اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے۔ پیر کے دن ہمارے ہاں جو سوال کیے جاتے ہیں، ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور جو احوال بتائے جاتے ہیں ان کی بھی تحقیق بتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سوال 1: ایک شخص نے ایک حدیث شریف بھیجی ہے۔ ارشادِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آخر زمانے میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے (بھیڑ کی کھال جس طرح نرم و ملائم لباس)، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی، جبکہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں، میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا۔" (جامع ترمذی، حدیث نمبر: 2404)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت تشریح کیا ہو گی اس کی، کہ دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے؟ ہم تو دعا کرتے ہیں کہ دنیا بھی بہترین دے اور آخرت بھی، یعنی اس بارے میں سوال کیا ہے کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ دین کو Show کر کے اس میں دنیا کے طالب ہوں گے، وہ اس سے مراد ہیں۔ بظاہر تو دین کا کام کر رہے ہوں گے، لیکن اس میں اصل میں ان کا مطلوب دنیا ہو گی، ان کے لیے یہ بات ہے۔ یہ نہیں کہ انسان دنیا کی جو ضروریات ہیں وہ طلب نہیں کر سکتا۔ آخر دنیا کی مثال کے طور پر، آپ کے پیٹ میں درد ہے تو اللہ تعالیٰ سے آپ دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! میرے پیٹ کا درد ٹھیک ہو جائے۔ تو یہ آخرت کی بات ہے یا دنیا کی بات ہے؟ دنیا کی بات ہے۔ لیکن جائز ہے یا ناجائز ہے؟ جائز ہے۔ تو اس پہ تو ممانعت نہیں ہے۔ آخر دنیا بھی تو اللہ کی دی ہوئی ہے، ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [البقرة: 201]، یہ تو قرآنی دعا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک سے دنیا کی چیز مانگنا کوئی بری بات نہیں ہے۔
دنیا کی اصل میں دو حیثیتیں ہیں، اس پہ لوگ confuse ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی ایک حیثیت یہ ہے کہ یہ ہمارے لیے امتحان گاہ ہے۔ یہاں پر ہم لوگ آئے ہیں آخرت کو بنانے کے لیے، اور آخرت جو ہم بنائیں گے تو ظاہر ہے اس کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے؛ ایک زندگی کی اور ایک صحت کی۔ ان دو چیزوں کی ضرورت ہے، بغیر اس کے تو آخرت نہیں بنا سکتے۔ اگر بیمار ہو گئے تو پھر بھی ہم کام نہیں کر سکیں گے اور اگر دنیا سے چلے جائیں گے تو پھر تو اعمال نامہ ختم ہو جائے گا۔ تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ صحت بھی برقرار رکھنی ہے اور زندگی بھی برقرار رکھنی ہے۔ اپنی مرضی سے کوئی جا نہیں سکتا، جیسے اپنی مرضی سے کوئی آ نہیں سکتا اس طرح اپنی مرضی سے کوئی جا نہیں سکتا۔ تو جب یہ بات سامنے آ گئی، تو اس کا مطلب ہے کہ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور صحت کو برقرار رکھنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے دنیا میں، وہ تو ذریعہ ہے آخرت کو کمانے کا۔ کیونکہ آخرت کو کمانے کے لیے بھی آپ کو اس کی ضرورت ہو گی۔
ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حد سے نہ بڑھیں، جو حد اللہ نے مقرر کی ہے اس سے زیادہ نہ ہوں۔ ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ [الأعراف: 31]، کھاؤ پیو مگر اس حد سے باہر نہ نکلو۔ مطلب یہ والی بات ہے۔ تو ہر چیز میں حد جو شریعت نے مقرر کی ہے اس پہ رہنا، یہ ضرورت ہے، اس کے بعد کی۔ اگر کوئی شخص حد میں رہتا ہے اور دنیا کو استعمال کرتا ہے اور گناہ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کو استعمال کرتا ہے تو یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ پیغمبروں پر جو لوگوں نے اعتراض کیے تھے، ان میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ بازاروں میں پھرتے ہیں، کھاتے ہیں؟ تو اللہ پاک نے اس کا جواب دیا تھا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ دین کو دنیا کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ دنیا کو دین کا ذریعہ بنائیں۔ اب مثال کے طور پر میں نماز پڑھتا ہوں، اب نماز میں اس لیے پڑھتا ہوں کہ میری exercise ہو جائے اور اس سے میری صحت اچھی ہو جائے۔ اب صحت بنانا ٹھیک ٹھاک کام ہے لیکن نماز اس کے لیے نہیں ہے۔ نماز میں کیا ہے؟ وہ تو صرف اللہ کے لیے ہے۔ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ [الفاتحة: 5] ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، ﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [الفاتحة: 5] اور تجھی سے مانگتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے کہ عبادت تو صرف اللہ کے لیے، اللہ کو راضی کرنے کے لیے کی جاتی ہے، دنیا کے لیے نہیں کی جاتی۔ لہٰذا عبادت میں دنیا کی نیت کرنا، اس کو دنیا بنانا ہے۔ ان چیزوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال 2: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی میں جب مراقبہ سے پہلے ذکر کرتی ہوں ساڑھے چار ہزار، اور پھر 10 منٹ مراقبہ کرتی ہوں تو ذکر کرتے وقت خیالات پر قابو نہیں پاتی اور مسلسل مختلف خیالات آتے ہیں۔ جبکہ مراقبے کے وقت دھیان دل پر ہوتا ہے اور کبھی کبھی میں اپنے جسم کو بھی محسوس نہیں کرتی، بس دل کی دھڑکن محسوس کرتی ہوں اور باقی کچھ بھی محسوس نہیں کرتی، جیسے بالکل فنا ہو جاتی ہوں۔ اپنی برائیاں زیادہ نظر آنے لگی ہیں اور بہت پریشان رہتی ہوں کہ میں کتنی بری ہوں اور عجیب و غریب خیالات آتے ہیں جس کی وجہ سے بہت پریشان ہوتی ہوں۔ پھر معمولات بھی بہت مشکل سے کر پاتی ہوں، یہاں تک کہ پھر رات دیر تک اپنے معمولات جیسے تیسے پورے کر لیتی ہوں۔ ذکر بھی کم ہو جاتا ہے، درود شریف کی تعداد میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔ کچھ دن ایسے رہتی ہوں پھر ٹھیک ہو جاتی ہوں، تب تو پھر ذکر بڑھا دیتی ہوں۔ پھر ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتی ہوں اور پھر depression ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے میرے روزانہ کے کاموں کا حرج ہوتا ہے، بہت مشکل سے اپنا کام پورا کر پاتی ہوں، کبھی کبھی رات کو پریشانی کی وجہ سے نیند بھی نہیں آتی۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: سبحان اللہ! یہ جو اصل میں آپ کو مراقبہ نصیب ہوا ہے، یہ بھی ذکر کی برکت سے ہوا ہے۔ اس وجہ سے ذکر میں آپ قصداً توجہ دوسری طرف نہ کریں۔ اگر خود بخود کوئی خیالات آنے لگیں، اس کے ساتھ الجھیں بھی نہیں، بس اس کو ignore کریں، اس کو ایسے سمجھیں جیسے پنکھے کا شور ہوتا ہے۔ تو پنکھے کے شور کی طرف کوئی توجہ کرتا ہے؟ اور شور تو ہوتا ہے اس سے تو انکار نہیں ہے۔ تو جس طرح پنکھے کے شور کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا، اس طرح آپ اپنے خیالات کی طرف بھی توجہ نہ کریں۔ اپنا ذکر کی طرف توجہ رکھیں اور پھر جو مراقبہ ہے اس میں آپ ماشاءاللہ کر لیں۔ مراقبہ ذرا بڑھا لیں اس کو 10 منٹ کی جگہ 15 منٹ کر لیں۔ اور بات یہ ہے کہ حالات اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں اور اسی میں انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ اس کے بارے میں پریشان نہ ہوں، اگر آپ کو ماشاءاللہ دوبارہ اللہ پاک توفیق عطا فرمائے تو اس پہ اللہ کا شکر ادا کریں، اور اگر کسی وقت مشکل ہو جائے تو اس وقت ہمت کر لیا کریں۔
سوال 3: السلام علیکم! میں خیالات کے مزے میں مبتلا ہوتا ہوں، خیال ہی خیال میں حالات کے بدلنے کا سوچنا اور مزے لینا، گھنٹوں اس طرح ضائع کر دیتا ہوں، کیا کروں؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: جو چیز اختیاری ہو اس میں اختیار کو استعمال کرنا مطلوب ہے، اور جو چیز غیر اختیاری ہو، اس پہ پروا نہیں کرنی چاہیے۔ لہٰذا آپ چونکہ اس بات کا جو فرما رہے ہیں کہ اختیاری ہے، یعنی آپ خود اس میں مبتلا ہوتے ہیں، تو اپنے آپ کو نکال لیا کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ جس وقت آپ کو خیالات آنے لگیں تو اپنے آپ کو کسی مفید کام میں مشغول کر لیا کریں۔ جب بھی آپ کو خیالات کا ہجوم ہونے لگے تو اپنے آپ کو کسی مفید کام میں مشغول کر لیا کریں، کیونکہ اختیاری ہے اور اختیاری کو اختیار سے ہی بدلا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی آپ کو یاد آ رہا ہے کہ بھئی یہ تو اس سے وقت ضائع ہوتا ہے، تو اپنے وقت کو ضائع نہ کریں، اختیاری طور پر اللہ پاک کا ذکر کریں۔ سب سے آسان کام جو انسان کر سکتا ہے اختیاری طور پر وہ ذکر اللہ ہے۔ اس میں نہ پیٹرول لگتا ہے، نہ پیسے لگتے ہیں، نہ کوئی اور مشکل ہے۔ لہٰذا آپ جیسے ہی سمجھنے لگتے ہیں کہ بھئی یہ تو خیالات شروع ہو گئے، آپ زبانی ذکر کرنا شروع کر لیں، ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔
سوال 4: السلام علیکم! کیا حال ہے حضرت؟ تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار سو سو دفعہ، لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ، اللہ نو ہزار مرتبہ۔ مہینے سے زیادہ ہوا ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! اللہ تعالیٰ مزید برکت عطا فرمائے۔ اب اللہ ساڑھے نو ہزار کر لیں اور باقی جو ہے نا یہی رکھیں ان شاء اللہ العزیز۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیقات سے نوازے۔
Question 5: Sheikh Assalamualaikum, as per your instruction I was able to do the following hasanat, virtuous deeds in the last one month.
Number one: read two pages of Tafseer daily.
Number two: fast on Monday and Thursday.
Number three: share one to two Hadith Sharifah with others and teach some brothers and sisters recite Quran. I also started teaching Arabic alphabets. After doing the above I have almost same feeling for at least a month, that is I feel peaceful and confident and have more patience, especially have more concentration during prayers and feeling as if I have recently started to know how to pray. Besides, I feel myself as a person who knows nothing[Q&A Session, December 18, 2023, Session No: 652].
Answer: Subhan Allah, it's very good. You should continue this inshaAllah ul Aziz and especially ask help from Allah Subhanahu Wa Ta'ala in these things. And also pray for Palestinians, may Allah Subhanahu Wa Ta'ala grant them Fatah, and may Allah Subhanahu Wa Ta'ala crush Israelis who are doing zulm on them.
سوال 6: السلام علیکم! کچھ دن پہلے میرے ساتھ کچھ پیسوں کا بینک کا فراڈ ہوا تھا، جس کی وجہ سے پریشان تھا اور میسج میں بھی تاخیر ہو گئی ہے اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپ بھی دعا کیجئے اللہ پاک خیریت سے recovery کرا دے۔ باقی آپ نے جو عیوب کی لسٹ بنانے کے لیے کہا تھا وہ جو مجھے سمجھ میں آئی ہے، ایسے ہیں:
نمبر ایک: غصہ بلاوجہ آتا ہے۔
نمبر دو: mobile کا بے جا استعمال۔
نمبر تین: لوگوں سے بلاوجہ متاثر ہونا ان کی ظاہری حالت دیکھ کر۔
نمبر چار: خود اعتمادی کی کمی جس کی وجہ سے کبھی کوئی اچھا کام کرنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔
نمبر پانچ: فجر کی نماز اکثر لیٹ ہو جاتی ہے۔
نمبر چھ: داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی۔ باقی آپ guide کر لیں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: سبحان اللہ، ماشاءاللہ! اللہ جل شانہ آپ کے جو پیسوں کا مسئلہ ہوا ہے، اللہ پاک اس کو جلد از جلد recover کرا دے، امید ہے ان شاء اللہ recover ہو جائیں گے۔ ٹائم بعض دفعہ لگ جاتا ہے لیکن ہو جاتے ہیں۔ اور جو عیوب کی list آپ نے بتائی ہے تو اس میں سب سے پہلی بات ہے غصہ بلاوجہ آتا ہے۔ "آتا ہے" کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، کرنے کا مسئلہ ہے۔ آ جائے تو سوچیں کہ یہ کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے، اور کرنا چاہیے تو کتنا کرنا چاہیے، وہاں پر اپنے ذہن اور سوچ کو استعمال کرنا چاہیے۔ باقی خود بخود آ جائے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ایسی چیزیں تو ہوتی رہتی ہیں۔
جہاں تک موبائل کا بے جا استعمال ہے، چونکہ اختیاری چیز ہے، لہٰذا اختیار سے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ آپ اس پر کنٹرول کرنا شروع کر لیں۔ لوگوں سے بلاوجہ متاثر ہونا، اس کے بارے میں بعد میں بات کروں گا، پہلے ان دونوں چیزوں کو آپ بہتر کر لیں ان شاء اللہ۔ یہ باقی پھر بعد میں بتاؤں گا، فی الحال ان دونوں پر کنٹرول کریں۔
Question: 7 Assalamualaikum Warahmatullahi Wabarakatuh Hazrat Saheb, hope you are well. I have compiled a few questions below and am eager for your response. Jazakallah khair and thanks in advance for your time and effort.
1۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ مکتوبات میں مجدد صاحب واضح طور پر فرق فرماتے ہیں تو شاہ صاحب یہ دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟
جواب: اصل میں چیزوں کو جس angle سے دیکھنا ہوتا ہے نا، اس سے جواب الگ ہو سکتا ہے۔ یہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں کہ معرفت جو ہوتی ہے یہ ایک نقطۂ نظر کی طرح ہوتی ہے۔ یعنی جس چیز کی طرف آپ کی نظر گئی ہے، تو آپ کو وہ چیز اس طرح نظر آئے گی۔ تو اس میں اس وجہ سے فرق ہو سکتا ہے۔ اب اس میں جو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا نقطہ نظر تھا نا، وہ یہ تھا کہ لوگوں نے وحدت الوجود کو فلسفہ بنایا ہوا تھا، جبکہ یہ ایک حال ہے۔ تو چونکہ اس کو فلسفے کے طور پر نہیں لینا چاہیے تو حضرت نے شد و مد کے ساتھ اس کی مخالفت کی۔ کیونکہ اس وقت اس قسم کی چیزیں ہو رہی تھیں، ورنہ یہ کہ ہمارے پرانے بزرگوں میں اس نام کے ساتھ تو یہ چیز نہیں تھی لیکن یہ چیز موجود تھی۔ یعنی حضرت مجدد صاحب نے نئی چیز دریافت نہیں کی ہے، اس کو نیا نام دیا ہے، آپ کہہ سکتے ہیں سمجھانے کے لیے۔کیونکہ بعض دفعہ نیا نام دینا ضروری ہوتا ہے جیسے ہم نے بھی نیا نام دیا ہے، اللہ پاک معاف فرمائے، "سیر فی اللہ" کو ہم نے نام دیا ہے "طریقِ صحابہ"۔ تو یہ طریقِ صحابہ آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ سیر الی اللہ سے مراد سلوک ہے۔ سلوک طے کرنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے نفس کے خواہشات کو دبانا۔ یہ سلوک ہے۔ تو یہ جب ہو جائے، تو چونکہ یہی تو شرارت کرتا ہے، تو لہٰذا جب یہ دب جائے تو پھر آپ آزاد ہیں، جب آپ آزاد ہیں تو پھر کرنا کیا ہے؟ صحابہ کے طریقے پہ چلنا ہے۔ ﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [البقرة: 137]۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي)، "جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ چلے ہیں"۔
لہٰذا صحابہ کا طریق ہمارے لیے مطلوب ہے اور اس میں جو رکاوٹ ہے وہ نفس ہے۔ سو نفس کے اوپر پیر رکھ کر آپ نے صحابہ کے طریقے پر چلنا ہے تو یہ ہم نے اس کو طریقِ صحابہ بتایا۔ اب ممکن ہے کچھ ہمارے خلاف بھی بات کریں کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ تو کرنے دیں ہمارا نقطۂ نظر یہی ہے ہم نے اس نقطۂ نظر سے کیا ہے۔ اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو ہم اس کے ساتھ الجھیں گے نہیں۔
تو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس وجہ سے یہ چیز اس طرح discuss کی کیونکہ لوگ گمراہ ہو رہے تھے۔ جبکہ ہمارے پرانے بزرگوں میں یہ چیز موجود تھی، اس کا نام تھا "وحدت الوجود بالسکر" اور "وحدت الوجود بدون سکر"۔ یعنی سکر میں مدہوشی کی حالت ہوتی ہے، مدہوشی کی حالت میں وحدت الوجود اور ہوش کی حالت میں وحدت الوجود۔ تو ہوش کی حالت میں وحدت الوجود یہ ہوتا ہے کہ انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل کام تو اللہ پاک ہی کرتا ہے باقی چیزیں اس کے ذہن سے فنا ہو جاتی ہیں۔ تو اس کو ایک کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اس کو تجلیاتِ افعالیہ بھی کہتے ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہوش میں انسان جب رہے گا تو وحدت الوجود ہی ہو گا یعنی ایک کام کرتا ہوا نظر آئے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو لہذا یہ وحدت الشہود ہوگیا جیسے ایک آپ کو نظر آرہا ہے۔ تو اس کا نام حضرت نے وحدت الشہود رکھا لیکن بہرحال یہ وہی وحدت الوجود ہی ہے جو کہ سکر کے بغیر ہے۔ لہٰذا شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حوالے سے بات کی ہے تو دونوں کی باتیں ٹھیک ہیں۔
میری سمجھ میں یہ تھا کہ وحدت الوجود کی ایک تفسیر ہے جو کفر ہے اور ایک تفسیر ہے جو صحیح ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: بھئی کفر والی بات فلسفے کی ہے نا۔ اگر آپ نے (نعوذ باللہ من ذالک) یہ کہا کہ واقعی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں، تو یہ قرآن پھر کس پہ اترا ہے؟ عمل کا حکم کس کو ہے؟ ظاہر ہے کہ مخلوق کو اللہ پاک سے آپ جدا تو مانیں گے نا۔ اور دیکھو نا ﴿مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا﴾ [آل عمران: 191]، قرآن میں ہے ﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا﴾ [آل عمران: 191]، یہ صاف فرمایا گیا ہے۔ تو اب ظاہر ہے کہ اس کا انکار تو ہم نہیں کر سکتے۔ جو انکار کرے گا وہ تو کفر کی طرف جائے گا، قرآن کا انکار کرے گا۔
لیکن یہ والی بات ہے کہ اگر یہ فلسفہ نہیں حال ہے، تو حال پہ کوئی گرفت نہیں ہے کیونکہ اس میں انسان معذور ہوتا ہے۔ تو حال کی حالت میں ٹھیک ہے لیکن فلسفے کی حالت میں ٹھیک نہیں ہے، اس میں گمراہی ہے، زندیقی ہے، حضرت بھی فرماتے ہیں۔ حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں زندیقی ہے، اگر کوئی اس کو فلسفے کے طور پہ سمجھے گا۔ یعنی وجود کو ہم جو کہتے ہیں "فنا فی اللہ" تو فنا فی اللہ میں ہمارا وجود ختم نہیں ہوتا، وجود تو موجود ہوتا ہے، ہاں البتہ یہ کہ اس کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ ابھی دیکھو نا خاتون نے بتایا تھا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا وجود بھی نہیں ہے۔ یہ تو آج کل کی بات ہے نا، دور کی بات تو نہیں ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے۔
اور مجدد صاحب پہلے اس کی صحیح سمجھ پر تھے، پھر توحید شہودی میں نہیں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
بات وہی ہے جو میں نے ابھی عرض کی۔
توحید وجودی کہتے ہیں کہ مخلوق موجود نہیں صرف حق ہے، اور توحید شہودی کہتی ہے کہ مخلوق موجود ہے لیکن میری توجہ حق کی طرف ہے، لہٰذا یہ مختلف ہیں نہیں۔
جواب: بات یہ ہے کہ نقطہ نظر مختلف ہے، چیز مختلف نہیں ہے۔ میرا angle of vision جس کو ہم کہتے ہیں وہ مختلف ہے۔ تو مجدد صاحب خود فرماتے ہیں کہ مختلف ہو سکتا ہے۔ آپ کسی بھی چیز کو دیکھیں، وہ ہاتھی تھا نا ہاتھی۔ تو جو اندھے تھے نا تو کسی کا ہاتھی کے پیٹ پہ ہاتھ پڑا تو اس نے کہا ہاتھی flat چیز ہوتی ہے۔ کسی کا پیر پہ ہاتھ پڑ گیا تو اس نے کہا ہاتھی ستون کی طرح ہوتا ہے۔ کسی کا دانتوں پہ ہاتھ پڑ گیا، اس نے کہا یہ چھری کی طرح ہوتا ہے۔ اب ان کو جو محسوس ہوا، انہوں نے وہ بتا دیا، جھوٹے کوئی بھی نہیں تھے، لیکن احساس ان کو اس طرح ہو رہا تھا۔ لہٰذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔
میں نے ڈاکٹر اسرار صاحب کی وحدت الوجود کی وضاحت کرتے ہوئے سنا کہ دنیا الگ چیز۔۔۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ڈاکٹر اسرار صاحب ایک مقرر تھے، خطیب تھے اور scholar تھے۔ scholar میں ان کو کہہ سکتا ہوں، لیکن صوفی بھی نہیں تھے۔ وہ صوفی اپنے آپ کو خود بھی نہیں کہتے تھے۔ تصوف کے قائل ہیں، منکر نہیں ہیں، کیونکہ میں نے حضرت کی زیارت خود کی ہے، وہ تشریف لائے تھے مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں۔ لیکن وہ صوفی اپنے آپ کو کہتے بھی نہیں ہیں، اس تصوف سے گزرے ہی نہیں ہیں۔ جب گزرے نہیں ہیں تو ان کے خیالات اس کے بارے میں کیسے ہوں گے؟
یہ باتیں تو صوفیوں کے کرنی کی ہیں۔ بھئی جو ڈاکٹری کی بات ہو تو ڈاکٹر ہی جانے گا نا۔ اس میں انجینئر بات کر سکے گا؟ کیا میں انجینئر کو بیوقوف کہوں گا جو ڈاکٹری نہیں جانتا ہو گا؟ بھئی وہ ڈاکٹر ہے ہی نہیں، جب ڈاکٹر ہے نہیں تو بے وقوف بھی اس کو نہیں کہوں گا اگر وہ ڈاکٹری نہیں جانتا، ہاں البتہ میں اس کو ڈاکٹر نہیں کہوں گا۔ تو اس طرح ڈاکٹر اسرار خود تصوف سے گزرے نہیں، لہٰذا میرے خیال میں ان کی ان باتوں پر آپ کچھ بات نہ کریں۔ خواہ مخواہ ان بیچارے کو درمیان میں کیوں لاتے ہیں۔ اس کے لیے بزرگ موجود ہیں نا، اگر آپ نے بات سننی ہے تو اس میں آپ حضرت مجدد صاحب کی سنیں، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی سنیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی سنیں، جو تصوف سے گزرے ہیں۔ لہٰذا وہ جو بات کریں گے تو وہ ماشاءاللہ مستند بات ہو گی۔ باقی جو باتیں ہوں گی وہ ظاہر ہے ان کے اپنے خیالات ہوں گے۔ یہ معرفت کی بات نہیں ہو گی، وہ صرف ان کے خیالات کی بات ہو گی یا کسی اور کی معرفت کو وہ understand یا misunderstand کر رہے ہوں گے۔ لہٰذا ہم اس کے بارے میں ان پر کوئی گرفت بھی نہیں کرتے اور ان کی بات کو ہم اس مسئلے میں authentic بھی نہیں مانتے۔
سوال 8: نقشبندیہ مجددیہ میں ذکر خاموش ذکر ہے اور بلند آواز میں ذکر مکتوبات کے مطابق بدعت ہے۔ کیا تمام نقشبندیہ ذکر سے وہ ہیں؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: دیکھو نا، وہ ذکر جو علاجی ہے، اس پر تو کوئی پابندی نہیں ہے۔ جو علاجی ذکر ہے، کوئی زور سے کرے گا، کوئی خاموشی سے کرے گا، کوئی لطائف کا کرے گا، کوئی خیال سے کرے گا، مختلف طریقے ہیں ذکر کے۔ اس سے مقصود صرف دل کی صفائی ہے۔ باقی یہ ہے کہ اس سے خاص مقصود طریقہ نہیں ہوتا بلکہ مقصود۔۔۔بلکہ یہاں تک کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کسی کو جواب دے رہے تھے، تو فرمایا کہ وہ جو "لا الہ الا اللہ" کا ذکر کر رہے تھے، اس میں تجوید کے قواعد کا خیال نہیں رکھ رہے تھے۔ فرمایا کہ: اس میں تجوید مطلوب نہیں ہے، اس میں کیفیت مطلوب ہے۔ مطلب یہ تو کیفیت ہے، تو کیفیت کا خیال رکھنا چاہیے۔
تو بہرحال جب یہ ہے، تو ظاہر ہے کہ اس میں جو ذکر چاہے زبان سے ہو، چاہے دل سے ہو، چاہے لطائف سے ہو، چاہے خیالات سے ہو، چاہے سانس سے ہو۔ یہ ساری صورتیں ذکر کی ہیں اور اس کو بدعت نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ بدعت اس چیز کو کہتے ہیں جب وہ دین سمجھا جائے اور دین نہ ہو۔ کوئی چیز دین نہ ہو اور اس کو دین سمجھا جائے تو وہ بدعت کہلاتی ہے۔ اب اس کو تو دین نہیں سمجھا جاتا، اس کو دین پر آنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تو ذریعہ تو تبدیل ہو سکتا ہے نا، ذریعہ تو غیر منصوص بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال 9: السلام علیکم حضرت! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میری ایک request ہے سر آپ سے، میری sister کا ہم نے رشتہ کیا تھا تقریباً 8 months ago۔ اس نے ہنسی خوشی قبول کر لیا لیکن اب وہ بالکل انکار کر گئی ہے کہ میں نے نہیں کرنا، ہم نے حساب کروایا…
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ دیکھو، نہ میں عامل ہوں نہ میں عملیات جانتا ہوں، لہٰذا میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یعنی عملیات کے بارے میں نہ مجھ سے پوچھنا چاہیے اور نہ میری کسی بات پہ عمل کرنا چاہیے، کیونکہ میں عامل ہوں نہیں۔ جیسے میں ڈاکٹر نہیں ہوں، اس طرح عامل بھی نہیں ہوں۔ مجھ سے بعض خواتین telephone پہ بات کرتی ہیں کہ میرا فلاں نام ہے اور میری ماں کا نام فلاں ہے، میں کہتا ہوں نہ تمہارے نام کی ضرورت ہے نہ تمہاری ماں کے نام کی ضرورت ہے، کیونکہ میں ان چیزوں کو جانتا ہی نہیں ہوں۔ لہٰذا اس مسئلے میں اگر آپ کسی مستند اور صحیح عامل کے پاس جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔
میرے پاس آئیں گے تو میں عملیات کی باتیں نہیں بتاؤں گا، میں تو وہ بتاؤں گا جو صحابہ بتاتے رہے ہیں۔ میں صحابی نہیں ہوں لیکن صحابی کے پیچھے چل تو سکتا ہوں نا۔ تو عامل تو میں ہوں نہیں، عامل کے پیچھے میں چلتا نہیں ہوں، لیکن صحابہ کے پیچھے چلنے کا حکم ہے۔ عامل کے پیچھے چلنے کا حکم تو نہیں ہے نا۔ میں صھابہ کے پیچھے چلتا ہوں تو میرے پاس کوئی آئے گا تو میں صحابہ کا طریقہ بتاؤں گا اور وہ کیا ہے؟ تہجد کے وقت اللہ سے مانگنا۔ تہجد کے وقت اللہ تعالیٰ سے مانگنا۔ ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [غافر: 60] قرآن پاک میں صاف حکم ہے۔ اور اللہ پاک کی طرف سے باقاعدہ اعلان ہوتا ہے کہ ہے کوئی پریشانی میں مبتلا؟ تو آپ پریشانی میں مبتلا ہیں نا، تو اس وقت پھر آپ لبیک کہیں اور اللہ پاک سے مانگیں۔
یہ اصل میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے خیال میں یہ ہوتا ہے کہ عملیات تو certain ہوتے ہیں بس وہ یقیناً ہو جائیں گے، اور دعا کا پتا نہیں قبول ہو گی یا نہیں۔ تو کیا عملیات certain ہوتے ہیں؟ اس کا کیا پتا؟ اللہ چاہے گا تو ہو گا، اللہ نہیں چاہے گا تو نہیں ہو گا۔ دعا میں بھی یہی بات ہے اور دعا میں کوئی خطرہ بھی نہیں ہے، نہ آپ کے کوئی پیسے لگیں گے۔ تو دعا کریں، میں بھی دعا کرتا ہوں، اللہ جل شانہ آپ کے حالات کو آپ کے لیے بہتر بنا دے اور جو آپ کے حق میں بہتر ہو وہی اللہ تعالیٰ کر دے۔
سوال 10: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی!
احوال: حضرت جی معمولات الحمد للہ معمول کے مطابق ہو رہے ہیں۔ ذکر حضرت جی میرا ذکر ایک مہینے کے لیے 200 مرتبہ لا الہ الا اللہ، 400 مرتبہ لا الہ الا ھو، 600 مرتبہ حق اور 16 ہزار مرتبہ اللہ ہے۔ اللہ کے فضل اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے مکمل ہو گیا حضرت جی۔ کیفیت میں کچھ خاص تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی، دورانِ ذکر جہری خیالات کا غلبہ رہتا ہے۔ کوشش ہوتی ہے، تعوذ بھی پڑھتا ہوں لیکن پھر بھی خیالات غالب آ جاتے ہیں۔ نمازیوں کے جوتے سیدھے کرنے کا مجاہدہ بھی جاری ہے الحمد للہ۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: آپ بالکل جو خیالات آئیں ان کو دفع کرنے کی بھی کوشش نہ کریں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: وساوس جو آ رہے ہوں تو یہ بجلی کے تار کی طرح ہیں، اگر ان کو دور کرنے کی نیت سے بھی ہٹانے کی کوشش کرو گے تو پکڑیں گے۔ لہٰذا وساوس کی طرف توجہ نہ کریں، جو خود سے آئیں پروا نہ کریں، بس اپنے ذکر کی طرف متوجہ رہیں بس کافی ہے۔ اور اب جو ہے نا ساڑھے 16 ہزار مرتبہ کریں، باقی سب کچھ وہی۔
سوال 11: السلام علیکم! 100 دفعہ تیسرا کلمہ، 100 دفعہ درود شریف، 100 دفعہ استغفار تھا۔ اب میں نے آپ کو کال کی تھی confirm کرنا تھا کہ تسبیح بھول نہ جاؤں، آپ مجھے WhatsApp کر دیں پلیز، مجھے فون پر ٹھیک سنائی نہیں دیا آج۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ٹھیک ہے جی ماشاءاللہ! آپ اس طرح کر لیں کہ 100 دفعہ تیسرا کلمہ، 100 دفعہ درود شریف، 100 دفعہ استغفار، یہ تو عمر بھر کے لیے ہے۔ نماز کے بعد والا جو بتایا تھا وہ بھی عمر بھر کے لیے ہو گا۔ اور اس کے علاوہ 10 منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے زبان بند، قبلہ رخ بیٹھ کر آپ نے یہ تصور کرنا ہے کہ میرا دل اللہ اللہ کر رہا ہے۔ تصور خالص آپ نے کرنا ہے، آپ نے اس کو کروانا نہیں ہے کیونکہ دل کو کوئی کچھ نہیں کروا سکتا۔ لیکن جس وقت دل بولنا شروع کر دے (یعنی اللہ اللہ کرنا شروع کر دے) تو کم از کم آپ کو پتا چل جائے۔ تو پھر آپ اس کی طرف متوجہ رہیں، تو یہی آپ کا کام ہو گا۔ روزانہ 10 منٹ کوئی وقت مقرر کر کے آپ اس کو کریں۔ ایک مہینہ کریں، پھر ان شاء اللہ مجھے بتائیں گے، اور جب تک رابطہ نہ ہو تو جاری رکھیں۔
سوال 12: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی! میں نے مکتوبات شریف کے درس میں سنا کہ مرید کو اپنے عیوب شیخ کو بتانے چاہئیں، اور معمولات اور مراقبات بتاتے ہیں لیکن کیفیات نہیں بتاتے۔ حضرت مجھے اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے، میں بہت پیچھے ہوں میری حالت بہت خراب ہے، میں نے اتنے سال عجب اور بدگمانیوں میں گزارے اور مجھے پتا ہی نہیں چلا، جب پتا چلا تو بہت سال گزر گئے تھے، لیکن میرا وقت تو ضائع ہو گیا اب واپس نہیں آ سکتا۔ لیکن میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں، مجھے سلوک طے کرنے اور اپنی اصلاح کی نیت کیسے شروع کرنی ہو گی؟ پہلے مقام سے کیسے شروع کرنا ہو گا کیونکہ مجھے اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے! مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی، دونوں فیل ہیں، میں بھی fail ہوں آپ بھی fail ہیں۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کو عیوب نظر نہیں آ رہے! دیکھیں ایک بات یقینی ہے، confirm بات ہے کہ مرنا ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مسلمان ہونے کے لحاظ سے یہ ہم جانتے ہیں کہ وہاں حساب ہو گا، اور صاف طور پر قرآن میں فرمایا گیا: ﴿فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ﴾ [القارعة: 6-9]۔
بس اب آپ دیکھ لیں کہ نیکیوں کے پلڑے میں آپ کے کون سے کام آ سکتے ہیں اور برائی کے پلڑے میں آپ کے کون سے کام آ سکتے ہیں، ابھی سے اس کا اندازہ لگانا شروع کر لیں۔ جو برائی کے پلڑے میں جانے کے امکان والے کام ہیں، ان کو شریعت کے مطابق ٹھیک کرنے کی کوشش کر لیں۔ مثال میں دیتا ہوں، مثلاً کسی سے غیبت ہو رہی ہے تو اس کو پتا ہونا چاہیے کہ غیبت ممنوع ہے، شریعت میں حرام ہے، لہٰذا نہیں کرنی چاہیے۔ یا نماز مثال کے طور پر نہیں وقت پہ پڑھی جا رہی، تو یا مکروہ ہو گی یا قضا ہو جائے گی، تو اس کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ اس طرح اور بہت ساری چیزیں ہیں، میں نے صرف مثالیں دی ہیں۔
اور جو اچھے کام ہو سکتے ہیں تو ان کو بڑھانا چاہیے۔ مثال کے طور پر دیکھو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک انسان کسی وقت بھی، جتنا وقت اس کے پاس spare ہو اس میں اللہ کا ذکر کر سکتا ہے۔ اب اگر وہ نہیں کر رہا ہے تو محروم ہو رہا ہے۔ تو اپنی محرومی کو کم کرنے کے لیے ذکر کرنا چاہیے۔ یہ میں نے مثال دی ہے صرف باقی تو ظاہر ہے بہت ساری باتیں ہیں۔ تو بس یہ تصور آپ کر لیں کہ میزان لگا ہوا ہے، میرے اعمال اللہ پاک کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، میرا کون سا عمل ہے جو کہ اللہ کے سامنے پیش ہونے کے قابل ہے اور کون سا نہیں ہے، اس کے بارے میں سوچ کے آپ مجھے بھی لکھ کے بھیجیں اور خود بھی اس کے مطابق پھر عمل کرنا شروع کر لیں۔
ان شاء اللہ آپ کو اپنے عیوب نظر آنے شروع ہو جائیں گے، پھر جیسے جیسے آپ کو اپنے عیوب نظر آئیں تو فوراً پہلے اس کے اوپر توبہ کر لیا کریں اور پھر مجھے اس کی اطلاع کر دیا کریں، تاکہ اس کے بارے میں کچھ آپ کو عرض کر سکوں۔
سوال 13: حضرت جی السلام علیکم! حضرت جی میرا نام فلاں ہے، میرا ذکر 200، 400، 600 اور 100 ہے، ایک ماہ مکمل ہو گیا مزید رہنمائی فرمائیں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اب 200، 400، 600، 300 کا کر لیں ایک مہینہ۔ ایک ماہ کے لیے کریں پھر مجھے بتائیں ان شاء اللہ۔
سوال 14: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
نمبر ایک: کم کھانے کا مجاہدہ، اس ہفتے مجاہدے میں کامیابی کچھ نصیب ہوئی الحمد للہ۔ جب سے مجاہدہ شروع کیا اب تک تقریباً ساڑھے چار کلو وزن کم ہوا ہے الحمد للہ۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اللہ تعالیٰ مزید توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔
نمبر دو: لطیفہ قلب دس منٹ، دونوں کو محسوس ہوتا ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: سبحان اللہ ماشاءاللہ! بالکل ٹھیک ہے، آپ اس طرح کر لیں کہ اب اس کو دوسرا لطیفہ بھی بتا دیں 15 منٹ کے لیے، اور 10 منٹ کے لیے لطیفہ قلب۔
نمبر تین: لطیفہ قلب دس منٹ اور لطیفہ روح پندرہ منٹ، قلب پر محسوس ہوتا ہے روح پر محسوس نہیں ہوتا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: تو روح پر 20 منٹ کر لیں، قلب پر 10 منٹ ہی رہے۔
نمبر چار: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ حقیقۃ کعبہ، حقیقت صلاۃ، حقیقت قرآن پندرہ منٹ۔ اس طالبہ نے ایک سال پہلے مدرسہ چھوڑ دیا تھا اور ذکر بھی، اب دوسرے مدرسے جاتی ہے لیکن ذکر کو دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: جہاں سے رکا ہے وہیں سے دوبارہ شروع کر کے پھر ایک مہینے بعد اطلاع کر دیں۔
سوال 15: السلام علیکم حضرت! اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپ سلامت رہیں اور اللہ پاک سب پہ رحم، سب سے راضی ہو، اور میرے ذکر کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے: 12 تسبیح، اس کے بعد 500 زبان سے خفی طور پر اللہ، 10 منٹ پانچوں لطائف پر "اللہ اللہ" محسوس کرنا اور 15 منٹ لطیفہ قلب پر مراقبہ معیت ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ 15 منٹ لطیفہ قلب پر نہیں ہے، یہ اصل میں پورے جسم پر ہے مراقبہ معیت۔
احوال: حضرت جی احوال بہت خراب ہو چکے ہیں، نفس و شیطان نے پوری طرح مجھے مغلوب کیا ہوا ہے۔ نمبر ایک: ذکر شروع کروں تو مراقبہ معیت تک نہیں پہنچ پاتا، مراقبہ کرتے کرتے ہی آنکھ لگ جاتی ہے۔
نمبر دو: دفتری اوقات میں نماز باجماعت ادا نہیں ہو رہی، کبھی سستی اور کبھی مصروفیات کی وجہ سے جماعت میں شامل نہیں ہوتا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: جائز مصروفیت ہو تو اس کے لیے تو گنجائش ہے، لیکن سستی کی گنجائش نہیں ہے۔
دعاؤں میں بھی غفلت ہے، دھیان نہیں ہوتا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ اختیاری چیز ہے، آپ غفلت کو دور کر سکتے ہیں۔
نمبر تین: نمازوں میں بھی نماز کے علاوہ ہر جگہ دھیان ہوتا ہے، قرآن پاک کی تلاوت میں دل نہیں لگتا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: دل لگے نہ لگے لیکن کرتے رہیں۔
نمبر پانچ: معمولات کا chart بھی تین ماہ سے نہیں بھیج سکا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: بھیجنا شروع کر لیں۔
نمبر چھ: 12 سال کی قضا نمازوں میں صرف تقریباً ایک سال کی ادا ہوئی۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: جاری رکھیں۔
تہجد کی نماز ادا نہیں کر پا رہا، صرف عشاء کی نماز کے ساتھ چار نفل پڑھ لیتا ہوں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ آج کل تو شروع کیا جا سکتا ہے، آج کل کوئی مشکل نہیں ہے۔ اگر کوئی دس بجے بھی سو جائے، پانچ بجے تک اس کی سات گھنٹے نیند پوری ہو جاتی ہے۔ تو کیا خیال ہے، ڈاکٹر کتنا بتاتے ہیں؟ یہی ہے نا۔ تہجد پڑھ سکتے ہیں۔ پانچ سے لے کر پانچ 35 کے لگ بھگ time ہے آج کل۔ تو پھر بھی آپ اٹھ کے تہجد پڑھ سکتے ہیں، تو تہجد پڑھنا شروع کر لیں۔
سوال 28: حضرت جی میری کوئی اور خواہش نہیں سوائے اس کے کہ اللہ پاک راضی ہو جائے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ میری بھی خواہش ہے، اللہ ہم دونوں کو کامیاب کر دے۔
لیکن نفس قابو میں نہیں آ رہا، عمر گزرتی جا رہی ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اسی کے لیے تو محنت ہے۔
آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ضرور، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اس کام میں کامیاب فرما دے۔
سوال 31: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے فرمایا تھا بیعت کرنے کے لیے آپ مجھے audio message بھیجیں گے، جس میں audio ریکارڈ میں وہی الفاظ دہرا کے آپ کو واپس بھیج دوں گا۔ آپ کے message کے انتظار میں ہوں، حضرت مصروف ہیں، صرف آپ کی یاد دہانی کے لیے message کر رہا ہوں، جب حضرت کو وقت ملے میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: میں ان شاء اللہ ابھی یہ الفاظ آپ کو بھیج رہا ہوں، آپ کسی وقت اس کے ساتھ اپنے الفاظ شامل کر کے audio بنا کر مجھے بھیج دیں۔
﴿أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ﴾
"میں شہادت دیتا ہوں نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ میں توبہ کرتا ہوں تمام گناہوں سے، چھوٹے ہیں یا بڑے، مجھے معلوم ہیں یا نہیں، مجھ سے قصداً ہوئے یا خطا سے، ظاہر کے ہیں یا باطن کے۔ اے اللہ میری توبہ قبول فرما، آئندہ کے لیے ان شاء اللہ میں گناہ نہیں کروں گا، غلطی سے اگر کوئی گناہ ہوا فوراً توبہ کروں گا۔ میں بیعت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے واسطے سے، اور ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہوں، حضرت صوفی محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے، حضرت سید تنظیم الحق حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے، حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب کے، شبیر احمد کے واسطے سے۔ اپنے آپ کو داخل کرتا ہوں سلسلہ چشتیہ میں، نقشبندیہ میں، قادریہ میں اور سہروردیہ میں۔ اے اللہ میری بیعت کو قبول فرما۔"
اس کو آپ اس طرح پڑھ کے، ساتھ شامل ہو کے پھر جب ہو جائے تو مجھے audio بھیج دیں۔
سوال 32: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے مراقبہ کرتے ہوئے دل کی کیفیت پوچھی تھی، کبھی ایسا لگتا ہے کہ اوپر کا حصہ حرکت کر رہا ہے، کبھی وہم لگتا ہے، لیکن الحمد للہ ناغہ نہیں ہوتا۔ اب آگے کیا حکم ہے؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ماشاءاللہ! اگر آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ اللہ اللہ اس طرح محسوس ہو رہا ہے تو بس ٹھیک ہے ماشاءالله۔ اس کو 15 منٹ کے لیے کر لیں، آپ اگر یہ کرتے ہیں تو 15 منٹ کے لیے لطیفہ قلب پر بھی ایسا محسوس کرنے کی کوشش کر لیں۔ لطیفہ قلب جو ہے وہ اصل میں پورے جسم کو اگر آدھا کیا جائے تو بائیں طرف جتنے فاصلے پر دل ہے، اتنے ہی دائیں طرف پر جو جگہ ہے اس کو لطیفہ روح کہتے ہیں۔ تو اس پر بھی 15 منٹ تصور کریں کہ وہاں پر بھی اللہ اللہ ہو رہا ہے۔ پہلے دل پر 15 منٹ اور پھر اس کے بعد دائیں طرف لطیفہ روح پر 15 منٹ۔
ماشاءاللہ میرے خیال سوچ کے مطابق تو سوالات جو آئے تھے وہ تو ماشاءاللہ ہو چکے ہیں، لیکن میرے خیال میں کچھ اس پر بھی آئے تھے تو ذرا وہ بھی کر لیتا ہوں۔
سوال 33: السلام علیکم مرشد! آپ خیریت سے ہوں گے اور اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔ حضرت! بڑی پریشانی میں مبتلا ہوں، ندامت بھی ہے کہ ابھی تک آپ کے بتلائے گئے اذکار بھی پورے نہیں کر سکا۔ کوئی ادھر ادھر کی کہانی نہیں بنانا چاہتا کیونکہ اس میں مجھ سیاہ کار اور ریا کار کی نااہلی ہے۔ نہ جانے رب کو کون سی بات پسند نہ آئی کہ اس نے اب تک فرائض سے محروم نہیں کیا۔ باقی مسجد میں ہفتے میں ایک ہی بار جانا نصیب ہوتا ہے۔ میرے لیے خصوصی دعا کیجیے کہ اللہ پاک اس غافل کو اپنے نفس پر قابو پانے کی توفیق عطا فرما دے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے میری رہنمائی فرمائیں، آپ کا تو تجربہ بھی ہے۔ گو کہ یہ سچ ہے کہ کوشش میں نے خود ہی کرنی ہے، پر کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں خود اس صورتحال سے کیسے اپنے آپ کو نکالوں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: بات یہ ہے کہ ماشاءاللہ آپ کی سوچ تو اچھی ہے۔ آپ کی عقل کام کر رہی ہے، لیکن ابھی آپ کا دل ساتھ نہیں ہے۔ تین stages ہوتے ہیں: پہلے انسان کی عقل مانتی ہے کسی چیز کو، پھر اس کے بعد اس کا دل مانتا ہے، پھر اس کے بعد اس کا نفس مانتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص اس ترتیب کو الٹ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ تو پہلے convince ہو گا، تو convince تو آپ ہیں، تبھی تو آپ لکھ رہے ہیں۔ اور دل مطمئن ہونے کے لیے دل کی ضرورت ہے ذکر کے ذریعے سے؛ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کا صاف کرنے کا آلہ ہوتا ہے اور دلوں کا جو صاف کرنے کا آلہ ہے وہ ذکرِ اللہ ہے۔
تو جو ذکر بتایا ہے وہ آپ پابندی کے ساتھ شروع کر لیں۔ اب دوائی اگر کوئی نہیں کھاتا تو وہ کہتا ہے میں ٹھیک نہیں ہوا، تو یہ تو اس کی پھر عقلی غلطی ہے۔ اس کو تو پھر ملامت کیا جائے گا کہ آپ اپنا علاج کرنا نہیں چاہتے۔ بہت سارے شوگر کے مریض ہوتے ہیں، ان کو بتایا جاتا ہے کہ میٹھا نہ کھائیں، لیکن وہ پرواہ نہیں کرتے، آخر میں اس بیماری کی وجہ سے اور بیماریاں بن جاتی ہیں۔ تو ڈاکٹر تو ان کو یہی کہہ سکتا ہے، باقی تو عمل تو خود ہی کرے گا۔
تو آپ اس طرح کر لیں کہ ابھی آپ کم از کم ذکر شروع کر لیں، اور جیسے ذکر بتایا ہے وہ ذکر آپ مکمل کریں۔ سب سے پہلے وہی 300 اور 200 والا ذکر اگر آپ نے نہیں کیا، اس کو مکمل کر کے مجھے inform کر لیں، 40 دن کے بعد۔ پھر اس کے بعد ان شاء اللہ مزید بات ہو گی۔ خیالی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بات بظاہر اچھی لگتی ہے کہ میں ٹھیک نہیں ہوں، لیکن نہیں، ٹھیک ہو سکتے ہیں آپ۔ جو آپ کے بس میں ہے وہ آپ ضرور کر سکتے ہیں اور وہ یہی بات ہے کہ ذکر تو آپ کے بس میں ہے۔ کسی نے آپ کو روکا تھوڑا ہے کہ آپ ذکر نہ کریں، کرنا نہیں چاہتے۔ تو آپ کریں، 40 دن تک اس کا ذکر تو کر لیں تو اس کا آپ کے دل پر اثر ہو گا، پھر مزید باتیں پھر ہوں گی۔ تو پہلا stage تو پورا کریں نا ان شاء اللہ۔
ٹھیک ہے ماشاءاللہ کچھ یہاں بھی نظر آتا ہے کہ پورے ہو گئے ہیں، تو اب اگر یہاں کچھ سوالات ہوں کسی کے وہ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر باہر سے کوئی سوالات کرنا چاہیں net کے ذریعے سے، وہ بھی کر سکتے ہیں ان شاء اللہ۔
سوال 34: السلام علیکم۔ حضرت یہ اتوار والے دن جب بیان ہو رہا تھا دن کو 11 بجے، اس میں آپ نے ایک بات ارشاد فرمائی تھی کہ اگر بندے کے دل کی جو اصلاح ہے وہ دل پہ تو لگا ہوا ہے اصلاح کرنے کے لیے۔ نفس کی نہیں کرتا، تو وہ مجذوب متمکن بن جاتا ہے۔ تو ایک تو یہ پوچھنا ہے یہ مجذوبِ متمکن کون ہوتا ہے؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ دل کی جو اصلاح ہے اس کا تعلق اذکار کے ساتھ ہے اور نفس کی اصلاح کا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ اور جو حضرات نفس کی اصلاح کے اوپر زور نہیں دیتے، بہت سی خانقاہیں ہیں وہ صرف قلوب کے اوپر زیادہ ان کا focus ہوتا ہے، تو کیا وہ مجذوب متمکن کی طرف چلے جاتے ہیں؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ماشاءاللہ آپ نے بہت اچھا نقطہ پکڑا ہے، کیونکہ یہی بات حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے کی ہے۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے جو اپنا مکتوب ہے، مکتوب نمبر 287 اپنے بھائی کو بھیجا ہے، تو اس میں یہی باتیں کی ہیں۔ اور بڑے ہی درد سے وہ خط لکھا ہے۔ اس میں حضرت نے یہی بات فرمائی ہے کہ جب انسان دل پر محنت کرتا ہے، ذکر اذکار کرتا ہے، دل بیدار ہو جاتا ہے اور مدہوش ہو جاتا ہے، محبت میں جوش میں آتا ہے۔ اس جوش میں بہت کچھ وہ کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے۔ تو پھر کیا کرنا چاہیے اس کو؟ اس کو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے (جیسے لوہا گرم ہوتا ہے تو اس سے کوئی چیز بنانی ہو تو بنا سکتے ہیں)، تو اس وقت پھر وہ مقامِ قلب پہ آ جاتا ہے، سالک اس وقت مقامِ قلب پہ آ جاتا ہے جس وقت دل بیدار ہو جاتا ہے۔ تو مقامِ قلب میں حضرت فرماتے ہیں (ظاہر ہے میں تو اس بارے میں کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا)، حضرت فرماتے ہیں کہ مقامِ قلب میں نفس اور روح یہ آپس میں اکٹھے ہوتے ہیں، حقیقتِ جامع اس کو کہتے ہیں۔ مطلب اس میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ دیکھیں نا، پہلے روح آزاد تھی، پھر جس وقت انسان پیدا ہو جاتا ہے تو اس روح کے ساتھ جسم بھی آ جاتا ہے نفس بھی آ جاتا ہے، تو وہ اس کو trap کر لیتا ہے، اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس وقت انسان کے نفس کے لیے استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن جس وقت اسی روح کو ذکر کے ذریعے سے جگا دیا جاتا ہے، تو پھر وہ آزاد ہونا چاہتی ہے، اس وقت وہ خود آزاد نہیں ہو سکتی آپ نے اس کی help کرنی ہے اور وہ جو آپ کی help کرنی ہے وہ سلوک ہے۔ کیونکہ نفس کا علاج مجاہدے کے ذریعے سے ہے، اس میں دس مقامات طے کرنے ہوتے ہیں، مقامِ ریاضت بھی ہے، مقامِ قناعت بھی ہے، مقامِ صبر بھی ہے، مقامِ زہد بھی ہے۔ یہ سارے طے کرنے ہوتے ہیں۔
اب یہ کسی کی نگرانی میں طے کرنے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اس کو نگرانی میں طے کر لے، مقامِ رضا تک پہنچ جائے تو نفس مطمئن ہو جاتا ہے۔ اس کو "نفسِ مطمئنہ" کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا: ﴿يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي﴾ [الفجر: 27-30]۔ تو اس صورت میں انسان کا سیر الی اللہ مکمل ہو جاتا ہے اور پھر سیر فی اللہ پہ چل سکتا ہے۔
لیکن اگر وہ اس سٹیج پر، اسی حالت میں مقامِ قلب میں رہے اور اس میں ہی انسان کو ہوش رہے، یعنی وہ سارے لوگوں کے ساتھ مل سکتا ہو، جڑ سکتا ہو اور سارے دنیا کے کام کر سکتا ہو۔ مطلب یہ کہ وہ دل کی اس حالت کو تو پہنچ گیا لیکن اس سے سلوک کی طرف نہیں چلا، یہ مجذوب متمکن ہے۔ یہ مجذوب متمکن ہے۔ اس کے بارے میں حضرت نے فرمایا کہ اس کی توجہ کی کیفیت جو منتہی مرجوع ہوتا ہے، اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی جو نفسِ مطمئنہ تک پہنچ چکا ہوتا ہے اس سے اس کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لوگ اس کو زیادہ بزرگ سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں نہ خود پہنچے ہوتے ہیں (بقول حضرت کے) اور نہ دوسروں کو پہنچا سکتے ہیں۔
تو اس وجہ سے جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں، میں ان کی شخصیت کے بارے میں بات نہیں کرتا لیکن ان کی بات کے بارے میں بات کر سکتا ہوں کہ سو فیصد غلط بات کرتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ دل پر ہی محنت کرنی چاہیے، نفس پر نہیں کرنا چاہیے۔ وہ جس حوالے سے اپنے آپ کو سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ جانتے ہیں نقشبندیہ سلسلے کے بارے میں... بھئی نقشبندی سلسلے کے مجدد صاحب زیادہ واقف تھے تم زیادہ واقف نہیں ہو! تم کون ہو اس کے خلاف بات کرنے والے؟ مجدد صاحبؒ کی تحریر پڑھو نا، اس کا پھر جواب دو۔ کیا لکھا ہے حضرت نے؟ اور خط ایسا لکھا ہے جیسے رو رو کے لکھا ہو۔ پھر بھی آپ کو حیا نہیں آتی؟ تو اس سے ہمارا دل کڑھتا ہے جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ اور ایسے بے شرمی سے بات کر لیتے ہیں کہ سلوک کے ذریعے سے بھی اصلاح ہوتی ہے اور جذب کے ذریعے سے بھی اصلاح ہوتی ہے۔
جذب کے ذریعے سے اصلاح کا مطلب ایسے ہے جیسے lift کے اوپر چڑھنا، اور سلوک کے اوپر اصلاح ایسے ہوتی ہے جیسے سیڑھیوں کے ذریعے چڑھنا۔ خدا کے بندو ہوش کے ناخن لو، یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کہاں سے کہہ رہے ہو؟ اپنی طرف سے باتیں بنا رہے ہو؟ تو یہ باتیں تو غلط ہیں۔ ان کو تو ہم غلط کہیں گے۔ میں نہیں کہتا، مجدد صاحبؒ غلط کہتے ہیں۔ اس طرح اور بزرگ فرماتے ہیں، غلط کہتے ہیں۔ تو اس کے لیے ہمیں تو عقل کے ناخن لینے پڑیں گے۔
ابھی میں نے ایک سالک کو بتایا نا کہ بھئی پہلے عقل کی بات ہے، پھر دل کی بات ہے، پھر نفس کی بات ہے۔ جب تک عقل مطمئن نہ ہو، اس وقت تک دل کا کام بھی شروع نہیں ہو سکتا۔ تبلیغی جماعت میں کیا کرتے ہیں؟ وہاں صرف بیان کرتے ہیں اور تو کچھ نہیں کرتے، تو یہ بیان کون سی چیز کو متاثر کرتا ہے؟ وہ عقل کو متاثر کرتے ہیں، تو پھر انسان مجاہدہ شروع کر لیتا ہے۔ ان کی missing چیز ذکر اللہ والی بات ہے، وہ کمی ان کی ذکر اللہ کی ہے، تو ان کو یہ کمی دور کرنی چاہیے۔ اور مجذوب متمکن کی کمی کیا ہے؟ وہ نفس والی اس کے اوپر محنت... وہ کمی دور کرنی چاہیے، تبھی تو وہ مکمل ہو جائیں گے ماشاءاللہ۔ بھئی آدھا کام کر کے چھوڑنا کیوں ہے؟ پورا کام کرو نا۔ جو کام مطلوب ہے، تینوں کام مطلوب ہیں، عقل کی بھی اصلاح ضروری ہے، دل کی بھی اصلاح ضروری ہے، نفس کی بھی اصلاح ضروری ہے۔
جس وقت پہلے پہلے میں نے حضرت کا مکتوب شریف پڑھانا شروع کر لیا تو مجھے messages آنے شروع ہو گئے۔ ایک جگہ سے میسج آیا کہ آپ نے یہ نفس کی بات کہاں سے لی؟ حدیث شریف میں تو دل کی بات ہے۔ وہ حدیث شریف موجود ہے نا کہ جسم کے اندر گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک ہو جائے، اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جائے۔ تو میں نے کہا بالکل ٹھیک ہے، حدیث شریف غلط تو نہیں، حدیث شریف تو بالکل صحیح ہے۔ البتہ میں نے یہ لیا ہے قرآن سے۔ قرآن پاک میں فرماتے ہیں: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾ [الشمس: 9-10]۔ اور قرآن و حدیث آپس میں مخالف نہیں ہو سکتے، تو ان کی آپس میں تطبیق ہے۔
اور تطبیق کیا ہے؟ جب تک نفس کام صحیح نہ کرے یعنی مطمئن نہ ہو جائے، اس وقت تک دل صاف نہیں رہ سکتا۔ اور دل جب تک ٹھیک نہ ہو تو نفس ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دل ذریعہ ہے نفس کو ٹھیک کرنے کا، اور نفس کا ٹھیک کرنا ضروری ہے دل کو ٹھیک رکھنے کے لیے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے حوض ہے۔ اور حوض میں مختلف ذریعوں سے پانی آتا ہے، اور اس میں گند آ رہا ہے۔ اس حوض کو صاف کرنے کا طریقہ کیا ہو گا؟ اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ پہلے تو وہ جو گند آ رہا ہے، اس کو روکو۔ جب وہ رک جائے، اس کے بعد پھر حوض صاف کرنا ہو تو صاف ہو جائے گا۔ ورنہ آپ اس کے ہوتے ہوئے حوض کو صاف کریں گے تو کبھی صاف نہیں کر سکتے۔ اور اس کی مثال کیا ہے؟
ہماری آنکھ ایک نہر ہے، ہمارے کان ایک نہر ہیں، ہمارا دماغ ایک نہر ہے، ہمارے ہاتھ پاؤں جہاں جہاں کوئی حس ہے، وہ ایک نہر ہے۔ وہاں سے گندگی آ رہی ہوتی ہے ہمارے دل کی طرف۔ ہماری ایک غلط نظر ہمارے دل کو خراب کر دیتی ہے، ہماری ایک غلط بات سن کر ہمارا دل خراب ہو سکتا ہے، ہمارا ایک خیال غلط دل کو خراب کرتا ہے۔ جب تک ان چیزوں کی اصلاح نہیں ہو گی، ہمارا دل کیسے پاک صاف ہو سکتا ہے؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ جب دل پاک و صاف ہو جاتا ہے تو یہ چیزیں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آنکھ کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، کان کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، زبان کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، دماغ کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے۔ تو اس وقت ہمت کرنی پڑتی ہے، وہ ہمت کرنا نفس کے اوپر محنت ہے وہ سلوک طے کرنا ہے۔
تو یہ آپس میں بالکل لازم و ملزوم ہیں، باہم مربوط ہیں، ان کو آپس میں جدا کرنا یہ عقل کے خلاف بات ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو ان تمام چیزوں کو سمجھنا بھی ہے اور اس کے مطابق کام بھی کرنا ہے۔ خواہ مخواہ اپنا وقت کیوں ضائع کریں؟ اور اگر اپنا وقت ضائع کرنا ہو تو چلو کر لو، دوسروں کا وقت کیوں ضائع کرتے ہو؟ دوسروں کو غلط باتیں کیوں بتاتے ہو؟ دوسروں کو کم از کم غلط باتیں نہ بتاؤ نا۔ بھئی میں اگر غلطی پہ جا رہا ہوں (اللہ مجھے بھی غلطی سے بچائے)، لیکن میں کسی اور کو غلط بات بتا کر اس کا بھی اپنے سر پہ لے لوں تو کتنی خطرناک بات ہے۔ اس سے تو کم از کم مجھے بچنا چاہیے نا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرما دے۔
سوال 35: حضرت ایک بات یہ ہے کہ یہ جو اوابین کی نماز ہوتی ہے مغرب کی نماز کے بعد، بعض اوقات بیان میں پہنچنا ہوتا ہے، اوابین پڑھو تو یہاں سے شروع والا بیان نکل جاتا ہے کیونکہ میں پیدل آتا ہوں دس منٹ پانچ منٹ سات منٹ لگ جاتے ہیں، تو اوابین چھوڑ دیں یا کیا کریں؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: استفتِ قلبک (اپنے دل سے فتویٰ لو)۔
سوال 36: اور دوسرا حضرت یہ ہے کہ بعض اوقات جو ہے نا کسی ایسی جگہ پر جہاں پہ موسیقی کا ماحول ہوتا ہے، کوئی نکاح ہو رہا ہے یا کوئی اس طرح اچانک شروع ہو جاتا ہے یا کوئی ہو رہا ہے پہلے سے۔ اس وقت "یا ھادی" یا "نور" کا وظیفہ جو آپ نے بتایا وہ کرتے ہیں اور ادھر توجہ بھی نہیں ہوتی۔ کوشش کرتے ہیں کہ جو آواز آ رہی ہوتی ہے اس کو کنٹرول نہیں کر سکتے یا تلاوت شروع کر لی یا درود شریف پڑھتے رہتے ہیں، تو اور بدنظری سے بھی کوشش کر کے بندہ اس سے نکل جاتا ہے، لیکن بعد میں اس کا طبیعت پہ اثر ہوتا ہے یہ کیا وجہ ہے اس کی؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ہوتا تو ہے کیونکہ قدرتی بات ہے، اصل میں بات یہ ہے کہ گرم چیز کا گرم اثر ہوتا ہے، ٹھنڈی چیز کا ٹھنڈا اثر ہوتا ہے۔ کوئی آدمی کہتا ہے مجھے یہ اثر نہ ہو تو وہ تو غلط بات ہے۔ ہاں گرم کپڑے پہننا، وہ اسی کے لیے ہے کہ آپ کو سردی نہ لگے، اور پنکھا چلانا اور AC چلانا یہ گرمی کو دور کرنے کے لیے ہے۔ تو وہ تو ہے۔
اب اس میں یہ والی بات میں عرض کروں گا کہ ایک حدیث شریف ہے، وہ ہماری رہنمائی کرتی ہے اس مسئلے میں۔ مجھے اس صحابی کا نام معلوم نہیں ہے، وہ اس کے بارے میں آپ کو یاد ہو گا، کہ وہ ایک تابعی کے ساتھ (بچے کے ساتھ) جا رہے تھے تو کچھ آواز آئی میوزک بانسری کی یا پتا نہیں کیا۔ تو آواز آئی تو انہوں نے کانوں کے اندر انگلیاں دے دیں۔ جاتے جاتے انہوں نے پوچھا کہ اب تو نہیں آ رہی؟ تو اس نے کہا اب نہیں آ رہی، تو پھر انہوں نے انگلیاں نکالیں۔ انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ایسے کرتے دیکھا ہے۔ میں ان کے ساتھ تھا تو اس طرح آواز آ رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کانوں میں انگلیاں رکھ لی تھیں۔ پھر بعد میں مجھ سے پوچھا (میں اس وقت بچہ تھا) کہ ابھی تو آواز نہیں آ رہی؟ تو میں نے کہا کہ نہیں اب نہیں آ رہی، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں نکالیں۔
اب انگلیاں ڈالنے والی بات تو چلو ذرا مشکل ہے لیکن آج کل ایک اچھی چیز وجود میں آئی ہے۔ یہ by air جو سفر کرتے ہیں نا تو اس کے لیے ملتے ہیں، وہ کان میں ڈالنے کے لیے، اس سے آواز پھر نہیں آتی، ear plugs۔ وہ ear plugs آدمی کان میں ڈال دے تو آج کل تو ویسے بھی لوگ وہ ڈالتے ہیں نا، تو لوگ سمجھیں گے شاید آپ نے وہ ڈالے ہوئے ہیں۔ لیکن آپ کی حفاظت ہو گی ان شاء اللہ پھر بعد میں آپ کو تنگ نہیں کریں گے۔
سوال 37: اچھا یہ ہے کہ عمل کرنے میں تھوڑا سا نا وہ مشکل پیش آتی ہے یعنی دل نہیں کرتا جی، تو اس کے لیے کوئی اگر بتا دیا جائے کہ…
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: آپ نے دونوں باتیں صحیح کیں، آپ نے دونوں باتیں صحیح کیں۔ دل نہیں چاہتا اور عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عمل کرنا مشکل ہے نفس کے لیے، دل نہیں چاہتا کیونکہ دل میں دنیا کی محبت ہے۔ تو ان دونوں کا اپنا اپنا علاج ہے۔ ذکر اللہ سے دل کی صفائی ہوتی ہے لیکن وہ دیرپا تب ہوتی ہے جب نفس کی بھی ساتھ اصلاح ہو۔ اس کے لیے ہی سلوک طے کرنا ہوتا ہے۔ مشائخ کے پاس اسی مقصد کے لیے جاتے ہیں۔ وہ مشائخ پھر اسی راستے پہ چلا دیتے ہیں کہ وہ پہلے ان کو ذکر اذکار دیتے ہیں، ذکر اذکار سے ان کا دل صاف ہو جاتا ہے، ان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ مجھ میں کمی کیا ہے۔ کمزوریاں کیا ہیں؟
ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے پھر ان کو مقامات طے کرنے ہوتے ہیں۔ مقامِ توبہ، مقامِ انابت، مقامِ قناعت، مقامِ ریاضت، مقامِ تقویٰ، مقامِ صبر، مقامِ زہد، مقامِ توکل، مقامِ تسلیم، مقامِ رضا، یہ باقاعدہ step by step وہ طے کرنے ہوتے ہیں۔ جب وہ طے ہو جاتے ہیں، سبحان اللہ! پھر نفس ماننا سیکھ لیتا ہے۔ پھر ماشاءاللہ عمل کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ یہ بات ہے۔
سوال 38: حضرت یہ اتوار والے دن میرے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ مدرسے میں پڑھا رہا تھا تو وہاں پر اطلاع آئی کہ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مولانا محبوب الرحمٰن صاحب، کوئی نام ہے بلوچستان کے، وہ کہیں تشریف لائے تھے کسی مدرسے میں۔ تو اساتذہ نے کہا کہ بھئی سارے قریب کے علماء بھی وہاں جائیں، بیان سنیں گے اور بیان ہوگا۔ تو وہ پھر اتوار کے دن گیارہ بجے یہاں بھی بیان ہوتا ہے۔ تو وہ جب نکلنے لگے تو میرے ذہن میں خیال آیا، میں نے کہا کہ میرے شیخ کا بھی بیان گیارہ بجے چل رہا ہے ان کا بھی گیارہ بجے، تو میں نے کہا میں اپنے شیخ کا جا کے سن لیتا ہوں۔ میں وہاں سے موٹر سائیکل لی اور سیدھا خانقاہ میں آ گیا۔ تو ایسے اگر آئندہ بھی کبھی ہو جاتا ہے ایسے میں نے ٹھیک کیا یا…
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: بالکل آپ نے صحیح کیا ہے، میں تو آپ کو کیا عرض کروں۔ ہزارے کی بات کرتا ہوں، ہزارے میں پہاڑ ہوتے ہیں نا اونچے اور نیچے، اور ادھر اوپر گھر ہوتے ہیں۔ تو کوئی اللہ والے تھے، ان کا مرید تھا، اس کو کام دیا تھا کوئی چیز لانے کا۔ تو ظاہر ہے دور دور بازار ہوتے ہیں دور دور جگہیں ہوتی ہیں۔ تو وہ لا رہے تھے تو جب یہ نیچے اتر رہے تھے تو پیچھے سے ایک آواز آئی کہ "آؤ مجھ سے ملو، میں خضر ہوں"۔ تو انہوں نے سنی ان سنی کر لی پروا نہیں کی نا، چلتے رہے۔ تھوڑے سے آگے گئے تو آواز آئی: "بھئی مجھ سے تو منتیں کر کر کے ملتے ہیں، تو میں وہاں خود آواز دیتا ہوں تم نہیں آ رہے ہو؟" تو انہوں نے بغیر دیکھے کہا کہ "میرا خضر ادھر ہے"۔ "میرا خضر ادھر ہے"۔ تو نہیں ملے۔ وہاں گئے تو حضرت کو پہلے سے کشفاً اطلاع ہو گئی تھی۔ الحمد للہ ان کو اس سے پھر بڑی ترقی ہوئی، یہی "توحیدِ مطلب" ہے۔
اب حضرت کے مقام میں کمی نہیں، الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بہت مقام دیا کہ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے اوپر اعتماد کیا معمولی شخص تو نہیں ہیں۔ لیکن تربیت میں توحیدِ مطلب بنیادی چیز ہوتی ہے، کیونکہ توحیدِ مطلب اگر نہ ہو تو بقول حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ راستے میں رہ جاتا ہے کسی جگہ کا نہیں رہتا اور شیطان اس کو detrack کر لیتا ہے، اپنے راستے سے ہٹا دیتا ہے۔
یہ بات ہے کہ صرف اس مقصد کے لیے مطلب علاج کے point of view سے ہے، کیونکہ علاج جو ہوتا ہے ایک وقت میں صرف ایک ڈاکٹر سے کیا جاتا ہے، کیونکہ کئی ڈاکٹروں سے علاج اگر ہو تو پھر اس میں نقصان ہو سکتا ہے۔ ہاں البتہ استاذ ہزاروں ہو سکتے ہیں، علم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ علم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں علم کے لیے انسان ہزاروں سے اخذ کر سکتا ہے۔ لیکن جو تربیت ہے وہ کسی ایک سے ہی ہے۔
یہ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے۔ حضرت جب مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ موجود تھے، تو یقین جانیں ادھر پنڈی میں اور اسلام آباد میں بڑے بڑے بزرگ اس وقت تھے، مجھے کچھ بھی نہیں تھا پتا کون تھے، بعد میں پتا چلا کہ ایسے بھی ہیں ویسے بھی ہیں۔ میں نے حضرت کو بتا دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ صحبتِ صالحین کی نیت سے آپ ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں ورنہ یہ بات ہے کہ یہ بھی نہ ہوتا۔
تو جب حضرت ماشاءاللہ موجود تھے تو ایک دفعہ حضرت بھی تشریف لائے تھے اور مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اور حضرت کے ایک اور خلیفہ بھی تھے اور محفل گرم تھی۔ ظاہر ہے حضرت کی عارفانہ باتیں اور ان حضرات سب چل رہی تھیں، ہم تو student تھے تو درمیان میں پھر ہمیں جانا بھی ہوتا تھا۔ ہمارا طریقہ تھا کہ حضرت سے مصافحہ کر کے جاتے تھے۔ تو جارہے تھے تو ہمارا طریقہ تھا کہ ہم حضرت سے مصافحہ کرکے جاتے تھے۔ یہ حضرات کے وہاں یہ بات تھی۔ تو جا کے حضرت کی طرف گئے مصافحہ کرنے، حضرت چپکے چپکے سے اشارہ کرتے ہیں کہ پہلے مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مصافحہ کرو پھر میرے ساتھ کرو۔ اب ہمیں سمجھ ہی نہیں آ رہی، بالکل خیال ہی نہیں تھا، وہ جو ہے نا ایک ہی طرف تھے۔ جب بلکل خیال ہو گیا کہ یہ تو حضرت کہ رہے ہیں پھر ہم نے مولانا فقیر محمد صاحب سے مصافحہ کیا پھر حضرت سے کیا، پھر ہم چلے گئے۔ یعنی اس وقت یہ والی بات تھی ہی نہیں کہ کون ہے، بس دیکھتے ہیں کہ بس ہمارے لیے تو ذریعہ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے سب کے ساتھ۔
جن سے بھی فیض ملتا تھا تو حضرت ہی کا۔ میں صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے جو ملا ہوں، تو وہ بھی حضرت ہی کی برکت تھی۔ بلکہ یقین جانیں کہ جب سے میں حضرت سے ملا تھا، تو حضرت کو کشفاً پتا چل گیا کہ میرا تعلق مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہے۔ تو اس کے بعد حضرت نے اپنی بات کبھی بھی نہیں مجھے بتائی،: "مولانا صاحب یہ کہتے ہیں، مولانا صاحب یہ کہتے ہیں"، میرے ساتھ مولانا صاحب کی باتیں کرتے تھے حضرت۔ تو مقصد یہ ہے کہ حضرت کو بھی اس چیز کا بڑا احساس ہوتا تھا، وہ دوسری طرف نہیں جانے دیتے تھے۔ تو یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ توحیدِ مطلب ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔
جی، کوئی او ر سوال اگر ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ پھر ذکر کرتے ہیں کیونکہ time شاید ذکر کا ہی ہے۔
(سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَ