سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 651

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے۔ پیر کے دن ہمارے ہاں تصوف سے متعلق سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی جن کے احوال یہاں پر آتے ہیں، ان کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔

سوال: Assalamualaikum warahmatullah Sheikh. What are your instructions on someone indulged in severe confusion. The confusion was created by himself but due to lack of knowledge now he is confused and messed up. I am confused regarding tasawwuf and following tariqa and sheikh and confused with the procedure of zikr and I visited few mashaikh and learnt their way. Now shaitan is immediately disturbing me regarding this, what is the way out now? As also my sins and bad habits are not stopping, which is making me more negative immensely. In need of your duas and help. I left tasawwuf i.e., Tawheed-e-Matlab and I am easily moved by various sects like Ahl-e-Hadith, Barelvi etc. (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: I think you had shown by your own the way or the reason of confusion. So going out of this is in your control. And what was that? It means you did not follow Tawheed-e-Matlab. As far as the confusion is concerned, so if the confusion is because of lack of knowledge, so you should enhance your knowledge. For that purpose, I will suggest to read our English section of tazkiya.org on which the basic concepts are already present and there are some question and answers. So you can go through this also. And I think for everything there is an answer, inshallah Alhamdulillah you will find. First of all, you should go through these if you want to go out of your confusion. If you don't want, so I shall take back my suggestion. So for that reason, I will advise you to read that thoroughly and I can send you even actually in the bookish form, the PDF of these two and you can go through these. May Allah Subhanahu Wa Ta'ala help you. And for that purpose, you should ask Allah Subhanahu Wa Ta'ala for help. And Allah helps those who ask for this. So you should also ask Allah Subhanahu Wa Ta'ala to help in this regard. There are two duas which are very important in this regard. Number one: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [آل عمران: 8]. This is dua from Quran. And another dua is from Hadith: «اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ». So I think if you will ask Allah Subhanahu Wa Ta'ala for help through these duas, Allah will help you and inshallah you will find the real path.

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْرَّحِیْمُ﴾ (البقرۃ: 127-128)

سوال: زہ بہ تاسو سرہ ملاوېږم ان شاء اللہ زما ترجیح دا دہ ہغې سلسلے کوم چې دا مراقبے او دا بریدنګ ایکسرسائز باندې ډېر فوکس کړے شوی دے، چې باطنی علم پکې هم ډېر وی۔ زما د حضرت عنایت خان صاحب تعلیمات او هم ډېر زیات شوق دے، کوم چې په 1927 کې وفات شوی دے، هغه په یورپ او امریکا کې دا تصوف تبلیغ کړے وو۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: اصل خبرہ دا دہ چې تہ پہ شاخونو باندې ګرځې او جړو تہ دې خیال نہ دے۔ کہ ستا جړو تہ خیال وی نو ددې خبرې بہ دې نه کولې۔ اصل شے خو قرآن او حدیث دے او تصوف ددې نہ راوتلی دے۔ او باقی تجربات دي، نو تجربات چې کوم دي ډېر شے دي، په هغې کې هغه تجرباتو باندې زور اچولے شے کوم چې ستا دپارہ ډېر مناسب دي۔ د هغې دپارہ پہ یو کس باندې اعتماد کوې، نو په چا چې ستا اعتماد راغلو نو د هغه نه به تہ تپوس کوې نو هغه به ستا ددې مسلې حل بیانوي۔ البتہ پہ هغې کې اته نښې به ته ګورې چې چا کې وي، هغه کس کې: نمبر ایک چې عقیدہ د اہل سنت والجماعت وي۔ دویم چې فرضي علم ورتہ حاصل وي۔ دریم چې پہ هغې باندې عمل کوي۔ څلورم د هغہ د صحبت سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تہ رسي یعنی شجرہ یې مسلسل وي۔ پنځم چې هغہ تہ چا صاحبِ سلسلے اجازت ورکړی دے۔ او شپږم چې د وخت علماء مشائخ هغوی پہ بارہ کې ښہ خیال لري۔ اووم دا چې مروت نه کوي او اصلاح کوي۔ او اتمه خبره دا ده چې د هغه په مجلس کې تاسو ته د اللہ محبت حاصلېږي او محسوسوئ یې، او د دنیا د محبت نہ لرې کېږئ۔ نو تاسو چې ملاوېږئ نو ضرور ملاو شئ، ماته پتہ نه شته چې تاسو کوم ځای کې یاست، بہرحال که دلتہ نږدې وئ نو بیا ضرور ملاو شئ او تسلۍ سرہ بہ خبرې اترې وشي، اللہ پاک دې مونږ ټولو تہ ہدایت نصیب کړي۔

سوال: سر ماشاءاللہ آپ کی ہی محنت سے اور درس اٹینڈ کرنے سے مجھے روشنی ملی ہے اور اپنے اندر جھانکنے کا موقع ملا ہے۔ آپ ذکر بتا دیں، میں ان شاء اللہ آپ کے ساتھ اٹیچ رہنا چاہتا ہوں اور اصلاح کروانا چاہتا ہوں۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: ان شاء اللہ میں آپ کو کارڈ بھی بھیج دیتا ہوں اور اس کارڈ پہ لکھا ہوگا ایک مبتدیانہ وظیفہ ہے، تین سو دفعہ "سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر" اور دو سو دفعہ "لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم"۔ یہ ایک ہی مجلس میں آپ نے 40 دن، ایک خاص وقت کو مقرر کر کے بغیر ناغے کے مکمل کرنا ہے ان شاء اللہ۔ اس سے چونکہ ابتدا ہو رہی ہے تو اس پہ آپ کو بہت ہی زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ اس میں ناغہ بالکل نہ ہو کیونکہ ناغہ ہونے سے بڑا نقصان ہوتا ہے اور اس میں تو دوبارہ شروع کرنا ہوتا ہے۔ تو یہ آپ مکمل کیجیے گا اور ہر نماز کے بعد 33 دفعہ سبحان اللہ، 33 دفعہ الحمد للہ، 34 دفعہ اللہ اکبر، تین دفعہ کلمہ طیبہ، تین دفعہ درود ابراہیمی، تین دفعہ استغفار اور ایک مرتبہ آیت الکرسی، یہ عمر بھر کے لیے ان شاء اللہ رہے گا، البتہ پہلے والا 40 دن کے بعد بدل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، فلاں ساہیوال سے۔ اب سے آئندہ سال اپریل تک میرے پیسے کچھ تنگ ہیں، لہذا میں شاید ایک یا دو دفعہ آ سکتا ہوں خانقاہ میں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی میرے ساتھ آئے ہفتہ وار جوڑ کے لیے، ہم ہوٹل میں ٹھہریں اور پھر آئندہ دن وہ شریک ہو سکتی ہیں بیانات میں، پھر ہم گھر آئیں۔ اس میں خرچہ زیادہ ہے، کیا میں اس کو ترجیح دوں یا جہانگیرہ کا اجتماع میرے اکیلے کے لیے؟ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: جہانگیرہ کا اجتماع مہینے میں ایک دفعہ ہوتا ہے اور اس میں آپ کی بیوی کے لیے رہنے کی کوئی گنجائش بظاہر نہیں ہے کیونکہ وہاں ہوٹل وغیرہ تو ہے نہیں اور دوسروں کے گھروں میں ٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ تو بہتر یہی ہے کہ آپ ادھر ہی آ جائیں، ان کو تعارف ہو جائے گا اور ساتھ آپ کا تو ماشاءاللہ آپ کا آنا ہو جائے گا۔ بہتر یہی ہے، اللہ پاک اسان فرما دے۔

سوال: ان اچھی کیفیات کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: جس راستے پہ آپ کو یہ اچھی کیفیات ملی ہیں، اس راستے پہ مزید چلیں تو ان شاء اللہ یہ بڑھ جائیں گی ان شاء اللہ ۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ میرے بچوں کے مراقبے کی رپورٹ دینی ہے۔ ان کے مراقبے کا ایک ماہ ہو گیا ہے۔ نمبر ایک: پہلے پانچوں لطائف پر پانچ منٹ یہ تصور کرنا کہ میرے لطیفہ کی طرف اللہ تعالیٰ محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور میرا لطیفہ اللہ اللہ کر رہا ہے۔ اس کے بعد ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87] کو استغفار کی نیت سے مراقبہ کرنا ہے کہ اس کا فیض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر اور پھر آپ حضرت کے قلب مبارک پر اور فلاں کے پورے جسم پر یہ فیض آ رہا ہے۔ ماشاءاللہ کیفیات یہ ہیں کہ الحمدللہ پانچوں لطائف پر ذکر محسوس ہو رہا ہے۔مراقبات کے دوران کچھ خاص کیفیات کا اندازہ نہیں ہورہا، اللّٰه تعالیٰ پر بھروسہ بڑھ رہا ہے اور اپنے گناہوں پر استغفار پڑھنے کا خیال زیادہ آتا ہے۔ جب خیال آتا ہے تو توبہ کرتی ہوں۔ دو ناغے ہوئے ہیں۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: سبحان اللہ، یہ ماشاءاللہ بڑے اچھے احوال ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ان کو مزید بڑھائیں۔ اور یہ جو ہے نا مطلب اب آپ ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ بالحقیقت چونکہ استغفار ہی ہے تو اب جو ہے نا پوری امت کی طرف سے اس کو ’’اِنِّا کُنْا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ یہ ہی ہوگا جمع کے لیے تو یہ اس کیفیت کے ساتھ کیونکہ آج کل پوری امت کو استغفار کی کیفیت ہونی چاہیے آج کل حالات بہت گڑبڑ ہیں، تو یہ بتا دیں ان کو۔ نمبر دو: مراقبہ معیت اور مراقبہ ادعیہ ہے۔ پہلے پانچوں لطائف پر پانچ منٹ یہ تصور کرنا ہے کہ میرے لطیفہ کی طرف اللہ تعالیٰ محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور میرا لطیفہ اللہ اللہ کر رہا ہے۔ اس کے بعد 15 منٹ مراقبہ معیت اور دعائیں کرنی ہیں۔ پانچوں لطائف پر ذکر محسوس ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ الحمدللہ بڑھ رہا ہے الحمدللہ ناغہ نہیں ہوا۔ ماشاءاللہ! ان دعاؤں میں بالخصوص فلسطین کے لیے دعا اور تمام مسلمانوں کی جو کسمپرسی ہے اس سے نکلنے کی دعا تصور میں کرنی چاہیے۔ اس کو جاری رکھیں۔ نمبر تین: وظیفے کی ترتیب یہ ہے: درود پاک 200 مرتبہ، تیسرا کلمہ 200 مرتبہ، استغفار 200 مرتبہ، لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ، اور اللہ 300 مرتبہ۔ اس کو اللہ کو آپ 500 مرتبہ کر دیں۔ باقی تینوں کی الحمدللہ نماز پڑھنے اور قران پاک کی تلاوت پر استقامت ہے۔ ربیع الاول پہ ہمارا اجتماعی درود پاک 150,500 تھا۔ اب آپ حضرت سے درخواست ہے کہ یہ میرے خیال میں ربیع الاول والی بات نہیں ہے یہ شاید آج کل کی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب، اچھا اس کو بھیج دیں۔

سوال: Sheikh Assalamualaikum, as per your instructions I was able to do the following hasanat, virtues, deeds in the last month. Number one: read two pages of tafseer daily. Number two: fasting on Mondays and Thursdays. Number three: share one to two Ahadith Shareefa with others and teach some brothers and sisters recite Quran. I also started teaching Arabic alphabets. After doing the above, I have almost same feeling at least as last month, that I feel peaceful and confident and have more patience, especially have more concentration during prayers and feeling as if I have recently started to know how to pray. Besides this I feel myself as a person who knows nothing, SubhanAllah! (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: It's very good understanding and Inshallah you please continue this and you will learn more.

سوال: Sheikh Assalamualaikum, as per your instructions I have been focusing on the following hasanat, virtues, deeds related to others for the last one month as follows. Number one: frequently visiting of my mother. Number two: visiting patients. Number three: try to do more husband's work. However I still sometimes get emotional with my mother and quarrel with her and my daughter. Secondly my husband has been doing more household work than me. I would be thankful to, if Sheikh can guide me in controlling my temper. Jazakallah khair. Wife of [Name]. (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: Mashallah you are very good and I think you are developing more and your husband I think he should continue and he will get more knowledge and more practice regarding these things. And you should also continue this. As far as controlling your temper is concerned, so there are two things. Number one: to get it instantly, you should understand that if Allah will be angry with me, what will happen? So if I shall accept the excuses of others and forgive them, so Allah will forgive me. Especially if you are wrong in that case and you are losing temper, then you should teach your nafs what for you are doing this. It will put you in danger, so therefore you should be controlled. And I think by this self-suggestion you will get some control and the rest of control you will be getting after completing the sulook Inshallah.

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی مرید کا شیخ کے ساتھ تعلق چونکہ اصلاحی ہوتا ہے تو جب شیخ مرید کو پوچھے گئے سوال پر خاموشی اختیار کر لے تو اس وقت کیا کرنا چاہیے؟ جیسے اگر کبھی آپ خاموشی اختیار کر لیں تو میرے دل میں شیطان عجیب عجیب وسوسے ڈالتا ہے کہ شیخ خفا ہوئے تم سے اور ایسے سوال کیوں کیے؟ آپ پتہ نہیں مجھے کتنا نقصان ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ حضرت آپ اصلاح فرمائیں۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: اصل میں شیخ کی زبان پر اللہ جل شانہ تمہیں سمجھاتے ہیں کیونکہ شیخ تو کچھ بھی نہیں ہے، اصل میں تو اللہ تعالیٰ کی طاقت ہے۔ تو اگر کسی چیز میں خاموشی بہتر ہے تو آپ سمجھیں کہ میرے لیے اسی میں بہتری ہے کہ اس کا جواب نہیں دیا گیا کیونکہ بعض دفعہ اس کا جواب خاموشی ہوتا ہے۔ یعنی اس میں کچھ حکمت ہوتی ہے کہ اگر کچھ بتا دیا جائے تو بھی نقصان ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے مطلب مثال کے طور پر اس کی حالت اچھی ہے، فار ایگزیمپل، یہ نہیں کہ آپ کی کنڈیشن ایسی ہے، لیکن اس کو اگر آپ بتائیں کہ آپ کی حالت اچھی ہے، اس سے وہ عجب میں مبتلا ہو جائے تو پھر ظاہر ہے مطلب یہ ایک نقصان کی بات ہو جائے گی۔ تو ٹھیک ہے آپ نے اپنے احوال بتا دیے، تو شیخ کو پتہ چل گیا، اور دوسری طرف یہ بات ہے کہ آپ خاموشی، ایک بات ہے کہ ممکن ہے کہ شیخ انتظار کر رہا ہوں کہ اس کو خود ہی جواب مل جائے گا عملی طور پر، کیونکہ بعض چیزوں کا جواب عملی ہوتا ہے۔ تو وہ اپ کو کوئی ایسا عمل بتا دے، کسی طریقے سے جس سے آپ کو خود بخود آپ کی توجہ اس طرف ہو جائے بجائے لفظی جواب کے، عملی جواب آپ کو مل جائے۔ تو بہت ساری باتیں ہیں جن میں سے صرف دو میں نے آپ کو بتا دی ہیں۔ فی الحال اس پر آپ اتنا ری ایکشنری نہ ہوں، آپ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہو جایا کریں کہ اللہ میرے شیخ دل پر وہ طاری کر دے جس میں میری بہتری ہو۔

سوال: السلام علیکم، حضرت جی اللہ رب العزت آپ کے درجات بلند فرمائے، آپ کا سایہ ہم پر قائم رکھے اور آپ کو لمبی عمر عطا فرمائے۔ محترم حضرت جی میرا وظیفہ لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، حق 600 مرتبہ اور اللہ 500 مرتبہ اور مراقبہ پانچ منٹ کے لیے لطیفہ قلب، لطیفہ روح، لطیفہ سر، لطیفہ خفی، لطیفہ اخفی اور 15 منٹ کے لیے مراقبہ معیت کر رہی ہوں۔ مراقبہ کرتے ہوئے مجھے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بتایا تھا اور مراقبہ شروع میں سورہ اخلاص کے معنی سوچنے کا فرمایا تھا تاکہ اخلاص کے ساتھ دعا ہو۔ الحمدللہ باقاعدگی سے کر رہی ہوں اور دو ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے۔ حضرت جی اب چلتے پھرتے بھی اگر اختیار ہے دعا مانگ رہی ہوتی ہوں۔ اکثر اوقات کوئی میٹنگ میں یا کام کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کی مدد مانگنے کی توفیق ہو جاتی ہے اور دو نفل حاجت صبح و شام اس کیفیت کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں کہ پڑھنے کے لیے بھی بتایا تھا، وہ بھی الحمدللہ باقاعدگی کے ساتھ کر رہا ہوں۔ حضرت جی میرے لیے آئندہ کیا حکم ہے؟ آپ کی دعاؤں کا طلبگار، سبحان اللہ۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: الحمدللہ یہ چیزیں تو جاری رکھنے کی ہیں۔ باقی یہ ہے کہ آپ جو ماشاءاللہ ذکر کر رہے ہیں تو ذکر تو آپ یہی جاری رکھیں البتہ "سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم" اس کو ذرا مطلب کم از کم 313 مرتبہ روزانہ اس کو شامل کر لیں۔ باقی چیزیں یہی کر لیں۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جناب محترم شاہ صاحب، اللہ تعالیٰ خیر و عافیت والی زندگی عطا فرمائے۔ جناب محترم شاہ صاحب آپ کا دیا ہوا ذکر یعنی تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار اور لا الہ الا اللہ 200 مرتبہ، لا الہ الا ھو 400 مرتبہ، اللہ ساڑھے چھ ہزار مرتبہ۔ الحمدللہ جناب محترم شاہ صاحب مہینہ پورا ہو گیا ہے، جو حضرت آپ کا حکم ہے ارشاد فرمائیں۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: اب جو ہے نا اللہ سات ہزار کر لیں، باقی چیزیں وہی کریں ان شاءاللہ۔

سوال: السلام علیکم، آپ کا 40 دن والا بنیادی ذکر کرنے کے لیے بچوں کی عمر کم از کم کتنی ہونی چاہیے؟ تاکہ ان کو ذکر کی عادت ڈالی جا سکے۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: اصل میں یہ چونکہ بنیادی ذکر ہے اور بنیادی ذکر جو ہے مطلب ہم ابتدائی کے طور پہ دیتے ہیں تاکہ بعد میں اسی سے ہم شروع کر لیں۔ تو جو بھی سمجھدار بچہ ہو، وہ مطلب اس کو شروع کر سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خود چلنے والا۔ ایک ہوتا ہے نا جس کو آپ چلائیں، اور ایک ہوتا ہے جو خود چل سکتا ہے، مطلب خود سمجھتا ہے اتنا۔ تو ایسا بچہ مثال کے طور پر 8، 10 سال کا بھی ہو اگر ہو لیکن سمجھدار ہو تو اس کو یہ بتایا جا سکتا ہے کیونکہ بعد میں وہ سنبھال سکتا ہے۔ البتہ اگر جس کو آپ صرف بتاتے ہوں تو پھر ان کو ہم درود شریف ہی زیادہ بتاتے ہیں۔ تو آپ پھر بتا دیں عمر کتنی ہے تو میں ان شاء اللہ عرض کر لوں گا۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضور، آج میرے ذکر کا ایک مہینہ مکمل ہو گیا ہے۔ میرے ذکر کی تعداد کچھ یوں ہے: 200 مرتبہ لا الہ الا اللہ، 400 مرتبہ لا الہ الا ھو، 600 مرتبہ حق اور 500 مرتبہ اللہ۔ میرے لیے اب کیا حکم ہے؟ ماشاءاللہ حضور تمام مریضوں سمیت میری صحتیابی کی دعا کی درخواست، آپ کی دعاؤں کا طالب۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: ابھی اللہ اللہ جو ہے وہ آپ ایک ہزار مرتبہ کر لیں اور باقی چیزیں یہی رکھیں، ان شاءاللہ۔

سوال: Jazakallah khair sorry I forgot to send the mamoolat chart. This is this... I pray you are well dear Hazrat Ji. May Allah Ta'ala Subhanahu grant me complete islah at your blessed hand and prolong your shade over us all. I wanted to inform and ask about two things. Number one: there are some people in the family who have always been close to me since I was born. Today I do lots of khidmat and wishful for them. But my instincts tell me that they are not sincere with me. I try to avoid such thoughts but it has become so clear and over such a long time that I have no choice but to be careful. This has caused me a lot of pain as they are much older in age. There is not much I can do but I fear the effects this will have on the future especially the wider impact on the relationship with the youngers. What can I do? Number two: I have realized an aib in my personality. Everything I do, I am neither 100% absorbed in it or completely uninterested. For example, I have no interest in food and don't eat anything but when I do start eating, I eat quite a lot. Even if the food itself is healthy. I am not very talkative but when I do start talking, I have been told by family that I don't stop talking and don't give others chance to speak either. From childhood I remember that whether game I used to play, I always become obsessed with it until I become the best and was very competitive. What should I do about this? Kindly remember me in duas. SubhanAllah. (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: یہ جو آپ کی پہلی بات ہے اس کے بارے میں تو میں عرض گا کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ حدیث شریف میں بھی اس قسم کے واقعات موجود ہیں کہ کسی صحابی نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللّٰه ﷺ میں رشتہ داروں کے ساتھ خیر وبھلائی کرتا ہوں، لیکن وہ میرے ساتھ یہ رویہ رکھتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے ان کو بشارت دی تھی کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ کو یہ خیر ملے گی۔ تفصیلات میرے خیال میں آپ ڈھونڈ سکتے ہیں، وہ بتائیں جاسکتے ہیں کیونکہ ظاہر ہے اپنی طرف سے اس میں کوئی بات نہیں کرسکتے، لیکن اشارہ ایسا ہی تھا۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو اب آپ نے جو بات فرمائی ہے کہ آپ کھانے کے شوقین نہیں لیکن جب شروع کرتے ہیں تو رکتے نہیں ہیں اور آپ باتوں کے شوقین نہیں لیکن جب بولتے ہیں تو پھر رکتے نہیں ہیں اور کسی بھی گیم میں بھی اگر آپ کو دلچسپی نہ ہو لیکن جب شروع کرتے ہیں تو پھر اس میں ہی چلتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کا ایکسیلریٹر بہت پاور فل ہے لیکن بریک کمزور ہے۔ تو اپنے بریک پہ توجہ دیں۔ ہاں جی! اپنے بریک پہ توجہ دیں۔ ان کو ذرا بہتر کر لیں۔ یعنی اور ارادے کے ساتھ، مثال کے طور پر آپ یہ دیکھیں کہ کتنا آپ کو کھانا چاہیے، آپ ذرا پہلے سے مطلب معلوم کر لیں، بے شک ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔ تو جتنا آپ کو بتائیں تو آپ دیکھیں کہ جب یہ مکمل ہو گیا تو بے شک آپ کو زیادہ اس کی طلب ہو، لیکن ادھر آپ رک جایا کریں، مطلب اس سے زیادہ نہیں۔ جہاں تک بات چیت کی بات ہے، تو بات جب آپ شروع کر لیں، تو پہلے سے اپنا ذہن میں بنائیں کہ میں ان کے ساتھ اتنی دیر بات کروں گا۔ تو جب وہ دیر مکمل ہو جائے تو پھر آپ روک دیا کریں، جیسے کہ بس اب آپ بات کر لیں۔ ہاں جی! تو ان شاء اللہ آہستہ آہستہ ان بریکس سے آپ کو صلاحیت ملے گی اور آپ کو ان شاء اللہ العزیز رکنا نصیب ہوگا۔ جہاں تک گیم کی تعلق ہے تو جو ہیلدی گیم ہے وہ کھیلا کریں، اور جو نان ہیلدی ہے جیسے لڈو ہے یا تاش ہے یا کوئی اس قسم کی چیزیں جو فضول وقت ضائع کرنے والی ہوتی ہیں، ان سے تو بالکل بھاگیں۔ اس میں تو بالکل انوالو نہ ہوں۔ اللہ پاک حفاظت فرمائے۔

سوال: السلام علیکم حضرت جی، میں ایک سوال میں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ جب میرے پاس کاؤنٹر ہوتا ہے تو ذکر اور درود شریف کثرت سے پڑھا جاتا ہے، لیکن جس وقت کاؤنٹر بھول جاؤں تو ذکر بھی بہت کم ہوتا ہے۔ کافی عرصہ ہو گیا ہے لیکن اس طرح سے ہے۔ اس صورت میں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: آپ کاؤنٹر اپنے ساتھ رکھا کریں۔

سوال: السلام علیکم حضرت جی، میرے وظیفے کا مہینہ پورا ہو گیا اور میرا وظیفہ 5500 مرتبہ اللہ اللہ کا ذکر، زبان پر تین مرتبہ آیت الکرسی اور 10 منٹ کا اللہ اللہ کا مراقبہ دل پر تھا۔ حضرت جی مراقبہ کا بھی تک محسوس نہیں ہوتا۔ حضرت جی بعض اوقات غیبت مجھ سے ہو جاتی ہے یا پھر سننی پڑتی ہے۔ حضرت جی آپ کے میرے لیے آگے کیا حکم ہے؟ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: ماشاءاللہ اب جو اللہ اللہ ہے وہ 6 ہزار مرتبہ کر لیں اور باقی چیزیں یہی رکھیں۔ اور جہاں تک غیبت کی بات ہے تو یہ تو اختیاری چیز ہے، تو آپ مطلب یہ ہے کہ جس وقت کوئی غیبت ہو رہی ہو تو اپنی بات کو بدل لیا کریں، چینج کر لیا کریں، یہ نہیں کر سکے تو اپنے آپ کو کسی اور کام میں مشغول کر لیا کریں اور مطلب ظاہر ہے لطائف الحیل سے اپنے آپ کو وہاں سے ہٹا دیں۔ یہ طریقہ مناسب ہے۔

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت دامت برکاتہم! میرے پاس کسی شاگرد جو سکول میں پڑھتا ہے، مجھ سے پوچھا ہے کہ اگر کوئی آدمی ہمارے سامنے حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کی گستاخی کرے تو ہم کیا کریں؟ اس کا کیا جواب دوں؟ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: ما شاء اللّٰہ اس کو یہ جواب دیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ صحابی ہیں اور صحابہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے: ﴿اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ﴾ [سنن الترمذي: 3862] کہ اے میری امتیوں، میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو ان کے ساتھ محبت کرتا ہے وہ میرے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے کرتا ہے اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتا ہے وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے بغض رکھتا ہے۔ تو یہ چونکہ صحابی ہیں اور میں ظاہر ہے مطلب ان کے ساتھ بغض نہیں رکھ سکتا، میں ان کے ساتھ محبت کروں گا تو ظاہر ہے کسی کی برائی کسی سے نہیں سن سکتا۔ تو اگر آپ چپ نہیں ہو سکتے تو میرے ساتھ بات نہ کریں۔ بس یہ جواب دیں۔ ان شاء اللہ یہ بھیج دیں مجھے۔ما شاء اللّٰہ

سوال: Assalam o alaikum Murshid, from Singapore. I hope you and your family are doing well. Thank you Murshid, Alhamdulillah my heart is better and I am able to do zikr and recitation without any problem. This is where I had stopped since February. After Isha main amal 200, 200, 200 and 1500 special zikr. After Subh Alhamdulillah... [اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ] 313 times. After Maghrib Ya Wadoodo, Ya Salamo, Ya Raheemo, Ya Ghafooro 111 times. After Isha Manzil Jadeed. I wait your kind advice. (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: I think you should start from here and next month Inshallah we can extend.

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ نمبر ایک: لطیفہ قلب 10 منٹ کبھی محسوس ہو رہا ہے کبھی نہیں، اس کو ابھی جاری رکھیں۔ 10 منٹ کے بجائے 15 منٹ۔ نمبر دو: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر، مراقبہ شان جامع 15 منٹ۔ گزشتہ تمام مشارب کے فیوضات محسوس ہوتے ہیں، سب کچھ کرنے والی اللہ پاک کی ذات ہے کائنات کے نظام کو چلانے والا ہے۔ تمام عیوب سے پاک ہے، نیند نہیں آتی اللہ کو، تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: ماشاءاللہ اب جو ہے نا اس کو جو ہے نا مراقبہ معیت کا بتا دیجیے گا۔

سوال: نمبر تین: تمام لطائف پر 10 منٹ ذکر اور مراقبہ شؤنات ذاتیہ 15 منٹ۔ یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ اللہ کی مختلف شانیں ہیں۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ اب جو ہے نا مراقبہ تنزیہ ان کو بتا دیں۔ نمبر چار: تمام لطائف پر دس دس منٹ ذکر اور مراقبہ معیت 15 منٹ۔ اس بات کا عقیدہ پختہ ہو گیا کہ اللہ میرے ساتھ ہے لیکن کوئی ایسی بات پیش نہ آئے مجھے کہ جس وقت اللہ کی معیت کا احساس ہو جائے اور یہ مراقبہ مجھ پر بہت بھاری ہے۔ باقی مراقبات میں یکسوئی مسلسل برقرار نہیں رہتی لیکن اس مراقبے میں مسلسل یکسوئی رہتی ہے مراقبے میں ادھر ادھر ذہن نہیں جاتا تھا۔ سبحان اللہ۔ تو اس کے ساتھ دعائیہ بھی شامل کر لیں۔ نمبر پانچ: کم کھانے کا مجاہدہ ہے، بتاتے ہوئے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے لیکن بتانے کے بغیر چارہ نہیں۔ اس ہفتے پھر ناکامی کا سامنا ہوا ہے، روزانہ ارادہ کرتی ہوں کہ کل سے ان شاء اللہ زیادہ نہیں کھاؤں گی لیکن اگلے دن پھر زیادہ کھا جاتی ہوں۔ کھانے کے اوقات تقریباً وہی ہیں یعنی اٹھ سے 16 گھنٹے، لیکن تین وقت کھاتی تھی اور پہلے کی طرح انداز نہیں رکھتی تھی۔ جس وجہ سے اکثر کھانے کے مقدار بڑھ جاتی۔ آج نفس کو سزا دینے کے لئے روزہ رکھا ہے۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب : ٹھیک ہے، لیکن بہرحال اب اس طرح کرلیں کہ اگر آپ آٹھ گھنٹے میں کھانا ہے تو بس صرف دو وقت کھائیں بجائے تین وقت کے صرف دو وقت کھائیں۔ ان شاء اللّٰہ اس سے کمی ہوجائے گی۔

سوال: Sheikh, jazakallahu khairan for the answer. Sheikh, what is faiz? How it is attained? (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: Subhanallah. Faiz is anything which is good for this life and for the life hereafter. And it can be of any kind. For example, the faiz of a teacher is knowledge. The faiz of sheikh is islah nafs and The faiz of, for example, an engineer is engineering work. The faiz of a doctor is doctor's work. And anything what is the specialty of a person, so his faiz will be related to this. So it is very general statement I am explaining. But as far as the faiz which is coming from Allah Subhanahu Wa Ta'ala, so it comprises all the faiziyat which are required in this life and the life hereafter. Mashallah. Ye bhi bhejna hai, thik hai.

تو بہرحال ابھی تو میرے خیال میں جو کچھ سوالات تھے وہ تو شاید ہو گئے ہیں۔ ابھی اگر باہر سے کوئی سوالات کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، اور نہیں تو یہیں پر حاضرین میں سے اگر کوئی سوالات کرنا چاہیں تو جتنا ٹائم ہے اتنے ٹائم میں کر سکتے ہیں ان شاء اللہ العزیز۔ خیریت سے بیٹھیں، ماشاءاللہ یہ مولانا کو دیں۔

سوال: السلام علیکم۔حضرت ایک سوال تھا، کئی دنوں سے ذہن میں گھوم رہا تھا۔کہ آپ ہمارے شیخ بھی ہیں مربی بھی ہیں۔ ظاہری بات ہے ہم آپ سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ سوال کچھ اس طرح کا ہے، ایک تو ڈر بھی لگتا ہے عجیب لگ رہا ہے بھئی کسی پہ اعتراض نہ ہو جائے۔ ویسے تو اعتراض نہیں ہے ایک سوال ہے۔ وہ یہ ہے کہ پچھلے دنوں حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کے صاحبزادے وہ گولی کی وجہ سے فوت ہو گئے تھے لگنے سے۔ اس پہ مولانا نے یہ ایک بات کہی تھی کہ میں نے بڑے بڑے علماء اولیاء اللہ کے ساتھ وقت گزارا، میری زندگی گزر گئی، لیکن ایسی اللہ کی محبت نہیں دیکھی جو اس بچے کے اندر تھی۔ ایک تو یہ بات کی۔ یہ دو تین دفعہ انہوں نے بیانوں میں بات کی تو دوسری بات یہ کہ ایک مولانا صاحب ساتھ بیٹھے تھے، میں جب وہ بیان سن رہا تھا تو وہ کہنے لگے نہیں اصل میں ان کا بیٹا مجذوب تھا۔ میں نے کہا مجذوب کی یہ کوئی عجیب سی حالت تھی کہ اس کی کبھی ایک ویڈیو وائرل ہوتی تھی جس میں وہ کبھی کیک کاٹ رہا ہے سالگرہ کا، کبھی ایل سی ڈی گا کے بیٹھا ہوا ہے۔ تو میں نے کہا ابھی جس طرح حاجی عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بعض حضرات کہتے ہیں مجذوبیت کے اثرات تھے، لیکن وہ کچھ اور رنگ تھا۔ پیر ذوالفقار علی صاحب کے اوپر بھی بعض حضرات کہتے ہیں کہ مجذوبیت کے آثار ہیں ان پہ، لیکن ان کا بھی رنگ کچھ اور ہے۔ لیکن اس بچے کا رنگ کچھ اور تھا۔ تو یہ کافی دنوں سے میرے ذہن میں تھی بات، اس کا مجھے رہنمائی فرما دیں۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم، ظاہر ہے ان کی شان چاہے کتنی اونچی ہو لیکن شریعت شریعت ہے۔ مطلب ظاہر ہے اس میں تو کوئی درمیاں میں سپیئر نہیں کر سکتے کسی کو، ٹھیک ہے نا؟ تو جو ان کی باتیں خلاف شرع ہیں، جو جس ڈگری میں ہیں، تو ظاہر ہے علماء کہہ سکتے ہیں، مطلب ظاہر ہے علماء اس پر کمنٹ کرتے ہیں۔ تو جیسے قرآن خوانی کے بارے میں بات مطلب ظاہر ہے چلی تھی اور علمائے کرام نے اس پر اپنا اپنا اوپینین دے دیا ہے تو لہذا میں تو اس پر بات نہیں کرتا ہوں لیکن میں کہتا ہوں کر سکتے ہیں لوگ علماء، کیونکہ ان کو حق ہوتا ہے۔ باقی ان کا جو بیٹا تھا وہ اس کا بیٹا تھا نا، تو ظاہر ہے اس کو تو محبت تھی اس کے ساتھ۔ تو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک بادشاہ نے وزیر کو کہا تھا کہ اس علاقے میں جو سب سے خوبصورت بچہ ہے نا وہ لے آؤ۔ تو اس کا اپنا بیٹا کالا کلوٹا تھا وہ لے آیا۔ تو بادشاہ نے کہا کہ نہیں خوبصورت بچہ لے آؤ۔ اگلے دن پھر وہ لے آیا۔ تین چار دن ہوئے تو بادشاہ غصہ ہو گیا میں تمہیں کہتا ہوں خوبصورت بچہ لاؤ تم یہ بچہ لا رہے ہو۔ کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے مجھے تو اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نظر نہیں آتا۔ ہاں جی! تو اب مولانا صاحب اپنے بیٹے کو سب سے زیادہ سمجھتے ہیں تو میرے خیال میں اس میں وہ معذور ہیں۔ تو اس وجہ سے ہم اس پر اس کی گرفت نہیں کر سکتے مطلب اس مسئلے میں، وہ ایک معذوری کی حالت ہے، ٹھیک ہے نا۔ ان کو کہنے دیں، ہاں البتہ شرعی باتوں میں جیسے میں نے کہا قرآن خوانی یا کوئی اس قسم کی باتیں جو جیسے وہ بعض دفعہ اہل تشیع کے قریب کی باتیں کر لیتے ہیں، اس پر علمائے کرام نے گرفتیں کی ہیں، ہاں جی! اور اس طرح مطلب جو ہے نا بعض دفعہ جو ہے نا مطلب انہوں نے سیاسی طور پر کچھ غلط باتیں کی ہیں اس پر علمائے کرام نے ان کی گرفتیں کی ہیں۔ تو انسان ہے، غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ تو جو غلطی ہوگی تو اگر عالم ہوگا تو عالم کی تو علمی گرفت تو کی جاتی ہے نا، پھر علماء کرتے ہیں۔ تو لہذا مطلب اس قسم کی باتوں میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ علمائے کرام کے اندر یہ باتیں چلتی ہیں اور یہی کلیننگ کا طریقہ ہے، صفائی کا ذریعہ ہے کہ مطلب یہ ہے کہ لوگ جو ہے نا مطلب اس میں صفائی مطلب جو ہے نا وہ کر لیا کریں اپنی۔ تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے، جہاں تک مجذوبیت کی بات ہے۔ تو مجذوبیت دو قسم کا ہے۔ بلکہ میں اب کہہ سکتا ہوں کہ تین قسم کا ہے۔ ہاں جی، پہلے دو قسم کا تھا، یہ میری خود اپنی تحقیق تھی، دو قسم کا تھا۔ تو میں نے اس پر ایک غزل لکھی تھی، وہ بھی سناتا ہوں، ہاں جی۔ پھر اس کے بعد جب حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے میں نے مکتوبات شریف یہاں اس کا درس دینا شروع کر لیا تو اس میں ایک تیسری قسم کے مجذوب کا ذکر بھی نکل آیا۔ تو پھر اس کے بعد پھر میں نے تین قسم کے مجذوبوں کے بارے میں وہ کر لیا۔ تو یہ بات ہے تو اب میں ذرا بتاتا ہوں کہ وہ تین قسم کے مجذوب کیا ہیں۔ ان شاء اللہ العزیز اس میں دیکھ لیں گے ان شاء اللہ اس کی بھی جگہ نکل آئے گی۔42:00

عنوان ہے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

سچ کہ محبوبِ خدا ہے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

عقل اور ہوش سے ہے بیگانہ اگر

اقتدا سے رکھو پرے مجذوب

اگر عقل و ہوش سے بیگانہ ہے تو اس کی اقتدا نہ کرو، اس کے خلاف باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ عقل و ہوش سے بیگانہ ہے، تو لہذا اس کے خلاف باتیں کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن اس کے پیچھے بھی نہ چلو۔

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


بات شریعت کی ہی چلے گی ہمیش گو خدا کو تو ہے پیارے مجذوب یہ الحمدللہ ہمارے بڑوں نے اس چیز کو بڑا واضح کر دیا ہے کہ جو اللہ کا پیارا بھی ہو اس کے گزشتہ اعمال کی وجہ سے، یا اللہ کے قرب کی وجہ سے، لیکن اگر اس میں ہوش مطلب اور عقل نہیں ہے، یعنی شریعت پر نہیں چل سکتا، تو اس کی بات نہیں ماننی کیونکہ اصل بات شریعت کی ہے۔ افراد کی نہیں ہے۔ تو اس کو ہم کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ اس میں عقل و ہوش نہیں ہے۔عقل و ہوش والے پر شریعت لاگو نہیں ہوتی لیکن اس کو اپنا مقتدیٰ نہیں بنانا کیوں بات شریعت ہی کی چلے گی

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

دین کی بنیاد عقل و ہوش پہ ہے

اور اس پر نہیں چلے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

ہاں جذب ہوش کے قابو میں رہے

یہ جذب وہابی ہے۔ دیکھیں نا جس کا ابھی دوسری قسم کا پہلا جذب جس میں عقل و ہوش نہیں ہے، دوسرا میں عقل و ہوش جب اتنا ہو جائے کہ انسان اپنے نفسوں کی خواہش سے نکل کر اللہ کی بات سمجھ سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر سکے، وہ اصل چیز ہے وہ جذب وہابی ہے، جو سلوک طے کرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کا یہاں پر ذکر آ گیا۔

ہاں جذب ہوش کے قابو میں رہے اور شریعت کی بھی مانے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب ایسا جذب فضلِ خداوندی ہے

دل کی باتیں پھر بتائے مجذوب

بالکل یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

یہاں دل کی باتیں بتانے کی کیوں بات آئی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جذب کا تعلق دل کے ساتھ ہے۔ بس صرف یہ بات ہے کہ جو نفس کی رکاوٹ تھی جو دل کو متاثر کرتا تھا، غلطیوں کی طرف لے جاتا تھا، دنیا کی محبت میں مبتلا کرتا تھا، وہ چونکہ نکل گیا سلوک طے کرنے کی وجہ سے، اب اس کا دل صاف ہو گیا۔ اب دل میں جو الہامی باتیں اللہ کی طرف سے آتی ہیں، وہ ماشاءاللہ وہ بتا رہے ہیں، یعنی اس کا مطلب یہ ہے۔

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب دل سے پھر عقل شریعت پہ چلے یہ اصل میں یہاں پر وہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی تحقیق ہے کہ جب انسان کی اصلاح ہو جاتی ہے سلوک طے کر لیں، تو دو مزید لطیفے پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایک لطیفہ روح، جو دل کو ملأ اعلیٰ کے ساتھ ملاتا ہے۔ ایک لطیفہ سر، جو عقل کو ملأ اعلیٰ سے ملا لیتا ہے۔ تو پھر وہ فیصلے جو عقل ہے وہ ملأ اعلیٰ کے طرف سے جو فراست ملتی ہے، اس کے ذریعے سے شریعت کے مطابق کرتا ہے۔ اور الہامات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آتے ہیں، وہ بھی ماشاءاللہ شریعت کے مطابق ہوتے ہیں۔ دل سے پھر عقل شریعت پہ چلے

نفس پہ خوب پھر چھائے مجذوب

نفس پہ خوب پھر چھائے مجذوب یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب سچ کہ محبوبِ خدا ہے مجذوب اور اگر ہوش میں مجذوب تو ہے

یہ اب تیسرا مجذوب آرہا ہے اس کے بعد جو میں کتابیں پڑھنے کے بعد مکتوبات شریف اس کے بعد تیسرے مجذوب کی بات آگئ۔

اور اگر ہوش میں مجذوب تو ہے

اور سلوک نہ کرے طے مجذوب


یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

پھر یہ مجذوب متمکن ہے بس

حضرت نے اس کا نام دیا ہے

پھر یہ مجذوب متمکن ہے بس

اور یہ حق تک نہ پہنچے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

اس کے آثار بزرگوں کے ہیں

اس کے آثار بزرگوں کے ہیں

لیکن بزرگ نہیں یہ ہے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

چاہیے یہ کہ مستعد ہو

چاہیے یہ کہ مستعد ہو

کرے دس مقامات سلوک طے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

سیر الی اللّٰه تب اس کا پورا ہو

سیر الی اللّٰه تب اس کا پورا ہو


سیر فی اللّٰه پہ یہ چلے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب

سچ کے محبوب خدا ہے مجذوب

یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب


عشق کے نور میں ملفوف شبیرؔ

عشق کے نور میں ملفوف شبیرؔ

ایسے اشعار سنائے مجذوب

ایسے اشعار سنائے مجذوب

53:30تین قسم کے مجذوبوں کا پتہ چل گیا؟ اب بتاؤ کہ مولانا طارق جمیل صاحب کا بیٹا کونسا مجذوب ہے؟ پہلی قسم کا ہے۔ تو ٹھیک ہے، ان کی بزرگی سے ہمیں کوئی نہیں ہے۔مطلب شک نہیں ہے۔ ہاں جی! البتہ مقتدا نہیں ہے۔ اور ان کو ان کے ساتھ مولانا طارق جمیل صاحب کو محبت ہے اس میں وہ بھی معذور ہیں۔ لہذا اس میں کوئی ہم ان کے ساتھ اختلاف نہیں کرتے، یہ والی بات ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب بھی مجذوب متمکن ہیں ابھی تک۔ وہ تو ان کا اپنا سٹیٹس ہے نا، لیکن میں کہتا ہوں اس مسئلے میں ہم ان کے ساتھ کوئی دوسری بات نہیں کرتے، کیونکہ اپنے بیٹے کے، زیادہ بیٹے کے لیے جذبات اس کے ہیں، اس پر ہم کیا گرفت کر سکتے ہیں؟ البتہ یہ ہے کہ ان کا بیٹا واقعی صحیح ہے ماشاءاللہ۔ یعنی ان کے باقی کچھ ایسے کام اس طرح ہیں کہ وہ سینسز میں نہیں تھے، لیکن کسی کسی وقت بہت اعلیٰ قسم کی باتیں بھی کرتے، کسی کسی وقت ادھر ادھر کی باتیں بھی کر لیتے تھے۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ صحیح ہے، محبت ہوتی ہے ان کو اللہ کے ساتھ۔

سوال: حضرت خواب کی تعبیر پوچھ سکتے ہیں؟ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: یہ تو لکھ کر، لکھ کر واٹس ایپ کے ذریعے۔ کیونکہ اس میں ہوتا ہے نا کہ انسان کا اپنا ذاتی ہوتا ہے۔ تو دوسروں کے سامنے انے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

سوال: حضرت جی یہ جو روزانہ کے معمولات ہیں، یہ پہلے سبق سے جہاں تک سبق ہو وہاں تک کرنے چاہیے اور کتنا ٹائم دینا چاہیے ان کو؟ یا کس لطیفے کو زیادہ ٹائم دیں، یہ اپنے لیے پوچھ رہا ہوں۔ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب: آپ اپنے جو معمولات ہیں پھر مجھے ذرا بھیج دیجیے گا تو میں ان شاء اللہ عرض کروں گا۔ ٹھیک ہے۔

سوال: حضرت میرا ذکر بالجہرا چل رہا تھا نا، جو 12 تسبیح چشتیہ کا ہے۔ اس کے بعد آپ نے مجھے پانچ لطائف جو ہیں وہ پورے کروائے۔ حضرت یہ اب مجھے، میں نقشبندیت میں چل رہا ہوں یا چشتیہ میں، کیسے پتہ چلے گا؟ (سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)

جواب:ہاں یہ بات صحیح ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ جو پروسیجرز ہیں نا یہ نقشبندیت اور چشتیت کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ کیونکہ ہمارے صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی لطائف مطلب جو ہے نا وہ کرواتے تھے۔ اور جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ اور بہت سارے حضرات بھی کرواتے ہیں۔ ذکر جہر بھی بعض نقشبندی حضرات کرواتے ہیں، مطلب ظاہر ہے وہ چونکہ وہ چانس کی بات ہوتی ہے کہ مطلب وہ دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو کس چیز سے فائدہ ہوتا ہے۔ تو وہ بھی کرواتے ہیں۔ البتہ اپنا جو ذوق اور مزاج ہوتا ہے نا، وہ یا نقشبندیوں کا یا چشتیوں کا یا سہروردیوں کا یا قادریوں کا، جس کا جو بھی ہوگا۔ تو فی الحال آپ بس اس کو کرتے جائیں، وہ آپ کا جو اصل رنگ ہوگا وہ نکلتا جائے گا۔ ان شاء اللہ، جو بھی ہوگا۔ مجھے جیسے میں نے آخر تک وہ کرواتا رہا کرتا، حضرت کرواتا رہا، وہ چشتیہ اذکار اور زیادہ تو نہیں تھی صرف ایک ایک تسبیح تھی۔ "لا الہ الا اللہ، الا اللہ، اللہ ھو، اللہ، اور اللہ"۔ لیکن اخیر میں خود ہی حضرت نے فرمایا، تمہاری نسبت نقشبندی ہے۔ اب بجائے، بتائیں کس طرح نقشبندی ہو گیا، کیا ہو گیا؟ ظاہر ہے میں نے تو کوئی ان کا مراقبہ بھی نہیں کیا تھا، نہ میں نے جو قلبی ذکر جو مطلب دیتے ہیں، وہ بھی نہیں کیا تھا۔ ہاں جی! لیکن بقول حضرت کے، اب حضرت تو بہت ماہر تھے ذکر کے، اتنے ماہر تھے کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خط بھیجا تھا، تو اس میں ایک سلسلے کے بارے میں پوچھا تھا کہ ان کا ذکر کیسے ہوتا ہے۔—---- تو حضرت نے پھر اس کا جواب لکھا تھا۔ تو اس کا مطلب ہے حضرت کو تو ایکسپرٹ مانا جاتا تھا ذکر کے معاملے میں۔ تو وہ جب فرماتے ہیں کہ آپ کی نسبت نقشبندی ہے تو اس کا مطلب ہے ٹھیک ہے، پھر بعد میں اللہ پاک نے ظاہر بھی کر دیا۔ ہاں جی! لیکن اس وقت تو مجھے تو نہیں پتہ تھا نا، اس وقت تو میں ان چیزوں کو جانتا بھی نہیں تھا۔ ہاں جی! تو یہ بات ہے کہ وہ نکھر جاتا ہے، ظاہر ہو جاتا ہے بعد میں، یعنی سامنے آ جاتا ہے، جو جو بھی ہو۔ اب یہاں پر بہت سارے ساتھی ہمارے، ان میں سہروردیت کے رنگ غالب ہو گئی۔ حالانکہ سہروردی سلسلہ تقریبا مخفی ہو گیا تھا۔ تقریبا مخفی ہو گیا تھا مطلب یہ ہے کہ کسی کو بھی شاید علم نہیں تھا کہ آج کل سہروردی سلسلہ ہے بھی یا نہیں ہے۔ لیکن وہ جس وقت ہم نے ذکر اس کے شروع کروا دیا تھا تو مطلب رنگ غالب ہو گیا، رنگ نکل گیا مطلب اس کا۔ تو یہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے آپ اس کی فکر نہ کریں، آپ اپنے کام جاری رکھیں۔ جو آپ کے لیے لکھا ہوگا ان شاء اللہ ظاہر ہو جائے گا ان شاء اللہ۔ حضرت آپ کے لیے میری ریکویسٹ وہ ہے، مطلب یہ ہے خواہش ہے، کہ اپ جانے سے پہلے ایک سہ روزہ لگا دیں۔ جی ہاں بالکل، کیونکہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ویسے بھی حضرات فرماتے ہیں نا کہ دور جانے سے پہلے مطلب ایک خاص وقت لگا دیں تاکہ بعد میں رابطے میں وہ جو چیز ہوتی ہے وہ سامنے پھر اتی رہتی ہے۔ تو جب اپ سارے چیزوں سے فارغ ہو جائیں تو پھر ایک سہ روزہ بھی لگا دیں۔ اس میں پھر اپ کو بتا دوں گا ان شاءاللہ۔ ہاں جی ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت پیارا طریقہ ہے جی ہمارا۔ ہمارے سلسلے کے اندر اللہ پاک نے بہت عجائبات رکھی ہوئی ہیں۔ جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا نا کہ ہمارا سلسلہ، میں ملائیت ہی ملائیت ہے۔ لیکن پھر بھی اللہ پاک جس کے اوپر فضل فرمانا چاہے تو اتنا دے دیتے ہیں، نہ کسی آنکھوں نے دیکھا ہے، نہ کسی کانوں نے سنا ہے، نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہوگا۔ اور یہ بات بالکل صحیح ہے، کم از کم میں اپنے تاثرات تو یہی پاتا ہوں۔ میں مطلب دوسروں کی بات نہیں کرتا ہوں کہ ان کو کتنا نظر آیا، کتنا نظر نہیں آیا، لیکن حضرت کے، تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس ملفوظ کی ہنڈرڈ پرسنٹ تائید کرتا ہوں۔ سو فیصد بالکل جو ہے نا مطلب میں دلی گواہی کے ساتھ مطلب اس، جو ہے نا مطلب وہ میں یہ تائید کرتا ہوں کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں اور وہی چیز چلی آرہی ہے سب میں فرماتے ہں علم، عمل اور اخلاص یہ بنیاد ہے اللّٰه پاک نے ہم سے تین چیزیں مانگی ہیں علم، عمل اور اخلاص؛

اور اسی کو حاصل کرنے کے لیے طریقت ہے۔ ہاں جی۔ ہمارا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ یعنی علم حاصل کرنا ہے اس لیے کہ عمل کریں۔ اور عمل اخلاص کے ساتھ کریں۔ اور جو اس میں رکاوٹیں ہیں، چاہے وہ علم میں رکاوٹیں ہوں، چاہے عمل میں رکاوٹ ہو، چاہے اخلاص میں رکاوٹ ہو، ان کو طریقت کے ذریعے سے دور کیا جائے۔ بس یہی بات ہے۔

تو طریقت جو ہے نا مطلب یہ گویا کہ رکاوٹیں دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ باقی اصل مقصد جو ہے نا وہ یہی تین ہے نا کہ علم، عمل اور اخلاص۔ ہاں جی، یہ بات ہے۔ تو اگر دیکھا جائے تو الحمدللہ، اگر ہمارے سلسلے میں آسانی کے ساتھ یہ میسر ہو جاتی ہے تو اور کیا چیز چاہیے؟ ہمیں ہوا میں تو نہیں اڑنا نا! مطلب ظاہر ہے کہ ایک شخص ہے اگر یہ سمجھتا ہو کہ تصوف یہ ہے کہ آدمی ہوا میں اڑے، تو وہ ہمارے ہاں نہیں ہے۔ اس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ہے۔ کوئی کہتا ہے بھئی اچھی اچھی خوابیں آئیں گی، تو یہ بھی ہم لازمی نہیں سمجھتے۔ آ سکتے ہیں، آتے ہیں، لیکن، لیکن یہ مقصود نہیں ہے۔ مطلب ظاہر ہے اگر آ جائیں تو اچھی بات ہے، نہیں آئیں تو پرواہ نہیں ہے۔

اس طریق کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو کشف ہے اور کرامات ہیں، اب کم از کم میں اپنے بارے میں تو کہہ سکتا ہوں، مجھے کوئی کشف نہیں ہوتا۔ اب ظاہر ہے مطلب اس میں کیا میں کہہ سکتا ہوں؟ تو حضرت فرماتے ہیں، حضرت خود شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے حضرات، جن کو بہت کشف ہوتا تھا خود۔ وہ فرماتے ہیں کہ بغیر کشف کے جن کو معرفت حاصل ہوتی ہے، وہ معرفت زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ ہاں بتائیں۔ کیونکہ ان کا جو معرفت ہوتی ہے وہ قرآن و حدیث سے ماخوذ ہوتا ہے۔ تو وہ تو قطعی چیز ہے۔ تو جو قطعی چیز ہے جس کو حاصل ہے تو ظنی چیز کو مطلب اس کے مقابلے میں تو وہ نہیں ہے نا۔

تو اب یہ ذرا دیکھا جائے، تو الحمدللہ یہ ساری چیزیں ہمارے، الحمدللہ ہمارے سلسلے کے اندر یہ موجود ہیں۔ لہٰذا دوسرے سلاسل کے لوگ باتیں کریں نا، تو ان کی نفی ہم نہیں کرتے۔ نفی کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ لیکن کم از کم ہمارے دل میں ذرہ بھر بھی خواہش نہیں ہوتی کہ کاش وہ... مطلب وہ ہوں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ کیا ہے کہ سارا کچھ موجود ہے۔ ہمیں کیا احساسِ کمتری ہو کہ بھئی یہ چیز ہمارے اندر نہیں ہے؟ نہیں۔ ایسا نہیں ہے، الحمدللہ اللہ کا شکر ہے کہ ساری چیزیں موجود ہیں۔ اللہ کا فضل ہے، اللہ کا فضل و کرم ہے۔

تائیداتِ الٰہی ہے باقاعدہ۔ مطلب قدم قدم پہ مطلب جو ہے نا وہ الحمدللہ تائیدِ الٰہی محسوس ہو رہی ہے، اور رہنمائی محسوس ہو رہی ہے۔ غلطی ہو جائے تو کبھی کبھی پھینٹی بھی لگائی جاتی ہے۔ یہ بھی اس کا کرم ہے۔ مطلب ظاہر ہے مطلب ہے کہ، یعنی آپ کو اگر کوئی روک دے غلطی سے، مطلب آپ کنویں میں گر رہے ہو اور کوئی آپ کو تھپڑ مارے، دور پھینکے آپ کو، تو اس نے کیا کیا آپ کے ساتھ؟ آپ کے ساتھ خیر کا معاملہ کیا، کہ آپ کو کنویں میں... یعنی مطلب جو ہے نا وہ گرنے سے بچا لیا۔ ہاں جی؟ تو کبھی کبھی مطلب ایسا بھی ہوتا ہے۔ میرے ساتھ ہوا ہے اس طرح۔ تو ظاہر ہے مطلب میں تو خود سمجھتا ہوں، یعنی اِن تمام چیزوں کے بارے میں گواہی دے سکتا ہوں۔

لہٰذا ہم لوگوں کو اللہ کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے۔ بہت شکر ادا کرنا چاہیے۔ اس کا کرم ہے۔ پھر دیکھیں آپ کو، یعنی اس وقت دنیا میں جن بزرگوں سے اللہ نے بہت کام لیا ہے، بہت کام لیا ہے، وہ الحمدللہ سارے بزرگ، ان کے ساتھ ہمارا تعلق ہے۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، حضرت مولانا مدنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، حضرت جنید بغدادی صاحب... بے شک ہمارا سلسلہ وہ ایک اپنا ہے لیکن یہ مطلب ہے ان سب بزرگوں کے ساتھ ہمیں الحمدللہ تعلق ہے۔ ان کی برکات الحمدللہ ہمیں... مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مطلب سب کے ساتھ ہمارا وہ ہے۔ ان کی برکات ہمیں حاصل ہو رہے ہیں۔

تو اس وجہ سے ہم تو سمجھتے ہیں کہ الحمدللہ ہم بڑے خوش نصیب ہیں۔ کہ ایسے پیارے سلسلے کے اندر اللہ پاک نے ہمیں ڈالا ہوا ہے۔ ہاں جی۔ اور اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے۔ نہ اتنی سمجھ تھی کہ چن سکتے۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں، میرا تو ارادہ تھا جنگل میں جانے کا۔ یعنی میں تو جو تصوف سمجھتا تھا وہ یہ تھا کہ اس کے لیے جنگل میں جانا ضروری ہے۔ اور جنگل میں جانے کے لیے میں تیار تھا۔ لیکن اللہ پاک نے University میں اللہ اپنا شیخ عطا فرما دیا۔ کہاں جنگل؟ کہاں University؟ ہاں جی۔ تو یہ اللہ پاک کا کرم ہے۔ کہ University جیسی جگہ میں، ہاں جی، جہاں پر مطلب ظاہر ہے اس قسم کی چیزیں کا وہ نہیں ہوتا، وہ الحمدللہ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے شیخ عطا فرما دیا۔ اور اس کے لیے ہمیں نہ جنگل میں جانا پڑا، نہ کسی خاص اور جگہ جانا پڑا۔ حضرت کے پاس آتے جاتے تھے۔

اور کیا ہوتا تھا؟ حضرت سے جب رخصت ہوتے تو Student تھے، تو حضرت پوچھتے، ”چھٹی؟“ ”جی“ ”مل گئی چھٹی؟ چلو اللہ کے حوالے“۔ بس وہ جو ہے نا ہاتھ ملا کے ہم واپس Hostel پہنچ جاتے۔ ہاں جی، یہ ہمارا مطلب طریقہ کار تھا سارا۔ چار پانچ سال تو ہم نے ایسے گزارے کہ ہمیں حضرت کا پتہ ہی نہیں تھا کہ حضرت پیر ہیں۔ یعنی ابھی تک ہم حضرت کو مولانا صاحب کہتے ہیں۔ پیر صاحب کبھی نہ نام ہم نے حضرت کے لیے لیا ہے، نہ کبھی سوچا ہے، نہ کبھی ذہن میں آیا ہے۔ ہاں جی۔ ہم حضرت کو مولانا صاحب ہی کہتے تھے اور۔

اچھا کمال کی بات ہے، جس وقت ہم حضرت سے بیعت نہیں تھے، اس وقت بھی بیعت والوں سے زیادہ تھے۔ یعنی حضرت، کوئی بھی کچھ بات بھی کر رہے تھے تو ہم کہتے، ”اچھا حضرت مولانا صاحب سے پوچھتے ہیں“۔ یہ مولانا لعل خان صاحب کے لوگ میرے پیچھے پڑ گئے تھے۔ ”جی ہم آپ کو لے چلتے ہیں“۔ میں نے کہا نہیں۔ تو خیر جب میں مان گیا تو ایک مسرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرت کے خلیفہ تھے، ان کو پتہ چل گیا۔ مجھے کہتے، ”ادھر جا رہے ہو؟“ میں نے کہا ہاں۔ ”نہ جاؤ! پوچھنا بھی نہیں کیوں۔ بس ختم۔“ اچھا، استاد تھے میرے، میں نے کہا پیر میرا مخلص ہے، لہٰذا کوئی بات ہو گی۔ تو لہٰذا میں نے کہا بھئی میں نہیں جا رہا۔

اب میرے پیچھے پھر پڑ گئے، نہیں جی وہ... میں نے کہا بھئی اب صرف ایک ہستی ہے، جو مجھے اگر کہہ دے کہ ٹھیک ہے جاؤ تو میں جا سکتا ہوں، اس کے علاوہ اور کوئی بات... صورت حال نہیں ہے۔ کہتے کون؟ میں نے کہا مولانا اشرف صاحب۔ اب مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گئے۔ ٹھیک ہے۔ اب حضرت کے پاس گئے تو حضرت سے میں نے سوال پوچھا۔ سوال پوچھا تو حضرت نے پہلے شعر پڑھا۔ فرمایا:

بھری بزم کی دل کی ایک بات بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

پھر اس کے بعد حضرت نے پورا نقشہ کھینچا اس کا۔ ہاں جی۔ بس میں نے کہا اب ٹھنڈے ہو گئے ہو؟ اب میں نہیں جا رہا۔ ہاں جی۔ بس اس کے بعد... تو یہ حالت تھی حضرت کی، مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی، کہ پیر نہیں تھے لیکن پیر سے زیادہ تھے۔ وہ تو ہمیں پتہ نہیں تھا نا کہ حضرت پیر ہیں۔ تو وہ تو وہ تو سید تسیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ ان سے بیعت ہیں؟ میں نے کہا —-----بیعت... بیوقوف آدمی کیسے بات کرتے ہو؟ یہ University میں یہ برکات کس کے ہیں؟ یہ تو انہی کے ہیں۔ میں نے کہا اچھا پھر ٹھیک ہے۔

تو خیر بہرحال لمبی... لمبا قصہ ہے۔ پھر حضرت سے بیعت بھی ہوئے اور الحمدللہ حضرت کے برکات ماشاءاللہ کھلتے گئے۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اللہ پاک کا فضل تھا بس۔ ورنہ ہمارے اندر یہ جان نہیں تھی کہ ہم یہ بات کر سکتے کہ بھئی یہ اتنا اہم سلسلہ ہے اس لیے اس میں چلے جاؤ۔ نہیں، پتہ ہی نہیں تھا۔

الحمدللہ۔ اب یہ جتنا چیزیں یہاں پر شروع ہیں، آپ یقین کیجئے کبھی ہم نے سوچا تھا کہ ہم یہ کام کریں گے؟ ان میں سے ایک چیز کا بھی نہیں سوچا تھا۔ یعنی اگر عقل کی بات ہے تو میرے خیال میں اس میں ہم کوئی کام بھی نہیں کر سکتے تھے۔ عقل کے مطابق اگر کہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی الطاف القدس کہاں، ہم اور کہاں اس کی تدریس کرنا؟ پھر یہ ہمارے جو مکتوبات شریف کا جو دروس ہیں، یہ کہاں اور کہاں حضرت کے مکتوبات شریف؟ پھر جو ہے نا وہ جو ہے نا حضرت کاقاسم رحمۃ اللہ علیہ کا مقامات قطبیہ اور مقالات قدسیہ، حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی عبقات۔ ہاں جی، اس طرح مطلب جو ہے نا وہ مثنوی شریف۔ کہاں اور کہاں مثنوی شریف۔ کمال ہے انسان حیران ہو جاتا ہے۔ لیکن الحمدللہ، اللہ پاک ہی اسباب بناتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہی حالات بناتے رہے اور اس کے مطابق پھر وہ چیزیں چلاتے رہے۔

بس یہی بات ہے۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں کہ میں ہفتے کے دن وہ کتاب ختم ہو گئی نا ایک، وہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی، میں نے کہا اب کون سی کتاب شروع کرنی ہے؟ حضرت... مولانا اشرف صاحب... حضرت فاروق حسنی صاحب آئے ہوئے تھے England سے۔ تو کہتے ہیں جی میں مولانا اشرف صاحب کے مزار پہ جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے اتنے دور سے آیا ہے تو اس کا حق ہے۔ میں ان کو لے گیا وہاں پر۔ تو خیر ایسا ہے کہ وہاں جو زیارت ہو گئی تو زیارت کے بعد مجھے کہتے ہیں، ”مولانا صاحب کہتے ہیں کہ میری کتاب کے لیے کوئی وقت نکالو“۔ تو بس سلوکِ سلیمانی شروع ہو گیا۔

سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب