الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
عَنْ أَبِيْ حُمَيْدٍ أَوْ أَبِيْ أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ.»
أَخْرَجَهُ أَبُوْ عَوَانَةَ فِيْ صَحِيْحِهٖ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ فِيْ صَحِيْحِهٖ كَذَا فِي الْبَدَائِعِ۔
مسجد میں جانے کے وقت رحمت کے دروازے کھلنے کی وجہ یہ ہے کہ جو مسجد میں جاتا ہے، وہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہونے کے لیے جاتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت کا زیادہ محتاج ہے کہ وہ اپنی رحمت سے عبادت کی توفیق عطا فرمائے، پھر اس کو قبول فرمائے۔ مظاہرِ حق میں لکھا ہے دروازے رحمت کے کھلنے، بسبب برکت اس مکان شریف کے، یا بسبب توفیق دینے نماز کی اس میں، یا بسبب کھلنے حقائق نماز کے۔ اور مراد فضل سے رزقِ حلال ہے، کہ بعد نکلنے کے نماز سے اس کو طلب کیا جاتا ہے۔
اس میں قرآن پاک کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جو سورہ جمعہ میں وارد ہے:
فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ
علامہ سخاویرحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حدیث سے نقل کیا ہے کہ جب مسجد میں داخل ہوا کرو، تو حضور ﷺ پر درود بھیجا کرو۔
اور حضور اقدس ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ حضور اقدس ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو درود و سلام بھیجتے محمد پر (یعنی خود اپنے اوپر) اور پھر یوں فرماتے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوْبِيْ وَافْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
اور جب مسجد سے نکلتے، تب بھی اپنے اوپر درود و سلام بھیجتے اور فرماتے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوْبِيْ وَافْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ فَضْلِكَ
حضرت انس رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے، تو پڑھا کرتے:
بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ
اور جب باہر تشریف لاتے، تو تب بھی یہ پڑھا کرتے:
بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ
حضرت ابن عمر رضی الله عنه سے نقل کیا کہ حضور اقدس ﷺ نے اپنے نواسے، حضرت حسن رضی الله عنه کو یہ دعا سکھلائی تھی کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوا کریں، تو حضور اقدس ﷺ پر درود بھیجا کریں، اور یہ دعا پڑھا کریں:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَافْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
اور جب نکلا کریں، تب بھی یہی دعا پڑھا کریں، أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ کی جگہ أَبْوَابَ فَضْلِكَ پڑھیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جب کوئی شخص تم میں سے مسجد میں جایا کرے تو حضور ﷺ پر سلام پڑھا کرے، اور یوں کہا کرے:
اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
اور جب مسجد سے نکلا کرے تو حضور ﷺ پر سلام پڑھا کرے اور یوں کہا کرے:
اَللّٰهُمَّ اعْصِمْنِيْ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ
حضرت کعب رضی الله عنه نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں تجھے دو باتیں بتاتا ہوں، انہیں بھولنا مت۔ ایک یہ کہ جب مسجد میں جائے، تو حضور ﷺ پر درود بھیجے اور یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
اور جب باہر نکلے، تو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَاعْصِمْنِيْ وَافْتَحْ لِيْ مِنْ فَضْلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ
اور بھی بہت سے صحابہ اور تابعین رضی الله عنهم سے یہ دعائیں منقول، نقل کی گئی ہیں۔ صاحبِ حصنِ حصین نے مسجد میں جانے کی اور مسجد سے نکلنے کی متعدد دعائیں مختلف احادیث سے نقل کی ہیں۔ ابوداؤد شریف کی روایت سے مسجد میں داخل ہونے کے وقت یہ دعا نقل کی گئی ہے:
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيْمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ
"میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے ذریعے سے جو بڑی عظمت والا ہے، اور اس کی کریم ذات کے ذریعے سے، اور اس کی قدیم بادشاہت کے ذریعے سے، شیطان مردود کے حملے سے"
حصنِ حصین میں تو اتنا ہی ہے لیکن ابوداؤد میں اس کے بعد حضور اقدس ﷺ کا یہ پاک ارشاد بھی نقل کیا گیا ہے کہ جب آدمی یہ دعا پڑھتا ہے، تو شیطان یوں کہتا ہے کہ مجھ سے تو یہ شخص شام تک محفوظ ہو گیا۔ اس کے بعد صاحبِ حصن، مختلف احادیث سے نقل کر کے، جب مسجد میں داخل ہو، تو بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ کہے۔ اور ایک اور حدیث میں وَعَلٰى سُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ کہا ہے۔ اور ایک حدیث شریف میں اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ پڑھے۔ اور جب مسجد سے نکلنے لگے، تب بھی حضور اقدس ﷺ پر سلام پڑھے: بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ۔ اور ایک حدیث میں اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، اَللّٰهُمَّ اعْصِمْنِيْ مِنَ الشَّيْطَانِ۔
یہ درود شریف اور سلام، آپ ﷺ پر، بہت سارے اعمال کے ساتھ ہے۔ مثلاً اذان کے ساتھ بھی ہے۔ لیکن بہت سارے لوگ اس کو نہیں جانتے۔ ان کے سامنے اگر اذان کے بعد درود شریف پڑھا جائے، تو حیران ہوتے ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ تو غلطی سمجھتے ہیں کہ شاید اس نے کوئی غلط کیا۔ کیونکہ ظاہر ہے ان کو بتایا نہیں گیا ہے۔ حالانکہ مسلم شریف کی روایت ہے کہ جب اذان ہونے لگے، تو جو مؤذن کہے، اسی سے اس کا جواب دیا کرو۔ اور جس وقت اذان ختم ہو جائے، تو اس کے بعد درود شریف پڑھو۔ پھر یہ دعا پڑھو: اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ۔۔۔
تو یہ فرمایا گیا۔ لیکن لوگ جو ہیں نا اس سے واقف نہیں ہیں، لہٰذا وہ اس پر عمل نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں شاید اب صرف یہی دعا پڑھنی ہے: اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ... وہ بھی ما شاء اللہ اچھی بات ہے، کیونکہ آپ ﷺ کی فرمائش ہے۔ لیکن اس کے ساتھ درود شریف پڑھیں، تو اس میں بڑی حکمتیں ہیں۔ احادیثِ شریفہ سے ثابت ہے۔ اور وہ سب سے بڑی حکمت جو اس میں بظاہر دکھتی ہے وہ یہ ہے، کہ بعض لوگ ہم میں سمجھتے ہیں کہ شاید ہم اذان کے ساتھ درود شریف کو اچھا نہیں سمجھتے۔ ایسی بات نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں جس طریقے سے کہا گیا ہے، اس طریقے سے کرو۔ اپنی طرف سے کوئی چیز نہ بناؤ۔ یہ ہم کہتے ہیں۔ تو اب اگر کوئی اس طرح کرے، تو ان کو موقع ہی نہیں ملے گا کوئی بات کہنے کا۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کو کہیں کہ بھئی ہم وہی کرتے ہیں جو حدیث شریف ہے۔ ہم تو اس پر عمل کرتے ہیں، تم اپنی بات پر عمل کرتے ہو۔ فرق یہ ہے۔
تو دوسری بات یہ ہے کہ یہ دیکھیں اذان میں أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ تو پڑھا جاتا ہے۔ تو چونکہ بہت احادیثِ شریفہ میں یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کا نام لیا جائے تو اس پر درود شریف بھیجیں۔ لیکن یہاں پر چونکہ حکم ہے کہ اذان کا جواب انہی الفاظ میں دو، جن الفاظ میں اذان ہے۔ اس کی مخالفت ہو جائے گی۔ تو چونکہ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ شہادت ہے، تو اگر مؤذن کو شہادت کا حکم ہے، تو جو اذان سن رہا ہے، تو کیا وہ شہادت نہیں دے گا؟ وہ بھی تو شہادت دے گا، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ۔ تو اس کا جواب یہاں پر "صلی اللہ علیہ وسلم" نہیں ہے، جیسے بعض لوگ کر لیتے ہیں۔ کیونکہ یہاں تو حکم ہے کیا؟ کہ وہی کہو، جو مؤذن کہہ رہا ہے۔ تو أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ کے جواب میں أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ کہو۔ جس وقت اذان ختم ہو جائے، اس کے بعد فوراً درود شریف پڑھو، تو گزشتہ محمد ﷺ کا نام لینے کے بعد جو درود شریف کا حکم ہے اس پر بھی عمل ہو جائے گا۔ اور اس حدیث شریف پر بھی عمل ہو جائے گا۔ تو یہی طریقہ ہے ہمارے بزرگوں کا۔ ہم ان تمام چیزوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ دیکھیں نا فضائلِ درود شریف بڑی پیاری کتاب ہے۔ کبھی اس کو پڑھ بھی لیا کریں۔ کبھی نظر سے گزر جائے تو اچھی بات ہے، مطلب بہت ساری باتوں کا پتہ چل جائے گا۔ اس میں ایک جگہ آئے گی جس میں یہ ہے کہ کہاں کہاں پر درود شریف پڑھا جاتا ہے۔ تو اتنی ساری جگہیں ہیں، کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ پھر آدمی سمجھتا ہے کہ بس یہ تو ہر وقت ہی ہمیں درود شریف پڑھنا چاہیے۔ تو ان شاء اللہ وہ جگہ آئے گی۔ اللہ پاک ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
زبان گنگ ہے بات کیا کرلوں
اس بڑے در پہ آکے کیا بولوں
چند دن آپ کی معیت میں ملے
شکر اس فضل پہ کیسے کرلوں
زبان گنگ ہے بات کیا کرلوں
اس بڑے در پہ آکے کیا بولوں
کاش ہو خلد میں معیت آپ کی
اپنے رب سے میں یہ دعا مانگوں
زبان گنگ ہے بات کیا کرلوں
اس بڑے در پہ آکے کیا بولوں
حق ہے کہ مستحق اس کا میں نہیں
رب کریم سے کرم چاہوں
زبان گنگ ہے بات کیا کرلوں
اس بڑے در پہ آکے کیا بولوں
آنکھ میں نم ہے دل میں غم شبیر کا
بس دعا ہے کہ بار بار ان سے ملوں
زبان گنگ ہے بات کیا کرلوں
اس بڑے در پہ آکے کیا بولوں