں، کچھ قریبی رشتہ دار میرے ہر اس کام میں خامیاں نکالتے ہیں جو کہ میں خالص اللہ کے لیے کر رہی ہوں۔ جو دین کی خدمت میں ہیں وہ دنیا کو دیکھتے ہیں، میں خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی ہوں جس کی وجہ سے میں ذہنی انتشار کا شکار ہو گئی ہوں اور خود کو ایک ایسی جگہ پر محسوس کرتی ہوں جہاں میرے لیے آگے بہت رکاوٹیں ہیں، جسے میں ختم نہیں کر سکتی اور نہ میرا دل پیچھے جانے کو چاہتا ہے، کیونکہ جہاں سے میں آئی ہوں میں وہاں دوبارہ جانا نہیں چاہتی۔ حضرت! ایسی مشکلات میں خود کو کیسے نارمل رکھوں؟ آپ اصلاح فرمائیں۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اللہ اکبر! لوگوں سے توقع کرنا چھوڑ دیں۔ آپ جب کام اللہ کے لیے کر رہے ہیں تو پھر اللہ کے لیے کریں نا۔ مطلب پھر لوگوں کی طرف نظر کیوں ہے؟ یہی تو بات تھی پیغمبروں میں کہ وہ لوگوں پہ نظر نہیں رکھتے تھے۔ ﴿إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ﴾ ہمارا اجر تو اللہ پر ہے۔ تو اس وجہ سے لوگوں سے آپ کسی تعریف کی طلب نہ رکھیں، نہ آپ یہ سوچیں کہ وہ میری مخالفت نہ کریں۔ اگر آپ کی مخالفت ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے آپ کے کام قبول ہو رہے ہیں ان شاء اللہ کیونکہ اچھے لوگوں کو کاموں میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ تو آپ بالکل پروا نہ کریں لوگوں کی۔ جو کام حق ہے اور سچ ہے اس کو کرتی رہیں، اس کی بے شک تعریفیں ہوتی رہیں پھر بھی کرتی رہیں، نہ ہوتی ہوں پھر بھی کرتی رہیں اور مخالفت ہو پھر بھی کرتی رہیں۔ مطلب اس میں ہم کسی اور کے اوپر depend نہیں کر رہے ہیں۔
آپ تو ما شاء اللہ بہت اچھے حال میں ہیں، میں تو جن حالات سے گزرا ہوں وہ تو مجھے پتہ ہے۔ یہ وہ نمازوں کے اوقات کیcalculations وغیرہ پر جو میں کام کر رہا تھا تو ایسے ایسے لوگ مخالفتیں کر رہے تھے میں حیران ہوتا تھا۔ یعنی ایک بہت بڑے مدرسے کا میں وہ نکال رہا تھا وہ احسن الفتاویٰ جلد دوم اس مقصد کے لیے، اشو کر رہا تھا۔ مجھے کہتے ہیں آپ کیوں اس کو اشو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میں نمازوں کے اوقات پہ کام کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں کون سے لغو کام کے اوپر آپ نے کام شروع کیا؟ بتاؤ! اتنے بڑے عالم، لائبریری کے انچارج وہ مجھے ایسا کہتے ہیں۔ تو اب ما شاء اللہ وہ ڈیمانڈ پوری نہیں ہو رہیں اتنی جگہوں سے ڈیمانڈیں آ رہی ہیں، ہر جگہ سے الحمد للہ وہ ہے۔ تو ایک وقت تو گزر گیا بس، ہمیں کیا لوگوں سے کیا؟
سوال 12: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اختیاری مجاہدہ اور غیر اختیاری مجاہدہ کیا ہیں؟ وضاحت فرمائیں۔ جزاک اللہ۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اختیاری مجاہدہ وہ ہوتا ہے جس میں آپ اپنے ارادے سے کوئی مجاہدہ اختیار کریں، مثلاً کھانا کم کھانا مجاہدہ ہے، کم سونا مجاہدہ ہے، کم بولنا مجاہدہ ہے، کم لوگوں سے ملنا جلنا مجاہدہ ہے۔ مختلف مجاہدات ہیں، تو یہ اختیاری مجاہدات ہیں۔ غیر اختیاری مجاہدہ یہ ہوتا ہے جو آپ کے بس میں نہ ہو خود بخود آئے اللہ کی طرف سے۔ مثلاً کوئی بیمار ہو جائے، کسی پہ کوئی کیس ہو جائے، کوئی ویسے مارے، کوئی اور مطلب اس کے لیے، یہ سب غیر اختیاری مجاہدات ہیں۔ تو غیر اختیاری مجاہدات جو ہوتے ہیں ان کی تشکیل اللہ کرتے ہیں، لہذا وہ زیادہ valuable ہیں، ان سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن آ بیل مجھے مار والی بات نہیں ہونی چاہیے، آپ خود مجاہدہ نہ مانگیں اللہ تعالیٰ سے، اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگیں۔ لیکن اگر اللہ پاک نے مجاہدہ بھیج دیا اسی میں بہتری ہو گی۔ لیکن مانگنا عافیت ہے۔ ٹھیک ہے یہ بات ہے۔
Question 13: Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu respected Hazrat Sahib I pray that you and your beloved ones are well. Ameen. Hazrat I have completed this month's zikr without miss Alhamdulillah. Verbal zikr 200 times la ilaha illallah, 400 times la ilaha illahu, 600 times haq, and 1000 times Allah. Muraqaba 20 minutes muraqaba Allah Allah on latifa-e-qalb. Regarding muraqaba I feel the zikr much more compared to last month but most times I do not and my mind goes elsewhere.
Question and Answer Session, 25 December 2023, Session No. 653
Answer: Continue this for the next one month that you feel you hear saying Allah Allah very clearly.
سوال 14: السلام علیکم! میرے چار لطائف کے مراقبات جاری ہیں، پانچ پانچ منٹ لطیفہ قلب، روح اور سر پر، اور دس منٹ خفی پر، ہر لطیفہ پر اللہ اللہ یا فیض کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔ اضافی یہ ہے کہ لطیفہ روح پر کبھی کبھی ویسے ہی لیٹے ہوئے فیض کی ٹھنڈک محسوس ہو جاتی ہے۔ آگے بتا دیجیے۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: سبحان اللہ! اب یہ پانچواں مراقبہ جو ہے اس پر بھی آپ کوشش کر لیں پندرہ منٹ لطیفہ اخفیٰ پر، باقی پہ آپ وہ جیسے پہلے کر رہے تھے پانچ پانچ منٹ لطیفہ قلب اور روح، سر پر اور دس منٹ لطیفہ خفی پر اور پندرہ منٹ لطیفہ اخفیٰ پر۔ اب لطیفہ اخفیٰ پر پندرہ منٹ شروع کر لیں اور باقی پھر ویسے جیسے کہ آپ کرتے رہیں۔ ان شاء اللہ۔
سوال 15: السلام علیکم حضرت! آپ نے مجھے اپنے عیوب پر سوچنے کا فرمایا تھا، جو پہلا عیب مجھ میں خود میں ملا وہ یہ کہ مجھے اپنی تعریف کرنا اچھا لگتا ہے کہ لوگ میری تعریف کریں اور مجھے اچھا سمجھیں، اس کی اصلاح فرما دیں، جزاک اللہ۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اصل بات یہ ہے کہ لوگوں سے تعریف کا چاہنا یہ اخلاص کے منافی ہے۔ خود اگر لوگ تعریف کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن چاہت نہیں ہونی چاہیے۔ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے آپ خود سوچیں کہ اگر یہ سارے لوگ میری تعریفیں کریں اور اللہ پاک کے ہاں میں ایسا نہ ہوں تو مجھے اس کا کیا فائدہ؟ کوئی فائدہ ہو گا؟ چلیں آپ خود ہی بتائیں، مجھے میسج کے ذریعے بتا دیں کہ اس کا کیا فائدہ ہو گا؟ پھر ان شاء اللہ بات کروں گا۔
سوال 16: السلام علیکم محمد فاروق نام ہے، راولپنڈی سے ہوں۔ حضرت! سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی جو جدید ترتیب ہے پیج نمبر 23 پہ، اس میں حضرت آپ نے کچھ چار مجاہدات کا ذکر کیا تھا، ایک طعام، منام، کلام اور جو چوتھا ہے جی اس کی سمجھ نہیں آئی۔ تقلیلِ خلط مع الانام کی سمجھ نہیں آئی۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: تقلیلِ خلط مع الانام، مطلب انام سے مراد ہے عوام، یعنی عام لوگوں کے ساتھ جو ملنا جلنا ہے اس کو کم کرنا۔ کیونکہ دیکھیں نا اصل میں ہوتا کیا ہے؟ ہوتا یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے سے چوری کرتا ہے۔ نفسیات والے ماہرین کہتے ہیں۔ تو اب ہر قسم کے شخص کے ساتھ ملیں گے تو اس کے دل کا آپ کے اوپر اثر ہو گا۔ نتیجتاً وہ چونکہ، مجھے بتاؤ ماحول میں زیادہ اچھے لوگ ہیں یا برے لوگ ہیںstatistically زیادہ اچھے لوگ ہیں یا برے لوگ ہیں؟ برے زیادہ ہیں۔ تو ظاہر ہے بس عام لوگوں سے openly ملتے جائیں گے تو اس میں مسائل پیدا ہوں گے۔
سوال 17: اور حضرت ایک دوسرا سوال ہے جی، ایک ہیں مقاماتِ سلوک اور مناصبِ سلوک؟ اصل میں مناصبِ تکوینی جی اور مناصاتِ سلوک اور مناصبِ تکوینی؟
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: مناصب تو منصب کی جمع ہے نا، اس کی میرا خیال ہے وہ آپ کو تشریح کی ضرورت نہیں ہے،البتہ مقاماتِ سلوک کی تشریح جو ہے نا وہ ہو سکتی ہے کیوں کہ منصب جس کو دیا جائے پھر اس کو بتایا جائے گا البتہ یہ ہے کہ آپ مقامات کی بات جو کر رہے ہیں وہ اصل میں سٹیشنز ہیں، یعنی کوئی اسٹیبلش ہو جائے نا ایک چیز، مثلاً توبہ؛
مقامِ توبہ؛ توestablish ہو جائے یعنی ایسی توبہ شعوری طور پر کہ انسان پھر اس کو نہ کرے۔ ٹھیک ہے نا۔
اور مقامِ انابت؛ یعنی establish ہو جائے کہ جس کام کا ارادہ کیا اس کے لیے اسباب اختیار کرنا شروع کر دے۔ ٹھیک ہے نا۔
مقامِ ریاضت؛ وہ یہ بات ہے کہ انسان سستی کو چھوڑ کے چستی اختیار کر لے۔
مقامِ قناعت؛ یہ بات ہے کہ حرص کو چھوڑ کر قناعت اختیار کر لے ہر چیز کے اندر۔
مقامِ صبر؛ ایک وہ ہے کہ انسان بے صبری اور تعجیل کو چھوڑ کے صبر اختیار کر لے۔
مقامِ زہد ؛وہ ہے کہ انسان زیادہ چیزوں کی طلب چھوڑ کر کم پر اپنا گزارا کرنا شروع کر لے، establishکر لے۔
مقام جو تقویٰ کا تو بتا دیا نا مقامِ تقویٰ کا کہ فجور وغیرہ چھوڑ دے یعنی برائی مطلب۔
مقامِ توکل؛ وہ ہے کہ انسان بھروسہ اللہ تعالیٰ پہ رکھے اسباب پہ نہ کرے، اسباب اختیار ضرور کرے لیکن بھروسہ ان پہ نہ کرے۔
اور مقامِ تسلیم ؛وہ ہے کہ انسان ہر چیز کو قلباً حالاً قالاً جو شریعت کی ہے وہ تسلیم کر لے۔
اور مقامِ رضا؛ وہی ہے کہ جو اللہ کی طرف سے آئے اس پر راضی رہے۔ تو یہ مقامات ہیں، احوال تبدیل ہوتے ہیں مقامات establish ہوتے ہیں، مطلب وہ achive ہو جاتے ہیں پھر اسی پہ انسان رہتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ بات ہے۔
سوال 18: السلام علیکم حضرت! خرم شہزاد بٹخیلہ، حضرت وہ کل آپ کی کتاب وہ ریڈ کر رہا تھا، حقیقتِ جذب و سلوک، تو اس میں کچھ ٹرمینالوجیز تھیں، اصطلاحات، ان کی اگر آسان لفظوں میں clarification ہو جائے۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: وہ ہماری فہم التصوف کتاب میں ہیں۔ اس میں ٹرمینالوجی کی کچھ explainationsہیں۔ اس میں دیکھیں نہ ملیں تو پھر مجھ سے پوچھیں۔
سوال 19: السلام علیکم! شہزاد، میرا باغ آزاد کشمیر سے تعلق ہے۔ پہلی دفعہ آپ سے ملاقات ہوئی ہے۔ تو میں وظائف کر رہا تھا کافی عرصے سے فون سے، رابطہ تھا، وہ مولوی شاہین صاحب، میرے تعلق والے ہیں ان کے ذریعے آپ کے ساتھ تعلق بنا تھا۔ لیکن کچھ چار پانچ ماہ سے سلسلہ ٹوٹا ہوا ہے۔ میں وظائف کرتا تھا، دو سو مرتبہ ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾، چار سو مرتبہ ﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ﴾، چھ سو دفعہ حق، ہزار دفعہ اللہ۔ اور پانچ لطائف کے بعد میں کر رہا تھا کہ جو ہوتا ہے اللہ ہی کی طرف سے )تجلیاتِ افعالیہ(
لیکن اب جو ذکر کے وظائف ہیں ہزار دفعہ اللہ، یہ تو میں الحمد للہ کر رہا ہوں، لیکن چار پانچ مہینے سے لطائف اور یہ چیزیں چھوٹی ہوئی ہیں۔ آج میں آپ کے سامنے حاضر ہوا ہوں، اس کا کوئی آگے بتا دیں۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: دیکھیں میں آپ سے بات عرض کروں، چھوٹنے کی کوئی وجہ ہو گی، وہ تو آپ کو خود تلاش کرنی ہو گی۔ ظاہر ہے مجھے کشف تو ہوتا نہیں ہے وہ تو مجھے پتہ ہے۔ تو ظاہر ہے وہ آپ کو خود اندازہ ہو گا کہ کس وجہ سے یہ چھوٹا ہے۔ بعض دفعہ اس وجہ سے چھوٹ جاتا ہے کہ جس کو کہتے ہیں نا اختلاط مع ناجنس، یعنی صحبتِ ناجنس جو ہے، مطلب ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا جن کو یہ چیزیں پسند نہ ہوں، تو یہ وجہ ہو سکتی ہے۔ کبھی مطلب یہ ہے کہ یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ انسان نے اس کے ساتھ کوئی ٹارگٹ اٹیچ کیا ہو کہ مجھے یہ چیز مل جائے اور وہ نہ ملے تو ظاہر ہے مایوسی ہوتی ہے تو پھر چھوٹ جاتے ہیں۔ کبھی سستی کی وجہ سے چھوٹ جاتے ہیں۔ تو کوئی اس قسم کی reason ضرور ہو گی۔ وہ reason آپ خود تلاش کر لیں۔ اس کے بارے میں پھر میں عرض کروں گا۔
میں سفر میں گیا ہوا تھا ادھر باہر ملک میں، وہاں مصروفیات کچھ ایسی تھیں کہ جس کی وجہ سے تین چار مہینے مجھ سے چھوٹ گئی، آزر بائیجان۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: دیکھیں میں آپ کو بتاؤں، بالکل سمجھ گیا لیکن اس کا طریقہ کیا ہے؟ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس قسم کے حالات جیسے ہی پیش آ جائیں، فورا رابطہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ آج کل تو رابطہ بہت آسان ہے۔ یعنی میں پتہ نہیں کون سی تاریخ ہے واللہ اعلم کافی 2000 کے لگ بھگ کی بات ہے۔ تو وہ ایک کیپٹن صاحب تھے، اس نے مجھے کہا شاہ صاحب یہ موبائل مجھے ملا ہے فوج میں، بہت cheap۔ تو یہ میں آپ کو دیتا ہوں۔ بے شک آپ مجھے پیسے نہ دیں۔ لیکن آپ کے ساتھ رابطہ مشکل ہوتا ہے اور میں کہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ رابطہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا یہ آپ لے لیں۔
اس نے 3200 روپے کا لیا تھا، میں نے 3200 روپے اس کو دے دیا۔ میں نے کہا بھئی آپ نے جو محبت کی ہے وہ آپ کی قبول ہو، لیکن مفت چیز میں آپ سے نہیں لیتا۔ تو بہرحال یہ پہلا موبائل آپ کہہ سکتے ہیں، مطلب سٹارٹ ہو گیا۔
اب تک ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہی بات ہے کہ ساری دنیا سے رابطے اس پر مطلب ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ واٹس ایپ نے معاملہ اور بھی آسان کر دیا ہے۔ کیونکہ فون تو ہر وقت انسان نہ کر سکتا ہے اور نہ ہر وقت سنا جا سکتا ہے۔ لیکن واٹس ایپ تو ہر کسی وقت بھیجا جا سکتا ہے، کسی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی وہ نہیں، اس میں آڈیو بھی ہوتا ہے آڈیو، تو آڈیو میں انسان پیغام بھیج دیتا ہے۔ اس وجہ سے کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ تو آئندہ کے لیے اول تو شروع کر لیں اس کو جو جہاں سے چھوڑا تھا وہاں سے شروع کر لیں۔ اور پھر اس کے بعد رابطہ رکھیں۔ اکثر ایسے حضرات جن کو دھچکا لگا ہو اس قسم کا جیسے آپ کا ہے، ان سے میں کہتا ہوں ہفتہ واری رپورٹ بھیجا کریں۔ ہفتہ واری رپورٹ مطلب یہ ہے کہ ہماری وہ ویب سائٹ پر پڑا ہو گا، معمولات کا پرچہ۔ وہ معمولات کا پرچہ بھرنے کا ہم کہتے ہیں، تو چونکہ ذرا درمیان میں وہ آ جاتا ہے نا
discontinuity، تو ان کو ہم کہتے ہیں بھئی ہر ہفتہ مجھے بتا دیا کریں۔ تو وہ جب پکے ہو جاتے ہیں پھر مہینے میں بتا دیتے ہیں ایک دفعہ، اس طریقے سے stable رہتے ہیں۔ کیونکہ سب سے پہلے شیطان کا کام ہوتا ہے رابطہ چھڑانا، معمولات بعد میں چھڑائے جاتے ہیں۔ معمولات بعد میں چھوٹتے ہیں رابطہ پہلے چھوٹتا ہے۔ تو اس وجہ سے آپ رابطہ نہ چھوڑیں پھر معمولات نہیں چھوٹیں گے ان شاء اللہ۔
سوال 20: اچھا ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ اگر بیٹھ کے ذکر کرنے کا ٹائم نہ ہو بندے کے پاس اور چلتا پھرتا اگر وہ کہیں کر لے۔۔۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: جو ثوابی ذکر ہے وہ تو چلتے پھرتے یقیناً کیا جا سکتا ہے، جیسے تیسرا کلمہ ہے، درود شریف ہے، استغفار جو ہم کرتے ہیں۔ وہ تو چلتے پھرتے ہو سکتا ہے۔ البتہ یہ جو لطائف کا ہے اور یہ جو دوسرا ذکر ہے، یہ چلتے پھرتے بھی انسان کر سکتا ہے لیکن اس کا اثر بہت کم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق یکسوئی کے ساتھ ہے۔ تو یکسوئی پھر نہیں رہتی۔
سوال 22: اچھا اگر گاڑی میں بندہ سفر کر رہا ہو یا جہاز میں۔۔۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: گاڑی کوئی اور چلا رہا ہو تو پھر کر سکتا ہے، خود نہیں۔
سوال 23: (کسی سائل نے ڈر سے متعلق سوال کیا جس پر حضرت نے درج ذیل جواب دیا )
جواب: اللہ جل شانہ حفاظت فرمائیں اور آپ اپنا کام جاری رکھیں ۔ ڈر اچھی بات ہے لیکن اتنا ڈر نہ ہو اعمال میں کوتائی آجائیں۔
سوال 24: زنگ ادبی حلقہ دا شاعرانو، دہ ہغے کی زہ اکثر دعوت ورکوما، نو ماتا یو سوال، ما نہ ووشو، چی ستاسو دی کتاب کی دہ ہغے ذکر شتے خو لگ مونگ پے نہ پویگیو، چی عاشق اور عارف اور مجذوب، پہ دے کی بیا دا عاشق مرتبہ سیوا دا کا دا عارف باللہ؟
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: اصل کی، اصلی عشق خو کم دے کنا، ہغہ دا معرفت قائد دے، کنا؟ خو عارف خو نتیجہ دا کنا دا عارف باللہ ظاہر خبرہ دا، چی مقام خو دا ہغے اوچت دے۔ بہرحال، دا چے، دا معرفت تعلق عقل سرہ دے اور دا عشق تعلق زڑہ سرہ دے۔ اور محنت دا ہغے تعلق نفس سرہ دے۔
ٹھیک دے نا؟ معرفت کا تعلق عقل کے ساتھ ہے اور عشق کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور محنت یہ جو ہے اس کا تعلق نفس کے ساتھ ہے ٹھیک ہے نا تو ان تینوں کا آپس میں باہم ربط ہے۔ ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ نہیں کیا جا سکتا، ہر ایک کا دوسرے پہ اثر ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
لہذا اگر معرفت ہے تو اس میں عشق کا بھی اثر ہے اور جذبات کا بھی ہے اور پھر اس کے ذریعے سے اللہ جل شانہ جو چیزیں اس پر کھولتے ہیں وہ حاصل ہوتی ہیں وہ معرفت کہلاتی ہے۔ اور اس کے نفس کا بھی اس پر اثر ہے، کیونکہ نفس میں جب بندگی آ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ پھر راستے کھولتے ہیں، ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾۔ تو عبدیت کا تعلق نفس کے ساتھ ہے، تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کا بھی معرفت کے ساتھ تعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ معرفت کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن بہرحال ظہور اس کا عقل میں ہوتا ہے۔
ایک مشکل سوال مجھ سے کیا گیا تھا، بہت مشکل سوال تھا۔ وہ میری ایک غزل ہے نا
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
یہ میں نے استعمال کیا اس میں۔ تو اس پر مجھ سے پوچھا گیا کہ یہ کام جو ابراہیم علیہ السلام کا کیا ہواتھا وہ معرفت کی وجہ سے ہوا ہے یا عشق کی وجہ سے ہوا ہے؟
یہ سوال مطلب کیا گیا تھا۔ مشکل سوال تھا۔
تو اس کا پھر جواب دیا گیا تھا جو کہ انہوں نے پھر مان لیا تھا۔ کہ عام لوگوں کا معاملہ الگ ہے۔ وہاں عقل پہ عشق غالب ہوتا ہے۔ لیکن پیغمبر کی معرفت بھی کامل ہوتی ہے، عشق بھی کامل ہوتا ہے۔
یعنی دل کا بھی۔۔ اور عبدیت بھی کامل ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کی بات اور ہے۔
سوال 25: بعضے وخت جذب تا خلق عشق وائی کنا حضرت صیب! نو مطلب دا، چی ہغہ جذب عشق نہ وی، او دا شریعت نہ لکہ پہ ہغے دا نہ کولو، نہ یوہ بانہ لٹوی۔۔۔
[سوال جواب مجلس 25 دسمبر 2023، مجلس نمبر 653]
جواب: ہغہ جذب نہ وی، ہغہ مستی وی! مستي۔ بابا موږ خو وایو چې دا سینه۔۔۔ نه دا چې زموږ نه دا مستي، دا د نفس مستي ده. د زړه سره یې تعلق نشته. دا څوک چې ټوپونه وهي کنه۔۔۔جي جي۔دا یې نفس غواړي.
وہ جو اچھلتے کودتے ہیں نا یہ نفس کی خواہش ہے جیسے بعض لوگ کہتے ہیں موسیقی روح کی غذا ہے، تو میں ان سے کہتا ہوں کہ جھوٹ نہ بولو موسیقی نفس کی غذا ہے روح کو تو مردہ کر دیتی ہے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
جاری ہے ان شاء اللہ