انتقال سے قبل نبی کریم ﷺ کا معمول اور کثرتِ استغفار

درس نمبر 170، جلد 1، باب 12: آخری عمر میں نیک کاموں کے زیادہ کرنے کی ترغیب

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• وصال سے قبل نبی کریم ﷺ کی عبادات کا معمول۔

• سورۃ النصر (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ) کے نزول کا مقصد اور قرآنی احکامات۔

• نماز کے رکوع اور سجود میں خاص دعاؤں اور تسبیحات کا اضافہ۔

• فتح مکہ کے بعد دینِ اسلام میں لوگوں کے جوق در جوق داخل ہونے پر شکر بجا لانا اور استغفار کرنا۔

• حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سوالات اور آپ ﷺ کے پرحکمت جوابات۔

الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ،

أَمَّا بَعْدُ،

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

انتقال سے قبل آپ ﷺ کا معمول

(114) ﴿الثَّالِث: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلوةً بَعْدَ اَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ﴾ إِلَّا يَقُولُ فِيهَا: "سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" (متفق عليه)

وفى رواية فى الصحيحين عنها: كان رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ اَنْ يَقُولَ فِى رُكُوعِهِ وَ سُجُودِه: "سُبْحَانَكَ اَللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْلِيْ" يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ“ أَيْ: يَعْمَلُ مَا﴾ اُمِرَ بِهِ فِى الْقُرْاٰنِ فِى قَوْلِهِ تَعَالٰى: ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ﴾

وَفِي رِوَايَةٍ لِّمُسْلِمٍ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ اَنْ يَّقُوْلَ قَبْلَ اَنْ يَّمُوْتَ: ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ.“ قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هٰذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِىْ اَرَاكَ اَحْدَثْتَهَا تَقُوْلُهَا؟ قَالَ: ”جُعِلَتْ لِىْ عَلَامَةٌ فِىْ اُمَّتِىْ اِذَا رَاَيْتُهَا قُلْتُهَا: ﴿اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ﴾ اِلٰى آخِرِ السُّوْرَةِ“

وَفِي رِوَايَةٍ لَّهُ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ؟ فَقَالَ: ”اَخْبَرَنِىْ رَبِّىْ اَنِّىْ سَاَرَى عَلَامَةً فِىْ اُمَّتِىْ فَاِذَا رَاَيْتُهَا اَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ؛ فَقَدْ رَاَيْتُهَا: ﴿اِذَاجَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ﴾ ”فَتْحُ مَكَّةَ“، ﴿وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِىْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجاً. فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّاباً﴾

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”اذا جاء نصر اللہ و الفتح“ کے نازل ہونے کے بعد حضور ﷺ ہر نماز میں ”سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِىْ“ پڑھتے تھے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے رکوع اور سجود میں اکثر بار ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِىْ“ کہا کرتے تھے۔ قرآن پاک کی تاویل فرماتے یعنی قرآن پاک میں ”فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ“ کے ضمن میں حکم دیا گیا ہے۔ اس پر عمل فرماتے۔

اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ اپنی وفات سے قبل اکثر یہ کلمات فرماتے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ“ ”تو پاک ہے تیری ہی تعریف کرتا ہوں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں“ اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ نے بیان کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کلمات کیا ہیں میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ یہ کلمات اب کہنے لگے ہیں۔ فرمایا: میرے لئے میری امت میں ایک علامت قائم کی گئی ہے کہ جب میں اس علامت کو دیکھوں تو یہ کلمات کہوں پھر آپ نے یہ سورت تلاوت فرمائی ”اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ“

مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ اکثر ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“ کہتے تھے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ اکثر ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“ کہتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے میرے رب نے بتایا ہے کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا پس جب میں وہ علامت دیکھوں تو کثرت کے ساتھ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“ کہوں پس میں نے وہ علامت دیکھ لی ہے۔ ”اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ“ یعنی مکہ فتح ہوچکا ہے اور ”آپ دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اللہ پاک کے دین میں جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں۔ پس آپ اپنے رب کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہیں اور اس سے مغفرت مانگیں وہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔“


ان شاء اللہ اس کی تشریح وہ کل مزید بیان کی جائے گی۔




تجزیہ اور خلاصہ:


بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


سب سے جامع عنوان: انتقال سے قبل نبی کریم ﷺ کا معمول اور کثرتِ استغفار

متبادل عنوان: سورۃ النصر کا نزول اور آپ ﷺ کا رکوع و سجود میں نیا معمول


اہم موضوعات:

• وصال سے قبل نبی کریم ﷺ کی عبادات کا معمول۔

• سورۃ النصر (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ) کے نزول کا مقصد اور قرآنی احکامات۔

• نماز کے رکوع اور سجود میں خاص دعاؤں اور تسبیحات کا اضافہ۔

• فتح مکہ کے بعد دینِ اسلام میں لوگوں کے جوق در جوق داخل ہونے پر شکر بجا لانا اور استغفار کرنا۔

• حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سوالات اور آپ ﷺ کے پرحکمت جوابات۔



انتقال سے قبل نبی کریم ﷺ کا معمول اور کثرتِ استغفار - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور