سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 652

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

الحمد للہ رب العالمین الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم معزز خواتین و حضرات آج پیر کا دن ہے پیر کے دن ہمارے ہاں جو سوال کیے جاتے ہیں ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور جو احوال بتائے جاتے ہیں ان کی بھی تحقیق بتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سوال: ایک شخص نے ایک حدیث شریف بھیجا ہے ارشاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، بھیڑ کی کھال جس طرح نرم و ملائم لباس، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جبکہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا۔ جامع ترمذی 2404 نمبر حدیث شریف کی بتاتے ہیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت تشریح کی ہو گا اس کا کہ دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، ہم تو دعا کرتے ہیں کہ دنیا بھی بہترین دے اور آخرت بھی، یعنی اس بارے میں سوال کیا ہے کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: اللہ اکبر، اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ دین کو شو کر کے اس میں دنیا کے طالب ہوں گے وہ اس سے مراد ہے۔ بظاہر تو دین کا کام کر رہے ہوں گے لیکن اس میں اصل میں ان کا مطلوب دنیا ہو گی ان کے لیے یہ بات ہے۔ یہ نہیں کہ انسان دنیا کی جو ضروریات ہیں وہ طلب نہیں کر سکتا، آخر دنیا کی مثال کے طور پر آپ کے پیٹ میں درد ہے تو اللہ تعالیٰ سے آپ دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ میرے پیٹ کا درد ٹھیک ہو جائے۔ تو یہ آخرت کی بات ہے دنیا کی بات ہے؟ دنیا کی بات ہے۔ لیکن جائز ہے، ناجائز ہے؟ جائز ہے۔ تو اس پہ تو ممانعت نہیں ہے۔ آخر دنیا بھی تو اللہ کی دی ہوئی ہے، ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [البقرة: 201] یہ تو قرآنی دعا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک سے دنیا کی چیز مانگنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ دنیا کی اصل میں دو حیثیتیں ہیں اس پہ لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی ایک حیثیت یہ ہے کہ یہ ہمارے لیے امتحان گاہ ہے، یہاں پر ہم لوگ آئے ہیں آخرت کو بنانے کے لیے، اور آخرت جو ہم بنائیں گے تو ظاہر ہے اس کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے، ایک زندگی کی اور ایک صحت کی۔ مطلب ان دو چیزوں کی ضرورت ہے بغیر اس کے تو آخرت نہیں بنا سکتے اگر بیمار ہو گئے تو پھر بھی ہم کام نہیں کر سکیں گے اور اگر دنیا سے چلے جائیں گے تو پھر تو عملنامہ ختم ہو جائے گا، تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ صحت بھی برقرار رکھنی ہے اور زندگی بھی برقرار رکھنی ہے۔ اپنی مرضی سے کوئی جا نہیں سکتا۔ جیسے اپنی مرضی سے کوئی آ نہیں سکتا اس طرح اپنی مرضی سے کوئی جا نہیں سکتا۔ تو جب یہ بات سامنے آ گئی تو اس کا مطلب ہے کہ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور صحت کو برقرار رکھنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے دنیا میں، وہ تو ذریعہ ہے آخرت کو کمانے کا۔ کیونکہ آخرت کو کمانے کے لیے بھی آپ کو اس کی ضرورت ہو گی۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حد سے نہ بڑھیں، جو حد اللہ نے مقرر کیا ہے اس سے زیادہ نہ ہوں، ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ [الأعراف: 31] کھاؤ پیو مگر اس حد سے باہر نہ نکلو۔ مطلب یہ والی بات ہے۔ تو ہر چیز میں حد جو شریعت نے مقرر کی ہے اس پہ رہنا، یہ ضرورت ہے، اس کے بعد کی۔ اگر کوئی شخص حد میں رہتا ہے اور دنیا کو استعمال کرتا ہے اور گناہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کو استعمال کرتا ہے تو یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ پیغمبر بھی، پیغمبروں پہ جو لوگوں نے مطلب جو ہے نا وہ جس کو کہتے ہیں اعتراض کیے تھے ان میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ بازاروں میں پھرتے ہیں کھاتے ہیں۔ ہاں جی۔ تو اللہ پاک نے اس کا جواب دیا تھا۔ ہاں جی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ آخرت مطلب ہم لوگ دین کو دنیا کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ دنیا کو دین کا ذریعہ بنائیں۔ ہاں جی، اب مثال کے طور پر میں نماز پڑھتا ہوں، اب نماز میں اس لیے پڑھتا ہوں کہ میری ایکسرسائز ہو جائے اور اس سے میری صحت اس سے اچھی ہو جائے۔ اب صحت بنانا ٹھیک ٹھاک کام ہے لیکن نماز اس کے لیے نہیں ہے۔ نماز میں کیا ہے؟ وہ تو صرف اللہ کے لیے ہے ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ [الفاتحة: 5] ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، ﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [الفاتحة: 5] اور تجھی سے مانگتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ عبادت تو صرف اللہ کے لیے، اللہ کو راضی کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ دنیا کے لیے نہیں کی جاتی۔ لہذا عبادت میں دنیا کی نیت اس کو دنیا بنانا ہے۔ ٹھیک ہے نا، ان چیزوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ آپ نے بھیجنا ہے اصل میں رہ گیا۔ ریکارڈ کر لیں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی میں جب مراقبہ سے پہلے ذکر کرتی ہوں ساڑھے چار ہزار، اور پھر 10 منٹ مراقبہ کرتی ہوں تو ذکر کرتے وقت خیالات پر قابو نہیں ہوتے اور مسلسل مختلف خیالات آتے ہیں جبکہ مراقبے کے وقت دھیان دل پر ہوتا ہے اور کبھی کبھی میں اپنے جسم کو بھی محسوس نہیں کرتی بس دل کی دھڑکن محسوس کرتی ہوں اور باقی کچھ بھی محسوس نہیں کرتی جیسے بالکل فنا ہو جاتی ہوں۔ اپنی برائیاں زیادہ نظر آنے لگی ہیں اور بہت پریشان رہتی ہوں کہ میں کتنی بری ہوں اور عجیب و غریب خیالات آتے ہیں جس کی وجہ سے بہت پریشان ہوتی ہوں۔ پھر معمولات بھی مشکل کرنے سے کر پاتی ہوں یہاں تک کہ پھر رات دیر تک اپنے معمولات جیسے تیسے پورے کر لیتی ہوں، ذکر بھی کم ہو جاتا ہے، درود شریف کی تعداد میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔ کچھ دن ایسے رہتی ہوں پھر ٹھیک ہو جاتی ہوں تب تو پھر ذکر بڑھا دیتی ہوں پھر ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتی ہوں اور پھر ڈپریشن ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے میرے روزانہ کے کاموں کا حرج ہوتا ہے بہت مشکل سے اپنا کام پورا کر پاتی ہوں کبھی کبھی رات کو پریشانی کی وجہ سے نیند بھی نہیں آتی۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: سبحان اللہ، یہ جو اصل میں آپ کو مراقبہ نصیب ہوا ہے یہ بھی ذکر کی برکت سے ہوا ہے۔ اس وجہ سے ذکر میں آپ قصداً توجہ دوسری طرف نہ کریں، اگر خود بخود کوئی خیالات آنے لگیں اس کے ساتھ الجھیں بھی نہیں، بس اس کو اگنور کریں اس کو ایسے سمجھیں جیسے پنکھے کا شور ہوتا ہے۔ تو پنکھے کے شور کی طرف کوئی توجہ کرتا ہے؟ اور شور تو ہوتا ہے اس سے تو انکار نہیں ہے۔ تو جس طرح پنکھے کے شور کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا اس طرح آپ اپنے خیالات کی طرف بھی توجہ نہ کریں۔ اپنا ذکر کی طرف توجہ رکھیں اور پھر جو مراقبہ ہے اس میں آپ ماشاءاللہ کر لیں۔ مراقبہ ذرا بڑھا لیں اس کو 10 منٹ کی جگہ 15 منٹ کر لیں۔ اور بات یہ ہے کہ حالات اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں اور اسی میں انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ لہذا آپ اس کے بارے میں پریشان نہ ہوں، اگر آپ کو ماشاءاللہ دوبارہ اللہ پاک توفیق عطا فرمائے تو اس پہ اللہ کا شکر ادا کریں، اور اگر کسی وقت مشکل ہو جائے تو اس وقت ہمت کر لیا کریں۔

سوال: السلام علیکم، سوالوں میں اچھا میں خیالات کے مزے میں مبتلا ہوتا ہوں خیالی خیال میں حالات کے بدلنے کا سوچنا اور مزے لینا گھنٹوں اس طرح ضائع کر دیتا ہوں، کیا کروں؟ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: جو چیز اختیاری ہو اس میں اختیار کو استعمال کرنا مطلوب ہے، اور جو چیز بے اختیاری ہو، مطلب غیر اختیاری ہو اس پہ پروا نہیں کرنا چاہیے۔ لہذا آپ چونکہ اس بات کا جو فرما رہے ہیں کہ اختیاری ہے یعنی آپ خود اس میں مبتلا ہوتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اس خیالات سے نکال لیا کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ جو ہے نا مطلب جس وقت آپ کو خیالات آنے لگیں تو اپنے آپ کو کسی مفید کام میں مشغول کر لیا کریں۔ ہاں جی، جب بھی آپ کو خیالات کا ہجوم ہونے لگے تو اپنے آپ کو کسی مفید کام میں مشغول کر لیا کریں کیونکہ اختیاری ہے اور اختیاری کو اختیار سے ہی بدلا جا سکتا ہے۔ ہاں جی، جیسے ہی آپ کو یاد آ رہا ہے کہ بھئی یہ تو اس سے وقت ضائع ہوتا ہے تو اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اختیاری طور پر اللہ پاک کا ذکر کریں سب سے پہلے جو کام سب سے آسان کام جو انسان کر سکتا ہے اختیاری طور پر وہ ذکر اللہ ہے۔ اس میں نہ پیٹرول لگتا ہے نہ پیسے لگتے ہیں نہ کوئی اور مشکل ہے۔ لہذا آپ کو جیسے آپ سمجھنے لگتے ہیں کہ بھئی یہ تو خیالات شروع ہو گئے آپ زبان سے ذکر کرنا شروع کر لیں انشاءاللہ۔

سوال: السلام علیکم، کیا حال ہے حضرت؟ تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار سو سو دفعہ، لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ، اللہ نو ہزار مرتبہ۔ مہینے سے زیادہ ہوا ہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: ماشاءاللہ ماشاءاللہ اللہ تعالی مزید برکت عطا فرمائے، اب اللہ ساڑھے نو ہزار کر لیں اور باقی، اب اللہ ساڑھے نو ہزار کر لیں اور باقی جو ہے نا یہی رکھیں انشاءاللہ العزیز اللہ تعالیٰ مزید توفیقات سے نوازے۔

سوال: Sheikh Assalamualaikum, as per your instruction I was able to do the following hasanat, virtuous deeds in the last one month. Number one: read two pages of Tafseer daily. Number two: fast on Monday and Thursday. Number three: share one to two Hadith Sharifah with others and teach some brothers and sisters recite Quran. I also started teaching Arabic alphabets. After doing the above I have almost same feeling at least started teaching at least month, that is I feel peaceful and confident and have more patience, especially have more concentration during prayers and feeling as if I have recently started to know how to pray. Besides, I feel myself as a person who knows nothing. (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: Subhan Allah, it's very good. You should continue this inshaAllah ul Aziz and especially ask help from Allah Subhanahu Wa Ta'ala in these things. And also pray for Palestinians, may Allah Subhanahu Wa Ta'ala grant them Fatah, and may Allah Subhanahu Wa Ta'ala crush Israelis who are doing zulm on them.

سوال: السلام علیکم، کچھ دن پہلے میرے ساتھ کچھ پیسوں کا بینک کا فراڈ ہوا تھا جس کی وجہ سے پریشان تھا اور میسج میں بھی تاخیر ہو گئی ہے اس کے لیے معذرت خواہ ہوں آپ بھی دعا کیجئے اللہ پاک خیریت سے ریکوری کرا دے۔ باقی آپ نے جو عیوب کی لسٹ بنانے کے لیے کہا تھا وہ جو مجھے سمجھ میں آئی ہے ایسے ہیں۔ نمبر ایک غصہ بلاوجہ آتا ہے، نمبر دو موبائل کا بے جا استعمال، نمبر تین لوگوں سے بلاوجہ متاثر ہونا ان کی ظاہری حالت دیکھ کر، نمبر چار خود اعتمادی کی کمی جس کی وجہ سے کبھی کوئی اچھا کام کرنے سے بھی ڈر لگتا ہے، نمبر پانچ فجر کی نماز اکثر لیٹ ہو جاتی ہے، اور نمبر چھ داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی۔ باقی آپ گائیڈ کر لیں۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: سبحان اللہ۔ ماشاءاللہ اللہ جل شانہ آپ کی اس جو پیسوں کا مسئلہ ہوا ہے اللہ پاک اس کو جلد از جلد ریکور کرا دے امید ہے انشاءاللہ ریکور ہو جائیں گے۔ ٹائم بعض دفعہ لگ جاتا ہے لیکن ہو جاتے ہیں۔ اور جو عیوب کی لسٹ آپ نے بتائی ہے تو اس میں سب سے پہلی بات ہے غصہ بلاوجہ آتا ہے۔ آتا ہے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کرنے کا مسئلہ ہے۔ آ جائے تو سوچیں کہ یہ کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے اور کرنا چاہیے تو کتنا کرنا چاہیے وہاں پر اپنے ذہن اور سوچ کو استعمال کرنا چاہیے۔ باقی خود بخود آ جائے اس سے کوئی فرق مسئلہ نہیں ہے۔ ایسی چیزیں تو ہوتی رہتی ہیں۔ جہاں تک موبائل کا بے جا استعمال ہے چونکہ اختیاری چیز ہے لہذا اختیار سے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے آپ اس کو اختیار اس پر اختیار کنٹرول کرنا شروع کر لیں۔ لوگوں سے بلاوجہ متاثر ہونا ان کے ظاہری اس کے بارے میں بعد میں بات کروں گا پہلے ان دونوں چیزوں کو آپ بہتر کر لیں انشاءاللہ یہ باقی جو ہے نا پھر بعد میں بتاؤں گا فی الحال جو ہے نا ان دونوں پر کنٹرول کریں۔

سوال: Assalamualaikum Warahmatullahi Wabarakatuh Hazrat Saheb, hope you are well. I have compiled a few questions below and am eager for your response. Jazakallah khair and thanks in advance for your time and effort. شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ مکتوبات میں مجدد صاحب واضح طور پر فرق فرماتے ہیں تو شاہ صاحب یہ دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: اصل میں چیزوں کی جس اینگل سے دیکھنا ہوتا ہے نا اس جواب الگ ہو سکتا ہے یہ حضرت مجدد صاحب رحمتہ اللہ خود فرماتے ہیں کہ معرفت جو ہوتی ہے یہ ایک نقطہ نظر کی طرح ہوتا ہے۔ یعنی جس چیز کی طرف آپ کی نظر گئی ہے تو آپ کو وہ چیز اس طرح نظر آئے گی۔ تو اس میں اس وجہ سے فرق ہو سکتا ہے۔ تو اب اس میں جو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرق نقطہ نظر تھا نا وہ یہ تھا کہ لوگوں نے وحدت الوجود کو فلسفہ بنایا ہوا تھا۔ جبکہ یہ ایک حال ہے۔ تو چونکہ اس کو فلسفے کے طور پر نہیں لینا چاہیے تو حضرت نے شد و مد کے ساتھ اس کی مخالفت کی۔ کیونکہ اس وقت اس قسم کی چیزیں ہو رہی تھیں تو ورنہ یہ کہ ہمارے پرانے بزرگوں میں اس نام کے ساتھ تو یہ چیز نہیں تھی لیکن یہ چیز موجود تھی۔ یعنی حضرت مجدد صاحب نے نئی چیز دریافت نہیں کی ہے۔ اس کو نیا نام دیا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں سمجھانے کے لیے۔ کیونکہ بعض دفعہ نیا نام دینا ضروری ہوتا ہے جیسے ہم نے بھی نیا نام دیا ہے اللہ پاک معاف فرمائے سیر فی اللہ کو ہم نے نام دیا ہے طریق صحابہ۔ تو یہ طریق صحابہ آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا بس ٹھیک ہے جی۔ مطلب آپ سیر اللہ، سیر اللہ سے مراد سلوک ہے۔ یہ بھی ہم نے بتایا۔ سیر اللہ سے مراد سلوک ہے، سلوک طے کرنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے نفس کے خواہشات کو دبانا۔ یہ سلوک ہے۔ تو یہ جب ہو جائے تو چونکہ یہی تو شریعت کہتے ہیں تو لہذا جب یہ دب جائے تو پھر آپ آزاد ہیں، جب آپ آزاد ہیں تو پھر کرنا کیا ہے صحابہ کے طریقے پہ چلنا ہے۔ ہاں جی ﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [البقرة: 137] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي، جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔ لہذا صحابہ کا طریق ہمارے لیے مطلوب ہے اور اس میں جو رکاوٹ ہے وہ نفس ہے، سو نفس کے اوپر پیر رکھ کر آپ نے صحابہ کے طریقے پر چلنا ہے تو یہ ہم نے اس کو طریق صحابہ بتایا۔ اب ممکن ہے کچھ ہمارے خلاف بھی بات کریں کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ تو کرنے دیں ہمارا نقطہ نظر یہی ہے ہم نے اس نقطہ نظر سے کیا ہے تو اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو ہم اس کے ساتھ ہم الجھیں گے نہیں نمبر ایک۔ تو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس وجہ سے یہ چیز اس طرح ڈسکس کیا کیونکہ لوگ گمراہ ہو رہے تھے۔ جبکہ ہمارے پرانے بزرگوں میں یہ چیز موجود تھی اس کا نام تھا وحدت الوجود بالسکر اور وحدت الوجود بدون سکر۔ یہ پرانے بزرگوں میں یہ چیز تھی۔ یعنی سکر میں مدہوشی کی حالت ہوتی ہے، مدہوشی کی حالت میں وحدت الوجود اور ہوش کی حالت میں وحدت الوجود۔ تو ہوش کی حالت میں وحدت الوجود یہ ہوتا ہے کہ انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل کام تو اللہ پاک ہی کرتا ہے باقی چیزیں اس کے ذہن سے فنا ہو جاتی ہیں۔ تو اس کو ایک کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اس کو تجلیات افعالیہ بھی کہتے ہیں وہ مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تو وہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ ہوش میں انسان جب رہے گا تو وحدت الوجود ہی ہو گا یعنی ایک کام کرتا ہوا نظر آئے گا۔ ہاں جی مطلب ایک کام کرتا ہوا نظر آئے گا ٹھیک ہے نا تو لہذا یہ وحدت الشہود ہو گیا مطلب جیسے ایک آپ کو نظر آ رہا ہے تو اس کا نام حضرت نے وحدت الشہود رکھا لیکن بہرحال یہ جو ہے وہی وحدت الوجود ہی ہے جو کہ سکر کے سکر کے بغیر ہے۔ لہذا شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حوالے سے بات کی ہے تو دونوں کی باتیں ٹھیک ہیں۔

