سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 649

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے۔ پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات بتائے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ جو احوال ہوتے ہیں سالکین، سالکات کے، ان کے بارے میں تحقیق بتائی جاتی ہے۔

سوال: السلام علیکم! محترم شیخ صاحب! امید ہے کہ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کے بتائے ہوئے مندرجہ ذیل اذکار کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ نماز کے بعد کے اذکار، روزانہ کے اذکار، یہ جو ہیں نا تحیات، ایک ماہ کے اذکار، سو سو دفعہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، حق، اللہ۔ کوشش کی ہے، امید ہوتی ہے کہ اذکار بلا ناغہ ہوں لیکن پھر بھی ناغہ ہو جاتا ہے۔ اب آپ کی بندے کے لیے کیا ہدایات ہیں؟ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: ماشاءاللہ! ایک نمبر ایک، نمبر دو یہ تو وہی رکھیں اور نمبر تین جو ہے اس میں آپ اب لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دو سو مرتبہ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ دو سو مرتبہ، حق دو سو مرتبہ اور اللہ سو مرتبہ کریں، اور ناغہ بالکل نہ کریں۔ ابھی جو ہے نا ماشاءاللہ آپ جو نمبر ایک ہے، نمبر دو یہ تو آپ اسی طرح رکھیں جس طرح ہیں، اور نمبر تین میں آپ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دو سو مرتبہ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ دو سو مرتبہ، حق دو سو مرتبہ اور اللہ سو مرتبہ، یہ اب کوشش کر لیں اور ناغہ بالکل نہ کریں۔ ناغے سے بڑی بے برکتی ہوتی ہے، انسان بڑا پیچھے چلا جاتا ہے۔ ابھی تو آپ نے شروع کیا ہے، تو اگر شروع میں آپ ناغہ کر رہے ہیں تو پھر تو بڑے مسائل ہو جائیں گے۔ لہٰذا اپنے آپ کو ناغے سے بالکل بچانا چاہیے۔ ناغہ اکثر اس لیے ہوتا ہے کہ انسان ایسے وقت کو چن لیتا ہے جو کہ خطرے والا ہو۔ لہٰذا سوچ سمجھ کر اپنا وقت چن لیں ذکر کے لیے، تاکہ پھر مطلب ناغے کی صورتحال نہ بنے۔ کوشش کر لیں۔ اور اگر خدانخواستہ آپ کا، مثال کے طور پر وقت صبح ہے یا دوپہر ہے اور اس میں نہ ہو سکے تو کم از کم سونے سے پہلے پہلے ضرور ہونا چاہیے، لیکن عشاء کے بعد کا وقت مستقل نہ رکھیں کیونکہ اس میں ناغے کا امکان بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

سوال: Assalamu Alaikum Warahmatullahi Wabarakatuh! Maulana, I pray that you are well. Insha'Allah, I perform the zikr you gave me: 200 times La Ilaha Illallah, 400 times La Ilaha Illahu, 600 times Haq, and 1500 times Allah. Always feel really good when I do the zikr and after that when I read Quran and also see that it helps me to control my desires. It helps me to eat less for example. Alhamdulillah! May Allah bless you and preserve you, ya Maulana! [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: Masha'Allah! You continue this zikr by changing only from 1500 times Allah to 2000 times Allah. The rest will be the same Insha'Allah for one month.

سوال: (یہاں ایک آڈیو پیغام تھا جسے سنا نہیں جا سکتا) [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: یہاں پر جواب کے لیے آپ کو ٹیکسٹ بھیجنا پڑے گا کیونکہ میں یہاں کسی کا آڈیو نہیں سنا سکتا۔

سوال: حضرت السلام علیکم! فلاں فرام بہاولپور، حضرت اس مہینے کی کارگزاری پیشِ خدمت ہے۔ نفی اثبات سو مرتبہ، إِلَّا... لَا إِلٰهَ... إِلَّا هُوَ سو مرتبہ، اسمِ ضمیر سو مرتبہ، حق سو مرتبہ، حق اللہ سو مرتبہ، مراقبۂ دعائیہ پندرہ منٹ، مراقبۂ فنائیت پندرہ منٹ، خاموش اسمِ ذات ایک منٹ، مراقبۂ سورۂ اخلاص پانچ منٹ، اسمِ ذات اڑتالیس ہزار (48,000)۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: ماشاءاللہ! یہ جو ہے نا اب سورۂ اخلاص کی جگہ آیۃ الکرسی کا جو ہے نا مراقبہ کر لیا کریں۔ باقی چیزیں وہی رکھیں، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔

سوال: (یہاں ایک اور آڈیو پیغام تھا جسے سنا نہیں جا سکتا) [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: یہاں پر ٹیکسٹ بھیجا کریں، آڈیو نہ بھیجا کریں، کیونکہ میں آڈیو کسی کا نہیں سنا سکتا۔

سوال: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! حضرت جی میرا نام فلاں ہے، لیا چوک منڈا سے تعلق ہے۔ میرا، میں نے اپنی بیٹی کا نام رکھنا ہے، کوئی نام بتا دیں۔ عائشہ، خدیجہ، آمنہ نام کی بچیاں ہیں۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: آپ زینب نام رکھ لیں۔

اس وقت میں اپنی خانقاہ میں ہوں راولپنڈی میں۔

سوال: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! حضرت جی ایک سوال ہے۔ کچھ مہینے پہلے تک میری جاب ایک آفس میں تھی، کام کے سلسلے میں آفس کے اکاؤنٹ کے ساتھ، اکاؤنٹنٹ کے ساتھ فون پر اکثر رابطہ رہتا تھا۔ بات ہمیشہ کام کے سلسلے میں ہی ہوتی تھی۔ اکاؤنٹنٹ پاکستانی تھے اس لیے سلام جواب، سلام جواب اور حال احوال بھی پوچھتے۔ مجھے آفس کے لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص قادیانی ہے۔ اس کے بعد بھی کام کی نوعیت کی وجہ سے ان سے رابطہ رکھنا پڑا۔ اکاؤنٹنٹ کو تبدیل کرنا میرے اختیارات میں نہیں تھا۔ فون پر بات ہوتی تو سلام کرتے اور مجبوراً جواب دینا پڑتا۔ اب اپنی کمزوری پر شرمندگی ہے۔ بات ہمیشہ کام کے بارے میں ہی ہوئی ہے۔ یہ جاب اب ختم ہو چکی ہے، اس لیے پھر مسئلہ فی الحال نہیں رہا، لیکن آئندہ کبھی یہ صورتحال ہو جائے تو کیا کیا جائے؟ گائیڈ کیجیے۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: اصل میں بات یہ ہے کہ واقعی ان کو آپ سلام تو نہیں کر سکتے، اور مطلب دلی تعلق بھی نہیں رکھنا چاہیے۔ البتہ دفتر کے جو ضروری کام ہیں اس کے سلسلے میں جو مجبوری ہے، تو اس کو مجبوری کی حد تک ہی رکھنا چاہیے۔ اور وہ یہی ہے کہ جیسے وہ سلام کر لے تو آپ جواب تو نہ دیں، بس آپ ان سے پوچھیں جی کیسے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ، مطلب اس کو گول کر لیا کریں، مطلب اس بات کو۔ اور دل میں آپ یہ کہہ دیا کریں يَهْدِيكُمُ اللّٰهُ۔ اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے دے۔ مطلب یہ جو ہے نا مطلب کر لیا کریں۔ اور باقی یہ ہے کہ رابطہ وغیرہ بلاوجہ تو کسی کے ساتھ بھی ایسے نہیں رکھنا چاہیے، اور موقع ملے تو سمجھانا بھی چاہیے، باقی ان کی اپنی قسمت ہے۔

سوال: السلام علیکم! حضرت آپ نے جو اذکار دیے تھے ان کو ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ! مزید اذکار کے لیے رہنمائی فرمائیں۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دو سو مرتبہ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ چار سو مرتبہ، حق چھ سو مرتبہ، اللہ بارہ ہزار مرتبہ، اور اس کے ساتھ پانچ منٹ تصور کرنا کہ دل اللہ کر رہا ہے، حضرت ایسا کبھی محسوس نہیں تھا کہ دل اللہ اللہ کر رہا ہے۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: ابھی آپ ساڑھے بارہ ہزار کر لیا کریں اور یہی پانچ منٹ ساتھ یہ بھی کر لیا کریں، باقی چیزیں وہی رکھیں۔

سوال: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! حضرت کے مزاج بخیر و عافیت ہوں گے، بندے کو جو ذکر دیا تھا اس کا ایک مہینہ بلا ناغہ پورا ہوا اور وہ یہ تھا؛ دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ، چار سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، چھ سو مرتبہ حق اور پانچ سو مرتبہ اللہ، اور یہ مراقبے کے، چاروں مراقبوں کے جو فیض ہیں وہ آ رہے ہیں بندے کے لطیفۂ اخفیٰ پر، بظاہر بندے کو اس کا اثر محسوس نہیں ہوتا، ہو رہا تھا۔ محتاجِ دعا فلاں۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: ابھی ماشاءاللہ آپ یہ جو ہے نا مطلب جو، مطلب لطیفۂ اخفیٰ پر جو ہے نا مطلب چاروں جو مطلب اس کا فیض آ رہا ہے، تو اس کو ایک مہینہ اور کر لیں، اور مطلب ان مراقبات کا ذرا ذہن میں رکھیں کہ یہ کس لیے کیے گئے تھے، تاکہ آپ کو اس کے بارے میں کچھ رہنمائی ہو سکے، مطلب کچھ فیض آئے۔

سوال: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! حضرت میں جب بازار سے سودا سلف لاتی ہوں تو ساتھ میں ایکسٹرا چیزیں بھی خرید لیتی ہوں جن کی ضرورت بھی نہیں ہوتی، سوچتی ہوں ابھی سیل میں ہیں ہو سکتا ہے بعد میں کام آجائیں۔ اپنی اس عادت کو ختم کرنا چاہتی ہوں، بازار جاتے وقت ذکر کرتی ہوں کہ میرا دل چیزوں کی طرف نہ جائے بس جس چیز کے لیے آئی ہوں وہی خرید لوں، لیکن پھر کچھ نہ کچھ لے آتی ہوں۔ اس عادت کو کس طرح ختم کروں؟ آپ کی رہنمائی چاہیے۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: آپ اس طرح کر لیں کہ جو چیزیں آپ کو ایکسٹرا پسند آئیں، ان کو اپنے ساتھ لکھیں، اس وقت فوراً نہ خریدیں۔ پھر بعد میں جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ جس وقت آپ روانہ ہوں نا تو اس کے اوپر نظر دوڑائیں اور اس میں سے آدھی چیزیں خریدیں، آدھی نہ خریدیں۔ اگلی دفعہ آپ جو ہے نا چوتھائی کریں۔ پھر اگلی دفعہ ختم کر لیں، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔

سوال: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! نمبر ایک: ہزار مرتبہ لسانی ذکر اسمِ ذات کا۔ (جواب: یہ ان کو پندرہ سو مرتبہ بتا دیں۔) نمبر دو: لطیفۂ قلب دس منٹ محسوس ہوتا ہے۔ (جواب: ماشاءاللہ! اب لطیفۂ قلب پندرہ منٹ کر لیں۔) نمبر تین: درود شریف پڑھتی تھی، اب بڑی ہو گئی ہے۔ (جواب: تو ماشاءاللہ ان کو جو پہلا والا ذکر ہے وہ بتا دیں۔) نمبر چار: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبۂ شئوناتِ ذاتیہ پندرہ منٹ محسوس نہیں ہوتا۔ (جواب: اس کو ایک دفعہ اور کروانے دیں۔) نمبر پانچ: لطیفۂ قلب دس منٹ، لطیفۂ روح دس منٹ، لطیفۂ سر بیس منٹ، سر پر محسوس نہیں ہوتا، روح اور قلب پر پہلے محسوس ہوتا تھا لیکن اب تینوں پر محسوس نہیں ہوتا۔ مراقبہ کرتے وقت بہت ڈر محسوس ہوتا ہے، ایسے لگتا ہے جیسے کوئی مجھے پیچھے سے پکڑ رہا ہے۔ (جواب: آیۃ الکرسی کا حصار کر لیا کریں، پھر اس کے بعد یہ کر لیا کریں۔) نمبر چھ: تمام لطائف پر دس منٹ ذکر اور مراقبۂ شانِ جامع پندرہ منٹ، اس بات کا پختہ یقین ہو گیا کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے منشا سے ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تمام ثبوتی و سلبی صفات کا یقین بھی پختہ ہو گیا اور اس بات کا ادراک بھی ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مختلف شانیں ہوتی ہیں، ان تمام مراقبات کا ادراک محسوس نصیب ہوا ہے۔ (جواب: ماشاءاللہ! اب اس کو جو سلبی صفات ہیں ان کے بارے میں بتا دیجیے گا۔) نمبر سات: اس طالبہ سے عصر کی دو نمازیں قضا ہو گئیں۔ ایک نماز 12 ربیع الاول کی دعا ہو رہی تھی اس دن قضا ہو گئی تھی، گھر سے آئی کہ مدرسے میں نماز پڑھنی ہے اور یہاں آئی تو دعا شروع ہو گئی، جب دعا ختم ہوئی تو مغرب کی اذان ہو گئی، میرے پاس آئی کہ باجی نماز قضا ہو گئی ہے لیکن میں ان کو رپورٹ دینا بھول جاتی۔ اب پچھلے ہفتے پھر قضا ہو گئی، عصر کی نماز، اذان، مہمان آتے تھے ان کے ساتھ، اس مصروفیت، نماز بھول ہی گئی تھی۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: اس کا مطلب ہے غفلت کی وجہ سے ہوا ہے، تو تین روزے اس کے لیے رکھ لیا کریں۔ مطلب رکھیں، ہر نماز کے لیے تین روزے رکھیں۔

سوال: السلام علیکم! سوال: جب ہم خانقاہ یا کسی اچھے ماحول میں ہوتے ہیں تو اعمال میں پابندی اور اہتمام ہوتا ہے، لیکن اگر کچھ دنوں کے لیے ناموافق حالات میں یا برے ماحول میں چلے جائیں تو وہاں کا اثر دل پر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے معمولات کی پابندی نہیں ہو پاتی، یہاں تک کہ فرائض بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں، اور اصلاحی لحاظ سے ہم کافی پیچھے چلے جاتے ہیں۔ اب اگر کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ ہو تو کیا اپنی اصلاح کھونے، کھونے تک، برے ماحول میں جانے سے بچنے کے لیے کیا تدبیر اختیار کرے؟ کیونکہ بعض اوقات اس طرح کے ماحول میں جانا پڑتا ہے جیسے اگر کسی کے گھر کا ماحول دینی نہیں ہے لیکن اسے وہاں جانا پڑتا ہے۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: اس کا یہ حل کریں کہ آپ جو ہے نا مطلب ظاہر ہے گھر تو جانا پڑے گا، تو اس کا یہ ہے کہ گھر جا کر دین کی دعوت کی نیت سے جائیں، کہ وہاں سب کو میں نماز پڑھواؤں گا اور اب جو ہے نا مطلب اس کے بارے میں یعنی ان کو سمجھاؤں گا۔ اور یہ ہے کہ اصلاحی ذکر بالکل ایسی حالت میں تو بالکل نہ چھوڑیں کیونکہ اس وقت آپ بچیں گے ہی اصلاحی ذکر کی برکت سے۔ میرے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے کہ جب کبھی خانقاہ میں یا اچھے ماحول میں ہوتا ہوں تو اعمال کی بہت پابندی ہوتی ہے، اور اگر برے ماحول میں چلا جاؤں تو وہاں اس کی وجہ سے معمولات چھوٹ جاتے ہیں اور فرائض بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ تو بس آپ بھی یہی کر لیں کہ وہاں جب جائیں تو آپ جو ہے نا مطلب وہاں دعوت کی نیت سے جائیں۔ وہاں سب کو دعوت دینی ہے۔ داعی جو ہے، اس پر مدعو کا اثر نہیں ہوتا۔ لہٰذا جو ہے نا مطلب آپ دعوت کی نیت سے جائیں، اور ساتھ یہ ہے کہ اپنا اصلاحی ذکر کبھی نہ چھوڑیں کیونکہ اسی سے کام خراب ہو جاتا ہے۔ یہ آپ نے بھیجنا ہے۔

سوال: السلام علیکم! حضرت جی میرے معمولات ہیں دو سو، چار سو، چھ سو، اسمِ ذات ساڑھے بارہ ہزار۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: ٹھیک ہے، اب تیرہ ہزار کر لیں إِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔

سوال: السلام علیکم! میرا نام فلاں ہے، میں مفتی صاحب کے، مفتی صاحب کے خلیفہ، آپ سے بیعت ہوا تھا۔ آپ نے جو مجھے ابتدائی ذکر دیا تھا وہ مکمل کر لیا تھا اور اس کے بعد جو آپ نے ذکر دیا، وہ مجھ سے نہیں ہو رہا۔ چالیس دن سے زیادہ ناغہ ہو گیا ہے۔ آپ مجھے اس بارے میں رہنمائی کریں کہ میں ذکر کیسے کروں؟ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: مفتی صاحب سے ذکر کو سیکھ لیجیے گا، اور مطلب یہ ہے کہ آپ اگر ادھر ہی ہوتے ہیں، تو مطلب مفتی صاحب کو رپورٹ دے دیا کریں، ہفتہ ہفتہ رپورٹ دے دیا کریں کہ آپ ذکر کیسے کر رہے ہیں، پھر إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مہینے کے بعد مجھے بتائیں۔

سوال: حضرت یہ نقشبندی سلسلے کے جو مراقبات ہیں، کیا یہ علم کو حال میں تبدیل کرنے کے لیے ہیں؟ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: اصل میں میں اکثر عرض کر چکا ہوں کہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس دور کے حالات کے مطابق جب عقائد کے اندر بڑے مسائل پیدا ہوئے تھے، عقائد کو درست کرنے کے لیے مراقبات اس میں شامل کیے، جو اس کے علاوہ ہیں جو پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔ جیسے یہ مشارب ہیں، یعنی تجلیاتِ افعالیہ، تو یہ ظاہر ہے یہ سب کچھ کا اللہ تعالیٰ سے ہونے پر یقین تھا کہ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ ہمارا ٹھیک ہو جائے۔ صفاتِ ثبوتیہ کے بارے میں جو ہے، تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر یقین آ جائے تو غیر اللہ سے انسان کٹ جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد شئوناتِ ذاتیہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ بقائے افتقار کے تعلق کے لیے ہے۔ اور جو صفاتِ سلبیہ، اس کا مطلب ہے تنزیہ کی کیفیت حاصل ہو جائے، تشبیہ سے آدمی آہستہ آہستہ نکل آئے۔ اور اس کے بعد پھر جو دوسرے مراقبات ہیں، ان میں حقیقتِ کعبہ، حقیقتِ قرآن، حقیقتِ صلاۃ، یہ کچھ بنیادی مفاہیم کو درست کرنے کے لیے۔ تو یہ ساری باتیں تو اس طرح ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اصل جو مراقبات ہیں، وہ اصلاح والے مراقبات ہیں۔ یعنی انسان کی اصلاح ہو جائے۔ بنیادی چیز یہی ہے۔ تو اصلاح کے لیے سلوک طے کرنا ہے۔ تو اس پر حضرت نے بڑا زور دیا ہے کہ لوگ اس میں نہ پھنس جائیں، بلکہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ تو اللہ کا شکر ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہ اب کافی سارے ساتھی ماشاءاللہ کافی سارے حضرات اس طرح متوجہ ہوئے ہیں اور وہ اب اصلاح کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ نقشبندی سلسلے میں ہوا کیا ہے؟ شیطان بہت ظالم ہے، وہ بہت طریقے سے وار کرتا ہے۔ وہ اصل میں یہ ہے کہ پہلے تو یہ ذہن میں بٹھا دیا کہ مراقبات کافی ہیں، اور مراقبات سے نفس کا علاج بھی ہو جاتا ہے۔ پہلے تو انہوں نے یہ ذہن میں بٹھا دیا۔ ہو گئی بات۔ پھر اس کے بعد مراقبات کو بہت سطحی کر دیا، سطحی، یعنی اس کا اثر انسان کے اوپر کچھ نہیں ہوتا، صرف یہ بس الفاظ کی حد تک ہی بات رہتی ہے۔ اور الفاظ کے بھی بعض دفعہ، بعض الفاظ کے معنی معلوم نہیں ہیں، فارسی میں کہتے ہیں۔ اب فارسی میں کہتے ہیں تو ان کو کیا پتہ کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ مطلب ظاہر ہے ان کو پتہ ہی نہیں۔ تو ایسی صورت میں مطلب وہ مراقبات کا جو فائدہ تھا، مراقبات کے لحاظ سے وہ بھی نہیں ہوا۔ اب مراقبات کا فائدہ مراقبات کے لحاظ سے نہیں ہوا اور پھر اس کے ساتھ نفس بھی باندھ لیا۔ تو ساری چیزوں سے کاٹ دیا نا۔ اور تیسری جو بڑی غلطی مطلب جو چلی، وہ کیا ہے؟ کہ اصلاح کو اٹومیٹک ان کے ساتھ سمجھ لیا، حالانکہ اصلاح کے لیے سلوک ہے، سلوک طے کرنا ہے۔ حضرت نے اس پر بڑا زور دیا ہے۔ کہ لوگ جذب کے احوال کو اصلاح کے، وہ جو ہے نفس کے تزکیے کے احوال سمجھ لیتے ہیں، تو اس سے پھر نقصان ہو جاتا ہے۔ تو یہ تمام مسائل جو ہوئے ہیں وہ اسی وجہ سے ہوئے ہیں۔ اور یہاں تک کہ لوگوں نے مشہور کر لیا کہ نقشبندی سلسلہ سب سے اونچا ہے اور نقشبندی سلسلہ سب سے آسان ہے۔ یعنی لوگوں کو دعوت کیا دینی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ گویا کہ اس میں شامل ہوتے ہی آپ کو ساری چیزیں خود بخود حاصل ہو جائیں گی۔ خود بخود محبوبیت کی وجہ سے حاصل ہو جائیں گی۔ اب جب اس قسم کے کنسیپٹ کے ذریعے سے آپ لوگوں کو داخل کریں گے تو خاک ہی محنت کریں گے! تو اب ایک بہت بڑے نقشبندی بزرگ ہیں، نام میں نہیں لیتا کیونکہ لوگ ان کے ساتھ چڑ جائیں گے، بہت بڑے بزرگ ہیں مطلب اس وقت میرے خیال میں نقشبندی بزرگوں میں درجہ اول میں ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ چار گھنٹے رات کو مراقبہ کرتے ہیں، صبح جوا کھیلتے ہیں۔ یہ بالکل، یہ ان کے الفاظ ہیں۔ چار گھنٹے رات کو مراقبہ کرتے ہیں، صبح جوا کھیلتے ہیں۔ اب پھر کیسے اصلاح ہو؟ تو اصل چیز یہی ہے کہ ہم، ہم لوگوں کو جو ہے نا اصل اصلاح کی طرف جانا چاہیے۔ اصلاح کی باتیں کیسی ہیں؟ یعنی ایک سالک اگر یہ بتائے گا ہی نہیں کہ مجھ میں کیا عیوب ہیں، تو اس کی اصلاح کیسے ہو گی؟ نمبر ایک۔ نمبر دو؛ وہ جو ہے نا اپنے احوال، اپنے حال کا نہیں بتائیں گے، صرف مراقبات بتائیں گے۔ تو ان کی اصلاح کیسے ہو گی؟ اب یہ دیکھو نا آپ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا جو ہے، مطلب یعنی جو خطوط اور اس کے جو جوابات ہیں تربیت السالک میں، اس میں کیا چیزیں ہوتی ہیں؟ وہ سارے کے سارے اپنے احوال لوگ بیان کرتے ہیں اور حضرت تحقیق بیان فرماتے ہیں، تو ایک طرف کنسیپٹ بھی درست ہو رہا ہوتا ہے، ایک طرف جو ہے نا عمل بھی، عمل پر بھی آ رہے ہوتے ہیں۔ تو ماشاءاللہ فائدہ ہوتا ہے نا، تو یہی تو ہے آج کل کے دور کے طریقے۔

سوال: السلام علیکم! یہ صدر بیان میں آپ نے فرمایا تھا کہ کچھ لوگ جو ہیں، جن کو کھینچا جاتا ہے، جذب کی کیفیت میں ہوتے ہیں، تو اس وقت جب جذب کی کیفیت میں ہوتے ہیں تو وہ فنا کی کیفیت بھی ان کو کہی جا سکتی ہے کہ وہ اس وقت فنا ہوتے ہیں؟ تو... [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: پورا سیاق و سباق بتا دیجیے تاکہ مجھے معلوم ہو جائے کہ کیا بات ہوئی تھی۔

سوال: جن لوگوں کو کھینچا جاتا ہے وہ... [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: نہیں، نہیں، یہ تو آپ درمیان کی بات بتا رہے ہیں، سیاق و سباق کے ساتھ بتا دیں۔ کیونکہ اس کے کوئی معنی نہیں ہیں اگر اس کا سیاق و سباق نہ معلوم ہو۔

سوال: مثال کے طور پر یہ آپ نے فرمایا تھا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ خود قریب کرتے ہیں۔ تو وہ مجذوب ہوتے ہیں... [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: محبوب ہوتے ہیں، محبوب ہوتے ہیں۔ مطلب صرف محبوب اور مجذوب میں لوگ فرق نہیں کرتے۔ وہ کچھ محبین ہوتے ہیں کچھ محبوبین ہوتے ہیں۔ تو جو محبوبین ہوتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ خود کھینچتے ہیں تو مجذوب بھی ہو جاتے ہیں۔ یعنی محبوب مجذوب، وہاں پر ایک جیسے ہو جاتے ہیں وہاں پر محبوبین کے لیے۔

سوال: ہاں، اسی جگہ پر، وہ جب اس کیفیت سے وہ نہیں نکلتے، اسی حالت میں رہتے ہیں، تو ان کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ فنا کی کیفیت میں ہیں؟ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: اسی حالت میں نہیں رہتے۔ اسی حالت میں نہیں رہتے۔ اصل میں ان کو جب کھینچا جاتا ہے تو ان کو ان اعمال کی طرف کھینچا جاتا ہے جو ان کے لیے ترقی کے لیے ہوتے ہیں۔ مطلب ان کو ان اعمال کی طرف کھینچا جاتا ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ کی تربیت میں ہوتے ہیں۔ اور ان کو ایسے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں کہ جو مطلب ان کی اصلاح کر لیں اور ماشاءاللہ حضرت نے خود فرمایا ہے کہ محبین کا راستہ اگر محبوبین اختیار کر لیں تو ان کو فائدہ ہوتا ہے۔ البتہ محبین اگر محبوبین کا راستہ اختیار کر لیں تو ان کو فائدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ راستہ ان کے لیے ہے نہیں۔ تو جتنے بھی اللہ والے ہیں، ان کو کسی سلسلے میں اپنے ساتھ شامل کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی اس سلسلے کے ذریعے سے تربیت بھی کروا دیتے ہیں، لیکن ان کے لیے تربیت کے مواقع جو ہیں نا اللہ تعالیٰ خود بنا دیتے ہیں۔

سوال: یعنی وہ جو محبوبین ہوتے ہیں وہ اس کیفیت میں نہیں رہتے وہ آگے نکل جاتے ہیں؟ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: جی بالکل آگے آتے ہیں، بالکل آگے آتے ہیں، جیسے ہمارے قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے تھے، مادرزاد ولی تھے، تو دیکھو ان کے لیے اللہ پاک نے راستے بنا دیے یا نہیں بنا دیے؟ بس یہ بات ہے، حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ جو تھے۔ اس طرح اور کئی ہیں۔ بلکہ میں کہتا ہوں حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی ان میں تھے۔ تبھی تو حضرت نے کچھ باتیں ایسی فرمائی ہیں نا جو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ وہ حضرت نے اپنی ذات کے لیے فرمائی تھی۔ وہ جو بعض مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں نا کہ کچھ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کچھ کے ساتھ، تو وہ کچھ اپنا بتا رہے تھے، آپ کا نہ بتا رہے تھے۔ باقی وہ جو آپ فرما رہے ہیں کہ فنائیت، فنائیت تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کی وہ ایک خاص کیفیت ہے وہ کسی پر بھی آسکتی ہے۔ محبین پر بھی آ سکتی ہے، محبوبین پر بھی آ سکتی ہے۔ دونوں پر آسکتی ہے۔ وہ جب وہ کام شروع ہو جائے، یعنی انسان فنا والا سلسلہ اس کا شروع ہو جائے، نفس ان کا دبنا شروع ہو جائے حتیٰ کہ بالکل اپنے آپ سے بھی بے خبر ہو جاتا ہے تو وہ فنا کی کیفیت وہ کسی پر بھی آ سکتی ہے، دونوں میں سے۔

سوال: ایک دفعہ کوئی ذکر آیا تھا فناءِ روحانی اور جسمانی، اس میں کیا فرق ہوتا ہے؟ فناءِ روحانی اور جسمانی؟ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: فنا...

سوال: فناءِ۔ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: اچھا فناء، ہاں، جسمانی تو نہیں ہو سکتا نا، کیونکہ جسمانی کون، کون فنا ہو سکتا ہے؟ وہ غائب تو نہیں ہوتا۔ ادھر ہی ہوتا ہے، موجود ہوتا ہے۔ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ لیکن وہ قلباً اور مطلب اس کا جو ہے وہ لحاظ سے، یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو محسوس نہیں کر رہا ہوتا، اللہ پاک کی طرف اتنا متوجہ ہوتا ہے۔ کسی اور چیز کی اس کو خبر نہیں ہوتی۔ یہ بات ہے۔ اور پھر جس، جب واپس آتا ہے تو ان کو ساری چیزوں کی خبر ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا مطلب، تعلق اتنا حاصل ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تعلق سے کسی چیز کی وجہ سے بھی نہیں ہٹتا، اور یہ وہ حالت ہے رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ والی، وہ ان کو حاصل ہو جاتی ہے، وہ جب واپس آ جاتا ہے۔ اور اس وقت سکر کی حالت میں ہوتا ہے، فنا کی حالت میں ہوتا ہے، تو اس وقت وہ کسی چیز سے واقف نہیں ہوتا۔ کچھ بھی ان کے ہاں نہیں ہوتا۔

سوال: حضرت یہ جو نسبت منتقل ہوتی ہے، یہ یکدم ہوتی ہے یا آہستہ آہستہ ہوتی ہے اس کی؟ [سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023 ، مجلس نمبر 649]

جواب: تیاری تو آہستہ آہستہ ہوتی ہے۔ تیاری آہستہ آہستہ ہوتی ہے، منتقل پھر یکدم ہو جاتی ہے۔ اصل کہ موانع جب دور ہو جائیں پھر آئے گی نا۔ تو موانع تو آہستہ آہستہ دور ہوتے ہیں۔ اور چونکہ منتقل اللہ کے فضل پر ہوتی ہے، اللہ کا فضل کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ انسان کے عمل سے نہیں ہوتی۔ البتہ تیاری اس کے لیے کرنی پڑتی ہے۔ جگہ بنانی پڑتی ہے۔ اب مثال کے طور پر آپ کو کوئی چیز دینا چاہے لیکن راستہ بند ہے۔ تو دینا بھی چاہے، لیکن نہیں، تو اب یہ بات ہے راستے کو صاف کرنا آپ کے، اس کے لیے ہے کہ وہ آئے تو آپ لے سکیں۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ جو رکاوٹیں ہیں، حجابات ہیں، ان کو دور کرنا، اپنے عمل کے ذریعے سے، وہ کرتے کرتے کرتے کرتے جب اللہ کا فضل آ جاتا ہے تو بس اس وقت منتقل ہو جاتی ہے۔


سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت اول