الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ،
أَمَّا بَعْدُ،
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی فضیلت
(113) ﴿الثَّانِي: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ، فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ فِى نَفْسِهِ فَقَالَ: لِمَ يَدْخُلُ هَذَا مَعَنَا وَلَنَا أَبْنَاءٌ مِثْلُهُ؟! فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ عَلِمْتُمْ! فَدَعَانِي ذَاتَ يَوْمٍ فَأَدْخَلَنِي مَعَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَنَّهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلاَّ لِيُرِيَهُمْ قَالَ: مَا تَقُولُوْنَ فِى قَوْلِ اللهِ تَعَالٰى: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ (الفتح: 1)، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أُمِرْنَا نَحْمَدُ اللهَ وَنَسْتَغْفِرُهُ إِذَا نَصَرَنَا وَفَتَحَ عَلَيْنَا. وَسَكَتَ بَعْضُهُمْ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئاً. فَقَالَ لِي: أَكَذَالِكَ تَقُوْلُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ فَقُلْتُ: لاَ، قَالَ: فَمَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ: هُوَ أَجَلُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ لَهُ قَالَ: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ﴾ وَذَالِكَ عَلاَمَةُ أَجَلِكَ ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً﴾ (الفتح: 3)، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَقُوْلُ.﴾ (رواه البخاري)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے بدر کے شیوخ کے ساتھ مقام دیتے تو بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کو محسوس کرتے اور کہتے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کم سن بچے کو ہمارے ساتھ کیوں بٹھاتے ہیں جب کہ اس جیسے ہمارے بھی بچے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عبداللہ بن عباسؓ ان لوگوں میں سے ہے جہاں سے تم نے علم پڑھا، عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک روز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلایا اور ان کے ساتھ بٹھایا، میرا خیال ہے کہ اس دن مجھ کو بلانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ انہیں بتانا چاہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ”إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ“ کا کیا مطلب ہے؟ بعض نے کہا کہ جب ہمیں کامیابی حاصل ہو چکی اور اللہ نے ہمیں فتح عطا کر دی ہے تو ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اب ہم حمد وثنا میں مصروف رہیں اور استغفار کرتے رہیں، بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بالکل خاموش رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے اے عبداللہ بن عباسؓ، تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا کہ تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کا رحلت فرمانا ہے، اللہ نے نبی کریم ﷺ کو اس آیت سے معلوم کرا دیا کہ جب اللہ کی مدد اور کامیابی حاصل ہو جائے گی تو یہ آپ کی وفات کی علامت ہے، پس آپ کو چاہئے کہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں بھی اس آیت کا یہی مطلب سمجھتا ہوں۔“
اس کا مطلب یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لوگوں کے سامنے ثابت کر دیا کہ دیکھو نا یہ بچہ معمولی بچہ نہیں ہے بلکہ ان کو اللہ نے ایسا علم دیا ہوا ہے۔
يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ: مجھے بدر میں شریک ہونے والے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ اپنی مجلس میں شریک کرتے تھے، یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عباسؓ کو اہل شوریٰ اور بڑے عمر والے اور ایسے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم جن کے زمانہ اسلام میں بڑے بڑے کارنامے تھے ان کے ساتھ بٹھاتے تھے۔
”فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ فِى نَفْسِهِ“ ان میں سے بعض نے یہ ناگوار سمجھا، ابن نحویؒ کے بقول مراد اس سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جیسے کہ بخاری کی روایت میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔
”إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ عَلِمْتُمْ“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ابن عباسؓ کے مرتبہ کو تم لوگ نہیں جانتے۔ ایک دوسری روایت میں ہے۔ ”قَالَ الْمُهَاجِرُوْنَ لِعُمَرَ أَلَا تَدْعُو أَبْنَائَنَا كَمَا تَدْعُو ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ ذَاكُمْ فَتَى الْكُهُوْلِ إِنَّ لَهُ لِسَاناً سُؤُوْلًا وَقَلْبًا عُقُولاً۔“
فَمَا رَأَيْتُ أَنَّهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلاَّ لِيُرِيَهُمْ: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ کو بلایا تاکہ ان کو میری (حیثیت و علمیت) دکھلائیں،
ابن سعدؒ کی روایت میں ہے: ”أَمَّا أَنِّي سَأُرِيكُمُ الْيَوْمَ مِنْهُ مَا تَعْرِفُونَ بِهِ فَضْلَهُ“
ذَالِكَ عَلاَمَةُ أَجَلِكَ: اس سے آپ ﷺ کی موت کی اطلاع دینی ہے۔
اسی وجہ سے اس سورت کا نام بعض مفسرینؒ نے سورت التودیع کہا کہ رخصت کرنے والی، اس سورت کے نزول کے تقریباً 80 دن کے بعد آپ ﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے۔
اس سورت میں بتا دیا گیا کہ جس مقصد کے لئے آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا تھا وہ مقصد پورا ہو گیا۔
مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَقُوْلُ: میرا علم بھی یہی ہے جو تم بیان کر رہے ہو، مسند احمد کی ایک روایت میں اس جگہ یہ الفاظ ہیں ”كَيْفَ تَلُوْمُوْنِي عَلَى مَا تَرَوْنَ“
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی عزت ومرتبت عمر سے نہیں بلکہ اس کی عقل وفہم سے ہوتی ہے۔
یہ بات ہے۔ وہ ایک اس میں saying بھی ہے نا کہ:
"بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال"
"جو عزت ہے وہ عمر سے نہیں ہے بلکہ ہنر سے ہے۔ تو یہ بات ہے"
تو بہرحال یہ ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ عمر کے لحاظ سے نہیں ہے، سال کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ یہ اس کے لحاظ سے ہے یعنی ہنر کے لحاظ سے ہے۔ تو جس کو اللہ پاک نے علم و ہنر دیا ہو تو اس کی لوگ قدر کرتے ہیں۔