سوال: میرا سمجھ میں یہ تھا کہ وحدت الوجود کی ایک تفسیر ہے جو کفر ہے اور ایک تفسیر ہے جو صحیح ہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: بھئی کفر والی بات فلسفے کی ہے نا اگر آپ نے نعوذ باللہ من ذالک یہ کہا کہ واقعی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں تو اس تو قرآن پھر کس پہ اترا ہے؟ عمل کا حکم کس کو ہے؟ ظاہر ہے مطلب ہے کہ مخلوق کو اللہ پاک سے آپ جدا تو مانیں گے نا۔ اگر آپ مخلوق کو دیکھیں ﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا﴾ [آل عمران: 191] قرآن میں ہے ﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا﴾ [آل عمران: 191] ہاں جی یہ صاف فرمایا گیا ہے تو اب ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کا انکار تو ہم نہیں کر سکتے تو جو انکار کرے گا وہ تو کفر کی طرف جائے گا قرآن کا انکار کرے گا۔ لیکن یہ والی بات ہے کہ اگر فلسفہ نہیں حال ہے۔ تو حال پہ کوئی گرفت نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں انسان معذور ہوتا ہے۔ ہاں جی تو حال کی حالت میں ٹھیک ہے لیکن فلسفے کی حالت میں ٹھیک نہیں ہے اس میں گمراہی ہے، زندیقی ہے، حضرت بھی فرماتے ہیں۔ حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں زندیقی ہے اگر مطلب کوئی اس کو فلسفے کے طور پہ سمجھے گا۔ یعنی وجود کو بالکل جو ہے نا جس کو کہتے ہیں نا یہ ہم جو کہتے ہیں فنا فی اللہ تو فنا فی اللہ میں ہمارا وجود ختم نہیں ہوتا۔ وجود تو موجود ہوتا ہے۔ ہاں البتہ یہ کہ اس کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ ابھی دیکھو نا خاتون نے بتایا نہیں تھا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا وجود بھی نہیں ہے۔ ابھی مطلب یہ تو آج کل کی بات ہے نا کہ مطلب دور کی بات تو نہیں ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی بات گزری ہے۔ ہاں جی تو ایسا ہو سکتا ہے۔

سوال: اچھا ایک جو صحیح اور مجدد صاحب پہلے اس کی صحیح سمجھ پر تھے پھر توحید شہودی میں نہیں۔ بات وہی ہے جو میں نے ابھی عرض کی۔ توحید وجودی کہتے ہیں کہ مخلوق موجود نہیں صرف حق ہے اور توحید شہودی کہتی ہے کہ مخلوق موجود ہے لیکن میری توجہ حق کی طرف ہے لہذا یہ مختلف ہیں نہیں۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: بات یہ ہے کہ نقطہ نظر مختلف ہے۔ چیز مختلف نہیں ہے میرا اینگل آف ویژن جس کو ہم کہتے ہیں وہ مختلف ہے۔ تو ٹھیک ہے نا صحیح ہے یہ تو مختلف ہو سکتا ہے تو مجدد صاحب خود فرماتے ہیں کہ مختلف ہو سکتا ہے۔ آپ کسی بھی چیز کو جو ہے نا دیکھیں آ دیکھیں نا وہ ہاتھی تھا نا ہاتھی، تو جو اندھے تھے نا مطلب یہ کہ کسی کا پیٹ پہ ہاتھ رکھا گیا کہ یہ ہاتھی ہے تو اس نے کہا ہاتھی ایسے فلیٹ چیز ہوتی ہے۔ کسی کا پیر پہ ہاتھ پڑ گیا تو اس نے کہا ہاتھی ستون کی طرح ہوتا ہے۔ ہاں جی کسی کا دانتوں پہ ہاتھ پڑ گیا اس نے کہا یہ چھری کی طرح ہوتا ہے۔ اب ان کو آپ نے ان کو جو محسوس ہوا تو انہوں نے وہ بتا دیا، جھوٹے کوئی بھی نہیں تھے لیکن احساس ان کو اس طرح ہو رہا تھا۔ لہذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔

سوال: میں نے ڈاکٹر اسرار صاحب کی وحدت الوجود کی وضاحت کرتے ہوئے سنا کہ دنیا اللہ... (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: ڈاکٹر اسرار صاحب ایک وہ تھے مقرر تھے خطیب تھے اور جس کو کہتے ہیں سکالر تھے سکالر میں اس کو کہہ سکتا ہوں لیکن صوفی بھی نہیں تھے۔ مطلب ظاہر ہے وہ صوفی اپنے آپ کو خود بھی نہیں کہتا تھا تصوف کے قائل ہیں۔ تصوف کے منکر نہیں ہیں کیونکہ میں نے حضرت کو زیارت خود کی ہے تشریف لائے تھے مولانا اظہر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں۔ تو مطلب یہ ہے کہ لیکن وہ صوفی اپنے آپ کو کہتے بھی نہیں ہیں اس تصوف سے گزرے ہی نہیں ہیں، جب گزرے نہیں ہیں تو ان کے خیالات اس کے بارے میں کیسے ہوں گے؟ یہ باتیں تو صوفیوں کی کر رہے بھئی جو ڈاکٹری کی بات ہو تو ڈاکٹر ہی جانے گا نا۔ اس میں انجینئر بات کر سکے گا کیا انجینئر کو میں بیوقوف کہوں گا جو ڈاکٹری نہیں جانتا ہو گا؟ بھئی وہ ڈاکٹر ہے نہیں جب ڈاکٹر ہے نہیں تو بے وقوف بھی اس کو نہیں کہوں گا اگر وہ ڈاکٹری نہیں جانتا۔ ہاں البتہ میں اس کو ڈاکٹر نہیں کہوں گا۔ تو اس طرح ڈاکٹر اسرار خود آپ تصوف سے گزرے نہیں لہذا میرے خیال میں ان کی ان باتوں پر آپ کچھ بات نہ کریں۔ ہاں جی خواہ مخواہ ان بیچارے کو اس بیچارے کو کیوں درمیان میں لاتے ہیں؟ اس کے لیے بزرگ موجود ہیں نا جو کرنے کی وقت اگر آپ نے بات سننی ہے تو اس میں آپ حضرت مجدد صاحب کی سنیں، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی سنیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی سنیں، ہاں جی جو تصوف سے گزرے ہیں ان چیزوں سے گزرے ہیں لہذا وہ جو بات کریں گے تو وہ ماشاءاللہ مستند بات ہو گی۔ باقی جو باتیں ہوں گی وہ ظاہر ہے ان کی اپنی اپنے خیالات ہوں گے۔ یہ معرفت کی بات نہیں ہو گی۔ وہ صرف ان کے خیالات کی بات ہو گی یا کسی اور کی معرفت کو انڈرسٹینڈ یا مس انڈرسٹینڈ کر رہے ہوں گے۔ لہذا ہم اس کے بارے میں ان پر کوئی گرفت بھی نہیں کرتے اور ان کی بات کو ہم اس مطلب اس مسئلے میں کوئی اتھینٹک بھی نہیں مانتے۔ ہاں جی۔

سوال: نقشبندیہ مجددیہ ذکر خاموش ذکر ہے اور بلند آواز میں ذکر مکتوبات کے مطابق بدعت ہے کیا تمام نقشبندیہ ذکر سے وہ ہیں؟ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: دیکھو نا وہ ذکر جو علاجی ہے۔ اس پر تو کوئی پابندی نہیں ہے۔ جو علاجی ذکر ہے کوئی زور سے کرے گا کوئی خاموشی سے کرے گا، کوئی لطائف کا کرے گا کوئی خیال سے کرے گا مختلف طریقے ہیں ذکر کے۔ اس سے مقصود صرف دل کی صفائی ہے۔ باقی یہ ہے کہ مطلب اس سے کوئی خاص مقصود طریقہ نہیں ہوتا بلکہ بلکہ یہاں تک کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے کسی مطلب کسی کو جواب دے رہے تھے تو فرمایا کہ وہ لا الہ الا اللہ کا جو ذکر کر رہے تھے تو اس میں کہتے ہیں تجوید کے قواعد کا وہ خیال نہیں رکھ رہے ہیں۔ لوگ۔ فرمایا کہ اس میں تجوید مطلوب نہیں ہے۔ اس میں کیفیت مطلوب ہے۔ اس میں تجوید کا مطالبہ ہی نہیں ہے۔ مطلب یہ تو کیفیت ہے تو کیفیت کا خیال رکھنا چاہیے تو بہرحال جب یہ ہے تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس میں جو ذکر چاہے زبان سے ہو، چاہے دل سے ہو، چاہے لطائف سے ہو، چاہے خیالات سے ہو، چاہے سانس سے ہو۔ ہاں جی یہ ساری صورتیں ذکر کی ہیں اور اس کو بدعت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بدعت اس چیز کو کہتے ہیں جب وہ دین سمجھا جائے اور دین نہ ہو۔ کوئی چیز دین نہ ہو اور اس کو دین سمجھا جائے تو وہ بدعت کہلاتی ہے۔ کہلاتی ہے تو اب یہ تو مطلب اس کو تو دین نہیں سمجھا جاتا اس کو دین پر آنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تو ذریعہ تو تبدیل ہو سکتا ہے نا، ذریعہ تو غیر منصوص بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو خیر نصیب فرمائے۔

سوال: السلام علیکم حضرت امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میری ایک ریکویسٹ ہے سر آپ سے، میری سسٹر کا ہم نے رشتہ کیا تھا تقریباً 8 month ago ہو گئے ہیں۔ اس نے ہنسی خوشی قبول کر لیا لیکن اب وہ بالکل انکار کر گئی ہے کہ میں نے نہیں کرنا ہم نے حساب کروایا... (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: ...یہ دیکھو نہ میں عامل ہوں نہ میں عملیات جانتا ہوں، لہذا میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یعنی عملیات کے بارے میں نہ مجھ سے پوچھنا چاہیے اور نہ میری کسی بات پہ عمل کرنا چاہیے کیونکہ میں عامل ہوں نہیں۔ جیسے میں ڈاکٹر نہیں ہوں اس طرح عامل بھی نہیں ہوں۔ ہاں جی، تو مجھ سے بعض خواتین ٹیلی فون پہ بات کرتی ہیں کہ میرا فلاں نام ہے اور میری ماں کا نام فلاں ہے میں نے کہا نہ تمہارے نام کی ضرورت ہے نہ تمہاری ماں کے نام کی ضرورت ہے کیونکہ میں ان چیزوں کو جانتا ہی نہیں ہوں۔ لہذا اس مسئلے میں اگر آپ کسی مستند اور صحیح عامل کے پاس جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ میرے پاس آئیں گے تو میں عملیات کی باتیں نہیں بتاؤں گا، میں تو وہ بتاؤں گا جو صحابہ بتاتے ہیں۔ بتاتے رہے ہیں وہ بتاؤں گا کیونکہ میں صحابی نہیں ہوں لیکن صحابی کے پیچھے چل تو سکتا ہوں نا۔ تو عامل تو میں ہوں نہیں عامل کے پیچھے میں چلتا نہیں ہوں۔ لیکن صحابہ کے پیچھے چلنے کا حکم ہے عامل کے پیچھے چلنے کا حکم تو نہیں ہے۔ ہاں جی تو میں صحابہ کے پیچھے چلتا ہوں تو مجھ میرے پاس کوئی آئے گا تو میں صحابہ کا طریقہ بتاؤں گا اور وہ کیا ہے تہجد کے وقت اللہ سے مانگنا۔ تہجد کے وقت اللہ تعالیٰ سے مانگنا ﴿فَادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [غافر: 60] قرآن پاک میں صاف حکم ہے۔ ہاں جی اور اللہ پاک کی طرف سے باقاعدہ اعلان ہوتا ہے کہ ہے کوئی پریشانی میں مبتلا؟ تو آپ پریشانی میں مبتلا ہیں نا۔ تو اس وقت پھر آپ لبیک کہیں اور اللہ پاک سے مانگیں۔ ہاں جی۔ تو یہ اصل میں مسئلہ یہ ہوتا ہے لوگوں کے خیال میں یہ ہوتا ہے کہ عملیات تو سرٹن ہوتے ہیں بس وہ یقیناً ہو جائیں گے اور دعا کا پتا نہیں قبول ہو گیا قبول نہیں ہو گا۔ تو کیا عملیات سرٹن ہوتے ہیں؟ اس کا کیا پتا؟ اللہ چاہے گا تو ہوگا اللہ نہیں چاہے گا تو نہیں ہوگا۔ دعا میں بھی یہی بات ہے اور دعا میں کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ نہ آپ کے کوئی پیسے لگیں گے۔ ہاں جی، تو دعا کریں میں بھی دعا کرتا ہوں اللہ جل شانہ آپ کو آ آپ کے حالات کو آپ کے لیے بہتر بنا دے اور جو آپ کے حق میں بہتر ہو وہی اللہ تعالیٰ کر دے۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی احوال حضرت جی معمولات الحمد للہ معمول کے مطابق ہو رہے ہیں ذکر حضرت جی میرا ذکر ایک مہینے کے لیے 200 مرتبہ لا الہ الا اللہ 400 مرتبہ لا الہ الا ھو 600 مرتبہ حق اور 16 ہزار مرتبہ اللہ ہے۔ اللہ کے فضل و ثواب کی دعاؤں کی برکت سے مکمل ہو گیا حضرت جی کیفیت میں کچھ خاص تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی دوران ذکر جہری خیالات کا غلبہ رہتا ہے کوشش ہوتی ہے تعوذ بھی پڑھتا ہوں لیکن پھر بھی خیالات غالب آ جاتے ہیں نمازوں کے جوتے سیدھے کرنے کا مجاہدہ بھی جاری ہے الحمد للہ۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: آپ بالکل جو خیالات آئیں ان کو دفع کرنے کی بھی کوشش نہ کریں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وساوس جو آ رہے ہوں تو یہ بجلی کے تار کی طرح ہیں۔ اگر ان کو دور کرنے کی نیت سے بھی ہٹانے کی کوشش کرو گے تو پکڑیں گے۔ لہذا وساوس کی طرف توجہ نہ کریں جو خود سے آئیں پرواہ نہ کریں بس اپنے ذکر کی طرف متوجہ رہیں بس کافی ہے۔ ہاں جی اور اب جو ہے نا ساڑھے 16 ہزار مرتبہ باقی سب کچھ وہی۔

سوال: السلام علیکم 100 دفعہ تیسرا کلمہ، 100 دفعہ درود شریف، 100 دفعہ استغفار تھا۔ اب میں نے آپ کو کال کی تھی کنفرم کرنا تھا تسبیح بھول نہ جاؤں، آپ مجھے واٹس ایپ کر دیں پلیز، مجھے فون پر ٹھیک سنائی نہیں دیا آج۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: ٹھیک ہے جی ماشاءاللہ آپ اس طرح کر لیں کہ 100 دفعہ تیسرا کلمہ، 100 دفعہ درود شریف، 100 دفعہ استغفار یہ تو عمر بھر کے لیے ہے۔ نماز کے بعد والا جو بتایا تھا وہ بھی عمر بھر کے لیے ہو گا۔ اور اس کے علاوہ 10 منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے زبان بند، قبلہ رخ بیٹھ کر آپ نے یہ تصور کرنا ہے کہ میرا دل اللہ اللہ کر رہا ہے۔ تصور خالص آپ نے کرنا ہے آپ نے اس کو کروانا نہیں ہے کیونکہ دل کو کوئی کچھ نہیں کروا سکتا۔ لیکن جس وقت دل سنا مطلب دل بولنا شروع کر دے یعنی اللہ اللہ کرنا شروع کر لے تو کم از کم آپ کو پتا چل جائے۔ تو پھر آپ اس کی طرف متوجہ رہیں۔ تو یہی آپ کا کام ہو گا۔ روزانہ 10 منٹ کوئی وقت مقرر کر کے آپ اس کو کریں۔ ایک مہینہ، پھر انشاءاللہ مجھے بتائیں گے انشاءاللہ، اور جب تک رابطہ نہ ہو تو جاری رکھیں۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی میں نے مکتوبات شریف کے درس میں سنا کہ مرید کو اپنے عیوب شیخ کو بتانے چاہیے اور معمولات مراقبات بتاتے ہیں لیکن کیفیات نہیں بتاتے۔ حضرت مجھے اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے، میں بہت پیچھے ہوں میری حالت بہت خراب ہے میں نے اتنے سال عجب اور بدگمانیوں میں گزارے اور مجھے پتا ہی نہیں چلا، جب پتا چلا تو بہت سال گزر گئے تھے لیکن میرا وقت تو ضائع ہو گیا، اب واپس نہیں آ سکتا لیکن میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں مجھے سلوک طے کرنے اور اپنی اصلاح کی نیت کیسے شروع کرنا چاہتی ہوں اس کے لیے مجھے شروعات کیسی کرنی ہو گی پہلے مقام سے کیسے شروع کرنا ہو گا کیونکہ مجھے اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی، دونوں فعل ہیں، میں بھی فیل ہوں آپ بھی فیل ہیں۔ ہاں جی، مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی ہاں جی آپ کو عیوب نظر نہیں آ رہے۔ اچھا کیوں نظر مجھے سمجھ نہیں آ رہی؟ دیکھیں ایک بات یقینی ہے، کنفرم بات ہے کہ مرنا ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مسلمان ہونے کے لحاظ سے یہ ہم جانتے ہیں کہ وہاں حساب ہو گا، اور صاف طور پر قرآن میں فرمایا گیا ﴿فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ * فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ * وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ * فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ﴾ [القارعة: 6-9]۔ بس اب آپ دیکھ لیں کہ نیکیوں کے پلڑے میں آپ کے کون سے کام آ سکتے ہیں اور برائی کے پلڑے میں آپ کے کون سے کام آ سکتے ہیں، ابھی سے اس کا اندازہ لگانا شروع کر لیں۔ ٹھیک ہے نا، جو برائی کے پلڑے میں جانے کے امکان والے کام ہیں، ان کو شریعت کے مطابق ٹھیک کرنے کی کوشش کر لیں۔ مثال میں دیتا ہوں مثلاً کسی سے غیبت ہو رہی ہے تو اس کو پتا ہونا چاہیے کہ غیبت ممنوع ہے، شریعت میں حرام ہے، لہذا نہیں کرنا چاہیے۔ یا نماز مثال کے طور پر نہیں وقت پہ پڑھی جا رہی، ہاں جی، تو یا مکروہ ہو گی یا قضا ہو جائے گی، تو اس کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ اس طرح اور بہت ساری چیزیں ہیں، میں نے صرف مثالیں دی ہیں، تو یہ مطلب ہے کہ اس طرح اور جو اچھے کام ہو سکتے ہیں تو ان کو بڑھانے چاہیے، مثال کے طور پر دیکھو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک انسان کسی وقت بھی جتنا وقت اس کے پاس سپیئر ہو اس میں اللہ کا ذکر کر سکتا ہے۔ اب اگر وہ نہیں کر رہا ہے تو محروم ہو رہا ہے۔ تو اپنی محرومی کو کم کرنے کے لیے ذکر کو کرنا چاہیے۔ ہاں جی، یہ میں نے مثال دی ہے صرف، باقی تو ظاہر ہے بہت ساری باتیں ہیں، تو بس یہ تصور آپ کر لیں کہ میزان لگا ہوا ہے، میرے اعمال اللہ پاک کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، میرا کون سا عمل ہے جو کہ اللہ کے سامنے پیش ہونے کے قابل ہے اور کون سا نہیں ہے، اس کے بارے میں سوچ کے آپ مجھے بھی لکھ کے بھیجیں اور خود بھی اس کے مطابق پھر عمل کرنا شروع کر لیں، انشاءاللہ آپ کو اپنے جو ہے نا عیوب نظر آنے شروع ہو جائیں گے ٹھیک ہے نا، پھر اس کے مطابق، تو جیسے جیسے آپ کو اپنے عیوب نظر آئیں تو فوراً پہلے اس کے اوپر توبہ کر لیا کریں اور پھر مجھے اس کی اطلاع کر دیا کریں تاکہ اس کے بارے میں کچھ آپ کو عرض کر سکوں۔

سوال: حضرت جی السلام علیکم حضرت جی میرا نام فلاں ہے میرا ذکر 200، 400، 600 اور 100 ہے ایک ماہ مکمل ہو گیا مزید رہنمائی فرمائیں۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: اب 200، 400، 600، 300 کا کر لیں ایک مہینہ۔ اب 200، 400، 600 اور 300، یہ مطلب جو ہے نا ایک ماہ کے لیے کریں پھر مجھے بتائیں انشاءاللہ۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نمبر ایک کم کھانے کا مجاہدہ اس ہفتے مجاہدے میں کامیابی کچھ نصیب ہوئی الحمد للہ جب سے مجاہدہ شروع کیا اب تک تقریباً ساڑھے چار کلو وزن کم ہوا ہے الحمد للہ۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: اللہ تعالیٰ مزید توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

سوال: نمبر دو لطیفہ قلب دس منٹ دونوں کو محسوس ہوتا ہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: سبحان اللہ ماشاءاللہ بالکل ٹھیک ہے آپ اس طرح کر لیں کہ اب اس کو دوسرا لطیفہ بھی بتا دیں 15 منٹ کے لیے، 15 منٹ کے لیے جو ہے نا مطلب یہ یعنی وہ لطیفہ روح اور 10 منٹ کے لیے لطیفہ قلب۔

سوال: نمبر تین لطیفہ قلب دس منٹ اور لطیفہ روح پندرہ منٹ، قلب پر محسوس ہوتا ہے روح پر محسوس نہیں ہوتا۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: تو روح پر 20 منٹ کر لیں قلب پر 10 منٹ ہی رہے۔

سوال: نمبر چار تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ حقیقۃ کعبہ، حقیقت صلاۃ، حقیقت قرآن پندرہ منٹ۔ اس طالبہ نے ایک سال پہلے مدرسہ چھوڑ دیا تھا اور ذکر بھی، اب دوسرے مدرسے جاتی ہے لیکن ذکر کو دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: جہاں سے روکا ہے وہیں سے دوبارہ شروع کر کے پھر ایک مہینے بعد اطلاع کر دیں۔

سوال: السلام علیکم حضرت اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپ سلامت رہیں اور اللہ پاک سب پہ رحم، سب سے راضی ہو اور میرے ذکر کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے، 12 تسبیح اس کے بعد 500 زبان سے خفی طور پر اللہ، 10 منٹ پانچوں لطائف پر اللہ اللہ محسوس کرنا اور 15 منٹ لطیفہ قلب پر مراقبہ معیت ہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: یہ 15 منٹ لطیفہ قلب پر نہیں ہے، یہ اصل میں پورے جسم پر ہے مراقبہ معیت۔

سوال: احوال: حضرت جی احوال بہت خراب ہو چکے ہیں نفس و شیطان نے پوری طرح مجھے مغلوب کیا ہوا ہے، نمبر ایک ذکر شروع کروں تو مراقبہ معیت تک نہیں پہنچ پاتا مراقبہ کرتے کرتے ہی آنکھ لگ جاتی ہے۔ نمبر دو دفتری اوقات میں نماز باجماعت ادا نہیں ہو رہی کبھی سستی اور کبھی مصروفیات کی وجہ سے جماعت میں شامل نہیں ہوتا۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: جائز مصروفیت ہو تو اس کے لیے تو گنجائش ہے لیکن سستی کی گنجائش نہیں ہے۔

سوال: دعاؤں میں بھی غفلت ہے دھیان نہیں ہوتا۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: یہ اختیاری چیز ہے آپ غفلت کو دور کر سکتے ہیں۔

سوال: نمبر تین نمازوں میں بھی نماز کے علاوہ ہر جگہ دھیان ہوتا ہے قرآن پاک کی تلاوت میں دل نہیں لگتا۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: دل لگے نہ لگے لیکن کرتے رہیں۔

سوال: نمبر پانچ معمولات کا چارٹ بھی تین ماہ سے نہیں بھیج سکا۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: بھیجنا شروع کر لیں۔

سوال: نمبر چھ 12 سال کی قضا نمازوں میں صرف تقریباً ایک سال کی ادا ہوئی۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: جاری رکھیں۔

سوال: سات تہجد کی نماز ادا نہیں کر پا رہا صرف عشاء کی نماز کے ساتھ چار نفل پڑھ لیتا ہوں۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: یہ آج کل تو شروع کیا جا سکتا ہے آج کل کوئی مشکل نہیں ہے، اگر کوئی دس بجے بھی سو جائے پانچ بجے تک اس کی سات گھنٹے نیند پوری ہو جاتی ہے۔ تو کیا خیال ہے ڈاکٹر کتنا بتاتے ہیں؟ یہی ہے نا۔ تو پھر بھی عشاء کے بعد مطلب فجر کے تہجد پڑھ سکتے ہیں۔ پانچ سے لے کر پانچ 35 کے لگ بھگ ٹائم ہے آج کل۔ تو پھر بھی آپ اٹھ کے جو ہے نا تہجد پڑھ سکتے ہیں تو تہجد پڑھنا شروع کر لیں۔

سوال: حضرت جی میری کوئی اور خواہش نہیں سوائے اس کے کہ اللہ پاک راضی ہو جائے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: یہ میری بھی خواہش ہے اللہ ہم دونوں کو کامیاب کر دے۔

سوال: لیکن نفس قابو میں نہیں آ رہا عمر گزرتی جا رہی ہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: اسی کے لیے تو محنت ہے۔

سوال: آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: ضرور، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اس کام میں کامیاب فرما دے۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے فرمایا تھا بیعت کرنے کے لیے آپ مجھے آڈیو میسج بھیجیں گے جس میں آڈیو ریکارڈ میں وہی الفاظ دہرا کے آپ کو واپس بھیج دوں گا آپ کے میسج کے انتظار میں ہوں حضرت را مصروف ہیں صرف آپ کی یاد دہانی کے لیے میسج کر رہا ہوں جب حضرت کو وقت ملے میں بیعت کرنا چاہتا ہوں (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: میں انشاءاللہ ابھی، میں انشاءاللہ ابھی یہ الفاظ آپ کو بھیج رہا ہوں، آپ مطلب یہ ہے کہ کسی وقت اس کے ساتھ اپنے الفاظ شامل کر کے آڈیو بنا کر مجھے بھیج دیں۔ ﴿أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ﴾ میں شہادت دیتا ہوں نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ میں توبہ کرتا ہوں تمام گناہوں سے چھوٹے ہیں یا بڑے، مجھے معلوم ہیں یا نہیں، مجھ سے قصداً ہوئے یا خطا سے، ظاہر کے ہیں یا باطن کے، اے اللہ میری توبہ قبول فرما، آئندہ کے لیے انشاءاللہ میں گناہ نہیں کروں گا، غلطی سے اگر کوئی گناہ ہوا فوراً توبہ کروں گا، میں بیعت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے واسطے سے اور ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہوں، حضرت صوفی محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی، حضرت سید تنظیم الحق حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی، حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب کی، شبیر احمد کے واسطے سے، اپنے آپ کو داخل کرتا ہوں سلسلہ چشتیہ میں، نقشبندیہ میں، قادریہ میں اور سہروردیہ میں۔ اے اللہ میری بیعت کو قبول فرما۔ اس کو آپ اس طرح پڑھ کے ساتھ شامل ہو کے پھر جب ہو جائے تو مجھے آڈیو بھیج دیں۔ب

سوال: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے مراقبہ کرتے ہوئے دل کی کیفیت پوچھی تھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اوپر کا حصہ حرکت کر رہا ہے کبھی وہم لگتا ہے لیکن الحمد للہ ناغہ نہیں ہوتا اب آگے کیا حکم ہے؟ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: ماشاءاللہ اگر آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ اللہ اللہ اس طرح محسوس ہو رہا ہے تو بس ٹھیک ہے ماشاءاللہ اس کو جو ہے نا وہ کر لیں 15 منٹ کے لیے، آپ اگر یہ کرتے ہیں تو 15 منٹ کے لیے لطیفہ قلب پر بھی ایسا محسوس کرنے کی کوشش کر لیں۔ لطیفہ قلب جو ہے وہ اصل میں پورے جسم کو اگر آدھا کیا جائے تو بائیں طرف جتنے فاصلے پر دل ہے اتنے ہی دائیں طرف پر جو جگہ ہے اس کو لطیفہ روح کہتے ہیں۔ تو اس پر بھی 15 منٹ تصور کریں کہ وہاں پر بھی اللہ اللہ ہو رہا ہے۔ پہلے دل پر 15 منٹ اور پھر اس کے بعد دائیں طرف لطیفہ روح پر 15 منٹ۔

ماشاءاللہ میرے خیال سوچ کے مطابق تو سوالات جو آئے تھے وہ تو ماشاءاللہ ہو چکے ہیں لیکن میرے خیال میں کچھ اس پر بھی آئے تھے تو ذرا وہ بھی کر لیتا ہوں۔


سوال: السلام علیکم مرشد! آپ خیریت سے ہوں گے اور اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔ حضرت! بڑی پریشانی میں مبتلا ہوں، ندامت بھی ہے کہ ابھی تک آپ کے بتلائے گئے اذکار بھی پورے نہیں کر سکا۔ کوئی ادھر ادھر کی کہانی نہیں بنانا چاہتا کیونکہ اس میں مجھ سیاہ کار اور ضیاع کار کی نااہلی ہے۔ نہ جانے رب کو کون سی بات پسند نہ آئی کہ اس نے اب تک فرائض سے محروم رکھا۔ باقی مسجد میں ہفتے میں ایک ہی بار جانا نصیب ہوتا ہے۔ میرے لیے خصوصی دعا کیجیے کہ اللہ پاک اس قائل کو اپنے نفس پر قابو پانے کی سرائیت اور توفیق عطا فرما دے۔ میں آپ سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے میری رہنمائی فرمائیں۔ آپ کا تو تجربہ بھی ہے۔ گو کہ جی سچ ہے کہ کوشش میں نے خود ہی کرنی ہے، پر کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں خود اس صورتحال سے کیسے اپنے آپ کو نکالوں۔ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: بات یہ ہے کہ ماشاءاللہ آپ کی سوچ تو اچھی ہے۔ آپ کی عقل کام کر رہی ہے۔ لیکن ابھی آپ کا دل ساتھ نہیں ہے۔ تین اسٹیجز ہوتی ہیں: پہلے انسان کا عقل مانتا ہے کسی چیز کو، پھر اس کے بعد اس کا دل مانتا ہے، پھر اس کے بعد اس کا نفس مانتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص اس ترتیب کو الٹ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ ہاں جی، تو پہلے کانویس ہوگا تو کانویس تو آپ ہیں۔ تبھی تو آپ لکھ رہے ہیں۔ اور دل مطمئن ہونے کے لیے دل کی ضرورت ہے ذکر کے ذریعے سے۔ کیونکہ آپﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک صقالة ہوتا ہے۔ صاف کرنے کا آلہ ہوتا ہے اور دلوں کا جو صاف کرنے کا آلہ ہے وہ ذکر اللہ ہے۔ لہذا ذکر۔ تو جو ذکر بتایا ہے وہ آپ پابندی کے ساتھ کام کرنا شروع کر لیں۔ اب دوائی اگر کوئی نہیں کھاتا تو وہ کہتا ہے میں ٹھیک نہیں ہوا تو یہ تو اس کی پھر عقلی غلطی ہے۔ مطلب اس کو تو پھر ملامت کیا جائے گا کہ آپ اپنا علاج کرنا نہیں چاہتے۔ بہت سارے شوگر کے مریض ہوتے ہیں، ان کو بتایا جاتا ہے کہ میٹھا نہ کھائیں، لیکن وہ پرواہ نہیں کرتا، آخر میں وہ بیماری سے وجہ سے اور بیماریاں بن جاتی ہیں۔ تو ڈاکٹر تو ان کو یہی کہہ سکتا ہے، باقی تو عمل تو خود ہی کرے گا۔ تو آپ اس طرح کر لیں کہ ابھی آپ کم از کم ذکر شروع کر لیں، ذکر شروع کر لیں اور جیسے ذکر بتایا ہے وہ ذکر آپ مکمل کریں۔ سب سے پہلے وہی 300 اور 200 والا ذکر اگر آپ نے نہیں کیا، اس کو مکمل کر کے مجھے انفارم کر لیں۔ 40 دن کے بعد۔ پھر اس کے بعد ان شاء اللہ مزید بات ہو گی۔ خیالی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہاں جی، مطلب یہ ہے کہ یہ بات بظاہر اچھی لگتی ہے کہ میں ٹھیک نہیں ہوں، لیکن نہیں، ٹھیک ہو سکتے ہیں آپ۔ جو آپ کے بس میں ہے وہ آپ ضرور کر سکتے ہیں اور وہ یہی بات ہے کہ ذکر تو آپ کے بس میں ہے۔ کسی نے آپ کو روکا تو نہیں ہے نا، تھوڑا ہے کہ آپ ذکر نہ کریں، آپ کرنا نہیں چاہتے۔ تو آپ کریں۔ ٹھیک ہے نا، تو آپ ذکر شروع کر لیں، 40 دن تک اس کا ذکر تو کر لیں تو اس کا آپ کے دل پر اثر ہو گا، پھر مزید باتیں پھر ہوں گی۔ تو پہلا اسٹیج تو پورا کریں نا ان شاء اللہ۔

ٹھیک ہے ماشاءاللہ کچھ یہاں بھی ںظر آتا ہے کہ پورے ہوگئے ہیں تو اب اگر یہاں کچھ سوالات ہوں کسی کہ وہ بھی کرسکتے ہیں اگر باہر سے کوئی سوالات کرنا چاہے ہیں نیٹ کے ذریعے سے وہ بھی کرسکتے ہیں انشاءاللہ

سوال: السلام علیکم۔وعلیکم السلام حضرت یہ اتوار والے دن جب بیان ہو رہا تھا دن کو 11 بجے اس میں آپ نے ایک بات ارشاد فرمائی تھی کہ اگر بندے کے دل کی جو اصلاح ہے وہ دل پہ تو لگا ہوا ہے اصلاح کرنے نفس کی نہیں کرتا تو وہ مجذوب متمکن بن جاتا ہے۔ تو یہ پوچھنا تھا ایک تو یہ پوچھنا ہے یہ مجذوب متمکن کون ہوتے ہیں کیا ہوتا ہے؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ دل کی جو اصلاح ہے اس کا تعلق اذکار کے ساتھ ہے اور نفس کی اصلاح کا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ اور جو حضرات نفس کے اصلاح کے اوپر زور نہیں دیتے بہت سی خانقاہیں ہیں وہ صرف قلوب کے اوپر زیادہ ان کا فوکس ہوتا ہے تو کیا وہ مجذوب متمکن کی طرف چلے جاتے ہیں؟ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: ماشاءاللہ آپ نے بہت اچھا نقطہ پکڑا ہے کیونکہ یہی بات حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے کی ہے۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے جو اپنا مکتوب ہے مکتوب نمبر 287 اپنے بھائی کو بھیجا ہے تو اس میں یہی باتیں کی ہیں۔ اور بڑے ہی درد سے وہ خط لکھا ہے۔ ہاں جی، اس میں حضرت نے یہی بات فرمائی ہے کہ جب انسان دل پر محنت کرتا ہے، ذکر اذکار کرتا ہے، دل بیدار ہو جاتا ہے اور مدہوش ہو جاتا ہے، محبت میں جوش میں آتا ہے۔ اس جوش میں بہت کچھ وہ کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے۔ تو پھر جو ہے نا مطلب کیا کرنا چاہیے اس کو؟ اس کو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، جیسے لوہا گرم ہوتا ہے تو اس سے کوئی چیز بنانا ہو تو بنا سکتے ہیں۔ تو اس وقت پھر اس پہ جو ہے نا وہ جو کہ وہ کہتے ہیں اس وقت مقام قلب پہ آ جاتا ہے وہ جس وقت دل بیدار ہو جاتا ہے تو مقام قلب پہ وہ سالک آ جاتا ہے۔ مقام قلب میں فرماتے ہیں، حضرت فرماتے ہیں، ظاہر ہے میں تو اس بارے میں کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا، حضرت فرماتے ہیں کہ مقام قلب میں نفس اور روح یہ آپس میں اکٹھے ہوتے ہیں۔حقیقت جامعے مطلب اس میں اکٹھے ہوتے ہیں جس طرح نفس میں انسان دیکھیں نا پہلے روح آزاد تھا، پھر جس وقت انسان پیدا ہو جاتا ہے تو اس روح کے ساتھ جسم بھی آ جاتا ہے نفس بھی آ جاتا ہے تو وہ اس کو ٹریپ کر لیتا ہے، اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ ٹھیک ہے نا، اپنے لیے استعمال کرتا ہے، تو یہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت انسان کا نفس کے لیے وہ استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن جس وقت یہی روح کو ذکر کے ذریعے سے جگا دیا جاتا ہے تو پھر وہ اس آزاد ہونا چاہتا ہے اس وقت وہ خود آزاد نہیں ہوسکتا آپ نے اس کی help کرنی ہے وہ جو آپ کی help کرنی ہے وہ سلوک ہے کیونکہ نفس کا علاج مجاہدے کے ذریعے سے ہے اس میں دس مقامات طعے کرنے ہوتے ہیں تو اس مقامِ ریاضت بھی ہے مقامِ قناعت بھی ہے مقامِ صبر بھی ہے، مقامِ زہد بھی ہے۔ یہ سارے طے کرنے ہوتے ہیں۔ اب یہ کسی کی نگرانی میں طے کرنے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اس کو نگرانی میں طے کر لے، مقامِ رضا تک پہنچ جائے تو نفس مطمئن ہو جاتا ہے۔ اس کو نفسِ مطمئنہ کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا: [يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ۝ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ۝ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ۝ وَادْخُلِي جَنَّتِي ۝] (سورة الفجر: 27-30) تو اس صورت میں انسان کا سیر الی اللہ مکمل ہو جاتا ہے اور پھر سیر فی اللہ پہ مطلب چل سکتا ہے۔

لیکن اگر وہ اس سٹیج پر، اسی حالت میں مقامِ قلب میں رہے اور اس میں ہی انسان کو ہوش مطلب رہے، یعنی وہ سارے لوگوں کے ساتھ مل سکتا ہو، جڑ سکتا ہو اور سارے دنیا کے کام کر سکتا ہو۔ وہ مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی دل کی اس حالت کو تو پہنچ گیا لیکن اس سے سلوک کی طرف نہیں چلا گیا، یہ مجذوبِ متمکن ہے۔ یہ مجذوبِ متمکن ہے۔ اس کے بارے میں حضرت نے فرمایا کہ اس کی توجہ کی کیفیت جو منتہی مرجوع ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی جو نفسِ مطمئنہ تک پہنچ چکا ہوتا ہے اس سے اس کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لوگ اس کو زیادہ بزرگ سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں نہ خود پہنچے ہوتے ہیں، بقول حضرت کے، اور نہ دوسروں کو پہنچا سکتے ہیں۔

تو اس وجہ سے جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں، میں ان کی شخصیت کے بارے میں بات نہیں کرتا لیکن ان کی بات کے بارے میں بات کر سکتا ہوں کہ سو فیصد غلط بات کرتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ بدن پر ہی محنت کرنی چاہیے، نفس پر نہیں کرنا چاہیے۔ وہ جس حوالے سے اپنے آپ کو سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ جانتے ہیں نقشبندیہ سلسلے کے... نقشبندی سلسلے کے مجدد صاحب زیادہ واقف تھے تم زیادہ واقف نہیں ہو؟ تم کون ہو اس کے خلاف بات کرنے والے؟ مجدد صاحبؒ کی تعریف پڑھو نا، اس کا پھر جواب دو۔ کیا لکھا ہے حضرت نے؟ اور خط ایسا لکھا ہے جیسے رو رو کے لکھا ہو۔ پھر بھی آپ کو حیا نہیں آتی؟ تو اس سے ہمارا دل کڑھتا ہے جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ اور ایسے بے شرمی سے بات کر لیتے ہیں کہ سلوک کے ذریعے سے بھی اصلاح ہوتی ہے اور جذب کے ذریعے سے بھی اصلاح ہوتی ہے


جذب کے ذریعے سے اصلاح کا مطلب ایسے ہے جیسے لفٹ کے اوپر چڑھنا، اور سلوک کے اوپر اصلاح ایسے ہوتی ہے جیسے سیڑھیوں کے ذریعے چڑھنا۔ خدا کے بندو ہوش کے ناخن لو، یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کہاں سے کہہ رہے ہو؟ اپنی طرف سے باتیں بنا رہے ہو؟ تو یہ باتیں تو غلط ہیں۔ ان کو تو ہم غلط کہیں گے۔ میں نہیں کہتا، مجدد صاحبؒ غلط کہتا ہے۔ ہاں جی، اس طرح اور بزرگ فرماتے ہیں، غلط کہتے ہیں۔ تو اس کے لیے ہمیں تو کرنا پڑے گا خیال، اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑے گا، عقل کے ناخن لینے پڑیں گے۔

ابھی میں نے ایک سالک کو بتایا نا کہ بھئی پہلے عقل کی بات ہے، پھر دل کی بات ہے، پھر نفس کی بات ہے۔ جب تک عقل مطمئن نہ ہو، اس وقت تک دل کا کام بھی شروع نہیں ہو سکتا۔ تبلیغی جماعت میں کیا کرتے ہیں؟ وہاں صرف بیان کرتے ہیں اور تو کچھ نہیں کرتے، تو یہ بیان کون سی چیز کو متاثر کرتا ہے؟ وہ عقل کو متاثر کرتے ہیں، تو پھر انسان مجاہدہ شروع کر لیتا ہے۔ ان کی مسنگ چیز ذکر اللہ والی بات ہے، وہ کمی ان کی ذکر اللہ کی ہے، تو ان کو یہ کمی دور کرنی چاہیے۔ اور مجذوبِ متمکن کی کمی کیا ہے؟ وہ نفس والی جو ہے نا مطلب ہے اس کے اوپر محنت... وہ کمی دور کرنی چاہیے، تبھی تو وہ مکمل ہو جائیں گے ماشاءاللہ۔ بھئی آدھا کام کر کے چھوڑنا کیوں ہے؟ پورا کام کرو نا۔ جو کام مطلوب ہے، تینوں کام مطلوب ہیں، عقل کی بھی اصلاح ضروری ہے، دل کی بھی اصلاح ضروری ہے، نفس کی بھی اصلاح ضروری ہے۔

جس وقت پہلے پہلے میں نے حضرت کا مکتوب شریف پڑھانا شروع کر لیا تو مجھے میسجز آنے شروع ہو گئے۔ ایک جگہ سے میسج آیا کہ آپ نے یہ نفس کی بات کہاں سے لی؟ حدیث شریف میں تو دل کی بات ہے۔ وہ حدیث شریف موجود ہے نا کہ جسم کے اندر گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک ہو جائے، اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جائے۔ تو میں نے کہا بالکل ٹھیک ہے، حدیث شریف غلط تو نہیں، حدیث شریف تو بالکل صحیح ہے۔ البتہ میں نے یہ لیا ہے قرآن سے۔ قرآن پاک میں فرماتے ہیں: [قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ۝] (سورة الشمس: 9-10) اور قرآن و حدیث آپس میں مخالف نہیں ہو سکتے۔ تو ان کا آپس میں تطبیق ہے۔

اور تطبیق کیا ہے؟ جب تک نفس کام صحیح نہ کرے یعنی مطمئن نہ ہو جائے، اس وقت دل صاف نہیں رہ سکتا۔ اور دل جب تک ٹھیک نہ ہو تو نفس ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دل ذریعہ ہے نفس کے ٹھیک کرنے کا۔ اور نفس کا ٹھیک کرنا ضروری ہے دل کو ٹھیک رکھنے کے لیے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے حوض ہے۔ اور حوض میں مختلف ذریعوں سے پانی آتا ہے، اور اس میں گند آ رہا ہے۔ اس حوض کو صاف کرنے کا طریقہ کیا ہو گا؟ اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ پہلے تو وہ جو گند آ رہا ہے، اس کو روکو۔ جب وہ رک جائے، اس کے بعد پھر حوض صاف کرنا ہو تو صاف ہو جائے گا۔ ورنہ آپ اس کے ہوتے ہوئے حوض کو صاف کریں گے تو کبھی صاف نہیں کر سکتے۔ اور اس کی مثال کیا ہے؟

ہماری آنکھ ایک نہر ہے ہمارے کان ایک نہر ہے، ہمارا دماغ ایک نہر ہے، ہمارے ہاتھ پاؤں جہاں جہاں کوئی حص ہیں وہ ایک نہر ہے۔ وہاں سے گندگی آ رہی ہوتی ہے ہمارے دل کی طرف۔ ہماری ایک غلط نظر ہمارے دل کو خراب کر دیتی ہے، ہماری ایک غلط بات سن کر وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ ہمارا دل خراب ہو سکتا ہے، ہمارا ایک خیال غلط وہ جو ہے نا دل کو خراب کرتا ہے، جب تک ان چیزوں کی اصلاح نہیں ہو گی ہمارا دل کیسے پاک صاف ہو سکتا ہے؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ جب دل پاک و صاف ہو جاتا ہے تو یہ چیزیں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دل کی وہ آنکھ کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، کان کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، زبان کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، دماغ کی ناپاکی، تو اس وقت ہمت کرنی پڑتی ہے، وہ ہمت کرنا نفس ہے۔ نفس کے اوپر محنت ہے وہ سلوک طے کرنا ہے۔ تو یہ آپس میں بالکل لازم و ملزوم ہیں، باہم مربوط ہیں، ان کو آپس میں جدا کرنا یہ عقل کے خلاف بات ہے۔ لہذا ہم لوگوں کو ان تمام چیزوں کو سمجھنا بھی ہے اور اس کے مطابق کام بھی کرنا ہے۔ خواہ مخواہ اپنا وقت کیوں ضائع کریں؟ اور اگر اپنا وقت ضائع کرنا ہو تو چلو کر لو، دوسروں کا وقت کیوں ضائع کرتے ہو؟ دوسروں کو غلط باتیں کیوں بتاتے ہو؟ دوسروں کو کم از کم غلط باتیں نہ بتاؤ نا۔ بھئی میں اگر غلط غلطی پہ جا رہا ہوں، اللہ مجھے بھی غلطی سے بچائے، لیکن میں کسی اور کو غلط بات بتا کر اس کا بھی اپنے سر پہ لے لوں تو کتنی خطرناک بات ہے۔ اس سے تو کم از کم مجھے بچنا چاہیے نا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرما دے۔ وآخر دعوانا الحمد للہ رب العالمین۔ معافی چاہتا ہوں۔

سوال: حضرت ایک بات یہ ہے کہ یہ جو اوابین کی نماز ہوتی ہے مغرب کی نماز کے بعد بعض اوقات بیان میں پہنچنا ہوتا ہے اوابین پڑھو تو یہاں سے شروع والا بیان نکل جاتا ہے کیونکہ میں پیدل آتا ہوں دس منٹ پانچ منٹ سات منٹ لگ جاتے ہیں تو اوابین چھوڑ دیں یا کیا کریں؟ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: استفت قلبک۔

سوال: اور دوسرا حضرت یہ ہے کہ بعض اوقات جو ہے نا کسی ایسی جگہ پر جہاں پہ موسیقی کا ماحول ہوتا ہے۔ کوئی نکاح ہو رہا ہے یا کوئی اس طرح اچانک شروع ہو جاتا ہے یا کوئی ہو رہا ہے پہلے سے۔ اس وقت یا ھادی یا نور کا وظیفہ جو آپ نے بتایا وہ کرتے ہیں اور ادھر توجہ بھی نہیں ہوتی، کوشش کرتے ہیں کہ جو آواز آ رہی ہوتی ہے وہ تو اس کو کنٹرول نہیں کر سکتے یا تلاوت شروع کر لی یا درود شریف پڑھتے رہتے ہیں تو اور بدنظری سے بھی کوشش بندہ اس سے نکل جاتا ہے لیکن بعد میں اس کا طبیعت پہ اثر ہوتا ہے یہ کیا وجہ ہے اس کی؟ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: ہوتا تو ہے کیونکہ قدرتی بات ہے اصل میں بات یہ ہے کہ گرم چیز کا گرم اثر ہوتا ہے، ٹھنڈی چیز کا ٹھنڈا اثر ہوتا ہے، کوئی آدمی کہتا ہے مجھے یہ اثر نہ ہو تو وہ تو غلط بات ہے۔ ہاں گرم کپڑے پہننا وہ مطلب اسی کے لیے کہ آپ کو سردی نہ لگے اور پنکھا چلانا اور اے سی چلانا یہ مطلب گرمی کو دور کرنے کے لیے، تو وہ تو ہے۔ اب اس میں یہ والی بات میں عرض کروں گا کہ ایک حدیث شریف ہے۔ وہ ہماری رہنمائی کرتی ہے اس مسئلے میں۔ مجھے اس صحابی کا نام معلوم نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں آپ کو یاد ہو گا۔ کہ وہ ایک تابعی کے ساتھ بچے کے ساتھ جا رہے تھے تو مطلب یہ ہے کہ بانس، کچھ آواز آئی میوزک کی۔ بانسری کی تھی یا پتا نہیں کیا، تو آواز آئی، تو انہوں نے کانوں کے اندر انگلیاں دے دیں۔ جاتے جاتے انہوں نے پوچھا کہ اب تو نہیں آ رہی؟ تو اس نے کہا اب نہیں آ رہی تو پھر اس نے انگلیاں نکالیں۔ اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ایسے کرتے دیکھا ہے۔ میں ان کے ساتھ تھا تو اس طرح آواز آ رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس میں انگلیاں رکھ لی تھیں۔ پھر بعد میں مجھ سے پوچھا میں اس وقت بچہ تھا کہ ابھی تو آواز نہیں آ رہی؟ تو میں نے کہا کہ نہیں اب نہیں آ رہی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں نکالیں۔ اب انگلیاں ڈالنے والی بات تو چلو ذرا مشکل ہے لیکن آج کل ایک اچھی چیز وجود میں آئی ہے۔ یہ بھائی ایئر سفر جو کرتے ہیں نا تو اس کے لیے ملتے ہیں وہ چیز وہ کیا ہوتے ہیں وہ کان میں ڈالنے کے لیے، اس سے آواز پھر نہیں آتی، ایئر پلگ، ایئر پلگ۔ وہ ایئر پلگ آدمی کان میں ڈال دے تو آج کل تو ویسے بھی لوگ یہ وہ ڈالتے ہیں نا وہ کیا ہوتے ہیں وہ تو لوگ سمجھیں گے شاید آپ نے وہ ڈالے ہوئے ہیں۔ ہاں جی، لیکن آپ کی حفاظت ہو گی انشاءاللہ پھر بعد میں آپ کو تنگ نہیں کریں گے۔

سوال: اچھا یہ ہے کہ عمل کرنے میں تھوڑا سا نا وہ مشکل پیش آتی ہے یعنی دل نہیں کرتا جی جی تو اس کے لیے کوئی اگر بتا دیا جائے کہ (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: آپ نے دونوں باتیں صحیح کیں آپ نے دونوں باتیں صحیح کیں دل نہیں چاہتا اور عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عمل کرنا مشکل ہے نفس کے لیے، دل نہیں چاہتا کہ دل میں دنیا کی محبت ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو ان دونوں کا اپنا اپنا علاج ہے۔ ذکر اللہ سے دل کی صفائی ہوتی ہے لیکن وہ دیرپا تب ہوتی ہے جب نفس کی بھی ساتھ اصلاح ہو۔ ٹھیک ہے نا۔ اس کے لیے ہی سلوک طے کرنا ہوتا ہے۔ مشائخ کے پاس اسی مقصد کے لیے جاتے ہیں۔ وہ مشائخ پھر اسی راستے پہ چلا دیتے ہیں کہ وہ پہلے ان کو ذکر اذکار دیتے ہیں ذکر اذکار سے ان کا دل صاف ہو جاتا ہے ان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ مجھ میں کمی کیا ہے کمزوریاں کیا ہیں؟ ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے پھر ان کو مقامات طے کرنے ہوتے ہیں۔ مقام توبہ، مقام انابت، مقام قناعت، مقام ریاضت، مقام تقوی، مقام صبر، مقام زہد، مقام توکل، مقام تسلیم، مقام رضا، یہ باقاعدہ سٹیپ بائی سٹیپ مطلب جو ہے نا وہ طے کرنے ہوتے ہیں۔ جب وہ طے ہو جاتے ہیں سبحان اللہ پھر نفس ماننا سیکھ لیتا ہے۔ پھر ماشاءاللہ عمل کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ یہ بات ہے

سوال: حضرت یہ اتوار والے دن میرے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ مدرسے میں پڑھا رہا تھا تو وہاں پر اطلاع آئی کہ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مولانا محبوب الرحمٰن صاحب کوئی نام ہے بلوچستان کے، وہ کہیں تشریف لائے تھے کسی مدرسے میں، تو انہوں نے اساتذہ نے کہا کہ بھئی سارے قریب کے علماء بھی وہاں جائیں، بیان سنیں گے اور بیعت ہوں گے۔ تو وہ پھر اتوار کے دن گیارہ بجے یہاں بھی بیان ہوتا ہے۔ تو وہ جب نکلنے لگے تو میرے ذہن میں خیال آیا میں نے کہا کہ بھئی میرے شیخ کا بھی بیان گیارہ بجے چل رہا ہے ان کا بھی گیارہ بجے، تو میں نے کہا میں اپنے شیخ کا جا کے سن لیتا ہوں۔ میں وہاں سے موٹر سائیکل لیا اور سیدھا خانقاہ میں آ گیا۔ تو ایسے اگر آئندہ بھی کبھی ہو جاتا ہے ایسے میں نے ٹھیک کیا یا... (سوال جواب مجلس 13مئی 2024 ، مجلس نمبر 673)

جواب: بالکل آپ نے صحیح کیا ہے، میں تو آپ کو کیا عرض کروں، آپ ہزارے کی بات کرتا ہوں، ہزارے میں پہاڑ ہوتے ہیں نا اونچے اور نیچے اور ادھر اوپر گھر ہوتے ہیں۔ تو کوئی اللہ والے تھے ان کا مرید تھا اس کو کام دیا تھا کہ کوئی چیز لانے کا تو وہ ظاہر ہے دور دور بازار ہوتے ہیں دور دور جگہیں ہوتی ہیں۔ تو وہ لا رہے تھے تو جب یہ نیچے اتر رہے تھے تو پیچھے سے ایک آواز آئی کہ آؤ مجھ سے ملو میں خضر ہوں۔ میں خضر ہوں۔ تو انہوں نے کچھ سنی ان سنی کر لی پرواہ نہیں کی نا، چلتے رہے۔ تو آگے جا کے جو ہے نا وہ پیچھے سے تھوڑے سے آگے گے تو آواز آئی بھئی مجھ سے تو منتیں کر کر کے ملتے ہیں تو میں وہاں خود آواز دیتا ہوں تم نہیں آ رہے ہو؟ تو انہوں نے بغیر دیکھے کہا کہ میرا خضر ادھر ہے۔ میرا خضر ادھر ہے۔ تو نہیں ملے۔ ہاں جی تو وہاں گئے تو حضرت کو پہلے سے کشفاً اطلاع ہو گئی تھی۔ ہاں جی تو الحمد للہ ان کو اس سے پھر بڑی ترقی ہوئی، یہی توحید مطلب ہے۔ اب حضرت کے مقام میں کمی نہیں، الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بہت مقام دیا کہ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے اوپر اعتماد کیا معمولی شخص تو نہیں ہیں۔ لیکن تربیت میں توحید مطلب بنیادی چیز ہوتی ہے مطلب اس میں کیونکہ توحید مطلب اگر نہ ہو تو بقول حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے وہ راستے میں رہ جاتا ہے کسی جگہ نہیں رہتا اور شیطان اس کو جو ہے نا مطلب ڈی ٹریک کر لیتا ہے اپنے راستے سے ہٹا دیتا ہے تو یہ بات ہے کہ یہ صرف اس مقصد کے لیے مطلب علاج کے پوائنٹ آف ویو سے کیونکہ علاج جو ہوتا ہے ایک وقت میں صرف ایک ڈاکٹر سے کیا جاتا ہے کیونکہ کئی ڈاکٹروں سے علاج اگر ہو تو پھر اس میں نقصان ہو سکتا ہے۔ تو ہاں البتہ یہ استاذ، استاذ ہزاروں ہو سکتے ہیں، علم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ علم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں وہ تو انسان ہزاروں سے اخذ کر سکتا ہے لیکن جو تربیت ہے وہ کسی ایک سے ہی ہے۔ یہ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے حضرت جب موجود تھے مولانا اشرف صاحب، یقین جانیں ادھر پنڈی میں اور اسلام آباد میں بڑے بڑے بزرگ اس وقت تھے مجھے کچھ بھی نہیں تھا پتا کون تھے بعد میں پتا چلا کہ ایسے بھی ہیں ویسے بھی ہیں اور حضرت کا بھی میں نے بتا دیا تھا تو انہوں نے فرمایا صحبت صالحین کی نیت سے آپ ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں ورنہ یہ بات ہے کہ یہ بھی نہ ہوتا۔ تو یہ جو ہے جب حضرت ماشاءاللہ موجود تھے تو ایک دفعہ حضرت بھی تشریف لائے تھے اور مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی حضرت کے ایک اور خلیفہ بھی تھے اور محفل گرم تھی ظاہر ہے حضرت کی عارفانہ باتیں اور نظرات کی سب چل رہی تھی ہم تو سٹوڈنٹ تھے تو درمیان میں پھر ہمیں جانا بھی ہوتا تھا تو جا رہے تھے تو ہمارا طریقہ تھا کہ حضرت سے مصافحہ کر کے جاتے تھے یہ حضرت کا وہاں یہ بات تھی تو جا کے حضرت کی طرف حضرت سے مصافحہ کرتے، حضرت چپکے چپکے سے اشارہ کرتے ہیں کہ پہلے مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مصافحہ کرو پھر میرے ساتھ کرو۔ اب ہمیں سمجھ ہی نہیں آ رہی بالکل خیال ہی نہیں تھا کہ وہ جو ہے نا ایک ہی اس میں طرف تھے، اب حضرت کے جب بالکل خیال ہو گیا اوہو یہ تو حضرت کہہ رہے ہیں تو پھر ہم نے مولانا فقیر محمد صاحب سے مصافحہ کیا پھر حضرت سے کیا پھر ہم چلے گئے یعنی اس وقت یہ والی بات تھی ہی نہیں کہ کون بس دیکھتے ہیں کہ بس ہمارے لیے تو ذریعہ تو مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے سب کے ساتھ۔ تو لہٰذا جن سے بھی فیض اگر ملتا تھا تو حضرت ہی کا۔ میں صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے جو میں ملا ہوں، تو وہ بھی حضرت تھی، بلکہ یقین جانیں کہ جب سے میں حضرت سے ملا تھا، تو حضرت کو کشفاً پتا چل گیا کہ میں، میرا تعلق مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہے۔

تو اس کے بعد حضرت نے اپنی بات کبھی بھی نہیں مجھے بتائی۔ "مولانا صاحب یہ کہتے ہیں، مولانا صاحب یہ کہتے ہیں، مولانا صاحب یہ کہتے ہیں"، مجھے، میرے ساتھ مولانا صاحب کی باتیں کرتے تھے حضرت۔ تو مقصد یہ ہے کہ حضرت کو بھی اس چیز کا بڑا احساس ہوتا تھا، وہ جو ہے نا وہ دوسری طرف نہیں جانے دیتے تھے۔ تو یہ باتیں، یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ توحیدِ مطلب ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

جی، کوئی اور سوال اگر ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ پھر ذکر کرتے ہیں کیونکہ time شاید ذکر کا ہی ہے۔ [سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا...]


سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب