سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر: 647

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. سلوک دراصل نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ تک کا وہ سفر ہے جس میں ہر لمحہ نفس کی خواہشات کو دبا کر اللہ کے احکامات کی پیروی کی جاتی ہے۔
  2. اللہ تعالیٰ سچے طالبوں کو ہدایت ضرور دیتا ہے، لیکن نفس کی اصلاح کے لیے رہنمائی کے ساتھ ساتھ سالک کی اپنی ذاتی کوشش اور عمل ناگزیر ہے۔
  3. خالص اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے اعمال پر لوگوں کی ناقدری اور طبعی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر اپنے روحانی مقصد پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
  4. غیر شرعی تقریبات میں شرکت سے گریز کرنا اور صلے کی تمنا کے بغیر تحفہ دے کر حکمت کے ساتھ معذرت کر لینا ایک درست عمل ہے۔
  5. اللہ تعالیٰ بندوں پر ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے، اس محبت کے مراقبے سے انسان کو گناہوں سے بچنے کی ترغیب ملتی ہے اور مایوسی دور ہوتی ہے۔
  6. روحانی معمولات میں ناغہ اور سستی سے بچنے کے لیے دلی ہمت پیدا کرنا اور کسی کو اپنا نگران مقرر کرنا بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔
  7. لوگوں کی تلخ باتوں کو اللہ کی طرف سے امتحان سمجھ کر صبر کرنا چاہیے اور ان سے الجھنے کے بجائے اپنے ذکر پر توجہ دینی چاہیے۔
  8. روحانی ترقی کا یہ سفر مختلف طے شدہ مقامات پر مشتمل ہے، جن میں توبہ، انابت، ریاضت، تقویٰ، صبر، توکل، تسلیم اور رضا بالقضاء شامل ہیں۔
  9. روحانی سفر میں بسط کی کیفیت سالک کو ہمت دلاتی ہے، جبکہ قبض کی حالت میں دل نہ چاہنے کے باوجود عمل کرنے سے زیادہ ترقی حاصل ہوتی ہے۔
  10. نفسِ مطمئنہ حاصل ہونے پر جب تمام حجابات دور ہو جائیں تو انسان کو احسان کی وہ کیفیت نصیب ہوتی ہے جس میں کامل حضوری کا احساس ہوتا ہے۔
  11. اپنے اندر خلوص پیدا کر کے روحانی رہبر کے سامنے اپنے عیوب کو پوری سچائی کے ساتھ بیان کرنا چاہیے تاکہ نفس کی صحیح تشخیص اور اصلاح ممکن ہو سکے۔
  12. نفس کی خواہشات لامحدود ہیں اور جتنا انہیں پورا کیا جائے یہ مزید بڑھتی ہیں، اس لیے سخت مجاہدے کے ذریعے ان کی مخالفت کرنا لازمی ہے۔
  13. انسان کی باطنی پاکیزگی کے لیے دل کا علاج ذکرِ اللہ سے اور نفس کی خامیوں کا علاج مجاہدے کی سختی سے کرنا بیک وقت ضروری ہے۔
  14. شیطان اور نفس کے فریب سے بچنے کے لیے کامل رہبر کی رہنمائی اور مسلسل اعمال درکار ہیں، جو بالآخر طالب کو اللہ کے فضل کا حقدار بنا دیتے ہیں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
معزز خواتین و حضرات، آج پیر کا دن ہے۔
پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور سالکین، سالکات کے احوال کی تحقیق بتائی جاتی ہے۔
اللہ پاک آپ کو مزید برکتوں سے نوازے، آمین۔


سوال نمبر 1: شاہ صاحب، یہ سچ ہے کہ میں کسی سلسلے سے مطابقت نہیں رکھتا اور نہ کسی کامل شیخ سے وابستہ ہوں۔
جب مجھے ڈھونڈنے پر کوئی نہیں ملا تو اللہ رب العالمین سے التجا کرنی شروع کر دی اور بہت سے اولیاء کرام جو رخصت فرما چکے تھے، رب کے حضور دو رکعت پڑھ کر ان کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی مگر محروم ہی رہا۔
طلب ذات باری تعالیٰ کی ہے کہ اس کی دوستی، قرب، عشق، محبت مل جائے اور میں اس کا اور وہ میرا ہو جائے۔
نہ مجھے جنات دیکھنے کی طلب ہے، نہ مستجاب الدعوات ہونے کی، نہ کشف کی اقسام ملنے کی، نہ آسمان اور زمین کی سیر کرنے کی اور نہ کسی کرامت کی۔
مگر یہ چیزیں جب عطا ہو جائیں تو رب تعالیٰ کا شکر ادا کر لے، لیکن یہ چیزیں بھی راستے کی رکاوٹ بن جاتی ہیں کیونکہ منزل تو صرف ایک ہی ہے۔
اگر بندہ ان چیزوں میں کھو گیا تو رہ گیا۔
اس لیے اس پر توجہ کم ہی رکھنا ہوتی ہے۔

شاہ صاحب، اتنے عرصے تک مرشد سے محروم رہنے کے سبب کبھی کبھی دل اکتا جاتا ہے اور ایک بے بس محتاجی سی محسوس ہوتی ہے۔
ایک خیال کہتا ہے، اب تک محروم ہو، کب تک اذیت دیکھتے رہو گے؟
خود ہی راستہ تمہارے لیے نہیں ہے ورنہ اب تک تم میں تیری رہنمائی ہو جانی چاہیے تھی اور یہ راہ مرشد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اور تم اس سے ہی محروم ہو، اب پلٹ جاؤ اپنی پہلی والی دنیا کی زندگی کی طرف اور فائدہ اٹھا لو، کھاؤ پیو، دوستی یاری لگاؤ، گھومو پھرو، عیش و عشرت اڑاؤ، طرح طرح کے کپڑے کوٹ جوتے پہنو، نہ دو اپنے کو اذیت۔ سب تمہارا ہی ہے اور سب ہی کچھ تم ہی۔
کوئی دوسرا تمہارا کچھ بھی نہیں۔

شاہ صاحب، مجھے معاف کر دیں ایسے جاہلانہ الفاظ پر، میں ایک چھوٹے بھائی کی طرح ہوں۔
میری عمر تقریباً 24 سال ہے، میری ایک بیٹی ہے۔ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرا ہاتھ تھام لے یا مجھے خود میں فنا ہونے کا راستہ دکھا دے۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: یہ تو ایک طے شدہ بات ہے کہ جو چاہتا ہے کہ اس کو ہدایت مل جائے، اس کو اللہ ہدایت دیتے ہیں۔
یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی چاہے اور اس کو ہدایت نہ ملے۔
اللہ پاک فرماتے ہیں: وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔
کوشش ضروری ہے اور کوشش صحیح طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔
تو مسئلہ یہ ہے کہ صرف اپنی اصلاح کرنی ہے۔

تو اصلاح کے لیے جو نظام ہے وہ بتا دیتا ہوں۔
وہ یہ ہے کہ رہنمائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جاتی ہے۔
لیکن اس پر عمل کرنا سالک کا اپنا کام ہوتا ہے۔
یہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص کسی پہ ایسی حالت طاری کر دے کہ خود بخود اس کی اصلاح ہو جائے اور سارا کچھ خود بخود ہونے لگے۔
یہ جاہل پیروں کی باتیں تو ہیں لیکن صحیح پیر اس طرح کبھی نہیں کہیں گے۔
تو یہ تو ماشاء اللہ آپ کو بھی علم ہے۔
تو اس وجہ سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کام خود کرنا پڑے گا۔

اگر آپ کو یہ مطلوب ہے اور جیسے ہمیں آپ نے لکھا ہے، اگر ہم پر آپ کو اطمینان ہے، یہ آپ کا اپنا کام ہے، اس میں میں آپ کو مجبور نہیں کر سکتا، اگر آپ کو اطمینان ہے تو میں جو عرض کروں گا اس کو اچھی طرح سن لیں اور اس پر عمل کرنا شروع کر لیں۔
راستہ ملتا جائے گا ان شاء اللہ۔
اللہ تعالیٰ کسی کو مایوس نہیں فرماتے۔

تو سب سے پہلے آپ یہ کر لیں کہ 300 دفعہ تیسرے کلمے کا پہلا حصہ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ اور 200 دفعہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔
یہ 40 دن تک بلا ناغہ، اس میں ناغہ نہیں ہوتا۔
اگر ناغہ ہو جائے تو پھر دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔
اور شیطان اس میں ناغہ ضرور کروانے کی کوشش کرتا ہے۔
تو یہ آپ کا اپنا کام ہے کہ اس کو کب مکمل کرتے ہیں۔
تو یہ تو آپ چالیس دن تک کریں گے ان شاء اللہ، اس میں ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔
کوئی وقت مقرر کر کے آپ کریں گے تو ان شاء اللہ ناغہ نہیں ہوگا۔

دوسرا یہ کہ ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰهِ، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، چونتیس دفعہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ، تین دفعہ کلمہ طیبہ، تین دفعہ درود ابراہیمی، تین دفعہ استغفار، ایک مرتبہ آیۃ الکرسی، یہ آپ نے ہر نماز کے بعد پڑھنا ہے۔
اور یہ جو نماز کے بعد والا ہے، یہ عمر بھر کے لیے ہے۔
اور یہ پہلا والا 40 دن تک کے لیے ہے۔
تو جب یہ پورا ہو جائے تو پھر آپ بتا دینا۔
ان شاء اللہ اگلا سبق ملے گا، لیکن یہ بنیادی سبق ہے، اس میں ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرما دے، باقی تو اللہ کی مدد سے سب کچھ ہوتا ہے۔


سوال نمبر 2: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ حدیث کا سبق، کبھی فرد کی خدمت، محبت، اللہ کو خوش کرنے کی نیت سے کرتے رہے۔
مگر پھر کیا وجہ ہے کہ جب اس خدمت یا محبت، اطاعت پہ اس فرد کی طرف سے کسی قسم کی قدر نہ ملی ہو تو اپنے دل میں تکلیف اور شکوہ ہو۔
کیا اس کی وجہ انسانی فطرت ہے کہ آخر وہ اپنے رشتوں سے محبت اور خیال رکھنے کے جواب میں کم از کم محبت اور توقع رکھتا ہے، یا اس کے اس عمل کو اسی level کا ہونا چاہیے کہ اس فرد کی ناقدری اور مسلسل حقارت کا جواب خود کو تکلیف بھی نہ دے کہ یہ سب تو میں نے اصل میں اللہ تعالیٰ کے لیے کیا تھا؟
اگر ایسا required ہے تو پھر اس کی تکلیف سے کیسے خود کو بچایا جائے؟
سوال درحقیقت میرے ذہن میں یہ ہے کہ کیا ایسا required اللہ کی طرف سے ہے، ورنہ یہ سب خدمت وغیرہ جو اپنی طرف سے اللہ کے لیے ہے، وہ ضائع تو نہیں جائے گی؟
عملی طور پر تو دوسروں کے نامناسب رویے کے باوجود اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرتا رہے انسان مگر دل میں تکلیف اور غصہ بھی ہو، کیا یہ غلط ہے؟
اگر نیت اللہ تعالیٰ کے لیے تھی تو پھر تکلیف کیوں؟

اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، فلاں لاہور سے ہوں۔
آپ سے تین سال سے بیعت ہوں اور فلاں صاحبہ کو رپورٹ دیتی ہوں۔
بڑی مہربانی، اس بات کے اوپر لکھ کے بھیجی ہے، مہربانی فرما دیں۔
کیونکہ یہ میرے لیے اہمیت رکھتا ہے کہ میں نے اپنے سب تعلق داروں کے ساتھ معاملات میں اصول رکھنے کی کوشش کی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، اللہ نے میری بڑی عزت رکھی مگر ہمیشہ اب، مگر اب دل کا یہ حال ہو تو میں خوفزدہ ہوں کہ میرا سارا کیا کرایا تباہ نہ ہو جائے اور اللہ کے حضور خالی ہاتھ نہ ہوں۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: اب جو آپ نے سوال کیا ہے تو سوال اس میں، کچھ چیزیں آپ نے شاید قصداً مخفی رکھی ہیں۔
تو میں اس کو کریدنے کی کوشش تو نہیں کروں گا لیکن جس انداز میں آپ نے پوچھا ہے، اس انداز میں آپ کو جواب دوں گا۔
اگر آپ نے clearly پوچھا ہوتا کہ کس کے ساتھ آپ کا معاملہ ہے تو میں clearly بات کر لیتا۔
لیکن اب تو جس level کی آپ نے بات کی، اس level کا جواب دے دوں گا۔

ایک ہوتی ہے طبعی بات، ایک ہوتی ہے عقلی بات۔
عقلی تو یہی ہے جو آپ نے کہی ہے۔
جب آپ نے اللہ کے لیے کیا ہے، پھر کسی اور سے اس کا صلہ نہیں مانگنا چاہیے۔
ویسے بھی میں ایک نظیر کے طور پر بات کرتا ہوں، ویسے مسئلہ اس کا تو نہیں ہے لیکن نظیر کے طور پر کہ صلہ رحمی میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اصل صلہ رحمی وہی ہے کہ دوسرا قطع رحمی کر رہا ہو اور یہ صلہ رحمی کر رہا ہو۔
تو پھر یہ واقعی صلہ رحمی ہے، ورنہ پھر تو بدلہ ہے۔
تو اس طریقے سے آپ کے اس سوال میں بھی بات یہ ہے کہ عقلی بات تو یہی ہے۔
کہ آپ کو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کہ وہ میرے ساتھ کیا رویہ رکھتے ہیں اگر آپ نے اس کے ساتھ اللہ کے لیے تعلق رکھا ہے اور اللہ کے تعلق کی وجہ سے آپ اس کی خدمت کر رہی ہیں۔

لیکن اگر طبعی طور پر ایسا محسوس ہو رہا ہے تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
کیونکہ طبیعت انسان کی پابند نہیں ہوتی ہے اس طرح آسانی کے ساتھ۔
وہ جب طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے، پوری اصلاح ہو جاتی ہے، پھر اس طرح کا مسئلہ نہیں ہوتا۔
لیکن وہ تو ایک کام ہے جو بعد میں ہو سکتا ہے۔
ابھی تو آپ پہلی طبیعت پر ہی چل رہی ہیں۔
تو پہلی طبیعت میں یہ ہے کہ تکلیف تو ہو گی۔
اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کہ operation کسی کا ہو رہا ہو۔
تو اب اس کی کوئی چیز اگر کاٹی جا رہی ہے، اس کو anesthesia نہیں دیا تو تکلیف تو اس کو ہو گی۔
لیکن خوش بھی ہو گا کہ میرا مرض اس سے زائل ہو جائے گا اور صحت مجھے ہو جائے گی۔
تو صحت ملنے کی وجہ سے خوش ہوتا ہے اور موجودہ تکلیف پہ فریاد بھی کرتا ہے۔
تو بات یہ ہے۔
تو آپ طبعی چیزوں اور عقلی چیزوں کو گڈ مڈ نہ کریں تو پھر اس قسم کی بات نہیں پیش آئے گی۔


Question No: 3: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ حضرت جی۔
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ 200، لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ 400، حَقّ 600، اللّٰهُ 500، 10 minutes مراقبہ on qalb, rooh, sirr, khafi, akhfa, 15 minutes مراقبہ معیت۔
Done for 1 month, alhamdulillah, now for future waiting for your instructions, احوال۔
Very ashamed of my sinful life, feeling closeness with Allah subhanahu wa ta'ala, very little meeting people, jazakallah khair۔

[Q&A Session November: 13, 2023, Session No. 647]

جواب: ماشاء اللہ، یہ مراقبہ معیت کے ساتھ آپ مراقبہ دعائیہ بھی شامل فرما لیں۔
یعنی جب آپ کو احساس ہو کہ اللہ میرے ساتھ ہے تو اللہ پاک سے مانگنا شروع کر لیں۔
اور آج کل جو بہت زیادہ مانگنے کی چیز ہے، وہ فلسطین میں ہو رہا ہے، اللہ تعالیٰ سے مسلمانوں کے لیے مدد مانگیں۔
اور ہم سب کے لیے عافیت۔
اور دجال اور دجالی فتنوں سے حفاظت۔
اور امام مہدی علیہ السلام اگر ہمارے وقت میں تشریف لائے تو ان کے ساتھ ہونے کا۔
تو یہ دعائیں ساتھ کریں ہمارے لیے بھی، اپنے لیے بھی، اور یہ باقی چیزیں اپنی جاری رکھیں۔


سوال نمبر 4: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ حضرت جی۔
میں شادیوں میں شرکت کرنے کے حوالے سے کافی پریشان ہوں، اس لیے کہ شادیوں میں جو آج کل حالات ہیں وہ شرکت کرنے والے نہیں ہیں۔
میں تو سب سے معذرت کر لیتی ہوں، شادی سے چند دن پہلے جا کر تحفہ دے آتی ہوں۔
کیا میرا عمل درست ہے؟

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: ہاں بالکل آپ کا عمل درست ہے۔
البتہ اس پہ کہ بدلے کی نیت نہ کیا کریں کہ وہ آپ کو بدلہ دیں گے۔


Question No: 5: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ سر، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ مراقبہ went so well, started with an intention to have connection with Allah Subhanahu wa Ta'ala, insha'Allah will do my effort.
سر، you are required to do du'a for the goal to achieve.
Insha'Allah will inform you after the completion of this month.
I will tell you what happened today.
I did not put any pressure.
It was the niyyah and most importantly, Allah Subhanahu wa Ta'ala blessed me with His help.

[Q&A Session November: 13, 2023, Session No. 647]

جواب: مَاشَاءَ اللّٰهُ، اللہ تعالیٰ ماشاء اللہ مزید توفیق عطا نوازے، اور پھر اپنے مراقبہ کے بارے میں مجھے بتا دیں۔


Question No: 6: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ شاہ صاحب۔
I have completed my wazifa: la ilaha illallah 200 times, la ilaha illahu 400 times, haqq 600 times, and Allah 100 times.
Please guide further.
جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا۔

[Q&A Session November: 13, 2023, Session No. 647]

Answer: Now you should do Allah 300 times; the rest will be the same insha'Allah.


سوال نمبر 7: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ، آپ نے جو ذکر بتایا ہوا ہے لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ 200 مرتبہ، لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ 400 مرتبہ، حَقّ 600 مرتبہ، اللّٰهُ 500 دفعہ۔
10 منٹ، 10 منٹ، 10 منٹ، 10 منٹ، 10 منٹ، یعنی مطلب یعنی وہ تصور کر رہے ہیں کہ لطیفۂ قلب، لطیفۂ روح، لطیفۂ سر، لطیفۂ خفی، لطیفۂ اخفیٰ پر ذکر ہو رہا ہے۔
پانچوں لطائف سے ہلکی ہلکی آواز میں اللہ اللہ محسوس ہوتا ہے۔
اور 15 منٹ مراقبہ معیت کے ساتھ قلبی دعائیں، امت کے لیے دعائیں اور نماز میں خشوع خضوع کی کوشش۔
اسے ایک مہینہ مزید ہو گیا ہے۔
دو دن بخار کی وجہ سے ناغہ ہو گیا تھا، جب آپ سے بات ہوئی تھی، میسج آیا تھا تو کچھ دن ذکر میں توجہ رہتی ہے۔
نماز میں بھی سکون محسوس ہوتا ہے، بعد میں پھر بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔
آگے آپ گائیڈ کریں۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: آپ اب مجھے اپنے عیوب جتنے بھی عیوب ہیں، آپ اپنے اندر نوٹ کر چکے ہوں، تو وہ ایک لسٹ پوری بتا کے وہ مجھے بھیج دیں۔
پھر ان شاء اللہ مزید بات ہو گی اور ذکر یہی جاری رکھیں۔


Question No: 8: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ فلاں from Karachi, I have completed third level zikr for 40 days.
Please advise further.

[Q&A Session November: 13, 2023, Session No. 647]

Answer: Now fourth level you can start insha'Allah.


سوال نمبر 9: جی، دل میں حرکت بھی محسوس ہوئی تھی جیسے کہ گوشت کا ٹکڑا back and forth motion کرے۔
مراقبہ کے دوران دماغ میں جو آئے جیسے کمر سیدھی ہو جائے، ہاتھ دعا کی حالت میں آ جائے، تو خود بخود جسم حرکت شروع کرتا ہے اور اس حالت میں آ جانے کے، میرے روکنے کے باوجود۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: ٹھیک ہے، ماشاء اللہ، اگر آپ کو وہ محسوس ہوتا ہے قلب میں تو آپ لطیفۂ روح پہ یہی ذکر کریں۔
دس منٹ، یعنی اس ذکر کے بعد دس منٹ وہ دل میں یہ کیفیت محسوس کریں کہ اللہ اللہ ہو رہا ہے۔
اور 15 منٹ لطیفۂ روح میں۔
لطیفۂ روح کی پوزیشن یہ ہے کہ آپ اگر ناک سے پاؤں تک درمیان میں جسم کو بالکل آدھا کریں تو جو لائن اس کو آدھا کر رہی ہے، اس لائن سے جتنا بائیں طرف دل ہے، اتنا دائیں طرف اتنے فاصلے پہ لطیفۂ روح ہے۔
تو بس اسی پہ 15 منٹ تصور کر لیں۔
10 منٹ لطیفۂ قلب پر۔
اور 15 منٹ لطیفۂ روح پر، ان شاء اللہ یہ ایک مہینے کے لیے۔


سوال نمبر 10: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ!
احوال، حضرت جی معمولات اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ معمول کے مطابق ہو رہے ہیں۔
ذکر حضرت جی، میرا ذکر ایک مہینے کے لیے 200، 400، 600، اور ساڑھے 15 ہزار اللہ، اللہ کے فضل اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے مکمل۔
حضرت جی، کیفیت میں خاص تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی۔
نمازیوں کے جوتے سیدھے کرنے کا مجاہدہ ابھی جاری ہے۔
میرے لیے آگے کیا حکم ہے؟
حضرت جی، کوتاہیوں پر معافی کا طلبگار ہوں۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: ذکر آپ 16 ہزار مرتبہ کریں، باقی چیزیں وہی ہیں ان شاء اللہ۔


سوال نمبر 11: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ حضرت جی۔
اللہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے جب یہ خیال کرنا کہ دل اللہ کہہ رہا ہے اور اللہ محبت سے دیکھ رہے ہیں، اس میں میرا دل اللہ اللہ کرنے کا خیال تو ہو جاتا ہے، لیکن جب یہ خیال کرتا ہوں کہ اللہ محبت سے دیکھ رہے ہیں تو اوقات یاد آ جاتی ہے، کرتوت ایسے ہیں پھر بھی محبت کے ساتھ کیسے؟
عملی طور پر جانتا ہوں کہ مایوسی گناہ ہے اور اللہ کی رحمت ہر حال میں میرے گناہوں سے وسیع ہے، بس سوچ سے چھٹکارا اکثر مشکل ہو جاتا ہے، گائیڈ کیجیے گا۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: اصل بات یہ ہے کہ اس میں بے شک ہم بہت گناہ گار ہیں، لیکن اللہ پاک ہم پر ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔
تو مائیں بچوں کے ساتھ محبت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں یا نہیں دیکھتیں؟
بس آپ تصور کریں کہ اللہ پاک تو ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ہے، تو مجھے محبت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
اور مجھے گناہ نہیں کرنا چاہیے۔
اور ساتھ ہی مراقبہ کریں۔


Question No: 12: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ۔
I hope you are well shaykh, I have a couple of different problems.
I am really struggling to keep up with my ma'mulat.
I have still not been able to complete my first 40 days with third kalima because each time I start, within a week I forget to do it one day and have to start again.
I had set the time to do my ma'mulat after fajr, but usually I have a lot of work to do, and forget about doing my ma'mulat.
As a result, I find it harder to start again because I think I will just forget again and have to start again.
I also had an intention to start listening to your bayanaat, but when I sit down at the end of the day, I think that I am too tired to listen, and want to watch something entertaining instead.
As a result, I feel that I am starting to lose my connection with Allah, and have gone back into my bad habits, for example watching movies and some of the other ones that I spoke with you about.
What should I do?

[Q&A Session November: 13, 2023, Session No. 647]

جواب: مرض کی تشخیص تو آپ نے کر لی۔
اب علاج سن لیجئے گا۔
اصل بات یہ ہے کہ کسی کو اپنے اوپر نگران بنا دیں وہاں۔
جو آپ سے پوچھے کہ آپ نے ذکر کیا؟
اور اس کی بات کو وزن دیں کہ وہ آپ کو بتائیں تو آپ ذکر کر لیں۔
جس وقت آپ کا ذکر ہو، اس وقت وہ آپ سے پوچھے کہ ذکر کر لیا یا نہیں۔
تو اس کا ان شاء اللہ فائدہ ہوگا۔

اور دوسرا بیانات کے سلسلے میں یہ بات ہے تو مطلب یہ ہے کہ آپ entertainment کی بات اگر کر رہے ہیں تو ہمارا جو کلام ہے اس کے ذریعے سے آپ تھوڑا سا entertainment کر کے پھر اس کے بعد بیان سن لیا کریں۔
مطلب دو تین کلام سن لیں۔
پھر اس کے بعد کوئی چھوٹا سا بیان سن لیں۔
اس طریقے سے ان شاء اللہ الْعَزِيْز نہیں ہوگا۔
باقی ہمت سے ہی کام ہوتا ہے۔
بے ہمتی سے تو کام خراب ہوتا ہے۔
تو آپ اپنے اندر ہمت پیدا کریں۔
ورنہ آپ تو کوئی کام بھی نہیں کر سکیں گے۔
بس جیسے دنیا کے کاموں میں انسان ہمت کرتا ہے تو پھر حاصل ہو جاتا ہے، تو اس میں بھی ہمت کر کے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔


سوال نمبر 13: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔
حضرت شاہ صاحب! میرا ذکر دس منٹ لطیفۂ قلب، دس منٹ لطیفۂ روح، پندرہ منٹ لطیفۂ سر تھا۔
اس کی برکت سے تینوں جگہ اللہ اللہ محسوس ہوتا ہے۔
حضرت ڈیپریشن بہت ہوتا ہے، طبیعت کافی بوجھل رہتی ہے اور نیند بھی آتی ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، ذکر میں ناغہ نہیں ہوا۔
چھوٹی بہن کا پندرہ منٹ کا لطیفۂ قلب کا مراقبہ تھا۔
دل میں اللہ اللہ محسوس ہوتا ہے۔
اس ماہ گھر والوں نے بہت سختی رکھی، ہر بات پر ڈانٹ پڑی، جبکہ اس سے پہلے گھر والوں کا رویہ ایسا نہیں تھا۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: ماشاء اللہ، آپ ہمت سے کام لیں۔
اور ابھی آپ تینوں لطائف، لطیفۂ قلب، لطیفۂ روح، لطیفۂ سر، اس پہ دس دس منٹ اور لطیفۂ خفی پہ 15 منٹ وہ کر لیں۔
باقی یہ ہے کہ لوگوں کی باتوں سے ڈیپریشن میں نہ آئیں، بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان سمجھیں۔
اور اس پر اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے گا۔
ان کے ساتھ الجھیں بھی نہیں، بس اپنے کام سے کام رکھیں۔
اور جو آپ کی چھوٹی بہن ہے، اس کو 15 منٹ کا مراقبہ وہ دے دیں، تو اب 10 منٹ لطیفۂ قلب کا کریں اور 15 منٹ لطیفۂ روح کا بتا دیں۔


Question No: 14: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ۔
Respected hazrat sahib, I pray that you and your loved ones are well ameen.
Hazrat, I completed this month's zikr without miss alhamdulillah.
Verbal zikr 200 times la ilaha illallah, 400 times la ilaha illahu, 600 times haq, and 500 times allah.
Muraqaba 20 minutes allah allah on latifa e qalb.
Regarding muraqaba, I sometimes feel the zikr but most times I do not and my mind goes elsewhere.

[Q&A Session November: 13, 2023, Session No. 647]

Answer: مَاشَاءَ اللّٰهُ، now you should do Allah Allah thousand times.
And the rest will be the same and the same muraqaba in sha allah.


سوال نمبر 15: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ۔
نمبر ایک: اسم ذات کا زبانی ذکر 9500 مرتبہ، کافی عرصے سے یہی ذکر ہے، صحت کی خرابی کی وجہ سے اب ذکر بھی مشکل سے پورا کرتی ہے، کبھی تو یہ بھی ادھورا رہ جاتا ہے، اب اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہتی ہے کہ مزید ذکر بھی کر سکوں گی۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: پہلے اس کو ایک مہینہ مکمل بغیر کمی کے وہ کر لیں، پھر اس کے بعد مزید بڑھاؤں گا ان شاء اللہ۔


سوال نمبر 16: نمبر دو:
لطیفۂ قلب 10 منٹ، لطیفۂ روح 15 منٹ۔
آپ کی اجازت سے کھلی آنکھوں سے ذکر کرتی ہے لیکن لطیفۂ روح پہ ذکر محسوس نہیں ہوتا، پہلے بند آنکھوں سے ذکر کرتی تھی تو قلب پر محسوس ہوتا تھا، اب قلب پر بھی محسوس نہیں ہوتا۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: تو اگر ایسا ہے تو پھر لطیفۂ قلب پر وہ ذکر کرتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔


سوال نمبر 17: نمبر تین: اسم ذات کا لسانی ذکر پانچ ہزار مرتبہ، پہلے ذکر کی مقدار پوری نہیں ہو پاتی تھی، لیکن اب الحمد للہ آسانی سے پورا کر لیتی ہے۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: ماشاء اللہ، تو ابھی ساڑھے پانچ ہزار مرتبہ ذکر لسانی کریں۔


سوال نمبر 18: نمبر چار:
تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر، مراقبۂ حقیقت کعبہ 15 منٹ، بیعت سے پہلے بھی ایک عقیدہ راسخ تھا کہ ذات مسجود حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ذات مبارکہ اور خانہ کعبہ صرف سمت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ساجدین کے لیے مقرر فرمایا ہے اور خانہ کعبہ کی تعظیم بھی صرف اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تعظیم کا حکم فرمایا ہے ورنہ اس میں ذاتی کوئی عظمت نہیں ہے۔
اس مراقبے میں یہ عقیدہ مزید واضح ہوگیا نماز میں اگر غفلت نہ ہو تو آسانی سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے نماز کے لیے کھڑی ہوں لیکن اکثر غفلت ہی رہتی ہے، حضور قلب میں کمی رہتی ہے۔
اب تو نسیان کا غلبہ بھی کافی زیادہ ہو گیا ہے۔
آدھا کھانے کا مجاہدہ جاری ہے۔
اس ہفتے مجاہدے میں کمزوری ہوئی ہے۔
میرے اندازے کے مطابق کھانے کی مقدار کبھی تہائی تک پہنچ جاتی تھی۔
اس کے علاوہ fruits زیادہ کھائے ہیں اور چائے بھی دونوں وقت آدھا کپ لی ہے۔
دراصل اس ہفتے کے اکثر دن امی کے یہاں رہی ہوں اور امی کے گھر میں میرے کھانے کی مقدار گھر کے مقابلے میں پہلے بھی بڑھ جاتی تھی۔
کیونکہ گھر میں کھانے کی زیادہ فرصت نہیں ملتی اور امی کے گھر فارغ ہوتی ہوں۔
اس بار امی کے گھر کافی control رہا ہے کھانے پر، لیکن گھر کے مقابلے میں زیادہ کھانا کھایا ہے۔
آج اس نیت سے روزہ رکھا ہے کہ کثرتِ طعام کا کچھ مداوا ہو جائے۔
اب اگر مزید کچھ سزا تجویز فرمائیں تو ان شاء اللہ عمل کرنے کی کوشش کروں گی۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: ٹھیک ہے، اس طرح ہے کہ آپ جو نماز ہے، اس نماز کی غفلت آپ اپنے ارادے سے دور کر لیں، یعنی نماز شروع کرنے سے پہلے باقاعدہ اس کی نیت کر لیں کہ میں اس میں غافل نہیں ہوں گی۔
اور نماز تو اس میں جو الفاظ ہیں، کم از کم وہ اس کی طرف آپ کی توجہ ہونی چاہیے۔
اور باقی یہ کہ اللہ کے سامنے کھڑی ہیں۔


سوال نمبر 19: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ حضرت شاہ صاحب!
میری خالہ جان کا 20 منٹ کا لطیفۂ قلب کا ذکر تھا۔
ذکر کو ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا، اللہ اللہ محسوس ہوتا ہے، دل میں سکون محسوس ہوتا ہے اور ذکر بلا ناغہ جاری ہے۔
دوسروں کے احوال پوچھ کر بتانے میں کون سی احتیاط کو مدنظر رکھیں تاکہ جو پابندی ہے کہ کسی کو احوال نہ بتائے جائیں اور نہ پوچھے جائیں، اس میں جو نقصان ہے اس سے بچا جا سکے۔
اس کے بارے میں رہنمائی کی درخواست ہے۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: آپ کی خالہ اگر خود میسج کر سکتی ہیں تو خود ان کو میسج کرنے کا بتا دیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
اور یہ بات ہے کہ ان کا جو 20 منٹ کا لطیفۂ قلب ہے تو اب 10 منٹ کے لیے لطیفۂ قلب کا کر لیں، 15 منٹ لطیفۂ روح کا بتا دیں۔


سوال نمبر 20: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ!
حضرت جی، بندہ کے احوال پیش ہیں۔
ذکر 200، 400، 600 اور 2000، اہتمام نہیں ہے۔
نماز فجر کا مسئلہ رہتا ہے، توبہ بھی ہوتی رہتی ہے اور آنکھ اور زبان اور سستی اور دیگر رذیلے بھی رہتے ہیں۔
اپنی طبیعت میں uncertainty بہت زیادہ ہے، اچانک غفلت یا بھول طاری ہو جاتی ہے۔
اس وجہ سے سخت پریشانی اور خطرہ لاحق رہتا ہے، کوئی عہد، ارادہ وفا نہیں ہو پاتا۔
اس کے باوجود دل سے سمجھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ صحیح طریقۂ اصلاحِ نفس، عقل اور دل والا ہے جس پر چلنا ہے۔
دوران مہینہ احوال میں اتار چڑھاؤ کے باعث آخر میں یاد نہیں رہتا کہ کون سے رذیلے زیادہ زور آور ہیں اور کون سا نسبتاً control ہے۔
حضرت والا سے رہنمائی کی درخواست ہے۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: پہلے آپ یہی کر لیں کہ اپنے جو معمولات ہیں اس کو مجاہدہ سمجھ کر اس کو بہت پابندی کے ساتھ کریں۔
اس میں کوئی بھول چوک نہ کریں۔
باقی چیزیں حسب حال۔


سوال نمبر 21: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ!
میرے مراقبات دو ماہ 15 دن سے جاری ہیں، اگلے مرحلے کی رہنمائی فرمائیں۔
مراقبات: 5 منٹ کے لیے مراقبۂ دل پر اللہ اللہ، 5 منٹ روح پر، 5 منٹ سر پر، 5 منٹ لطیفۂ خفی اور 5 منٹ اخفیٰ پر۔
15 منٹ مراقبۂ شیونات ذاتیہ لطیفۂ سر پر کرتا ہوں۔
کیفیت: مراقبہ کے دوران دھیان فوکس کرتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کرنے والا ہے عطا، زندگی اور یہ سب کچھ کرنے والا ہے۔
یہ فیض اللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شیخ پر اور شیخ سے میرے لطیفۂ سر پر آتا ہے۔
کیفیت: اعمال میں کمزوری واقع ہو رہی ہے۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: اچھا ابھی اس طرح کر لیں کہ جو مراقبۂ شیوناتِ ذاتیہ ہے، اس کو آپ، یعنی صفات سے ذات کی طرف توجہ کرنا، یہ آپ اس کو ذہن میں رکھیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ کے شیونات جو ہیں ذاتیہ، اس کا جو فیض ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ رہا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے شیخ پر اور شیخ سے آپ کے لطیفۂ سر پر۔
اس طریقے سے کریں ان شاء اللہ۔
باقی جو اعمال میں کمزوری ہے، اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔


سوال نمبر 22: اَلسَّلَامُ حضرت!
پچھلے ہفتے آپ نے کم کھانے کا مجاہدہ دیا، آپ نے کہا تھا کہ ہر ہفتے مجھے رپورٹ دینی ہے۔
تو حضرت میں آج کل روزے رکھ رہی ہوں، اس سے کھانے میں میرا balance ہو گیا، لیکن ایک دو دفعہ بھول گئی تھی، پوری پلیٹ بھر کے کھائی۔
پھر یاد آیا کہ میں نے تو ابھی آدھی پلیٹ کھانی تھی، لیکن ان شاء اللہ آگے بھی کوشش کروں گی کہ آدھے پر آ جاؤں۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

جواب: بالکل ٹھیک ہے، کوشش جاری رکھیں۔


سوال نمبر 23: AUDIENCE
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ حضرت!
محمد فاروق نام ہے جی، پشاور سے تعلق ہے۔
آپ کی ایک کتاب پڑھی تھی جذب و سلوک کے حوالے سے تو وہ address دیکھ کے، لیکن آج کل job اسلام آباد میں ہے تو ابھی پہنچا ہوں پہلی دفعہ، بہت خوشی ہوئی ہے آپ کو دیکھ کے۔
سر جی، یہ سلوک کیا چیز ہے، سلوک کے معنی؟
اور احسان مطلب ان دونوں میں فرق کیا ہے؟
اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں، جزاک اللہ۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

SPEAKER
ماشاء اللہ، بڑا اچھا سوال ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ نے واقعی حقیقتاً جذب و سلوک پڑھا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس کا فائدہ آپ کو ہوا ہے۔
دیکھیں، اللہ پاک فرماتے ہیں قرآن پاک میں:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔
یہ سلوک کی بنیادی آیت کریمہ ہے، سلوک کو define کرنے والی۔
کہ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ نفس کے اندر دونوں چیزیں رکھی ہیں صلاحیت، تقویٰ کی بھی اور فجور کی بھی۔
یعنی انسان فجور کی طرف بھی جا سکتا ہے، تقویٰ کی طرف بھی۔
تقویٰ کیا ہے، فجور کیا ہے، وہ بتاتا ہوں۔
نفس کی خواہشات ہیں۔

مثلاً بڑا بننے کا شوق۔
نفس کی خواہش۔
اور
یہ بات ہے کہ لذتوں کی طلب نفس کا شوق ہے۔
اس طرح مال کو جمع کرنے کا شوق، یہ بھی نفس کا شوق ہے۔
اس طرح اس سے مطلب مختلف قسم کے شوق بنتے ہیں۔
خواہشات بنتی ہیں۔
اور وہ لامحدود ہوتے ہیں۔
اس پہ کبھی انسان کو وہ نہیں ہوتی، سیری نہیں ہوتی۔
نفس کی خواہشات ہیں۔

دوسری طرف اللہ پاک کے احکامات ہیں۔
ان خواہشات کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں۔
نفس کی خواہش موجود ہو، اس کے مقابلے میں اللہ کا حکم ہے، اس اللہ کے حکم کو پورا کرنا، نفس کی خواہش کی پرواہ نہ کرنا، یہ تقویٰ ہے۔
ٹھیک ہے؟
اور نفس کی خواہش کو پورا کرنا اس وقت جبکہ اللہ کا حکم موجود ہے، اس کو چھوڑ کر، یہ فجور ہے۔
اور یہ، یہ دونوں کی صلاحیت نفس میں موجود ہے۔
ہر وقت یہ، گویا کہ ہر وقت دونوں چیزیں ہمارے سامنے ہیں۔
نفس کی بات مانیں، اللہ کی بات مانیں۔
At each and every instant.

تو اب یہ بات ہے کہ ہم کس طرح ہر آن، ہر وقت، ہر جگہ، ہر چیز میں اللہ کے حکم کے پابند ہو جائیں اور نفس کی جو خواہشات ہیں اس پہ عمل نہ کریں۔
یعنی نفس کی خواہشات کو دبا دیں۔
یہ تزکیۂ نفس کے، کہلاتا ہے۔
اس کو تزکیۂ نفس کہتے ہیں۔
اس نفس کے تزکیہ کے ہم مکلف ہیں۔
کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا۔
یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔
وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔
اور یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو اسی حالت پہ چھوڑ دیا، خراب حالت میں۔
خراب حالت اس لیے کہ انسان کا جو نفس ہے وہ نفسِ امارہ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے نا۔
یعنی خرابیوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔
لیکن انسان کی ذمہ داری ہے کہ اس کو نفسِ مطمئنہ تک لے جائے۔
تاکہ ان خرابیوں سے بچ جائیں۔
یہ انسان کی ذمہ داری ہے۔
اپنی تربیت ایسی کروائے کہ نفسِ مطمئنہ حاصل کر لے۔

تو جب یہ والی بات ہے تو نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ تک کا جو سفر ہے، یہ سلوک ہے۔
ٹھیک ہے؟
نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ تک کا جو سفر ہے، اس کو سیر الی اللہ بھی کہتے ہیں۔
سیر الی اللہ کیوں کہتے ہیں؟
سیر الی اللہ اس لیے کہتے ہیں کہ دیکھو، اللہ کے حکم کو نفس کی خواہش کے مقابلے میں پورا کرنا ہے تو سیر الی اللہ ہو گیا نا، یعنی اللہ تک جانا۔
نفس کو چھوڑ کے اللہ کی، اللہ کی طرف جانا، یہ سیر الی اللہ ہے۔
اسی کو سلوک بھی کہتے ہیں۔
جب سلوک پورا ہو جاتا ہے تو سیر الی اللہ مکمل ہو جاتا ہے۔
ٹھیک ہے نا، یہ بات ہے۔

تو اب جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی، تو اب یہ سلوک طے کیسے ہو گا؟
دیکھیے آپ کوئی بھی چیز دیکھیں نا بنتے ہوئے، مثلاً مسجد فیصل کو دیکھیں آپ۔
تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ یہ کیسے بنی ہو گی۔
لیکن اگر آپ اس کے انجینئر کے ساتھ بیٹھ جائیں، تو آپ کو اس کا ایک ایک step بتا دے گا۔
کہ یہ ہوا تھا، پھر یہ ہوا تھا، پھر یہ ہوا تھا، پھر یہ ہوا تھا۔
مطلب پہلے وہ کاغذ کے اوپر سارا کچھ ہو گیا تھا، پھر اس کے بعد material آ گیا، پھر اس کے بعد بتایا گیا، مطلب پھر supervision ہوئی، پھر مطلب سارے steps مطلب جو ہیں نا وہ تھے۔
کیونکہ کوئی بھی کام کرنے کے لیے اس کو باقاعدہ انتظام کے ساتھ، ایک طریقے کے ساتھ step by step کیا جاتا ہے۔
تب کامیابی ہوتی ہے۔
تو اسی طریقے سے جو سلوک ہے، یہ بھی step by step کرنا ہوتا ہے۔
ان steps کو دس steps میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر ایک کے لیے ایسا ہو، بعض مشائخ نے اس کو زیادہ بتایا ہے، تعداد بتائی ہے، لیکن وہ بھی انہی دس میں محصور ہو جاتی ہے۔
لیکن بہرحال حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو ہیں نا، اس کو دس steps میں تقسیم کرتے ہیں۔
ان steps کو مقامات کہتے ہیں۔
ٹھیک ہے نا، ان کو مقامات کہتے ہیں۔

مقامِ توبہ سب سے پہلے، disconnection from your past of the sins.
ہاں، پھر اس کے بعد connection، اس معنی میں کہ اب میں اللہ کی بات مانوں گا اور اس کے لیے planning کروں گا، طریقہ کار کے مطابق چلوں گا۔
اور اس کے لیے سوچنا شروع کر لے، فکر کرنا شروع کر لے، یہ مقامِ انابت ہے۔
پھر اس کے بعد اس کا جو سب سے بڑا مسئلہ ہے سستی کا۔
اس کو دور کرنا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں جی سستی ہو جاتی ہے، غفلت ہو جاتی ہے یہ، اس سے دور کرنے کے لیے مقامِ ریاضت ہے۔
کیونکہ ریاضت سے ہی نفس کی جو سستی ہے وہ دور ہوتی ہے۔
اب دیکھو gymnastic والے ایسے کام کرتے ہیں لوگ حیران ہو جاتے ہیں۔
تو کیا پہلے دن اس طرح کرنے کے قابل تھے؟
نہیں مسلسل انہوں نے محنت کی، ایک طریقے سے، اس تک یہ پہنچ گئے۔
وہ ریاضت تھی ان کی۔
اس کو ریاضت، وہ کہتے بھی ریاضت ہیں۔
یہ موسیقی والے، یہ ریاضت کہتے ہیں اس کو باقاعدہ وہ۔

SPEAKER
ہم تو سمجھتے ہیں کیسے اچھا گاتے ہیں۔
یہ اگر دیکھو تو اچھی خاصی ان کی ریاضت کرنی ہوتی ہے۔
ریاض بلکہ اس کو کہتے ہیں ریاض۔
اچھا تو یہ مقامِ ریاضت ہے۔
پھر اس کے بعد بڑی، بہت بڑا مسئلہ ہے حرص کا۔
یعنی سستی میں تو چیز کو، اچھی چیز کو حاصل نہیں کیا جاتا۔
یعنی اس سے مطلب گویا کہ step نہیں لے سکتا، بس وہ سستی چھا جاتی ہے۔
اور جو حرص ہے اس میں انسان ولولہ کرتا ہے کسی چیز کی طرف زیادہ، more than required.
تو حرص ہے۔
تو حرص کو دبایا جاتا ہے جو بیماری ہے اس کی وجہ سے، تو اس کو دور کیا جاتا ہے تو یہ مقامِ قناعت ہے۔
پھر اس طرح جو فجور کے instant واقعات ہیں، ان سے دور کرنے کے لیے اپنے آپ کو، وہ مقامِ تقویٰ ہے۔
پھر اس کے بعد صبر ہے، مقامِ صبر، کہ مشقت ہو، تکلیف ہو، undesired چیزوں پر انسان کو صبر ہو۔
اور لگے رہیں۔
یہ مقامِ صبر ہے۔
پھر اس کے بعد مقامِ زہد ہے، یعنی تھوڑی پہ، تھوڑی چیز پر قناعت، اس کے ساتھ اپنے آپ کو maintain رکھنا۔
پھر مقامِ توکل ہے۔
یعنی اللہ پر بھروسہ کہ پاس کچھ بھی نہ ہو لیکن اللہ پر بھروسہ ہو۔
اور بہت کچھ ہو تب بھی اللہ پر بھروسہ ہو۔
اور پھر اس کے بعد مقامِ تسلیم ہے کہ اس کو ہر ذرے پہ یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جو اللہ نے کہا ہے وہ حق ہے۔
جو رسول نے کہا ہے وہ حق ہے۔
مقامِ تسلیم۔
اور پھر مقامِ رضا ہے کہ جو اللہ کی طرف سے آیا ہے بس وہ ٹھیک ہے۔
اس کو رضا بالقضاء بھی کہتے ہیں۔
تو اب دیکھیں یہ مقامات، تو یہ سلوک ہے۔
میرے خیال میں آپ کے سوال کا جواب تو ہو گیا۔


سوال نمبر 24: AUDIENCE
سر، وہ جو دو کیفیت ہوتی ہیں حالتِ بسط اور قبض، تو بسط میں تو انسان کرتا رہتا ہے، جب قبض کی کیفیت آ جاتی ہے تو اس میں اپنے آپ کو کیسے چلاتا رہے؟

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

SPEAKER
بسط اور قبض، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احوال طاری کر دیے جاتے ہیں۔
اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے۔
بسط اس لیے طاری کیے جاتے ہیں کہ انسان مایوس نہ ہو اور چلتا رہے۔
ہمت اس کو ملتی رہے۔
اور قبض اس کی ترقی کے لیے ہوتا ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اللہ کا حکم سمجھ کر کرے۔
اس لیے بسط سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے قبض میں۔
لیکن اللہ پاک سب کے اوپر مسلسل قبض نہیں رکھتے، درمیان میں بسط بھی بھیجتے ہیں۔


سوال نمبر 25: AUDIENCE
دوسرا حصہ یہ تھا کہ سلوک اور احسان میں۔

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

SPEAKER
اچھا، فرق۔
دیکھیں، احسان جو ہے وہ تو اصل میں پورا وہ ہے، مطلب تصوف کو ہم احسان کہہ سکتے ہیں۔
کیونکہ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ، فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهٗ يَرَاكَ۔
تو کیفیتِ احسان حاصل کرنے کا جو طریقہ ہے وہ احسان ہے۔
اور کیفیتِ احسان نفسِ مطمئنہ کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
نفسِ مطمئنہ جب انسان کو حاصل ہو جائے تو پھر وہ رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں جس سے وہ محجوب ہوتا ہے۔
کیونکہ دیکھیں، کبھی مال کی وجہ سے انسان محجوب ہوتا ہے۔
مال میں اتنی نظر ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب کر دیتا ہے۔
کبھی جاہ محجوب کرتا ہے۔
کبھی باہ محجوب کرتا ہے، یعنی انسان کے جو لذات ہیں۔
اب جب ان تمام چیزوں سے گزر کے آدمی ان سے مطلب چھٹکارا پا لے تو وہ حجابات دور ہو گئے۔
اب جب حجابات دور ہو گئے تو اس کی یہ کیفیت ہو گی عبادت کرتے وقت جیسے میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں، اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔


سوال نمبر 26: AUDIENCE
حضرت، ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک سالک کے سوال کے جواب میں آپ نے ان کو بتایا تھا کہ اپنے عیوب وہ بھیج دیں۔
تو اب جب شیخ بتائے کہ اپنے عیوب بھیج دیں، اس وقت بتانا شروع کریں یا جیسے ہی کوئی عیب اپنا ظاہر ہو تو بتا دینا چاہیے؟

[سوال جواب مجلس 13 نومبر 2023، مجلس نمبر: 647]

SPEAKER
جس وقت بھی اپنا عیب ظاہر ہو تو بتا دیا کریں۔
شیخ تو مجبوراً اس سے پوچھتا ہے کہ جب اس نے ابھی تک یہ نہیں بتایا تو پھر کم از کم کسی وقت تو اس سے پوچھے گا نا۔
البتہ پہلے میں اس لیے نہیں پوچھتا کہ اپنے عیوب بتانا کوئی آسان بات نہیں ہے۔
اس میں انسان ڈنڈی مارتا ہے، ضرور مارتا ہے۔
تو کم از کم اتنا ذکر کر لے، اتنا تعلق مع اللہ حاصل ہو جائے کہ وہ پھر ڈنڈی نہ مارے۔
اور وہ صحیح صحیح اپنے عیوب بتائے۔
اس وجہ سے اتنی دیر کے بعد پوچھا جاتا ہے۔
یا کسی وقت پہلے سے احساس ہو جائے تو اچھی بات ہے۔


AUDIENCE
عارفانہ کلام سیدی و مولائی سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتہم العالی۔
عنوان ہے نفس کی کارگزاری۔
حضرت والا فرماتے ہیں:

میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا
میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا

جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا
جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

READING A:

اگر میں بات اس کی مان لوں تو اور وہ مانگے
اگر میں بات اس کی مان لوں تو اور وہ مانگے

کسی ایک بات پہ مجھ کو کبھی ٹکنے نہیں دیتا
کسی ایک بات پہ مجھ کو کبھی ٹکنے نہیں دیتا

یہ نفس کی بہت زبردست وہ عادت ہے کہ اس کی بات مانو گے تو وہ اس پہ مطمئن نہیں ہوگا، مزید مانگے گا۔
مزید۔
میں اس کی مثال دیتا ہوں کہ ہم جب گاؤں میں تھے نا تو گاؤں میں تو پراٹھا ہمیں سال میں دو دفعہ ملتا تھا، یعنی عید کے دن۔
تو وہ پراٹھا ہمیں بہت لذیذ ہوتا تھا کہ وہ سال میں دو دفعہ ملتا تھا۔
تو جس وقت شہر میں آ گئے تو روزانہ پراٹھا ہو گیا۔
تو پراٹھے میں پھر نخرے ہونے لگے کہ ایسا ہونا چاہیے، ایسا ہونا چاہیے، ایسا ہونا چاہیے۔
پہلے پہلے جو بھی ملتا تھا وہ بہت اچھا لگتا تھا۔
تو یہی بات ہے کہ انسان کو جب ملتا ہے نا تو پھر وہ اور مثال کے طور پر گاڑی ملی تو پھر گاڑی میں نخرے شروع کر لے گا، فلاں ماڈل ہونی چاہیے، یہ ہونا چاہیے۔
حتیٰ کہ یہ دور آ گیا ہے کہ بعض جن کے پاس پیسے کی فراوانی، جائز ناجائز کی، بہت ہوتی ہے تو وہ گاڑیوں کے کلر میں بھی میچنگ کرتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ گھر کے اور اپنے لباس اور گاڑی، اس میں بھی میچنگ لاتے ہیں۔
ٹھیک ہے۔
تو ظاہر ہے، مطلب پھر تو never satisfaction ہے نا۔
تو یہ چیز پھر چلتی رہتی ہے۔
مطلب اس کا کوئی end نہیں ہے۔
تو اس وجہ سے یہ ہے کہ جو اس کو اگر آپ دیں گے تو یہ مزید مانگے گا۔
اور اگر آپ اس کو دبائیں گے تو دبتا جائے گا۔
یہ بھی بات ہے۔
اگر آپ اس کو دبائیں گے اور نہیں مانیں گے تو یہ کم پہ بھی ماننا شروع کر لے گا۔

میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا
جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

مگر خوبی جو اس میں ہے کہ مانے جبر سے بھی یہ
مگر خوبی جو اس میں ہے کہ مانے جبر سے بھی یہ

ہلاؤ اس کو ہل جائے گو یوں ہلنے نہیں دیتا

مقامِ ریاضت یہی تو ہے نا، جبر سے کرتے ہیں۔
اب زبردستی اس پہ کرتے ہیں۔
اب مطلب وہ نہیں چاہتا لیکن آپ کرتے ہیں۔
تو یہ مقامِ ریاضت ہے۔

ہلاؤ اس کو ہل جائے گو یوں ہلنے نہیں دیتا
میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا

جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

طریقہ اس کی اصلاح کا ہے کہ مانو نہیں اس کا
طریقہ اس کی اصلاح کا ہے کہ مانو نہیں اس کا

بغیر اس کے کسی بھی طرح سنبھلنے نہیں دیتا

نفس کی نہ ماننا۔
نفس کی نہ ماننے کا مطلب مجاہدہ۔
اس کو مجاہدہ کہتے ہیں۔
تو اس کا مطلب ہے مجاہدے کے بغیر نفس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔
یہ ناممکن ہے۔
آج کل لوگوں نے مشہور کیا ہے نا کہ ہمارے سلسلے میں مجاہدہ نہیں ہے اور یہ، اور خدا کے بندو کیا کر رہے ہو۔
یہ کیا کر رہے ہو۔
آپ کا دنیاوی علاج بھی مجاہدے کے بغیر نہیں ہوتا۔
ہیں، تو کیسے آپ کا روحانی علاج بغیر مجاہدے کے ہو جائے گا؟ کون سی باتیں کر رہے ہیں۔

کا بننے نہیں دیتا
کوئی ہو رہنما اپنا جو گر اصلاح کا جانتا ہو

کوئی ہو رہنما اپنا جو گر اصلاح کا جانتا ہو
کرائے اس سے جو ہم کو کبھی کرنے نہیں دیتا

یہ عجیب کراماتی تعلق ہے کہ جو کام انسان خود نہیں کر سکتا، جب شیخ کہتا ہے تو آدمی کر لیتا ہے۔
تو مطلب یہ ہے کہ کوئی اس طرح رہنما ہو تو اس رہنما کے ساتھ محبت بھی ہوتی ہے۔
اور اپنی عقل سے اس کو مانتا بھی ہے کہ بھئی میرا رہنما ہے اور مجھے صحیح بات بتا رہا ہے۔
میرے فائدے کی ہے۔
تو یہ دونوں چیزیں جمع کر کے اس کی بات انسان مانتا ہے۔
تو نفس کی مخالفت جو مشکل کام ہے، وہ شیخ کی برکت سے آسان ہو جاتا ہے۔

کرائے اس سے جو ہم کو کبھی کرنے نہیں دیتا
میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا

جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

دل اپنا بھی منور ہو کے راستہ جان لے اپنا
دل اپنا بھی منور ہو کے راستہ جان لے اپنا

کہ ہرگز حق کو گندا دل کبھی پڑنے نہیں دیتا

یہ معرفت ہے، یہ معرفت ہے، اور معرفت دل میں آتی ہے۔
تو لہٰذا جب انسان کا نفس ٹھیک ہوتا ہے، تو پھر نفس کے اثرات جو دل کے اوپر آتے ہیں وہ برے نہیں ہوتے، اچھے ہوتے ہیں۔
نتیجتاً دل پاک اور صاف ہو جاتا ہے، ذکرِ اللہ کے ذریعے۔
نتیجتاً وہ پھر حق کی بات ماننے لگتا ہے۔
یعنی قرآن کی بات ماننے لگتا ہے، حدیث کی بات ماننے لگتا ہے، اچھے لوگوں کی بات مان لیتا ہے۔

کہ ہرگز حق کو گندا دل کبھی پڑھنے نہیں دیتا
میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا

جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

اگر ہو نفس گاڑی تو بنے دل اس کا ڈرائیور پھر
اگر ہو نفس گاڑی تو بنے دل اس کا ڈرائیور پھر

ہو ان میں نقص کسی میں آگے وہ بڑھنے نہیں دیتا

ان دونوں میں جس میں بھی نقص ہوگا، چاہے گاڑی میں نقص ہو پھر بھی نہیں جا سکتے، چاہے ڈرائیور میں کمزوری ہو پھر بھی نہیں جا سکتے۔
تو دل کو بھی صاف کرنا ضروری ہے اور نفس کو بھی پاک کرنا ضروری ہے۔
دونوں باتیں مطلب بیک وقت ہونی چاہئیں۔

ہو ان میں نقص کسی میں آگے وہ بڑھنے نہیں دیتا
میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا

جو شیطاں ہے، مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

ذکر سے دل ہو ٹھیک اور نفس کو دینا جہد کی گولی

علاج دونوں کا مختلف ہے۔
دل کا علاج ذکرِ اللہ سے ہوتا ہے، یہ حدیث شریف سے ثابت ہے۔
دل کا علاج ذکر سے ہوتا ہے۔ اور
نفس کا علاج مجاہدے سے ہوتا ہے۔
تو نفس کو مجاہدہ کرائیں گے اور ذکر مطلب ہے کریں گے دل کی صفائی کے لیے۔

ذکر سے دل ہو ٹھیک اور نفس کو دینا جہد کی گولی
ہو رہبر ساتھ کہ داؤ شیطان کا وہ چلنے نہیں دیتا

بغیر رہبر کے ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ رہبر نہ ہو تو پھر کیا ہوتا ہے؟
پھر وہ، یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں لیکن نتیجے صحیح نہیں ہوتے۔
نتیجے ٹھیک نہیں ہوتے، کیونکہ اس سے انسان اپنے آپ کو بزرگ سمجھنا شروع کر لیتا ہے، تو یہ کام غلط ہو گیا۔
وہی جاہ والی بات آ جائے گی۔
یا پھر یہ ہوگا کہ کوئی غلط طریقے سے کرے گا تو نقصان کر لے گا اپنا۔
مجاہدہ کوئی ایسا کر لے گا جو کہ کرنا نہیں چاہیے، اس کے لیے مناسب نہیں ہے۔
کوئی ایسا تصور کر لے گا دل پر کہ جو اس کو اٹھا نہیں سکے گا۔
تو مطلب یہ ہے کہ وہ رہبر ساتھ ہو، پھر اس کا صحیح فائدہ ہو سکتا ہے۔

ہو رہبر ساتھ کہ داؤ شیطان کا وہ چلنے نہیں دیتا
میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا

جو شیطاں ہے، مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

چراگاہیں وہ جنت کی ملیں ہم کو، چریں ان میں
چراگاہیں وہ جنت کی ملیں ہم کو، چریں ان میں

مگر شیطاں کبھی بھی مکر سے چرنے نہیں دیتا

ذکر کی جو محافل مختلف جگہوں پہ ہیں، تو وہ ہے نا، حدیث شریف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب جنت کی چراگاہوں میں پہنچو تو وہاں خوب چرو۔
تو صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ! جنت کی چراگاہیں کون سی ہیں؟
فرمایا: ذکر کے حلقے۔
اب ذکر کے حلقوں کے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں، نہیں کرتے؟
اوہ! ایسا ہو جائے گا، یہ ٹھیک نہیں ہے، ثابت نہیں ہے، فلاں نہیں ہے، فلاں نہیں ہے، مطلب یہ مختلف قسم۔۔۔
وہ شیطان لوگوں کے دلوں میں ایسی باتیں ڈال دیتا ہے کہ اس سے متنفر کرتے ہیں۔
میں گلگت گیا تھا تو وہاں پر بیان کر رہا تھا تو ایک مفتی صاحب تھے، میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔
کہتے ہیں جی، یہ جو ذکر جہری ہے یہ تو ثابت نہیں ہے۔
میں نے کہا مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ جو ذکرِ جہری کراتے تھے، تو کیا خیال ہے، وہ غلط آدمی تھے؟
آپ بھی تو ٹھیک آدمی ہیں، لیکن وہ بھی تو ٹھیک تھے نا۔
تو کس طرح آپ کہتے ہیں کہ وہ یہ غلط ہے؟
باقی یہ والی بات ہے کہ علاجی ہے۔
یہ ثوابی نہیں ہے۔
اور جو علاجی ہوتا ہے، وہ تجربے پہ منحصر ہوتا ہے، وہ منصوص نہیں ہوتا۔
کیونکہ ذریعہ ہے۔
تو ذریعہ تو تجربے پہ منحصر ہے۔
مثال کے طور پر ابھی میں ہمارے پاس، میں نے بتایا، میں نے کہا یہ جو ہمارا درسِ نظامی ہے، کیا صحابہ کے وقت میں درسِ نظامی تھا؟
اس وقت کیا تھا؟
تو اب درسِ نظامی بدعت ہو گیا؟
میں نے کہا اگر درسِ نظامی بدعت نہیں ہے، تو اس طریقے سے یہ بھی بدعت نہیں ہے، طریقہ کار ہے بس۔
وہ علم کے لیے ایک نیت طریقہ ہے۔
یہ اصلاح کے لیے ایک نیت طریقہ ہے۔
تو یہ طریقے تو بدلتے رہتے ہیں۔
یہ ذرائع بدلتے رہتے ہیں۔
خیر پھر خاموش ہو گئے۔
تو اس وقت

مگر شیطان کبھی بھی مکر سے بچنے نہیں دیتا
میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا

جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

جو شر ہے بڑھ رہا ہے خوب رکاوٹ خیر کے واسطے ہے
جو شر ہے بڑھ رہا ہے خوب رکاوٹ خیر کے واسطے ہے

خدا سے ہم کو وہ ظالم کبھی ڈرنے نہیں دیتا
خدا سے ہم کو وہ ظالم کبھی ڈرنے نہیں دیتا

میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا
جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

کریمی کا مگر در ہے کھلا رب کا کریں توبہ
کریمی کا مگر در ہے کھلا رب کا کریں توبہ

کہ مایوسی کا کوئی لفظ وہ سننے نہیں دیتا
کہ مایوسی کا کوئی لفظ وہ سننے نہیں دیتا

میرا نفس اس سے مجھ کو تو کبھی ملنے نہیں دیتا
جو شیطاں ہے مجھے اللہ کا بننے نہیں دیتا

آخری شعر میں حضرت والا فرماتے ہیں:

شبیر پھر فضل رب کا ہو تو مقصد پورا ہو جائے
شبیر پھر فضل رب کا ہو تو مقصد پورا ہو جائے

شبیر پھر فضل رب کا ہو تو مقصد پورا ہو جائے
کبھی شیطاں جو دال اپنی ہے وہ گلنے نہیں دیتا

شیطان کی جو مطلب چالیں ہیں وہ لامتناہی ہیں۔
نفس کی خواہشات کی طرح۔
تو ان کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے۔
انسان کا جو چھٹکارا ہے وہ اللہ کی مدد سے ہی ہوتا ہے۔
لیکن اللہ پاک مدد فرما دیتے ہیں۔
جب اللہ پاک دیکھتا ہے کسی کو کہ یہ کام کر رہا ہے اور مطلب چاہتا ہے کہ اس کی اصلاح ہو جائے تو پھر اللہ جل شانہ ایک خاص مقام پہ جا کے اس کو پک کر لیتا ہے۔
اس کو جذبِ وہبی کہتے ہیں۔
اس کو پھر وہ برسوں کا راستہ وہ آن کی آن میں پورا کر دیتا ہے۔
تو اللہ کے فضل سے یہ کام ہوتا ہے۔
لیکن اللہ کے فضل کو کھینچنے کے لیے کوئی تو اعمال ہوتے ہیں نا۔
ان اعمال کو تو کرنا پڑتا ہے۔
ٹھیک ہے نا، اب ہم خانہ کعبہ کیوں جاتے ہیں؟
دعا تو ادھر بھی کر سکتے ہیں۔
لیکن اللہ پاک کے فضل کو کھینچنے کا ایک راستہ ہے۔
وہاں جاتے ہیں۔
وہاں پر دعا کرتے ہیں۔
اور تہجد کے وقت دعا۔
اسی طرح افطار کے وقت کی دعا۔
تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچنے کے راستے ہیں۔
تو اس طرح یہ بھی ہے کہ کوشش ہم کریں تو اللہ تعالیٰ پھر چن لیتے ہیں۔
وہ جذبِ وہبی ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا۔

سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت اول