سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 648

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اپنی باطنی اصلاح کے لیے اپنے عیوب کی فہرست بنا کر priority کے حساب سے ان کا علاج کرنا چاہیے۔
  2. شادیوں کی غیر شرعی رسومات سے بچنے کے لیے شرکت کے بجائے صرف تحفہ دینا درست ہے، بشرطیکہ واپسی کی نیت نہ ہو۔
  3. اللہ کی رضا کے متلاشی کو برے لوگوں کی ناپسندیدگی اور منفی رویوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
  4. کامل شیخ کی علامات میں عقیدہ اہل سنت والجماعت، علم اور عمل کی پابندی، مستند سلسلہ اور اصلاحِ باطن کی صلاحیت شامل ہیں۔
  5. مراقبے کے دوران غیر ارادی دنیاوی خیالات کا آنا مضر نہیں، البتہ جان بوجھ کر خیالات لانے سے گریز کرنا چاہیے۔
  6. اختیاری برے اعمال کو مضبوط ارادے سے ترک کرنا لازم ہے، جبکہ غیر اختیاری وسوسوں کا علاج محض انہیں نظر انداز کرنا ہے۔
  7. اللہ تعالیٰ کو ظاہری آنکھ سے دیکھنا ناممکن ہے، مگر تجلیات اور کیفیتِ احسان کے ذریعے قلب کو اس کے آثار کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
  8. شریعت اور احادیث کے عین مطابق کشف اور سچے خواب اعمالِ صالحہ کی توفیق اور دلی فرحت کا سبب بنتے ہیں۔
  9. خالق کی نافرمانی پر مبنی کام میں مخلوق کی اطاعت ناجائز ہے، اس لیے رشتوں کو نبھاتے ہوئے ناجائز مطالبات سے حکمت کے ساتھ بچنا چاہیے۔
  10. غیر مسلم معاشرے میں مال کمانے کے بجائے اپنے ملک میں رہ کر کم رزق پر قناعت کرنا اور نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرنا بہتر ہے۔
  11. مراقبے میں بلاوجہ ناغہ نہیں کرنا چاہیے، اور اگر کسی مجبوری سے سلسلہ ٹوٹ جائے تو صرف بقیہ وقت پورا کر لینا کافی ہے۔
  12. روحانی رہنمائی باطنی امراض کی اصلاح کے لیے ہے، لہٰذا شیخ سے جسمانی بیماریوں یا تعویذات کے بجائے اعمال کی درستی طلب کرنی چاہیے۔
  13. مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے استطاعت کے مطابق معاونت کرنا اور دشمن کی معیشت کا بائیکاٹ کرنا امت کی ذمہ داری ہے۔
  14. صفاتِ سلبیہ کے مراقبے کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کو ان تمام خامیوں سے پاک ماننے کے عقیدے کو مستحضر کرنا ہے جو انسانوں میں پائی جاتی ہیں۔
  15. دینی علوم کی فراغت کے بعد عملی تربیت اور نفس کی پاکیزگی کے لیے کسی کامل شیخ کی صحبت اور رہنمائی میں رہنا ضروری ہے۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے اور پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور جو سالکین و سالکات ہیں ان کے احوال کے بارے میں تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔  

سوال نمبر :1: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،اتوار کو ان شاء اللہ اسلامک ورک شاپ ایک Youth club رکھ رہا ہے۔ میں اس میں شامل ہو سکتی ہوں؟ ایک اسلامی group ہے Youth club کا۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: صرف نام سے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مطلب نام تو، یہ America میں ایک website ہے Allah.com اور اس نے بہت بڑا فتنہ بچھایا تھا وہ قبلہ کے بارے میں۔ تو نام سے تو میں کچھ نہیں جانتا۔ ہاں آپ اس کی تفصیلات بتا دیں تو پھر میں کچھ عرض کر سکتا ہوں کہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔

سوال نمبر :2: السلام علیکم۔ حضرت جی! میں شادیوں میں شرکت کرنے کے حوالے سے کافی پریشان ہوں اس لیے کہ شادیوں میں جو آج کل حالات ہیں وہ شرکت کرنے والے نہیں ہیں۔ میں تو سب سے معذرت کر لیتی ہوں، شادی سے چند دن پہلے جا کر تحفہ دے آتی ہوں۔ کیا میرا عمل درست ہے؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: میں نے ان سے پوچھا تھا کہ ہاں تحفہ آپ دے سکتی ہیں، ہدیہ تحفہ ٹھیک ہے۔ البتہ اس میں واپسی کی، نیت نہیں کرنی چاہیے کہ وہ مجھے بھی ملیں گے، پھر تو سود بن جاتا ہے۔ تو یہ آیا ہے کہ (جی حضرت میں الحمد للہ واپسی کی بالکل امید نہیں رکھتی) تو پھر ٹھیک ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر واپسی کی امید نہیں رکھتی تو پھر کوئی بات نہیں آپ کر سکتی ہیں۔

Question No: 3 Hoping for your long life and good health, may Allah Subhan Wa Ta'ala blessing and mercy be upon you and your family. I am فلاں sister, recently something happened which sometimes makes me feel unwanted and is making me lose confidence. Here as our society, I don't mingle with people. It's just limited to hi and hello. One day while I was taking a walk, a neighbor of mine was just passing by. I greeted her but she just ignored me looking at me. When again she passed, she just looked at me and passed away. I am not complaining about her, but it did hurt me. I felt that maybe I have done something like this to someone. I felt that nobody should behave to anyone in such a way, especially when someone greets you, it really hurts. Every now and then I remember her, I feel less confident. Before her. another neighbor also did the same thing. Maybe it is because I don't mix up and participate with them and in all Hindu festivals that they celebrate. I try not to get affected by them or their behavior because I know Allah is the greatest. But I feel sad whenever I remember that day. Here the situation is deteriorating rapidly. Festivals are celebrated with much pomp and show. With every coming year, small children are being brainwashed in the name and of religion without understanding the reality, just falling blindly. Women just get the chance to dress up and show and post pictures. I want to stay between my people who follow the right deen, but here I don't get to see a single person. Everyone is busy in show off. Living in such a society, it's not worth, it just wants to live with people of لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ Please pray for me and my family guidance. Sorry for mistakes and thanks for everything. I was thinking whether I have behaved like this with anyone. أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ it hurts, no one should behave like this not even with an enemy. If one greets you, yes you should also greet them properly I think so! (Question Answer Session November 20, 2023, Session No. 648)   جواب: اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا اپنے بچپن کا، کہ ایک دن میں سوچنے لگا کہ معاشرے میں دو قسم کے لوگ ہیں، اچھے لوگ ہیں اور برے لوگ ہیں۔ تو اگر آپ اچھا بنتے ہیں تو برے لوگ آپ کو dislike کریں گے، اور اگر آپ برا بنتے ہیں تو اچھے لوگ آپ کو dislike کریں گے۔ ظاہر ہے وہ تو فطری بات ہے۔ تو اگر آپ کو اچھا بننا پسند ہے، اور ہونا بھی چاہیے، تو پھر بروں کے ناپسند کرنے کو محسوس کرنا ایک فضول حرکت ہے۔ مطلب یہ کیسے پھر ہو سکتا ہے آپ ان سے expect کریں کہ وہ آپ کو پسند کریں گے؟ تو وہ یہ بات ذہن سے بالکل نکال دیجیے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ آپ خود اپنے آپ کو کھا لیں گی، پریشان ہوں گی۔ تو معاملہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سیدھا رکھیں۔ یہ میں آپ کو ایک اور واقعہ سناتا ہوں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ایک پیر صاحب تھے، ان کے بہت سارے مرید تھے۔ تو اس پیر صاحب کو الہام ہو گیا ایک خاص مرید کے بارے میں کہ ان کا طریقہ تربیت بالکل مختلف ہونا چاہیے۔ اور طریقہ تربیت ان کے لیے یہ بنایا کہ تمام مریدوں سے کہہ دیا کہ روزانہ ان کے ساتھ آپ، کوئی نہ کوئی لڑائی کریں اور بات چیت بند کر لیں کسی بہانے۔ تو ہر روز ان سے کوئی نہ کوئی بھڑتا اور پھر ان سے کہتا تم بات چیت کے قابل نہیں ہو، میرے ساتھ آئندہ نہ بولو۔ اس طرح یہ اپنے دل میں کہتا کہ کم از کم شیخ تو میرا ہے۔ لہٰذا کوئی مسئلہ نہیں ہے، ٹھیک ہے۔ جب سب مرید ختم ہو گئے تو پھر شیخ کی باری آ گئی۔ تو شیخ نے ان سے کہا کہ یہ سارے لوگ جھوٹے تو نہیں ہیں نا کہ جو تیرے بارے میں کہتے ہیں، آخر تیرے اندر کچھ مسئلہ ہوگا۔ اس سے اس کے دل کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی۔ اتنی تکلیف ہوئی کہ جا کے مسجد میں رونے لگا نماز پڑھ کے، اور سجدے میں پڑا رہا۔ اتنے میں حضرت کو الہام ہو گیا کہ ہاں ما شاء اللہ، اس کا وہ قبول ہو گیا، تو جائیں ان کو مبارکباد دیں۔ تو شیخ اپنے تمام مریدوں کے ساتھ آ گئے یہ سجدے میں پڑا ہوا تھا، کوئی اس کا آستین چوم رہا ہے، کوئی اس کا سر چوم رہا ہے، کوئی کیا، تو شیخ نے اسے کہا ما شاء اللہ سر اٹھا دیں، اب ہمارے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی قبول فرمائے۔ تو اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے یہ راستہ منتخب کیا ہے تو آپ کو پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اس وجہ سے، ہماری طرف سے کسی مخلوق کو نقصان نہیں ہونا چاہیے، undue، باقی کوئی ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے تو ہمارا ان کے ساتھ کوئی کام ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ ان باتوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں، بس اللہ کے ساتھ لو لگائیں۔ اور یہ میں تو کہتا ہوں کہ، یہ ایک شعر ہے میرا:

اس نے کس پیار سے دروازے کیے بند سارے ایک دروازہ کھلا اس کا تو پھر کیا دیکھا تو بس کیا دیکھا، مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ نے اپنا دروازہ کھول دیا آپ کے لیے، اور باقی سارے دروازے آپ پر بند کر دیے ہیں تو یہ تو بڑی خوش قسمتی کی بات ہے، آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔

سوال نمبر :4: السلام علیکم، میں فلاں صاحب کے گھر سے لکھ رہی ہوں، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے ان شاء اللہ۔ اللہ پاک آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ میں تقریباً ڈیڑھ ماہ سے 20 منٹ مراقبہ اور تین تسبیحات اور نماز کے بعد کے معمولات کر رہی ہوں۔ اب کا آگے کیا حکم ہے؟ مراقبہ کرتے وقت دنیاوی خیالات آتے ہیں، دعاؤں کی درخواست ہے، جزاک اللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: ما شاء اللہ آپ یہ مراقبہ کر رہی ہیں، ہمت ہے۔ آپ اس کو جاری رکھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے بتایا نہیں کہ آپ کو دل میں "اللہ اللہ" محسوس ہوتا ہے یا نہیں محسوس ہوتا؟ اس کے بارے میں اطلاع کیجیے تاکہ آئندہ کے بارے میں بتا دیں۔ اور یہ بات ہے کہ دنیاوی خیالات کا آنا کوئی برا نہیں ہے، آتے رہیں، آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔ خیالات لانا برا ہے، خیالات کا آنا برا نہیں ہے۔ اس کے بارے میں سوچیں بھی نہیں، پرواہ نہ کریں، اپنے کام میں لگے رہیں۔   سوال نمبر :5: السلام علیکم۔ زما فلان نوم دے، د مردان سرہ تعلق لرم۔ پہ بینک کی نوکری کوم۔ روحانی علم او تصوف سرہ می ڈیر، ڈیرہ مخکی نہ شوق دے، او دا غواڑم چی اللہ سے سرا یہ مضبوط تعلق جوڑ کم۔ ما بیعت نہ دے کڑے ددی وجی چی چا سرہ نیم ملاؤ شوے۔ ستاسو د website مخی تہ راغے نو ڈیر خوشحال شوم۔ امید لرم چی تاسو بہ ما لہ رہنمائی اوکئی۔ ستاسو د جواب پہ انتظار۔ زہ د کتاب شوق ڈیر لرم، باطنی علمونہ سرہ می خصوصی لگاؤ دے، او د شیخ پہ تلاش کی یم۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: ما شاء اللہ، دا ڈیر مبارک سوچ دے ستاسو، اللہ جل شانہ دی تاسو تہ پہ دیکی کامیابی نصیب کی، زہ ڈیر خوشحال شوم ستاسو پہ جزباتو باندی۔ یقیناً د شیخ تلاش پکار دے۔ زہ تاسو تہ د شیخ نخی بیانوم۔ لمڑے خبرہ چی پہ ہغی کی بہ تاسو گورئ عقیدہ دہ، یعنی چی عقیدہ د اہل سنت والجماعت وی، یعنی د حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیروی چی ہغی د صحابہ پہ طریقہ باندی کی، یوہ خبرہ۔ دوم دا چی فرض عین علم ورتہ حاصل وی۔ او دریم دا چی پہ ہغی باندی عمل یی۔ او څلورم دا چی د ہغوی صحبت سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تہ رسی۔ پنځم دا چی پہ یوہ صاحب سلسلہ ورتہ اجازت ورکڑے وی۔ او شپږم دا چی د وخت علماء و مشائخ د ہغہ پہ بارہ کی خہ رائے لری۔ او اووم دا چی ہغہ اصلاح کی، مروت نہ کی، او اتم دا چی د ہغہ پہ صحبت کی د اللہ پاک تعلق حاصلیگی، د اللہ مینہ حاصلیگی او د دنیا مینہ کمیگی۔ او بلہ خبرہ پہ کی دا ضروری دہ چی ستا ورسرہ مناسبت وی۔ مناسبت دپارہ پکار دی چی تاسو د ہغی سرہ سوال جواب د خط و کتابت اوکئی، ورسرہ کینئ پاسئ، اوگورئ، زہ ستاسو باندی دا خبرہ خہ لگی، نو بیا ہغہ مناسبت بہ وی، نو بیا ما شاء اللہ تاسو د ہغی نہ بیعت کولے شئے۔ نو کہ تاسو مثال پہ طور دی خانقاہ تہ رازئ، نو ماتہ اووائی زہ بہ تاسو تہ location send کما، ہر ورز د ماښام نہ والے تر ماسخوتن پوری زمونگ مجلس وی، د اتوار پہ ورز باندی د یوولسو نہ والے د غرمے تر دولسو پوری مجلس یی، پہ دیکی چی تاسو کم کی شاملیدل غواڑئی شاملیدے شئی ان شاء اللہ۔   سوال نمبر :6: السلام علیکم۔ آپ نے کہا تھا کہ اپنے عیوب تلاش کر کے اس کی ایک list بنا دیں۔ تو یہ مشکل کام ہے کیونکہ انسان کو تو اپنے عیوب نظر نہیں آتے۔ لیکن جو تھوڑا سوچنے کے بعد جب نظر آتا ہے، سب سے زیادہ غصے کا بہت زیادہ مسئلہ ہے، اور اس میں یہ ہے کہ جب غصہ آتا ہے تو اس وقت بالکل ہی دماغ کام نہیں کرتا، اور چھوٹے بڑے کی ہر ایک کی تمیز ختم ہو جاتی ہے، جو کہ مجھے لگتا ہے تو بہت زیادہ خراب عادت ہے۔ بعد میں اکثر احساس بھی ہو جاتا ہے لیکن پھر افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اور پھر اس کے علاوہ موبائل کا بہت زیادہ غلط استعمال ہے۔ تو اس میں اچھا برا دونوں آ جاتے ہیں۔ کبھی اچھا بھی، زیادہ تر برا استعمال ہوتا ہے۔ اس میں کبھی خراب sites کا بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ جیسے موقع ملا تو وہ بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پھر آپ guide کر دیں کہ باقی مزید کس طرح عیب تلاش کروں، کیونکہ اگر سوچیں تو پھر سارا کچھ ہی اندر، اندر غلطیاں نظر آتی ہیں اور اگر توجہ نہ کریں تو ایسے لگتا ہے جیسے اپنے اندر کوئی خرابی ہے ہی نہیں۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: تو یہ بات جو میں نے عرض کی ہے، تو سوچنے کے لیے کی ہے نا کہ آپ سوچیں۔ سوچ کر لکھیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ آپ عیوب لکھ لیں۔ ایک list بنا دیں۔ پھر اس میں سوچیں کہ priority کس کی زیادہ ہے، یعنی کون سے زیادہ آپ کو نظر آ رہا ہے۔ اس پہ آپ نمبر کے حساب سے لگا لیں۔ ایک دو تین چار پانچ نمبر لگا لیں۔ تو اصلاح تو سارے عیوب کی کرنی ہے نا۔ اور ظاہر ہے سوچنے سے عیوب نظر آ سکتے ہیں بغیر سوچے تو نظر نہیں آ سکتے۔ تو آپ نے جو دونوں بتائے ہیں، تو ان کا بھی علاج ہونا چاہیے۔ لیکن آپ ذرا سوچیں، جتنے ہیں وہ سارے کے سارے مجھے لکھ دیں تاکہ میں آپ کو پھر اس کے بارے میں کچھ عرض کر سکوں۔

سوال نمبر :7: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ سر امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرے کچھ دن پہلے آپ سے بات ہوئی تھی بد نظری اور وسوسوں کے حوالے سے۔ آپ نے جو اعمال بتائے تھے وہ میں نے کیے ہیں۔ مجھے زیادہ تو نہیں but دس فیصد تک بہتری feel ہوئی ہے۔ میں دو weeks سے نہیں آ سکا، village میں تھا۔ آج دوبارہ حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے فرمایا تھا کہ آپ یہ اعمال کریں، پھر بتائیں۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: اصل میں بات یہ ہے کہ آپ ما شاء اللہ، جو بد نظری ہے یہ تو بہت بڑا مرض ہے، اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ فرمائے۔ تو اس کے بارے میں آپ کو میں نے عرض کیا تھا نا کہ جو آپ کے اختیار میں ہے اس کو کریں، جو آپ کے اختیار میں نہیں اس کو چھوڑیں۔ وسوسوں کا علاج تو آسان ہے کہ بس آپ اس کی پروا نہ کریں۔ جیسے بھی وسوسہ ہے، وسوسہ وہ ہے جو آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ جو آپ کے اختیار میں ہے وہ وسوسہ نہیں ہے، وہ آپ کی سوچ ہے۔ تو لہٰذا جو آپ کے اختیار میں ہے اس کو تو اپنے اختیار سے دبائیں۔ اور جو آپ کے اختیار میں نہیں تو اس کی پروا نہ کریں۔ کتنا آسان علاج ہے، اس میں کوئی مشکل ہے؟ جو اختیار میں ہے اس میں اختیار استعمال کر لو اور جو اختیار میں نہیں ہے اس کی پروا نہ کرو۔ لیکن اس سے اثر بھی نہ لو۔ باقی یہ ہے کہ ما شاء اللہ جو ذکر ہے وہ آپ جاری رکھیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ذکر تو انسان کو تیار کرتا ہے علاج کے لیے۔ ذکر بذات خود مکمل علاج نہیں ہے۔ ذکر سے دل زندہ ہوتا ہے۔ اور دل جب زندہ ہوتا ہے تو صحیح اور غلط کو پہچان لیتا ہے۔ اور جب صحیح اور غلط کو پہچان لیتا ہے تو پھر ہمت کرنی پڑتی ہے، اس صحیح کو حاصل کرنے کی اور غلط سے چھٹکارا پانے کی۔ اسی کو سلوک کہتے ہیں۔ تو پھر سلوک طے کرنا پڑتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اس کے لیے آپ اپنی تیاری رکھیں۔ اپنا ذکر جاری رکھیں اور جو ابھی بات ہوئی ہے اس پر عمل جاری رکھیں۔   سوال نمبر :8: السلام علیکم۔ حضرت شیخ صاحب! آپ نے فرمایا تھا کہ استخارہ کرو، استخارہ میں نے کر لیا اور دلی اطمینان کے ساتھ سلسلہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ میری بیعت قبول فرمائیں اور مجھے بتائیں کہ آگے کیا ذکر اذکار کرنے ہیں۔ جزاک اللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648) جواب: ٹھیک ہے ان شاء اللہ میں آپ کو audio بھیج دوں گا۔ اس audio کے ساتھ آپ اپنے الفاظ میں audio مجھے send کر دیں تو پھر میں accept کر لوں گا اور ذکر بھی بتا دوں گا ان شاء اللہ۔   سوال نمبر :9: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت، I hope you are well. Questions for tomorrow Inshallah. نمبر ایک: صوفیاء کا کیا مطلب ہے جب وہ ہر جگہ اللہ کی ذات کو دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: قرآن میں جو بات ہے اس کو تو کوئی change نہیں کر سکتا۔ ﴿لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ﴾ (يونس: 64)۔ نص قطعی ہے، کوئی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ ﴿لَنْ تَرَانِي﴾ (الأعراف: 143)، موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا، کوئی بھی موسیٰ علیہ السلام سے بڑا نہیں ہے۔ تو جب ان سے فرمایا گیا تو لہٰذا کوئی بھی اللہ کو دیکھ نہیں سکتا۔ اور اللہ کو دیکھنے کا مطلب کیا ہے، وہ بتاتا ہوں، جیسے دیکھیں نا، حدیث شریف میں آتا ہے: ﴿أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ﴾ (صحيح مسلم: 8) تو ایسی بات کرو، جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔ جیسے تو خدا کو، as if انگریزی میں جسے بتاتے ہیں، جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی آپ کے عمل کا اثر ایسا ہونا چاہیے، جیسے اگر اللہ کو آپ دیکھتے تو جس طرح کرتے، اس طرح عمل کرو۔ تو یہ بات، اس کو کیفیتِ احسان کہتے ہیں۔ تو جو کیفیتِ احسان والے ہیں وہ دعویٰ نہیں کر رہے ہیں، وہ اپنی کیفیت بیان کر رہے ہیں : تم میرے پاس ہوتے ہو گویا، جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا مومن خاں دہلوی کا شعر ہے۔ جس پہ غالب نے کہا تھا، یہ مجھے دے دو تو میرا سارا دیوان لے لو۔ تو بات یہ ہے کہ ظاہر ہے ایک کیفیت ہے۔ تو جس کو یہ کیفیت حاصل ہے، تو وہ تو کہے گا۔ تو یہ کیفیتِ احسان کی بات ہے۔   سوال نمبر :10: کیا تجلی ایسی چیز ہے جسے دیکھا یا محسوس کیا، یا دونوں کو؟ کیا تجلی تخلیق ہے؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: تجلی اصل میں ظل ہے۔ یعنی لوگ عموماً تجلی روشنی کو کہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ جب اصل دیکھنا کسی چیز کا ممکن نہ ہو، تو اس کا تنزل کر کے اس صورت میں آنا کہ لوگ اس کو برداشت کر سکیں، یہ تجلی ہوتی ہے۔ تو وہ اصل سے کم ہوتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں شاید کوئی روشنی ہو گی، روشنی کی وجہ سے آنکھیں چندھیا جائیں گی، نہیں۔ وہ یہ ایسی چیز ہے جس کو جو کہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی دیکھ نہیں سکتا، لیکن اللہ جل شانہ کی ذاتِ باری تعالیٰ کے بعض آثار جو انسان محسوس کر لے، وہ اس کی تجلی ہو گی۔ تو یہ تجلی اس کو کہتے ہیں۔   سوال نمبر :11: اللہ کا عکس کیسے ہو سکتا ہے اور اس کا عکس، عکس میں دیکھا جائے، اللہ مخلوق نہیں ہے؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: بالکل، بالکل آپ صحیح کہہ رہے ہیں اللہ مخلوق نہیں ہے۔ اور اس طرح نہیں ہوتا جیسے کہ سورج کا عکس ہے شیشے میں، نہیں، ایسا نہیں ہے۔ لیکن اس کا عکس ایسا ہوتا ہے کہ، جیسے مثال کے طور پر ہوا آپ دیکھ نہیں سکتے، لیکن مرغ بادنما، اس سے آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ ہوا چل رہی ہے، اور کس direction میں چل رہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بجلی، بجلی آپ دیکھ نہیں سکتے، کوئی بھی بجلی، کبھی کسی نے بھی بجلی کو نہیں دیکھا۔ کوئی دعویٰ کرے گا تو اس کو نہیں مانا جائے گا۔ لیکن بجلی کے آثار سب لوگ دیکھ رہے ہیں آج کل۔ لوگ کہتے ہیں بجلی آ گئی۔ تو کیا بجلی دیکھ کر کہتے ہیں؟ نہیں، پنکھا چل گیا، ہیٹر چل گیا، فریج چل گیا، stove چل گیا، یہ سب بجلی کے آثار ہیں۔ لہٰذا لوگ کہتے ہیں بجلی آ گئی۔ اور بجلی چلی گئی، تو کیا نہ جاتے وقت کوئی دیکھ سکتا ہے نہ آتے وقت کوئی دیکھ سکتا ہے۔ لیکن کہتے کیا ہیں؟ تو اس دیکھنے پہ اگر آپ کو اعتراض نہیں تو اس پر کیوں اعتراض ہے؟ تو یہ بات ہے کہ اللہ جل شانہ کو تو کوئی نہ دیکھ سکتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ مخلوق ہے، نہ اللہ تعالیٰ کا عکس اس طرح ہے جس طرح ہماری چیزوں کا عکس ہوتا ہے۔ ہاں یہ کہ وہ آثار جس سے اللہ جل شانہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے یہ ہے، مطلب وہ چیز ہے۔ ما شاء اللہ۔   سوال نمبر :12: السلام علیکم حضرت جی! کافی ڈرا رہتا ہوں، ٹھنڈا پسینہ آتا ہے۔ سر پر دباؤ ہے۔ right گھٹنا میں درد ہے۔ کبھی دونوں میں بھی feel ہوتا ہے۔ میں اپنے حال کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا ہوں۔ اگر کوئی پوچھے تو غلط بتاتا ہوں۔ تسبیحات میں سستی ہے۔ اپنے عیوب کا خود نہیں پتہ چلتا، کوئی دوسرا ہی بتا سکتا ہے۔ kindly بتائیں کس چیز کو improve کروں؟ نمبر تین: میں اپنے حال کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا ہوں، اگر کوئی پوچھے تو غلط بتاتا ہوں، صرف کوشش کرتا ہوں۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)   جواب: اللہ اکبر! دیکھیں ہمارے ہاں جو اختیاری چیزیں ہیں نا، اس میں اپنے اختیار کو استعمال کرنا ہے۔ اور جو غیر اختیاری ہیں اس کی پروا نہیں کرنی ہے۔ اب دیکھیں، آپ کی جو اختیاری ہیں، جو چیزیں آپ نے بتائی ہیں، اس میں جو آپ کے اختیار میں تھا، اس کا تو آپ نے کہا کہ اس میں سستی ہے۔ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تسبیحات میں سستی ہے۔ اس میں کیوں سستی ہے؟ جب آپ کو پتہ ہے کہ ایک مفید چیز ہے، آپ کو اس سے فائدہ ہوتا ہے، تو اس میں آپ سستی کر رہے ہیں۔ اور وہ چیز آپ مجھے بتا رہے ہیں جس کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔ کیونکہ نہ میں ڈاکٹر ہوں نہ عامل ہوں۔ اس سلسلے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ میں اگر کچھ عرض کر سکتا ہوں تو ان چیزوں میں عرض کر سکتا ہوں کہ بھئی، اپنا علاج کیسے کرو، اصلاح کے لیے؟ اپنی اصلاح کیسے کرو؟ یہی میں صرف عرض کر سکتا ہوں۔ میرے بزرگوں نے مجھے صرف اس کام کے لیے بٹھایا ہے۔ نہ تعویزیں لکھنے کے لیے بٹھایا ہے، نہ کسی کے جسمانی علاج کے لیے بٹھایا ہوا ہے، نہ مجھے آتا ہے، اور یقین جانیے کہ اگر کوئی ڈاکٹر نہ ہو اور ڈاکٹری کرنا شروع کر لے، تو جرم ہے۔ وہ تو ظاہر ہے اس سے پوچھا جائے گا۔ اور اگر کوئی نقصان کسی کو ہو گیا تو اس کا ذمہ دار ہو گا۔ تو اس میں تو آسان بات یہی ہے کہ آدمی کہہ دے کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔ اپنے آپ کو اس سے بچانا چاہیے۔ تو لہٰذا مجھے جو چیزیں آپ نے بتائی ہیں نا، اس میں میں صرف اس بات کا میں عرض کر سکتا ہوں کہ آپ تسبیحات میں سستی نہ کریں۔ اپنے علاج میں سستی نہ کریں، جو آپ کو بتایا جائے، اس کو پورا، جو اس مقصد کے لیے بتایا جائے اس کو پورا کر لیا کریں اور اس کے احوال بتا دیا کریں۔ اس سلسلے میں جو بھی احوال آپ کے ہوں گے، ان شاء اللہ اس کے بارے میں تحقیق بتائی جائے گی

سوال نمبر 13: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر پچھلے مہینے کا جو درود شریف پیش کیا ہے تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت سلام کا جواب دیا یا ان صاحب کو خواب میں آیا جن نے درود شریف پیش کیا؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: خواب میں نہیں ہے، یہ کشف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر خود پیش فرمایا ہے۔ اور کشف کا تو ہم انکار نہیں کرتے ہیں۔ باقی یہ الگ بات ہے کہ اگر کسی کو اس پر اعتماد نہیں ہے تو حدیث شریف پر تو اعتماد ہونا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا جواب دیتے ہیں۔ مطلب حدیث شریف میں تو ہے۔ تو اگر اس کا کشف حدیث شریف کے مطابق ہے تو اس میں کیا غلطی ہے؟ وہ تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی فرماتے ہیں کہ میرا جو کشف ہے وہ قرآن اور حدیث میں جو ہے وہ اس کے مطابق وہ آتا ہے۔ تو یہ بھی اس کے مطابق ہی ہے۔ تو لہذا اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ ہاں البتہ ٹھیک ہے حدیث پر کسی کو اعتماد اور یقین ہے تو اس کے لیے اس چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ درود شریف پڑھے گا تو اس کو یقین ہوگا کہ وہ چلیں۔

لیکن یہ بھی بات ہے کہ جو دیکھو نا ایک ہوتی ہے عقل اور ایک ہوتی ہے طبیعت۔ تو شریعت میں طبیعت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ صرف عقل کا نہیں، طبیعت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ تو یہ خیال ہے کہ دیکھو ماشاءاللہ یعنی اگر کوئی خواب دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھتا ہے اور وہی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتائیں جو حدیث شریف میں پہلے سے موجود ہے۔ تو کیا خیال ہے جس نے خواب نہیں دیکھا اور حدیث شریف سنی ہے اور جس نے خواب دیکھا اور حدیث شریف سنی ہے دونوں برابر ہوں گے؟ طبعی طور پر پوچھ رہا ہوں، طبیعت کے طور پر۔ کون زیادہ خوش ہوگا؟ اب دیکھنے والا زیادہ خوش ہوگا حالانکہ فرق کوئی نہیں ہے۔ حدیث شریف میں پہلے سے ایک بات موجود ہے مطلب اس کے لیے دونوں اس میں برابر ہیں۔ لیکن ایک نے خواب دیکھا ایک نے نہیں دیکھا۔ تو جو دیکھنے والا ہے اس کی خوشی کا بہت ماشاءاللہ وہ ہوگا۔ یہ انسان کی فطرت ہے، طبیعت ہے۔ تبھی تو مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو فضائل درود شریف کتاب لکھی ہے اس میں خواب بھی لکھے ہیں۔ بعض لوگ اس پر بڑے اعتراض کرتے ہیں کہ یہ خواب کیوں لکھے ہیں؟ بھئی یہ طبیعت کی بات ہے۔ اگر کسی کو اس سے فرحت ملتی ہے اور عمل کی زیادہ توفیق ہوتی ہے تو آپ کو کیا اعتراض کرنے کا حق ہے؟

یہی تو چیز ہے کہ الحمدللہ ثم الحمدللہ ثم الحمدللہ اس دفعہ ساتھیوں نے 43 کروڑ کے لگ بھگ ہے کہ درود شریف پڑھا۔ الحمد للہ۔ اب یہ، یہ چیز اچھی نہیں ہے۔ اللہ پاک نے اگر یہ توفیق عطا فرمائی 43 کروڑ، اور ابھی، وہ تو ربیع الاول کے بعد ہے نا؟ ابھی ربیع الثانی ہے، یہ ربیع الاول نہیں ہے۔ اس دفعہ تقریباً چار کروڑ سے زیادہ پڑھا ہے۔ چار کروڑ 78 لاکھ۔ یہ اس اس مہینے کی بات کر رہا ہوں، ربیع الثانی کی بات کر رہا ہوں۔ یہ لوگوں نے پڑھ لیا، اب اگر اس کی برکت سے اللہ پاک نے اتنی بابرکت چیز کی توفیق کسی کو دے دی، تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو اس لیے میں کہتا ہوں یہ مشائخ جو ہوتے ہیں نا صوفیاء، یہ -سبحان اللہ- ان دونوں چیزوں کا خیال رکھتے ہیں۔ علماء آپ کو صرف ایک چیز بتائیں گے۔ صوفیا آپ کو دونوں چیزیں بتائیں گے۔ اور اسی میں فائدہ ہے۔ مطلب ظاہر ہے آپ کو توفیق ہو جاتی ہے عمل کی۔ یہی اصل میں سب سے بڑی بات ہے کہ توفیق ہو جاتی ہے۔

تو الحمد للہ، دیکھو، میں آپ کو بتاؤں، یہ تسبیح ہے نا، تسبیح۔ آسان بات عرض کرتا ہوں۔ میرے ہاتھ میں تسبیح ہو۔ اور میں نے نیت نہ بھی کی ہو کہ ذکر کروں گا۔ کچھ نہ کچھ ذکر نصیب ہو جائے گا۔ تسبیح کی وجہ سے۔ اور میرے ہاتھ میں تسبیح نہ ہو، اور میں نے ذکر کی نیت کی ہو۔ پھر بھی بہت مشکل ہو گا ذکر کرنا۔ ان دونوں باتوں میں فرق؟ کیا بات ہے اس میں؟ تسبیح کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ تسبیح آپ سے زبردستی تو نہیں کر سکتی۔ لیکن ایک reminding ہے۔ ایک مسلسل آپ کو ریمائنڈ کر رہا ہے۔ اس لئے اس کو مسبحہ کہتے ہیں۔ تو یہ، مطلب یہ ہے کہ یہ، یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، یہ پریکٹیکل ہیں۔ اور تصوف پریکٹیکل چیز ہے۔ تو لہذا ہم لوگ صرف پریکٹیکل چیزوں کو دیکھتے ہیں، ہم لوگ تھیوری کو زیادہ نہیں دیکھتے۔ تھیوری کو اتنا دیکھتے ہیں کہ ہمارا پریکٹیکل غلط نہ ہو۔ اتنا دیکھتے ہیں۔ باقی یہ ہے کہ پریکٹیکل پہ زیادہ زور دیتے ہیں تاکہ چیزیں ہماری ٹھیک ہو جائیں۔ اور ہم عملی طور پر نصیب ہو جائیں۔

سوال نمبر 14:السلام علیکم حضرت۔ بڑے عرصے سے فجر کی نماز قضا ہو رہی ہے، تقریباً سب طریقے آزما لئے۔ روزے رکھنا، وقت پر سونا، ابھی تو راتیں بھی لمبی ہو گئی ہیں۔ لیکن اب بھی قضا ہو رہی ہے نمازیں۔ پہلے سے دوائی بھی کم ہو گئی ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی قریب ایسا ہے جو آپ کو اٹھا سکتا ہے۔ تو آپ اس کی منت سماجت کر کے ان سے کہہ دیں کہ مجھے اٹھایا کریں۔ چاہے وہ آپ کا چپڑاسی ہو، چاہے آپ کا نوکر ہو، چاہے آپ کا دوست ہو، چاہے آپ کا گھر والے ہوں۔ جو بھی ہوں، لیکن جو نمازی ہوں، صبح اٹھتے ہوں۔ آپ ان کی منت کریں۔ میرے ساتھ یہ گزرا ہے۔ آپ تو دوائیوں کی وجہ سے اس طرح کر رہے ہیں نا، میری تو دوائیوں والی بات نہیں تھی۔ میری تو نیند اتنی سخت تھی یعنی جب میں سٹوڈنٹ تھا۔ کہ صبح اٹھنا، توبہ توبہ۔ لوگ مجھے اٹھا دیتے میں بیٹھے بیٹھے سو جاتا۔ حتیٰ کہ یہاں تک کہ لوگ میرے ہاتھ میں لوٹا دے جاتے، اس کے ساتھ سو جاتا۔ تو اب وہ حیران ہو گئے بھئی ان کے ساتھ میں کیا کروں۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب، اس وقت تو ظاہر ہے میڈیکل سٹوڈنٹ تھے۔ تو ان سے میری روز میری لڑائی ہوتی تھی۔ کہ آپ نے مجھے نہیں اٹھایا، وہ کہتے تھے میں نے آپ کو اٹھایا، آپ کے ہاتھ میں لوٹا دیا، یہ کیا، وہ کیا۔ لڑائی میری روز ہوتی ان کے ساتھ۔ side roommate تھے میرے ساتھ۔ اخیر میں اس کو طریقہ سمجھ میں آ گیا۔ اس نے یہ طریقہ دریافت کیا کہ اس کے ساتھ میں جب بات چیت کروں گا نا تو ان کا ذہن جاگ جائے گا۔ تو روز کوئی نئی بات لیتا، او شبیر صاحب آپ کو پتہ ہے یہ ہو گیا ہے۔ اچھا مجھے کوئی انفارمیشن دیتا، میں پھر جب اس کو سنتا، اس سے اس پر بات کر لیتا، میری آنکھ کھل جاتی۔ اب ہر ایک کے لیے کوئی چابی ہوتی ہے نا، تو میرے لیے چابی یہ تھی۔ تو آپ بھی اپنی چابی دریافت کر لیں۔ تو امید ہے کہ ان شاء اللہ، اللہ پاک مسئلہ حل فرمائے گا۔

سوال نمبر 15: السلام علیکم حضرت۔ میرے گھر والے میرے بچوں کی تصویریں مانگتے ہیں کہ ہمیں بھیج دیں۔ میں انکار کر دیتی ہوں، تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ چونکہ تصویر آج کے دور کا بڑا فتنہ ہے۔ لیکن جو شیخ کی تربیت میں نہیں ہوتے، اصلاح کے راستے میں نہیں ہیں، تو ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ وہ تو بتاتے ہیں تو پھر جب انکار کر دیں تو ہم سے خفا ہو جاتے ہیں۔ تو ان کو کس حکمت عملی سے سمجھایا جائے تاکہ رشتوں میں دراڑ بھی نہ آئے اور ہمارا مقصد بھی پورا ہو جائے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ میں تو صرف آپ کو حدیث شریف ہی سنا سکتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے، لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ مخلوق کی ایسی اطاعت جو خالق کی نافرمانی کی طرف لے جائے، وہ جائز نہیں ہے۔ اب عقل اور فکر آپ کے پاس خود موجود ہو گا۔ ان کے ساتھ اس انداز میں بات کرنا کہ وہ Flare بھی نہ کریں۔ اور آپ ان کو صحیح بات بھی بتائیں۔ بات تو یہی بتانی ہے کہ شریعت میں ناجائز ہے۔ تو آپ ویڈیو کال کر دیں ان کو۔ ویڈیو کال کی اجازت ہے۔ ان کو دکھا دیں کہ بچے ایسے ہیں۔ لیکن ان سے آپ قسم لے لیں کہ اس کے آپ نے فوٹو نہیں لینا۔ کیونکہ ویڈیو کال سے بھی لی جا سکتی ہے نا۔ تو آپ اپنی نیت یہ رکھیں تو وہ اس طرح بات ہو جائے گی ان شاء اللہ۔ تو اللہ پاک ہمیں خیر کی طرف لے جائے، شر سے بچائے۔

سوال نمبر 16: سوال میں پڑھ رہا ہوں، اور پاکستان آیا، یہاں پر ثواب اور دینداری مگر رزق نہیں، اور وہاں پر پیسہ ہے مگر دینداری کمزور۔ تو اب کیا کروں؟ وہاں پر غیر مسلموں کی خدمت کر کے ان کے نظام کو سپورٹ کر کے پیسہ ہے۔ اور یہاں پاکستان میں کچھ ملتا ہی نہیں، ایک مسلمان انجینئر جو کہ بغیر غیر مسلموں کی خدمت کیے پیسہ لے ہی نہ سکے۔۔۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی بات کس حد تک درست ہے۔ والله اعلم بالصواب ہم بھی انجینئر تھے اور یہیں پاکستان میں رہے اور ہم نے ساری نوکری پاکستان میں کی ہے۔ اللہ پاک نے رزق دیا ہے۔ مطلب میں تو جرمنی میں تو مجھے پروفیسر چھوڑ نہیں رہے تھے واپس آنے کے لیے۔ اس کو dodge دے کر میں آیا ہوں۔ dodge کر کے میں آیا ہوں۔ اور آپ کو پتا ہے جرمنی آسٹریلیا سے کچھ ranking میں اوپر ہی ہے۔ تو اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو بعض لوگوں کے نزدیک تو میں نے chance miss کیا ہے۔ لیکن الحمد للہ اللہ، پاک نے بڑا اچھا رکھا ہے۔ شکر ہے اللہ کا۔ یہ نہیں کہ یہاں پیسہ نہیں۔ یہ بات یہ ہے کہ میں پیسے کی definition کیا کروں۔ اس پہ انسان کو جس کو کہتے ہیں نا کوئی end نہیں ہے کتنا چاہیے آدمی کو۔ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کو دو وقت کا کھانا ملتا ہے اور آپ کا ایمان بچ جائے۔ تو یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ آپ کو باہر ساری دنیا مل جائے لیکن آپ کا ایمان یا آپ کے بچوں کا ایمان خطرے میں پڑ جائے۔ تو میں وہاں سوچتا تھا کہ جو لوگ وہاں پر ہیں بے شک وہ خود ٹھیک رہیں ان کی تربیت ہو چکی ہو یا کوئی۔۔ اپنی اولاد کی ان کو کوئی surety نہیں ہے کہ وہ بچیں گے یا نہیں بچیں گے۔ کیونکہ طریقہ تعلیم ہی ایسا ہے۔ کہ اس میں بچے آپ کے نہیں رہتے۔ تو بچوں کو تو قربان کر لیا جاتا ہے۔ تو اولاد والی بات تو وہاں بڑا مشکل ہے۔ یہ ابھی گزرا ہے وہ uk کا وزیراعظم۔ جو پہلے تھا۔ یہ چوتھی پشت میں اس کا جو تھا پردادا یہ مسلمان تھا ترکی کا۔ اور یہ ایک متعصب عیسائی ہے۔ غالبا وہ دوسری پشت سے معاملہ خراب ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اور اخیر میں یہاں تک صورتِ حال پہنچ گئی۔ تو کیا خیال ہے؟ بہرحال میں آپ کو نہیں کہتا کہ آپ نہ جائیں۔ لیکن آپ نے سوال ہی ایسا کیا ہے کہ مجھے جواب دینا تھا۔ یہ blowing question تھا تو اس کو blowing جواب سمجھ لیں۔

سوال نمبر 17: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی میں فلاں جگہ سے فلاں ہوں۔ اللہ کے فضل سے میرا ذکر مکمل ہے دو سو مرتبہ لا الہ الا اللہ چار سو مرتبہ الا اللہ چھ سو مرتبہ اللہ حق اور ساڑھے پانچ ہزار مرتبہ اللہ۔ ان کے ساتھ پانچوں لطائف پر دس دس منٹ اور پندرہ منٹ مراقبہ دعائیہ۔ احوال: اس دفعہ میں نے زبان کان اور آنکھ کو کنٹرول کرنے کا سبق لیا تھا اور اس میں کوشش جاری رہی لیکن ابھی کافی کمی ہے خاص طور پر زبان اور کان۔ آپ سے مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: یہ آپ جاری رکھیں یہ جو زبان اور کان والی بات ہے۔ یہ تو بہت بڑا source ہیں برائی کے۔ تو اس کو جاری رکھیں۔ ان شاء اللہ العزیز فائدہ ہو گا اور باقی وہ ذکر وہی رکھیں۔

سوال نمبر 18: السلام علیکم محترم مرشدی دامت برکاتہم امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے حضرت جی سارے اذکار پورے ہو گئے ہیں اس مہینے کے لیے دو، چار، چھ، چار ہزار۔ تمام لطائف پر دس دس منٹ مراقبہ لا اله الا انت سبحانك اني كنت من الظالمين کا مفہوم پندرہ منٹ۔ اس مراقبہ کے بعد مجھے وقوف قلبی بھی بہت آسانی سے ہو جاتا ہے سبحان اللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: یہ قرآن پاک کی ایک آیت ہے وہو معکم اینما کنتم اس کا جو مفہوم ہے ذہن میں رکھ کر آپ پندرہ منٹ اس کا مراقبہ کریں۔

سوال نمبر 19: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی امید ہے کہ آپ خیر و عافیت سے ہوں گے۔ میرا مراقبہ بیس منٹ ذکر قلبی کا ہے۔ اللہ اللہ ہوتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ اکثر جب مہینہ پورا ہونے والا ہوتا ہے تو ناغہ ہو جاتا ہے۔ تو میرا سوال یہ تھا کہ کیا مراقبہ پھر نئے سرے سے شروع کرنا ہے یا ناغے نکال کر مہینہ پورا کرنا ہے۔ حضرت جی اگر مراقبہ کرتے ہوئے درمیان میں بولنا پڑ گیا یا اٹھنا پڑا کسی مجبوری کی وجہ سے مثلا بچہ رونا شروع کر لے تو کیا مراقبہ دوبارہ سے کرنا ہو گا یا جو منٹ باقی رہ گئے ہیں وہ پورے کرنے ہوں گے۔ مزید رہنمائی فرما دیں۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: نہیں اس کو پورا کر لیں وہ کافی ہے۔

سوال نمبر 20: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ i pray you are well dear حضرت جی۔ may allah ta'ala prolong your shade over us all and grant me tawfiq to be a true murid۔ i just wanted to ask one question۔ as we will be asked by allah subhanahu wa ta'ala on qiyamah about what we did for the oppressed muslims across the world۔ what's the that every ummah and me especially should be doing for them۔ "Question and Answer Session November 20, 2023, Session Number 648"

جواب: یہ بات تو ہم مسلسل کرتے رہے ہیں، یہ اصل میں depend کرتا ہے chance پر، will پر، نیت پر۔ یہ تین چیزیں ہیں۔ تو نیت یہ رکھنی چاہیے کہ اس سے اللہ پاک راضی ہو جائے اور امت مسلمہ کی خدمت ہو جائے۔ will یہ بات ہے کہ جب اللہ پاک راستہ دے تو اس میں پھر سستی نہ کرے۔ اور chance، مطلب ظاہر ہے چونکہ اس میں ہر چیز انسان کے بس میں نہیں ہوتی۔ مثلا: اور کچھ نہیں، مثلا passport ہی لے لو، visa لے لو، یعنی یہ سارے مسائل ہیں۔ لیکن بہرحال where there is a will there is a way۔ مطلب ظاہر ہے کچھ راستے تو بنتے ہیں۔ تو اگر chance ملتا ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اب ایک chance ہے جو ساری امت کو میسر ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پہلی جو جماعت بھیجی تھی جہاد کے لیے، وہ کفار مکہ کے اس قافلے کو trap کرنے کے لیے جو کہ کفار مکہ کی طرف سے تجارت کر کے واپس آ رہا تھا ابو سفیان کی سرکردگی میں۔ اور چونکہ اس مال سے پھر وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار خریدتے اور وہ۔ تو اس کو trap کرنا، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ طریقہ آج کل بھی میسر ہے کہ جو ان کی معیشت ہے اس پر پیر رکھو۔ boycott کر لو ان کا ان چیزوں سے۔ ان چیزوں سے بے شک اس سے low level کی چیزیں لیکن ہماری ضرورت پوری ہوتی ہو تو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ ان کی چیزیں high level کی ہیں۔ قوت لا یموت والی بات ہے، وہ بھی اگر ہو تو ظاہر ہے مطلب ہے ہمیں اس میں پیش قدمی کرنی چاہیے۔ تو ان کی boycott proper طریقے سے کرنی چاہیے جتنا ہم سے ہو سکے۔ اور دوسروں کو بھی اس کا کہنا چاہیے۔ اور دامے، درمے، قدمے، سخنے یہ جتنا انسان سے ہو سکتا ہے، ان کی مدد کرنا چاہیے، جتنا موقع ہو، اللہ نصیب فرمائے۔

سوال نمبر 21: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی، اللہ پاک سے آپ کی صحت و تندرستی کے لیے دعا گو ہوں۔ حضرت جی میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں قساوۃ قلبی کا شکار ہوں، اکثر کچھ لوگ مالی مدد مانگتے ہیں لیکن میں ان کی بات پر توجہ نہیں کرتا اور یہی گمان کرتا ہوں کہ جھوٹے ہیں اور fraud ہیں۔ بعد میں اپنے رویے پر افسوس بھی ہوتا ہے لیکن عین وقت پر کچھ گومگو کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے عذر کو بھی تسلیم نہیں کرتا اور دل میں ان کو غلط سمجھتا ہوں۔ برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ اللہ پاک آپ کے درجات کو بلند فرمائے اور آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: دیکھیں بات سمجھ لیں۔ یہ بات غلط نہیں ہے جو آپ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کا test اس وقت ہوتا ہے جب آپ کو صحیح لوگ مل جائیں، اس وقت بھی آپ نہ کریں۔ آپ اس کے لیے checks علمائے کرام سے، مشائخ سے سیکھ لیں کہ کون سی چیز کو check کرنا ہے، مطلب یہ ہے کہ مستحق ہے یا نہیں۔ تو اگر پھر مستحق آپ کو نظر آئے تو پھر آپ ان کی ضرور خدمت کریں، اور جتنا ہو سکتا ہے۔ اور پھر اگر نہیں ہوا تو پھر علیحدہ بات ہو گی۔ لیکن اس صورت میں اگر آپ اس کو احتیاطا نہیں کر رہے تو یہ جرم نہیں ہے۔ یہی تو management ہے۔ لہٰذا management ہونا چاہیے۔ اور یہ مطلب یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال نمبر 22: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

نمبر ایک: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ، مراقبہ شہود ذاتی پندرہ منٹ محسوس نہیں ہوتا. (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: اس کو جاری رکھیں۔

نمبر دو: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح دس منٹ، لطیفہ سر دس منٹ، لطیفہ خفی دس منٹ، ذکر میں کبھی کمزوری محسوس ہوتی ہے خاص کر جب ناغہ ہو جائے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: ناغہ بالکل نہ کریں۔ اور یہ اگر محسوس ہو رہا ہے تو پھر سارے دس دس منٹ کر لیں اور جو مراقبہ احدیت ہے ان کو دے دیں۔

نمبر تین: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ معیت اور دعائیہ پندرہ منٹ۔ اللہ تعالی کی معیت محسوس ہوتی ہے اور تکلیف میں یہ احساس بہت بڑھ جاتا ہے، اور یقین ہوتا ہے کہ یہ تکلیف اللہ تعالی کی طرف سے ہے، یہ تکلیف ہمارے گناہوں کے کفارے کا سبب بنے گی۔ اللہ تعالی ہماری تکالیف کو ضائع نہیں فرمائے گا۔ اور کثرت سے دعائیں مانگتی ہوں، اکثر دل میں ایسی دعائیں آتی ہیں جو بالکل نئی ہوتی ہیں۔ اور جب وقت کی کمی یا جسمانی تکلیف کی وجہ سے کوئی اور عبادت نہیں کر سکتی تو دعا کرتی رہتی ہوں، فضول وقت ضائع نہیں کرتی بلکہ دل ہی دل میں غیر اختیاری دعا شروع ہو جاتی ہے۔ دعا میں یہ توجہ نصیب ہوتی ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: ٹھیک ہے ماشاءاللہ بہت اچھا فیض ہے۔ اور اب یہ بات ہے کہ اس یعنی پانچ منٹ یہ کر لیں جو ابھی ہے اور دس منٹ اس پر شکر کی کیفیت کے ساتھ وہ متوجہ رہیں۔

نمبر چار: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح دس منٹ، لطیفہ سر دس منٹ، لطیفہ خفی پندرہ منٹ، خفی پر تھوڑا تھوڑا محسوس ہوتا ہے باقی پر صحیح محسوس ہوتا ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: تو فی الحال اس کو جاری رکھیں۔

نمبر پانچ: ابتدائی وظیفہ بلا ناغہ پورا کر لیا۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: سبحان اللہ ماشاءاللہ۔ اب ان کو پہلا والا دے دیں، دس منٹ کا ذکر۔

نمبر چھ: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ صفات ثبوتیہ پندرہ منٹ۔ اللہ تعالی کی صفات پر پختہ یقین حاصل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ درود شریف کی کثرت، نوافل اور تلاوت قرآن کی توفیق نصیب ہوئی۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: ماشاءاللہ، بڑی اچھی بات ہے۔ اب مراقبہ شیونات ذاتیہ، ان کو دے دیں۔

نمبر سات: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح دس منٹ، لطیفہ سر پندرہ منٹ۔ تمام لطائف پر ذکر محسوس ہوا ہے الحمدللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: اب اس کو لطیفہ خفی دے دیں پندرہ منٹ اور باقی دس دس منٹ۔

نمبر آٹھ: تمام لطائف پر دس منٹ ذکر اور مراقبہ شیونات ذاتیہ پندرہ منٹ۔ اس بات کا ادراک ہو کہ اللہ تعالی کی شان مختلف ہوتی ہے، ایک شان میں نہیں ہوتے۔ یعنی شان بدلتی رہتی ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: تو یہ ماشاءاللہ، یہ اب اس کو مراقبہ جو تنزیہ ہے، وہ دے دیں۔

نمبر نو: لطیفہ قلب دس منٹ محسوس ہوتا ہے، الحمدللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: اب اس کو لطیفہ قلب دس منٹ کی جگہ پندرہ منٹ کر لیں۔

نمبر دس: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ آیت الکرسی کا مفہوم پندرہ منٹ۔ آیت الکرسی میں اللہ تعالی کی جو صفات بیان کی، وہ دل و دماغ میں پختہ ہو گئے ہیں، ان کا استحضار نصیب ہوا ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: اب ان کو جو آیت کریمہ ہے، اس کا مفہوم بتا دیں نا کہ وہ اس کا مراقبہ کریں۔

نمبر گیارہ: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح پندرہ منٹ، محسوس ہوتا ہے، الحمدللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: تو اب ان کو دونوں لطیفے دس منٹ اور تیسرا لطیفہ ان کو پندرہ منٹ کا بتا دیں۔

نمبر بارہ: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ حقیقت کعبہ پندرہ منٹ، محسوس نہیں ہوتا۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: اس کو جاری رکھیں۔

نمبر تیرہ: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ معیت و دعائیت پندرہ منٹ، محسوس نہیں ہوتا (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: اس کو جاری رکھیں۔

سوال نمبر 23: آدھا کھانے کا مجاہدہ جاری ہے، لیکن اس ہفتے نفس کا غلبہ زیادہ رہا ہے۔ surbex z tablets اب لینا شروع کی ہیں جس کی وجہ سے بھوک زیادہ لگی ہے۔ بھوک لگتی ہے تو کھانا کھا لیتی ہوں لیکن سیر ہو کر نہیں کھاتی بلکہ بھوک رکھ کر کھا لیتی ہوں۔ لیکن کھانے کی مجموعی مقدار بڑھ جاتی ہے، اس ہفتے کنٹرول کرنے کی کوشش کروں گی ان شاءاللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: کنٹرول کرنے کی کوشش کر لیں۔ یاد رکھیں کہ جتنا demand ہے، آپ کو کھانے کی اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ انسان کا اپنا ہوتا ہے۔ باقی انسان جب موٹا ہوتا ہے، چربی ہوتی ہے، وہ چربی کام آتی ہے۔ جب انسان کو بھوک لگتی ہے، تو سمجھ لو کہ اس وقت چربی نکلنا شروع کر لیا۔ تو آپ اس وقت اگر آپ کھا لیں گے تو وہ چیز تو ان کو باہر سے چیز مل گئی تو اندر سے کیوں کھائیں گے؟ لہذا اس بات کو اپنے خیال میں رکھ کر اپنی چربی کے ذریعے سے زندہ رہنا سیکھ لیں۔

سوال نمبر 24: السلام علیکم حضرت۔ آج کل عمل کی بہت کمی ہے۔ مدرسوں میں زیادہ زور علم پر ہے، تربیت تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ پہلے زمانے میں طلبہ باقاعدہ تربیت کے لیے خاص طور پر جاتے تھے۔ کیا آج کے دور میں بھی علم سے فراغت کے بعد اپنی تربیت کے لیے اپنے شیخ کے پاس اصلاحِ نفس ہونے تک خاص طور پر جایا جا سکتا ہے؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: کیوں نہیں جایا جا سکتا؟ یہ تو ہے۔ علم حاصل کرنے کے بعد تو لازمی ہے۔ البتہ آج کل کے حالات کے مطابق، بقول تحقیق حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے، کہ بعد میں پھر توفیق کم ہی ملتی ہے۔ لہذا اپنی طالبعلمی کے دوران ہی اپنے شیخ سے تعلق رکھنا چاہیے تاکہ یہ چیز اس وقت تک اتنی develop ہو چکا ہو کہ جب عالم ہو جائے تو اس کو جاری رکھ سکے اور ماشاءاللہ اس کے فوائد حاصل کر سکے۔

many thanks hazrat i will listen and make notes on this some good information to try and understand jazakallah khair (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔

کسی سائل نے آڈیو بھیجی جس پر حضرت والا نے یہ جواب دیا۔

کون سا ذکر؟ اصل میں، میں آپ کی آواز کو سامنے نہیں لانا چاہتا ہوں۔ آپ یہ بات، مطلب آپ نے پھر آڈیو بھیج دی نا اور صرف لکھا کہ یہ والا ذکر۔ تو وہ جو ذکر آپ کریں گے تو لوگ آپ کو پہچانیں گے نہیں؟ تو اپنا حال تو شیخ کے علاوہ تو نہیں ظاہر کرنا چاہیے نا۔ تو جو آپ کو پہچانیں گے، تو آپ کی آواز سے آپ کو پہچان لیں، تو آپ کا حال ظاہر ہو گیا۔ لہذا یہی وجہ ہے کہ ہم اس پہ اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ کوئی آواز والی چیز نہ ہو۔

تو میرے خیال میں کہ جو سوال آئے تھے، جو باتیں آئی تھیں، ان کا جواب تو ہو گیا ہے۔ اگر کوئی رہ گیا ہو تو وہ مجھے اطلاع کر دیں۔ باقی یہ ہے کہ وقت ہو چکا ہے۔ کوئی سوال اگر ہو حاضرین میں سے اور یا پھر غائبین میں سے۔

سوال نمبر 24: حضرت یہ تجلیات صفات سلبیہ کا جو مراقبہ ہے۔ اس میں کیا نیت کرنی چاہیے، حالانکہ یہ تو سلبی ایک کیفیت کیا ہے؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)

جواب: دیکھیں، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالی بہت بلند درجات نصیب فرمائے۔ یہ اصل میں انہوں نے ہمارے عقائد کو مستحضر کرنے کے لیے مراقبات بنائے ہیں۔ یہ سب ہمارے عقائد ہیں۔ تجلیات افعالیہ، یہ عقیدہ ہے ہمارا۔ اور جو صفات ثبوتیہ، یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ شیونات ذاتیہ ہمارا عقیدہ، كل يوم هو في شان، وہ مطلب وہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اسی طرح قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد۔ یہ سلبیہ ہے۔ احد سلبیہ نہیں ہے، لیکن باقی تو سلبیہ ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ چیزیں مستحضر رکھیں ہم کہ اللہ ایسا نہیں ہے۔ اللہ ایسا نہیں ہے۔ یہ جو ہمارے خیال ہیں اللہ کے بارے میں وہ تو ایسا نہیں ہے کہ اللہ پاک نہ سوتے ہیں، نہ اللہ پاک فوت ہوتے ہیں، نہ اللہ جل شانہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں، نہ اس کی اولاد ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے، نہ اس کی بیوی ہے۔ یہ اس کے صرف جو انسانوں کے صفات ہو سکتے ہیں، اللہ پاک کے نہیں۔ تو اس کو مستحضر کرنے کے لیے صفات سلبیہ کا مراقبہ ہے۔ اور اس کو اس طریقے سے اس کو اپنے ذہن میں لا کر اس کا ایک فیض ہے، اور فیض کیا ہے؟ یہی انسان کا عقیدہ درست ہونا۔ وہ آ رہا ہے اللہ تعالی کی طرف سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ عقیدہ آیا ہے نا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شیخ کی طرف، تو ابھی شیخ ہی بتا رہا ہے۔ اور شیخ سے ہماری طرف۔ تو یہ بات ہے۔

حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ پاک نے یہ سبحان اللہ فکر عطا فرمائی تھی کہ یہ چیزیں انسان کی درست ہو جائیں۔ کیونکہ اس وقت بگاڑ انہی چیزوں میں تھا۔ بہت زیادہ بگاڑ تھا۔ وحدت الوجود کا جو عقیدہ تھا وہ بگڑا ہوا تھا۔ اس طرح یعنی صفات میں لوگ شریک کر لیتے تھے اللہ تعالی کے ساتھ شرک۔ تو وہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کے بارے میں تھا۔ اللہ کی صفات کے بارے میں گڑبڑ تھی لوگوں کی سمجھ میں۔ حتیٰ کہ لوگ اللہ پاک کے دیدار کا دعویٰ کر لیتے تھے کوئی کیا کیا دعوے اس کے ساتھ۔ تو اب لن ترانی یہ بھی تو وہی والی بات ہے نا۔ سلبیہ والی بات ہے۔ کہ اللہ کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ تو اس پر بھی حضرت نے زور دیا ہے۔

البتہ چونکہ نقشبندی سلسلے میں مراقبات ہوتے ہیں، تو مراقبات کا ایک سائیڈ افیکٹ بعض کے لیے کشف بھی ہے۔ تو وہ کشف جب لوگوں کو ہونے لگتا ہے تو اگر اس کی اصلاح نہ ہوئی ہو نا تو شیطان کو راستہ مل جاتا ہے۔ وہ ان کو پھر detract کرتا ہے۔ اس میں مختلف قسم کی چیزیں وہ شامل کر لیتا ہے۔ یعنی اگر وہ قرآن کے اندر کوشش کر سکتا تھا try کر رہا تھا، جس کے لئے اللہ پاک نے پورا ایک نظام بنایا۔ تو ایک انسان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اس کے اس کشف میں شامل نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے وہ تو ہر چیز میں کوشش کرتا ہے۔ وہ خواب میں کر سکتا ہے۔ کشف میں کر سکتا ہے۔ بہت ساری چیزوں میں وہ کر سکتا ہے۔ تو وہ ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے۔

بلکہ یہ بھی ایک کشف ہی ہے جو نہ مانے وہ بالکل نہ مانے ان کے اوپر لازم نہیں ہے۔ جو مجھ تک پہنچی ہے کہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آج کل کے دور میں حقیقت محمدی اور حقیقت احمدی اور یہ مراقبات لوگ نہ کریں تو اچھا ہے۔ اس سے کشف ہوتا ہے۔ اور کشف آج کل خطرناک ہے۔ اب بتائیں۔ وہ دوسرے زیادہ اچھے ہیں، حقیقت کعبہ، حقیقت قرآن۔ کیونکہ عبادات کے ساتھ تعلق ہے نا اس کا۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کو لوگوں نے mis understand کیا ہے۔ مس انڈرسٹینڈ کیا ہے۔ جتنی چیزوں سے حضرت بچانا چاہتے ہیں اسی میں لوگ پڑ رہے ہیں۔

نحمدك يا خير مامول واكرم مسؤول على ما علمتنا من مناجاة المقبولين من قربات. ان لله وصلاة الرسول. فصل على مختلف الدبور والقبول وانشعبت الفروع من الاصول. ثم نسالك بما سالك كل من السؤال ومنك القبول. اللهم اجعلني صبورا واجعلني شكورا واجعلني في عيني صغيرا وفي اعين الناس كبيرا. اللهم اضعف في ارضنا بركتها وزينتها وسكنها ولا تحرمني بركة ما اعطيتني ولا تفتني فيما حرمتني. اللهم احسنت خلقي فاحسن خلقي واذهب غيظ قلبي واجرني من مضلات الفتن ما احييتنا. اللهم لقني حجة الايمان عند الممات. رب اسالك خير ما في هذا اليوم وخير ما بعده. اللهم اني اسالك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه. اللهم اني اسالك العفو والعافية في ديني ودنياي واهلي ومالي. اللهم استر عورتي وامن روعتي. اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي واعوذ بعظمتك ان اغتال من تحتي. يا حي يا قيوم برحمتك استغيث اصلح لي شاني كله ولا تكلني الى نفسي طرفة عين. اسالك بنور وجهك الذي اشرقت له السماوات والارض وبكل حق هو لك وبحق السائلين عليك ان تقيلني وان تجيرني من النار بقدرتك. اللهم اجعل اول هذا النهار صلاحا واوسطه فلاحا واخره نجاحا. اسالك خيري الدنيا والاخرة يا ارحم الراحمين. اللهم اغفر لي ذنبي واخسئ شيطاني وفك رهاني وثقل ميزاني واجعلني في الندي الاعلى. اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك. اللهم رب السماوات السبع وما اظلت ورب الارضين وما اقلت ورب الشياطين وما اضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم اجمعين ان يفرط علي احد منهم او ان يطغى عز جارك وتبارك اسمك. لا اله الا انت لك شيء لا شريك لك سبحانك. اللهم اني استغفرك لذنبي واسالك رحمتك. اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي في رزقي. اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين. اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني واهدني لمختلف فيه من الحق باذنك. اللهم اجعل في قلبي نورا وفي بصري نورا وفي سمعي نورا وعن يميني نورا وعن شمالي نورا وخلفي نورا ومن امامي نورا واجعل لي نورا وفي عصبي نورا وفي لحمي نورا وفي دمي نورا وفي شعري نورا وفي بشري نورا وفي لساني نورا واجعل في نفسي نورا واعظم لي نورا واجعلني نورا واجعل من فوقي نورا ومن تحتي نورا اللهم اعطني نورا. اللهم افتح لنا ابواب رحمتك وسهل لنا ابواب رزقك. اللهم اعصمني من الشيطان. اللهم اني اسالك من فضلك. اللهم اغفر لي خطاياي وذنوبي كلها. اللهم انعشني واجبرني وارزقني واهدني لصالح الاعمال والاخلاق انه لا يهدي لصالحها ولا يصرف سيئها الا انت. اللهم اني اسالك رزقا طيبا وعلما نافعا وعملا متقبلا. اللهم اني اعوذ بك من علم لا ينفع وقلب لا يخشع ودعاء لا يسمع ونفس لا تشبع ومن الجوع فانه بئس الضجيع ومن الخيانة فانها بئست البطانة ومن الكسل والبخل والجبن والهرم وان ارد الى ارذل العمر ومن فتنة الدجال وعذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات. اللهم اني اسالك بكل اسم هو لك سميت به نفسك او انزلته في كتابك او علمته احدا من خلقك او استاثرت به في علم الغيب عندك ان تجعل القران العظيم ربيع قلبي ونور بصري وجلاء حزني وذهاب همي. اللهم الى جبريل وميكائيل واسرافيل والى ابراهيم واسماعيل واسحاق عافني ولا تسلطن احدا من خلقك علي بشيء لا طاقة لي به. اللهم اكفني بحلالك عن حرامك واغنني بفضلك عمن سواك. اللهم انك تسمع كلامي وترى مكاني وتعلم سري وعلانيتي لا يخفى عليك شيء من امري وانا البائس الفقير المستغيث المستجير الوجل المشفق المقر المعترف بذنبي اسالك مسالة المسكين وابتهل اليك ابتهال المذنب الذليل وادعوك دعاء الخائف الضرير دعاء من خضعت لك رقبته وفاضت لك عبرته وذل لك جسمه ورغم لك انفه. اللهم لا تجعلني بدعائك شقيا وكن بي رؤوفا رحيما يا خير المسؤولين ويا خير المعطين. اللهم اليك اشكو ضعف قوتي وقلة حيلتي وهواني على الناس يا ارحم الراحمين. يا ارحم الراحمين الى من تكلني الى عدو يتجهمني ام الى قريب ملكته امري ان لم تكن ساخطا علي فلا ابالي غير ان عافيتك اوسع لي. اللهم انا نسالك قلوبا اواهة مخبتة منيبة في سبيلك. اللهم اني اسالك ايمانا يباشر قلبي ويقينا صادقا حتى اعلم انه لا يصيبني الا ما كتبت لي ورضا من المعيشة بما قسمت لي. اللهم لك الحمد كالذي تقول وخيرا مما نقول. اللهم اني اعوذ بك من منكرات الاخلاق والاعمال والاهواء والادواء ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم ومن جار السوء في دار المقامة فان جار البادية يتحول وشماتة الاعداء من الجوع فانه بئس الضجيع ومن الخيانة فانها بئست البطانة وعجب المرء بنفسه ونفخنا في ديننا ومن فتن ما ظهر منها وما بطن ومن يوم السوء ومن ليلة السوء ومن ساعة السوء ومن صاحب السوء. وتقبل دعواتنا في اخينا محمد اشرف علي وكاكا صاحب وجميع متعلقينا وفي حق ابائنا وامهاتنا وجميع المؤمنين والمؤمنات وصلى الله تعالى على سيد الكائنات واكرم المخلوقات صلاة تسبق الغايات. ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم وتب علينا انك انت التواب الرحيم سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين.