موت کی قربت، تسبیح و استغفار کی کثرت اور کمالِ عبدیت

درس نمبر 171، جلد 1، باب 12: آخری عمر میں نیک کاموں کے زیادہ کرنے کی ترغیب

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• موت کا وقت قریب آنے پر تسبیح اور استغفار میں اضافے کی اہمیت۔

• سورۂ نصر کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ کی مخصوص دعائیں اور مجاہدہ۔

• نماز میں ثنا (تسبیح، تحمید، تکبیر) پڑھنے کی اہمیت اور اس میں غفلت۔

• نبی کریم ﷺ کے استغفار کا اصل مقصد (رفع درجات اور امت کی تعلیم)۔

• معرفتِ الٰہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عبدیت اور عاجزی۔

الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ،

أَمَّا بَعْدُ،

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔


گزشتہ حدیث شریف جو سورۂ نصر کے بارے میں تھی اور انتقال سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول کے بارے میں اس میں بتایا گیا تھا۔ تو اس کی مزید تشریح ان شاء اللہ آج ہوگی۔


تو ان تمام روایات کا جن کا اس میں ذکر تھا کا خلاصہ یہ ہے کہ:

جب آدمی کو اپنی موت قریب محسوس ہو تو تسبیح اور استغفار یعنی اللہ جل شانہ کی طرف توجہ میں اضافہ کر دینا چاہیے، جیسے کہ آپ ﷺ نے سورت نصر کے نازل ہونے کے بعد ”سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِىْ“ اور ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ“ اور ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“ وغیرہ پڑھنے کا اہتمام فرمانے لگے۔

ہم ہر نماز میں شروع کرتے ہیں ثنا سے۔ کبھی اس پر غور کیا کہ ہمیں کیسے پڑھنا چاہیے اس کو؟ بلکہ بہت سارے قاری تو اس کو چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ سنت ہے اور بڑی پیاری سنت ہے۔ لیکن یہ ہے کہ ناقدری کی بات ہے کہ جلدی پڑھنے کے لیے اس کو، سنت کو بھی چھوڑ دیا کہ مطلب سنت ہے تو بس ٹھیک ہے۔ نہیں، یہ چیز نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس میں تو اللہ پاک کی تسبیح اور تحمید، تکبیر ہے۔

اور بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوره نصر کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے عبادت میں اتنا مجاہدہ فرمانا شروع کر دیا تھا کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پر ورم آجاتا۔

یہ استغفار کا کرنا کوئی گناہ کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ رفع درجات کے لئے تھا، یا امت کی تعلیم کے لئے تھا، کہ میں معصوم ہوں تب بھی استغفار کرتا ہوں، اُمت تو خطا وار ہے تو امت کو اور زیادہ استغفار کرنا چاہئے۔

اصل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر وقت معرفت کے دروازے کھلتے جاتے تھے۔ مزید، مزید، مزید، مزید۔ تو معرفت عبدیت پیدا کرتی ہے۔ معرفت کا نتیجہ عبدیت ہوتا ہے۔ تو عبدیت میں رجوع الی اللہ بنیادی چیز ہے۔ تو جیسے جیسے اللہ تعالیٰ آپ پر معرفت کے دروازے کھولتے تھے، تو اتنے اتنے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے جاتے تھے۔


اور اتنے زیادہ یعنی عبدیت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ تو اللہ جل شانہ کی پاکی بیان کرنا یہ عبدیت کے لیے بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی جائے، کیونکہ ہم لوگ تو انسان ہیں بس مسائل لگے ہوئے ہیں ہمارے ساتھ۔ اللہ پاک تو خالق ہے اور تمام عیوب سے پاک ہے۔ اور اللہ پاک کی جو حمد ہے وہ یعنی ایسا ہے کہ کوئی نہ بھی کر لے تو پھر بھی اللہ پاک حمید ہے۔ اور جو کرتا ہے تو وہ اس کے ساتھ، ما شاء اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اور رتبہ نصیب فرماتے ہیں۔ تو یہ ہمارا اپنے لیے ہوتا ہے۔

تو اس حدیث شریف کو بخاری نے روایت کیا ہے اپنی تفسیر میں، کیونکہ جو تفسیریں کی ہیں بخاری اور مسلم نے، اس میں سورۂ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ کی تفسیر میں آتا ہے۔ اور بَابُ التَّسْبِيْحِ وَالدُّعَاءِ فِي السُّجُوْدِ۔ اور مغازی میں (باب نزل النبی ﷺ یوم الفتح) اور مسلم نے نماز کے باب میں روایت کیا ہے، بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔واخرجہ احمد فی مسندہ، ۲۴۲۱۸/۹، وابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ و ابن حبان وا بن خزیمۃ ص ۶۰۵، و ابوعوانۃ ۱۸۶/۲، ۱۸۷، و مصنف عبدالرزاق ۲۸۷۸، والبیھقی ۱۰۹/۲۔


اللہ جل شانہ ہمیں زیادہ سے زیادہ اللہ پاک کی تسبیح، تحمید اور تکبیر کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔







تجزیہ اور خلاصہ:


بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


**سب سے جامع عنوان:** موت کی قربت، تسبیح و استغفار کی کثرت اور کمالِ عبدیت

**متبادل عنوان:** سورۂ نصر کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ کے معمولات اور استغفار کی حقیقت


**اہم موضوعات:**

• موت کا وقت قریب آنے پر تسبیح اور استغفار میں اضافے کی اہمیت۔

• سورۂ نصر کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ کی مخصوص دعائیں اور مجاہدہ۔

• نماز میں ثنا (تسبیح، تحمید، تکبیر) پڑھنے کی اہمیت اور اس میں غفلت۔

• نبی کریم ﷺ کے استغفار کا اصل مقصد (رفع درجات اور امت کی تعلیم)۔

• معرفتِ الٰہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عبدیت اور عاجزی۔


**خلاصہ:**

اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۂ نصر کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ کے معمولاتِ زندگی پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ آپ دامت برکاتہم نے فرمایا کہ جب انسان کو اپنی موت قریب محسوس ہو تو اسے اللہ کی طرف رجوع، تسبیح اور استغفار میں اضافہ کر دینا چاہیے۔ آپ ﷺ کا کثرت سے استغفار کرنا کسی گناہ کے سبب نہیں تھا، بلکہ یہ رفع درجات، امت کی تعلیم اور کمالِ عبدیت کا مظہر تھا۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے نماز میں ثنا چھوڑ دینے پر بھی تنبیہ فرمائی اور واضح کیا کہ معرفتِ الٰہی کے دروازے کھلنے کا لازمی نتیجہ عبدیت اور اللہ کے حضور انتہائی عاجزی کی صورت میں نکلتا ہے۔ آخر میں آپ نے متعلقہ احادیث کے مستند حوالوں کا بھی ذکر فرمایا۔

موت کی قربت، تسبیح و استغفار کی کثرت اور کمالِ عبدیت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور